ٹرائل کے بغیر فوجداری مقدمات کو واپس لینے سے قانون کے اصول کمزور ہوتے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی

21

ٹرائل کے بغیر فوجداری مقدمات کو واپس لینے سے قانون کے اصول کمزور ہوتے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی
نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ پارٹی سپریم کورٹ کے 10اگست 2021کے اس فیصلے کا گرم جوشی سے خیر مقدم کرتی ہے، جس میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ریاستوں کے ہائی کورٹ کی اجازت کے بغیر ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے خلاف چل رہے فوجداری مقدمات واپس نہیں لئے جائیں گے۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ خصوصی بینچ تشکیل دیں جو موجودہ اور سابق قانون سازوں کے خلاف فوجداری مقدمات کی پیش رفت کی نگرانی کرے۔ ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے مزید کہا ہے کہ ایس ڈی پی آئی ایک عرصے سے ٹرائل کے بغیر فوجداری مقدمات کو واپس لینے پر تشویش کا اظہار اور اعتراض کرتی آرہی ہے۔استغاثہ کی جانب سے 321سی آ ر پی سی کے تحت زیادہ تر سیاسی افراد کے خلاف مقدمات واپس لینے کے لیے درخواست دائر کے کرنے کے اقدام کے پیچھے انصاف نہیں بلکہ سیاست کار فرما ہوتی ہے۔ مقدمات واپس لینے کا عمل تقریبا تمام سیاسی پارٹیاں اپنی اقتدار کے دوران وقتا فوقتا کرتی آرہی ہے۔ اس کی واضح مثال یوگی آدتیہ ناتھ کی ہے جو خود اتر پردیش کے وزیر اعلی بننے کے بعد اپنے خلاف تمام فوجداری مقدمات بشمول گھناؤنے جرائم کو واپس لے چکے ہیں۔ قتل، فسادات وغیرہ کے الزامات کے ساتھ ان کے خلاف درجنوں فوجداری مقدمات برسوں سے زیر التوا تھے۔ 2013کے مظفر نگر فسادات سے متعلق فوجداری مقدمات جن میں بی جے پی کے کئی لیڈروں اور وزراء، ایم ایل اے اور ایم پی کے نام شامل تھے، ان کو بھی مظفر نگر عدالت سے واپس لے لیا گیا تھا۔ اس طرح کے فوجداری مقدمات سیاسی افراد کو ان کے غیر مہذب روہے اور مجرمانہ واقعات سے بچانے کے پیش نظر حکومت کی طر ف سے اکثر حکمران جماعت کے ممبران اور رہنماؤں کے سیاسی دباؤ کے پیش نظر واپس لے لیے جاتے ہیں۔ 25مارچ 2021کے آرڈ ر جس کے ذریعے بی جے پی ایم ایل اے سنگیت سوم، سریش رانا وغیرہ کے خلاف مقدمہ واپس لینے کی استغاثہ کی درخواست کو خصوصی جج (ایم پی /ایم ایل اے) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کورٹ نمبر 5مظفر نگر کے ذریعہ واپس لیا گیا ہے اس کو ایس ڈی پی آئی چیلنج کرنے کی تیاری کررہا ہے۔لیکن حکومت کے پوشیدہ دباؤ کے تحت عدالت کا دفتر اور رجسٹری ایف آئی آر کی تصدیق شدہ کاپیاں، مقدمہ واپس لینے کیلئے استغاثہ کی درخواست اور عدالت کی طرف سے منظور کردہ حکم کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی نے25مارچ 2021 آرڈر کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ حکم سے ایس ڈی پی آئی کا موقف مضبوط ہورہا ہے۔