وقت کی قدر و قیمت اس کا صحیح استعمال کرنا ہے!

100

(محمد قاسم ٹانڈوی)
یہ دنیا دارالاسباب ہے، اسی لئے یہاں جیتے جی ہر انسان کے ساتھ کسی نہ کسی طرح کی مشغولیت کا چولی دامن کا ساتھ رہتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ مشغولیت کسی کے ساتھ قولی ہے تو کسی کے ساتھ فعلی اور عملی۔ کوئی اپنی رات و دن کی مشغولیت سے اس فانی دنیا کو آباد کرنے میں صرف کر رہا ہے تو کوئی اسی مشغولیت سے اپنی آخرت آباد اور سنوار رہا ہے۔ کوئی بندوں کو راضی کرنے میں اپنی توانائیاں پانی کے تیز بہاؤ کی مانند بہا رہا ہے تو کوئی مخلوق خدا سے یکسو اور بےبہرہ ہو کر اپنے مالک حقیقی اور خالق دوجہاں کے حضور سجدہ ریز ہو کر اس کی ابدی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے میں اپنی تمام تر حرکات و سکنات کے ساتھ اس کے در پر پڑا ہوا ہے۔ اسی لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ:
“دو نعمتیں ایسی ہیں جن کی طرف سے لوگوں کی اکثریت لاپرواہ ہے، ایک وقت کی نعمت اور دوسری صحت و تندرستی کی نعمت”۔ چنانچہ حدیث مذکور کی روشنی میں جب ہم اپنے اکابر و اسلاف کی کامیاب زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم بآسانی اس نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ ان کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہی یہی تھا کہ انہوں نے اپنے وقت کی قدر و قیمت کو صحیح معنوں میں پہچانا تھا، جس سے کہ وہ اپنے ایک ایک لمحہ اور ساعت سے ہر وقت باخبر رہتے تھے اور کسی بھی صورت وقت کی بربادی ان کے یہاں برداشت نہیں تھی۔
چنانچہ ایک تو وقت کا صحیح استعمال اور دوسرے اصول و ضوابط کی رعایت؛ یہ زندگی کو بامقصد بنانے والے دو ایسے اہم پہلو ہیں، کی جن کے بغیر کسی بھی میدان میں ترقی کی منازل طے ہونا، حصولیابی اور کامیابی کی راہ کا متعین ہونا بہت مشکل ہوتا ہے، کیوں کہ “امور و افعال وہی مفید اور نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں جنہیں وقت کی تعیین اور اصول و ضوابط کے دائرے میں رہ کر انجام دیا جاتا ہے، بصورت دیگر کام کو بگاڑنا اور اپنے وقت کو ضائع کرنا پایا جاتا ہے۔
آپ دیکھیں گے کہ اس دنیا میں بہت کم تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو تحدید وقت کے ساتھ منظم ترتیب اور اصول و ضوابط کی رعایت کرتے ہوئے اپنے کاموں کی انجام دہی کرتے ہوں۔ یہی وجہ ہےکہ گلی کوچوں اور سڑک کنارے جگہ جگہ جوانوں کا ٹولہ گپ شپ کرتا یاکسی بھی کار عبث میں الجھ کر اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے مل جائےگا۔ اور یہ خطرناک عیب یا خرابی کسی ایک علاقے، حلقے یا قوم کے ساتھ لاحق نہیں ہے بلکہ بلا تعیین سرحد اور بغیر کسی تخصیص طبقات یہ وبا اپنے چاروں ہاتھ پیر پھیلائے ہر گوشہ و خطے میں آباد نوجوانوں کو اس وقت اپنے حصار میں لئے ہوئے ہے۔ اور کبھی کبھی تو کی جانے والی اس طرح کی بےاصولی اور ضابطہ کی خلاف ورزی صاحب خانہ یا صاحب معاملہ کےلئے بھاری نقصان کا باعث ہو جاتی ہے۔ جس کا ہمیں بارہا مشاہدہ بھی ہوتا ہے اور تجربہ بھی۔ مگر ہم لوگ خود اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے اور اپنے کاموں کو تعیین و تحدید کے بغیر انجام دینے کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ جان و مال کے نقصان کی طرف اولا تو ہمارے ذہن کی رسائی ہوتی ہی نہیں اور اگر کوئی ہمارا ہمدرد و خیر خواہ اس طرف توجہ دلانے کی کوشش بھی کرتا ہے تو ہم اس کی بات اور رائے کو ہنسی مذاق میں اڑا دیا کرتے ہیں، مگر جن کے ساتھ کوئی امرِ ناگہانی پیش آ جایا کرتا ہے (خواہ ذاتی طور پر یا ان کے بچوں کی حرکت و شرارت کے طفیل) تو وہ ایک ایک قدم پھونک کر رکھنا شروع کر دیا کرتے ہیں اور اس وقت انہیں اس بات کا سہی سے اندازہ ہو جایا کرتا ہے کہ ہماری تھوڑی سی لاپرواہی، سستی اور عدم توجہی نے کس طرح نفع کو نقصان میں اچانک تبدیل کرکے رکھ دیا؟ یا کس طرح جان جوکھم میں پڑ گئی ہے؟
بہر کیف! رات و دن بکثرت اشیاء کا استعمال سے ہمیں لاحقہ ہے اور کوئی بھی کام اپنے استعمال میں لوگوں سے اس امر کے متقاضی ہوتا ہے کہ ہم اپنے امور و افعال کی انجام دہی میں نہ صرف احتیاط برتیں بلکہ پوری عقل و فہم کے ساتھ نتائج و عواقب پر بھی گہری توجہ رکھیں۔ چنانچہ اس بات کو صحیح طور پر سمجھنے کےلئے یہاں ایک مثال پیش خدمت ہے، تاکہ جو بات یہاں کہی جا رہی ہے، اسے ٹھیک سے ہم اپنے معمول میں لے آئیں، اس لئے کہ بسا اوقات معمولی حیثیت کے حامل آدمی سے یا ادنی درجہ کی تحریر و تقریر کے مطالعہ سے یا اتفاقی طور پر کسی کے ساتھ پیش آیا حادثہ اور واقعہ بھی لائق توجہ اور قابل نصیحت بن جاتا ہے۔
مثال: ‘فریجر’ ہے، جو آج قریب قریب ہر گھر میں موجود ہے، اس سے ہمیں یہ سبق حاصل ہوا کہ اگر اس کا دروازہ (طویل وقت کےلئے) ٹھیک سے بند نہ کیا جائے اور دروازہ معمولی سا بھی لوز (کھلا) رہ جائے تو ہم اس کی نافعیت و مقصدیت (اندر کی برودت و ٹھنڈک، جو اس کا اصل کام اور مقصد ہے) اس سے محروم ہو جاتے ہیں اور بجلی صرف کرنے کے باوجود اس کی منفعت کھو بیٹھتے ہیں، جس سے اس کے اندر رکھی اشیاء دودھ، دہی، آئسکریم، سالن یا ادویہ وغیرہ خراب ہو جاتی ہیں یا ان کے خراب ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے امور و افعال کی انجام دہی میں مکمل بیدار مغزی اور کامل عقل و فہم کا استعمال کریں تاکہ ہم ادھر نہ تو کسی بھی قسم کے جانی مالی نقصان سے دوچار ہوں اور ادھر ہمارے بچے بھی قواعد و ضوابط کی رعایت اور وقت کی قدر و قیمت کا صحیح اندازہ کرنے والے بن جائیں۔