بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتووٹ کی اہمیت

ووٹ کی اہمیت

🖊️ محمد اطہر حبیب

ووٹ ایک بہت بڑی امانت ہے۔
’’مسلمانو !اﷲتمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو توعدل کیساتھ کرو،اﷲ تم کونہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقیناََاﷲسب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔
ووٹ امانت بھی،شہادت بھی اور سفارش بھی ہے۔ایک ووٹر جب کسی امیدوار کے حق میں ووٹ دیتا ہے تو گویا اپنے عمل سے وہ اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس نے باصلاحیت و صالح فرد کے حق میں اپنی رائے دے کر اﷲکا حکم مانا ہے۔
جس امیدوار میں درج بالاصفات نہیں اسے جان بوجھ کر ووٹ دیا تو یہ جھوٹی شہادت (گواہی )دینے کے مترادف ہے۔
ایک بار نبی مہربانﷺفجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد کھڑے ہو گئے اور تین مرتبہ فرمایا’’جھوٹی گواہی شرک کے برابر ہے۔
یہ تو ہمیں یقیناََمعلوم ہے کہ اﷲ شرک کو معاف نہیں فرماتے۔
سورۃنسا میں ﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ کہ’’جو بھلائی کی سفارش کرے گاوہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گاوہ اس میں سے حصہ پائے گا اوراﷲ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے۔
اس لیے آپ ایسے شخص کو ووٹ کریں جس کے ذریعے ہمارا گاؤں ، ہمارا شہر ،ہمارا قریہ ،ہمارا ضلع ،ہمارا صوبہ، ہمارا ملک ، ترقی کے راستے پر گامزن ہو ۔جس کی زبان سےانصاف پر مبنی بات ہو کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو آپ عقل مند پڑھے لکھے اور با شعور انسان کو ووٹ کریں جس کی تعلیم ہمارے نبی نے دی جو شخص انسان کا بھلا سوچے ،جو اپنے ماتحت کا خیال رکھے ۔ اکثر لوگوں کو دیکھا جاتا ہے، کہ لوگ اپنے رشتہ دار، اپنے سے قریب لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ آپ ایسے شخص کو ووٹ دیں ۔جو آپ کی نظر میں شریعت کا پابند ہو، انصاف اس کی گھٹی میں ہو ،جو ہر شخص کے ساتھ برابری کا سلوک کرے، جس کو احساس ہو، کہ ہم قوم کی خدمت کے لیے بنائے گئے ہیں ۔ایسے شخص کو آپ اپنے قیمتی ووٹ سے نوازے ۔ورنہ اگر کسی غیر ذمہ دار شخص کو ووٹ دیا جو اپنے آپ کو یہ سمجھتا ہوں کی سیاست ہماری جاگیر ہے ۔تو ایسے شخص ترقی کی امید بے جا اور فضول ہیں ایسے شخص ہرگز ووٹ نہ دے ۔ آپ ایسے شخص کو ووٹ دیں جو اس کا اہل ہو اور دیانت دار ہو ۔
بعض لوگ کہتے پھرتے ہیں کہ اہل اور دیانت دار لوگ ہمارے ہاں ناپید ہیں بالکل غلط ہے۔
مختصر یہ کہ انتخابات میں ووٹ کی شرعی حیثیت کم از کم ایک شہادت کی ہے، جس کا چھپانا بھی حرام ہے اور اس میں جھوٹ بولنا بھی حرام اور اس پر کوئی معاوضہ لینا بھی حرام، اس میں محض ایک سیاسی ہار جیت اور دنیا کا کھیل سمجھنا بڑی بھاری غلطی ہے۔ آپ جس امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں، شرعاً آپ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے نظریے اور علم و عمل اور دیانتداری کی رو سے اس کام کا اہل اور دوسرے امیدواروں سے بہتر ہے۔جس مقصد کے لئے یہ انتخابات ہو رہے ہیں ،اس کی حقیقت کو سامنے رکھیں اور اس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمد ہوتے ہیں: ۱:…آپ کے ووٹ اور شہادت کے ذریعے جو نمائندہ کسی اسمبلی میں پہنچے گا، وہ اس سلسلہ میں جتنے اچھے یا بُرے اقدامات کرے گا، اُن کی ذمہ داری آپ پر عائد ہوگی، آپ بھی اُس کے ثواب یا عذاب میں برابر شریک ہوںگے۔ ۲:…اس معاملہ میں یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے کہ شخصی معاملات میں کوئی غلطی بھی ہو جائے تو اس کا اثر بھی شخصی اور محدود ہوتا ہے، ثواب بھی محدود، عذاب بھی محدود ،لیکن قومی اور ملکی معاملات سے پوری قوم متاثر ہوتی ہے۔ ۳:…سچی شہادت کا چُھپانا از روئے قرآن حرام ہے، اس لئے کسی حلقۂ انتخاب میں اگر کوئی صحیح نظریہ کا حامل اور دیانت دار نمائندہ کھڑا ہے تو اس کو ووٹ دینے میں کوتاہی کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ ۴:…جو امیدوار نظریۂ اسلامی کے خلاف کوئی نظریہ رکھتا ہے، اس کو ووٹ دینا ایک جھوٹی شہادت ہے، جو گناہ کبیرہ ہے ۔ 500ووٹ کو پیسوں کے معاوضے میں دینا بد ترین قسم کی رشوت ہے اور چند ٹکوں کی خاطر اسلام اور ملک سے بغاوت ہے۔ دوسروں کی دُنیا سنوارنے کیلئے اپنا دین قربان کردینا کتنے ہی مال و دولت کے بدلے میں ہو، کوئی دانشمندی نہیں ہو سکتی۔ رسو ل پاک ا نے فرمایا ہے کہ:’’ وہ شخص سب سے زیادہ خسارے میں ہے جو دوسرے کی دنیا کے لئے اپنا دین کھو بیٹھے۔
خلاصہ یہ ہے ،کہ ہماری سوچ یہ ہو کے ووٹ ایسے شخص کو دیں جو دین کی سمجھ کے ساتھ ساتھ دنیاوی سمجھ اور سیاسی سمجھ ان کے پاس دوسروں سے بدرجہ بہتر ہو
جو غریب کی آواز بنے کمزوروں کا سہارا بنیں لاوارثوں کا وارث نے جو شخص آپ کی خاطر سوچیں کہ آپ کی ترقی کیسے ہو آپ کے بچے تعلیم میں کیسے آگے بڑھے جس کے پاس عام لوگوں کی رسائی بھی ممکن ہو تاکہ وہ اپنی بات ان کے کانوں تک پہنچا سکیں ایسے شریف النفس ایسے بے کسوں کے سہارا کو ووٹ دینا آپ کا ملی فریضہ بنتا ہے۔ اگر چند پیسوں کی لالچ میں کسی غیر ذمہ دار شخص کو ووٹ دیا تو آپ نے قوم کے ساتھ غداری کیا جس کا خمیازہ کل قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھگتنا پڑے گا۔
🖊️ازقلم :
محمد اطہر حبیب ارریاوی
متعلم: جامعہ اسلامیہ دارالعلوم وقف دیوبند
Darul Uloom Waqf Deoband

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے