ہومبریکنگ نیوزو حکمت کے میدان میں اپنی عظمت رفتہ کو دوبارہ حاصل کیجئے،سماج...

و حکمت کے میدان میں اپنی عظمت رفتہ کو دوبارہ حاصل کیجئے،سماج کو سو فیصد تعلیم یافتہ بنائیے:حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی

پورنیہ میں میں نقبا ء، علماء و دانشوران کے خصوصی تربیتی اجلاس اوراجلاس عام سے حضرت امیر شریعت کا بصیرت افروز خطاب

اللہ اور اس کے رسول کی محبت ایمان والے کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز ہے ۔ ہمیں ہر کام اللہ کی رضا کے لیے اس کے حکموں کے مطابق ، اس کے پیغمبر کے بتائے ہوئے طریقہ پر اور اس کی بھیجی ہوئی کتاب کی رہنمائی میں کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب ہمیں اس لیے عطا کی تاکہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت اس کتاب کے ذریعہ کر سکیں اور اس کی رہنمائی میں اپنی زندگی کے تمام مراحل گزار سکیںاو ر پوری دنیا کو دعوت دے سکیں اور ان کے سامنے اسلام کی اچھائی اور اس کی خوبصورتی کو پیش کر سکیں۔یہ باتیں امیر شریعت بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈحضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے مورخہ 30نومبر کو پورنیہ کے مادھو پارہ میں جامعہ خلفائے راشدین کے وسیع و عریض احاطہ میں امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ کی ماتحتی میں منعقد نقباء و نائبین نقباء امارت شرعیہ، علماء ، ائمہ مساجد، ذمہ داران مدارس ، دانشوران و سماجی و ملی شخصیات کے خصوصی تربیتی اجلاس اور اجلاس عام کے دوران اپنے صدارتی خطاب میں کہیں ۔انہوں نے تعلیم پر توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ مسلمان ہمیشہ سے تعلیم میں پیچھے تھے بلکہ ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب یورپ جہالت کے اندھیروں میں غرق تھا ، اس وقت مسلمان سائنسداں ، ماہرین ریاضیات، مسلم انجینئرس اوراطباء اور ماہرین فلکیات پوری دنیا کو اپنے علم و فن سے روشن کیے ہوئے تھے۔آپ نے مسلم سائنسدانوں اور ان کے ذریعہ کی گئی ایجادات کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی دنیا ان کے علم و فضل سے خوشہ چینی کر رہی ہے اور پوری دنیا ان کے علم اور تحقیقات سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔آپ نے مسلمانوں کی موجودہ تعلیمی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے تعلیم کو اپنی ترجیحات سے دور کر دیا ہے آج ہمارے بچوں کی معتدبہ تعداد ناخواندہ ہے، ہمیں اس صورت حال کو بدلنے کی اور سماج کو سو فیصد تعلیم یافتہ بنانے کی ضرورت ہے ۔ آپ نے کہا کہ نفع بخش علم حاصل کرنے کا اسلام نے حکم دیا ہے ، سب سے نفع بخش علم قرآن کا علم ہے، قرآن نے کائنات میں غور و فکر اور تدبر کا حکم دیا ہے اور یہ غور و فکر اور تدبر سائنس ہے ، اس لیے سائنس کا علم بھی حاصل کیجئے ، لیکن سائنس کا علم قرآن کے نقطۂ نظر سے حاصل کیجئے ، اللہ کی معرفت حاصل کرنے کے لیے کیجئے۔آپ نے مساجد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مساجد کو صرف پنج وقتہ نمازوں کے لیے نہیں بلکہ ان سبھی کاموں کے لیے استعمال کرنا چاہئے جن کے لیے عہد نبوی اور عہد صحابہ میں مساجد کا استعمال کیا جاتا تھا۔آپ نے مسجد کو تعلیم کا مرکز اور ہر قسم کے سماجی مسائل کے حل کا مرکز بنانے کی طر ف توجہ دلائی ۔ حضرت امیر شریعت نے نقباء کے اجلاس کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اس اجلاس کا مقصد جماعت کی اسلامی فکر کی تنفیذ ہے ۔آپ نے نقباء کی ذمہ داریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کہ آپ اپنے علاقہ میں امارت شرعیہ کی نمائندگی کر سکیں اور لوگوں کی علمی، اصلاحی ، فکری اور اخلاقی رہبری کر سکیں ۔یاد رکھئے ہم میں سے ہر شخص اپنے اوپر ، اپنے گھر والوں کے اوپر اور اپنے معاشرہ کے اوپر شریعت اسلامی کی تنفیذ کے لیے مسئول اور ذمہ دار ہے ۔آپ نے فرمایا کہ اجتماعیت کے ساتھ رہنا اسلامی فکر کا حصہ ہے اس فکر کا مستحکم نفاذ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔آپ نے مذہبی، لسانی، علاقائی اور ذات برادری کی عصبیت کو چھوڑ کر کلمہ کی بنیاد پر اتحاد کی دعوت دی اور کہا کہ عصبیت بہت بڑا گناہ اور بڑی جہالت ہے ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری خطبہ میں ہر طرح کی عصبیت کو اپنے پاؤں تلے کچل یا ، اسلام کے اندر عصبیت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔اللہ کے نزدیک ایمان ، تقویٰ اور اچھے اعمال کی بنا پر ہی ایک انسان کو دوسرے پر فضیلت حاصل ہے۔آپ نے شراب، نشہ خوری اور جہیز جیسی سماجی لعنتوں کے سد باب پر بھی توجہ دلائی ۔نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی صاحب نے نقباء کے سامنے امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی اہمیت کوبیان کرتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ کا وجود آپ سب سے ہے ، آپ نے مل جُل کر امارت شرعیہ کو آگے بڑھا یا ہے آپ سے امارت شرعیہ کی طاقت ہے اور امارت شرعیہ سے آپ کی مضبوطی ہے اگر آپ مضبوط ہوں گے تو امارت شرعیہ طاقتور ہو گی اور اگر امارت شرعیہ طاقتور ہو گی تو آپ کو مضبوطی ملے گی ، امار ت شرعیہ ایک نعمت ہے جو اللہ نے بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ والوں کو عنایت کیا ہے ،ہندوستان کے بہت سے صوبے اس نعمت سے محروم ہیں اور ان صوبوں میں رہنے والے بہت سے اکابر علماء نے اس بات کا اظہار بھی کیا ہے۔آپ نے ملی کاموں کے لیے فکر مندی کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ جب آپ کو ملت کی فکر ہو گی تبھی ملت کا کام آگے بڑھےگا۔ اس کے لیے مسلسل محنت کی ضرورت ہوتی ہے ۔آپ نے بچوں کی تربیت پر بھی لوگوں کو متوجہ کیا اور کہا کہ آپ کا مستقبل آپ کے بچوںکے دین میں ہے ، اپنے بچوں کو دیندار بنائیے ، ان دین کا علم سکھائےے۔اپنے اندر بھی دین کو داخل کیجئے ، اجتماعی سوچ پیدا کیجئے ،باہمی تعاون کا مزا ج بنائیے ، ملت کے کاموںمیں ملت کے ہر فرد کو ایک دوسرے کا تعاون کرنا چاہئے ۔آپ نے مدارس کی روشن تاریخ اور خدمات کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ مدارس اس ملک میں تعلیم کی شرح کو بلند کرنے میں بہت بڑے معاون ہیں ، مدارس اسلامیہ نے ان جگہوں پر علم کا چراغ جلایا ہے جہاں حکومت بھی نہیں پہونچ سکی ہے، آپ نے جنگ آزادی میں مدارس کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے مدارس کی موجودہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ جن لوگوں کی زندگی انگریزوں کے سامنے کاسہ لیسی میں گزری آج وہ مدارس پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔آپ نے اہل مدارس کو مدارس کے داخلی و خارجی نظام ، نصاب، تعلیم و تربیت کے نظام اور طلبہ کو دی جانے والی سہولیات میں اصلاح کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی ، آپ نے پیغام دیا کہ حالات چاہے جتنے پر خطر ہو جائیں ، ہمیں پورے عزم و حوصلے کے ساتھ اپنے وقار ، شناخت اور تہذیب کی حفاظت کے لیے سر بلند رہنا ہے۔قائم مقام ناظم امارت شرعیہ مولانا محمد شبلی القاسمی صاحب نے امارت شرعیہ کی خدمات ، عزائم اور اہداف کی تفصیل بیان کی اور امار ت شرعیہ کے مختلف شعبہ جات کے تحت ہونے والی خدمات سے سامعین کو روشناس کرایا۔آپ نے اسلام کے نظام عدل پر بھی تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اہل علم و دانش اور سماج کی با اثر شخصیات اپنے گاؤں ، پنچایت اور محلے کے ذمہ دار اپنے مقام و مرتبت کے ساتھ انصاف کریں اور ناخواندہ اور دبے کچلے سماج کو اوپر لانے کی مخلصانہ جدو جہد کریں ۔مولانا محمد انظار عالم قاسمی قاضی شریعت مرکزی دار القضاء نے ، دار القضاء کی اہمیت و ضرورت بیان کی اور امارت شرعیہ کے نظام قضاء کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ سماجی انصاف کے لیے امارت شرعیہ نے دار القضائ کا بڑا نظام قائم کیا ہے ، جہاں لوگوں کے مسائل کا حل شریعت اسلامی اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق کیا جاتا ہے ۔مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمارے نوجوان خوف کی نفسیات کا شکار ہیں ، انہیں خوف کی نفسیات سے نکلنا ہوگا ، اس کے لیے ہمارا بھروسہ اللہ کی تدبیر پر ہونا چاہئے ، آپ نے کہا کہ ایمان اور خوف ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔مولانا قمر انیس قاسمی نے معاون ناظم امارت شرعیہ نے امارت شرعیہ کی محبت اور امیر کی اطاعت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ کی محبت ایمان و عقیدہ کا حصہ ہے ، انہوں نے کہا کہ جماعت اور تنظیم کے ساتھ جو قوم رہتی ہے ، اس پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔مولانا احمد حسین قاسمی معاون ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ مارت شرعیہ ہمارے ملی وجود کی علامت ، اسلام کے اجتماعی نظام کا مظہرا ور ہمار ے ایمان و عقیدے کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہا اسلام ہر قدم پر اجتماعیت کی دعو ت دیتا ہے ، امارت شرعیہ کی جو گاؤں گاؤں میں تنظیم قائم ہے وہ اسی جماعتی نظام کو قائم کرنے کے لیے ہے ۔اس جماعتی نظام کو قائم کرنے کے لیے امارت شرعیہ اور عوام کے بیچ کی کڑی ہمارے نقبائ ہیں ۔مولانا جمیل احمد رحمانی استاذ جامعہ رحمانی مونگیر نے بغض ، کینہ و حسد جیسی روحانی اور قلبی امراض سے پاک رہنے کی تلقین کی اور کہا کہ عبادات کی قبولیت کے قلب کاباطنی امراض سے پاک رہنا ضروری ہے ۔ مولانا سہیل احمد ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے اللہ کی رضا کے لیے کام کرنے اور رجوع الی اللہ کی دعوت دی ۔مولانا مفتی محمد انور قاسمی قاضی شریعت رانچی نے شادی بیاہ اور نکاح کو سادگی سے کرنے ، نکاح کے لیے دین دار لڑکوں اور لڑکیوں کا انتخاب کرنے کی تلقین کی اور بے جا اور فضول رسموں سے بچنے پر زور دیا۔آپنے وراثت کے شرعی احکام پر بھی روشنی ڈالی اورخاص طور پر خواتین کو ان کا حصہ دینے کی طرف توجہ دلائی۔ اجلاس کی نظامت کے فرائض جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے انجام دیا، آپ نے اپنی ابتدائی گفتگو میں اجلاس کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور نقباء و نائبین نقباء کی ذمہ داریاں بھی بیان کیں ۔آپ نے بتایا کہ امارت شرعیہ کا مقصد پوری امت کو کلمہ کی بنیاد پر متحد کرنا ہے ،امارت شرعیہ چاہتی ہے کہ ہماری اجتماعی و انفرادی زندگی ایک امیر شریعت کے ماتحت ہو کر قرآن و سنت پر عمل کرتے ہوئے گذرے ، اس پیغام کو ہر گھر تک پہونچانے کے لیے نقباء اور نائبین نقباء کا نیٹ ورک ہے ، ہمارے نقبائ اپنے علاقہ کے لوگوں کی دینی زندگی کے سردار اور امیر شریعت کے نمائندے ہوتے ہیں ، اس لیے ان کی ذمہ داریاں بہت بڑی ہیں ۔ آپ نے اپنے خطاب کے دوران سماج میں جہیز اور نشہ خوری کی بڑھتی ہوئی بیماری پر بھی اظہار تشویش کیا اور لوگوں سے اپیل کی کہ ان دونوں جرائم کو سماج سے دور کرنے کے لیے عملی جد و جہد کریں، آپ نے مسلمانوں کو پیش آنے والے حالات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے حالات سے نہ گھبرانے اور جواںمردی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے کی دعوت دی ۔مولانا ظفر عالم ندوی استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ نے پردے کی اہمیت اور اس کے ا حکام بیان کیے اور کہا کہ پاکدامنی کسی بھی اچھے خاندان اور سماج کی بنیاد ہے،آپ نے نکاح و طلاق سے متعلق بعض اہم مسائل سے بھی لوگوں کو واقف کرایا۔مولانا اشرف عباس قاسمی استاذ دار العلوم دیوبندنے کہا کہ اسلام اور مسلمانوں کا مستقبل روشن ہے ، وہ وقت ضرور آئے گا کہ اسلام کو ماننے والے سر بلند ہوں گے ، لیکن اس کے لیے مکمل طور پر اسلام میں داخل ہونے اور اپنے ہر قول وعمل میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ضرورت ہے۔و حکمت کے میدان میں اپنی عظمت رفتہ کو دوبارہ حاصل کیجئے،سماج کو سو فیصد تعلیم یافتہ بنائیے:حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانیان کے علاوہ مولانا اکرام الحق عینی ،

مولانا شفیق عالم صاحب مہتمم جامعہ صدیقیہ ڈگروا، مفتی معیز الدین قاسمی امام و خطیب بارا عید گاہ، مفتی توقیر عالم پورنیہ، مولانا فیاض صاحب سابق پرنسپل مدرسہ محمودیہ بشن پور،مولانا محمود صاحب بشن پور، مولانا ایاز ندوی پورنیہ، مولانا جمیل احمد رحمانی پورنیہ، مفتی احمد حسین قاسمی نائب ناظم جامعہ خلفاء راشدین،مولانا ممتاز صاحب ادارہ فیض القرآن اتر دیناج پور نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور امارت شرعیہ کی خدمات کے اعتراف کے ساتھ اس کی ہر آواز پر لبیک کہنے کی عوام و خواص سے اپیل کی۔اجلاس کا آغازقاری شائق قاسمی استاذ جامعہ خلفائ راشدین کی تلاوت سے ہوا، نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم جناب مولانا عمر فاروق کاشف استاذ جامعہ خلفاء راشدین نے پیش کی۔ استقبالیہ کلمات مولانا وحید الزماں رکن شوریٰ امار ت شرعیہ نے پیش کیا اور تمام مہمانان کا شکریہ ادا کیا، مفتی ثناء اللہ قاسمی استاذ جامعہ خلفائ راشدین نے گمانی بیگم وقف اسٹیٹ259کی تاریخ ، خدمات ، مشکلات و مسائل کو بیان کیا۔ جناب انوار کریم صاحب صدر ٹیچرس ایسو سی ایشن نے سپاس نامہ ،مولانا عمر فاروق کاشف اور مولانا منظر قاسمی نے حضرت امیر شریعت کی شان میں منظوم کلام پیش کیا۔اس موقع پر جامعہ خلفائ راشدین کے 18طلبہ کی دستار بندی بھی ہوئی نیز مولانا مفتی نیر اسلام قاسمی استاذ دارا لعلوم الاسلامیہ کی کتاب پورنیہ کی تین عظیم شخصیات کا اجرا بھی عمل میں آیا۔آخر میں حضرت امیر شریعت کی دعا پر اجلاس کا اختتام ہوا۔اجلاس عام میںضلع پورنیہ و اطراف کے تقریبا ایک لاکھ فرزندان توحید نے شرکت کی۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے