ویلکم مسٹر پریسیڈنٹ…

59

تحریر :خورشید انور ندوی

21 جنوری 2021

ویلکم مسٹر پریسیڈنٹ…

منتخب صدر امریکہ مسٹر بائیڈن نے ذمہ داری سنبھال لی ہے.. حلف برداری کے فوراً بعد، اپنے پہلے پندرہ تنفیذی حکم پر دستخط کرکے ایک اچھا پیغام ساری دنیا کو دے دیا ہے.. جو تقریباً ان تمام وعدوں کو سمیٹتے ہیں جن کا اعلان انھوں نے اپنی انتخابی مہم میں کیا تھا.. امریکہ ایک بڑا اہم اور طاقتور امکانات سے مالامال ملک ہے.. اس کی پالیسیاں اس کے اپنے مفادات کی ضامن ہوتی ہیں.. تاہم یہ ظاہر باہر ہے کہ وہ دنیا سے الگ تھلگ نہیں رہتا.. وہ سارے دنیا کے علاقائی اور عالمی اثرات پر نظر رکھتا ہے اور ان کو کنٹرول کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے.. اس کی ساری غلطی اس کے اسی کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے.. اس کی داخلی پالیسی سے کسی کو سروکار نہیں، ہاں اس کی خارجہ پالیسی کسی قدر جارحانہ ہوجاتی ہیں اور یہی اقوام عالم سے اس سے تعلقات کا ٹمپو طے کرتی ہیں..اتنے طاقتور ملک کے حکمران اگر رعونت پر اتر جائیں تو سب کا نقصان کرسکتے ہیں.. جو حالیہ رخصت ہونے والے ایڈمنسٹریشن کی پہچان بن گئی تھی.. شوریدہ سری عادت بن جائے تو خود اہانتی اور خود پر تنہائی مسلط کرنے کا باعث بھی بن جاتی ہے جو جانے والے صدر مسٹر ٹرمپ کے ساتھ ہوا.. چند دن پہلے انھوں نے کیپٹل ہل پر جس افراتفری کی روایت بد ڈالی، سارا ملک ششدر رہ گیا..لگ رہا تھا یہ امریکہ نہیں 2002 کا گجرات ہے.. غالباً یہ ٹرمپ کی بدصحبتی کا اثر تھا.. جاتے جاتے نئے صدر کے استقبال اور باوقار رخصتی کی پرانی روایت بھی توڑ گئے اور نہایت بدمنظر وداع لے کر گئے.. یہ ان کا اپنا انتخاب تھا..

نئے صدر نے سب سے اہم فیصلہ پیرس اکارڈ (ماحولیات کا عالمی معاہدہ) پر واپسی، اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ صحت سے تعاون کی باز ربطی، پڑوسی ملک میکسیکو کی سرحد پر باڑ کی تنصیب پر روک اور مسلمان ملکوں سے آزادانہ سفری امتناع کی برخاستگی کا کیا ہے.. جو ساری دنیا کے لئے ایک مثبت پیغام ہے.. میں تو چاہوں گا کہ نئے صدر دوکام اور کرلیں اور چین کی نیند سوئیں اور دنیا کو سونے دیں.. چین سے تجارتی تعلقات کو نارمل کرلیں اور مشرق وسطیٰ میں قابل قبول حل دریافت کرلیں.. جو بہت دور نہیں… فلسطینی اپنوں کی ناروائی سے مزاحمت کا تصور تقریباً چھوڑ بیٹھے ہیں.. ان کی 75٪زمینیں اردن مصر شام اور خلیجی گڑیوں کی موجودگی میں چھن چکی ہے.. وہ کھلی جیل میں ساٹھ سال سے رہ رہے ہیں.. وہ عربوں کی حکمرانی بچانے اور مصنوعی قیادت کو برقرار رکھنے کی پالیسی سے باز آئے.. وہ فلسطین کو آزاد نہ کراسکے تو کم از کم عرب آبادی کو آزادی حاصل کرنے سے نہ روکے.. ایران کی طاقت کا جواب اس کی طاقت کا ازالہ نہیں.. پرامن بقائے باہم کی راہ تلاش کرنا ہے.. جوہری ہتھیار جتنا موجود ہے اس سے اس کرہ ارض کو کئی ہزار بار نیست ونابود کیا جاسکتا ہے، تو آخر ایران کا کچا جوہری اثاثہ ہی اتنا طولانی افسانہ کیوں ہے؟ مسٹر بائیڈن کو آٹھ سال سرگرم عالمی سیاست کا تجربہ ہے اور عمر میں وہ سب سے دراز عمر صدر امریکہ ہیں.. امید کی جانی چاہیے کہ وہ خیر سگالی عالمی رہنما کا امیج برقرار رکھیں گے..