ویکسین لگوانے والے غیر ملکی مسلمانوں کو عمرے کی اجازت

19

سعودی عرب نے ویکسین لگوانے والے غیر ملکی زائرین کو ڈیڑھ سال بعد عمرے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق وزارتِ حج اور عمرہ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ نو اگست سے دنیا کے مختلف ممالک سے بتدریج عمرے کی درخواستیں وصول کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد سعودی عرب نے بیرون ملک سے عمرہ کے لیے آنے والوں پر اپنی سرحدیں بند کر دی تھیں۔ البتہ اب صرف ویکسین لگوانے والے افراد ہی عمرہ کی درخواست دے سکیں گے۔

سعودی عرب نے چین کی تیار کردہ ویکسین لگوانے والے زائرین کو بھی ملک میں داخلے کی اجازت دی ہے۔ تاہم اُن کے لیے شرط رکھی گئی ہے کہ وہ سعودی حکومت کی منظور کردہ ویکسینز ایسٹرازینیکا، فائزر، موڈرنا اور جانس اینڈ جانسن میں سے کسی ایک کی بوسٹر ڈوز لگوائیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب نے چین کی ویکسینز سائنو فارم اور سائنو ویک کی تاحال منظوری نہیں دی۔

پاکستان سمیت سعودی حکومت کی جانب سے جن نو ممالک کے شہریوں پر داخلے کی پابندی لگائی گئی ہے وہاں کے ویکسین لگوانے والے زائرین کو سعودی عرب میں ہی قرنطینہ کرنا لازمی ہو گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ حج وعمرہ اور مسجد حرام اور مسجد نبوی سے متعلق خبریں فراہم کرنے والی ویب سائٹ نے بتایا تھا کہ ان نو ممالک میں پاکستان، بھارت، انڈونیشیا، مصر، ترکی، ارجنٹائن، برازیل، جنوبی افریقہ اور لبنان شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ابتدا میں زائرین کی تعداد کو 60 ہزار تک رکھا جائے گا جسے بعد ازاں 20 لاکھ ماہانہ تک بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ مکہ اور مدینہ میں مقدس مقامات پر آنے والے غیر ملکی زائرین کے لیے کرونا کے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔

سعودی وزارتِ حج اور عمرہ کے نائب وزیر ڈاکٹر عبدالفتح بن سلیمان مشاط کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے زائرین کے لیے اپنی عمرہ درخواست کے ساتھ کووڈ 19 کی ویکسی نیشن کا مصدقہ سرٹیفکیٹ لگانا لازمی ہو گا۔

یاد رہے کہ کرونا وائرس کی وبا سے قبل دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ہر ماہ عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جاتے تھے۔ تاہم عالمی وبا کے باعث سعودی عرب نے عمرے پر پابندی لگادی تھی۔

سعودی عرب نے گزشتہ برس اکتوبر میں مقامی زائرین کو عمرے کی اجازت دی تھی جس کے بعد رواں سال حج بھی دوسری مرتبہ محدود پیمانے پر کیا گیا تھا۔

اس خبر میں شامل بیشتر معلومات سعودی خبر رساں ادارے ‘ایس پی اے’ سے لی گئی ہیں۔