جمعہ, 30, ستمبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتوفاق المدارس العربیۃ کے قیام کافیصلہ

وفاق المدارس العربیۃ کے قیام کافیصلہ

جمعیت علماء نیپال کے اجلاس میں” وفاق المدارس العربیہ” کے قیام کا فیصلہ لیاگیاہے
وفاق المدارس العربیہ کے عنوان پر” سمینار” بھی ہوگا،جس کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا
انوار الحق قاسمی
(ناظم نشر و اشاعت جمعیت علماء ضلع روتہٹ نیپال)
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نیپالی مسلمان تعلیم میں دلت سے بھی پیچھےہیں۔مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ غربت وافلاس کی بنا ہرطرح کے تعلمی میدان( خواہ وہ دینی ہو یا عصری)میں صفر ہے،اسے اپنا نام تک بھی لکھنے نہیں آتاہے،یہ قلم سے دستخط کے بجائے "انگوٹھے "سے دستخط کرتاہے۔
نیپالی مسلمانوں میں دینی شعور پیدا کرنے اور الحاد و بے دینی سے دور رکھنے کےلیے ملک نیپال کےدرد مند،بابصیرت علماء کرام نے "مدارسِ اسلامیہ ہند” کے طرز پر نیپال کے کونے کونے میں "مدارس اسلامیہ” کا جال بچھایا،آج جن مدارس کی بنا مسلمانوں میں دین و ایمان زندہ ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر نیپال میں مدارس اسلامیہ کا جال نہیں بچھایا جاتا،تو آج ہماری کیا صورت حال ہوتی،وہ تو اللہ ہی بہتر جانتاہے۔
اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ کسی بھی ملک میں کسی خاص جماعت سے منسلک افراد کی بات حکومت تک پہنچانے کے لیے یاملک میں اپنا نمایاں مقام پیدا کرنے کے لیے ایک مضبوط تنظیم کی ضرورت پڑتی ہے،جس کے ذریعے جماعت سے منسلک افراد پر آنے والے حکومتی مسائل یادیگر خارجی مسائل کا دفاع کرنا آسان ہوتاہے اور جس کے ذریعے انسان کو ملک میں ایک باعزت شہری بن کر جینے کا حق حاصل ہوتاہے۔
چند سالوں قبل جب نیپال کے مسلمانوں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم چلا کہ ملک نیپال میں کوئی ایک بھی ایسی مضبوط تنظیم نہیں ہے،جو مسلمانوں کی آواز حکومت تک پہنچا سکے اور مستقبل میں حکومت کی طرف سے آنے والے مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکے،تو ہمارے اکابر نے( ملک نیپال کے مسلمانوں کے ایمان واسلام کے تحفظ اور ایک باعزت شہری ہونے کا حق حاصل ہونے کے لیے)نیپال میں "جمعیت علماء نیپال” کی بنیاد ڈالی،جو آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرچکی ہے،تقریبا پورے نیپال میں اس کا جال بچھ چکاہے۔
جمعیت علماء نیپال اپنے قیام کے قلیل عرصے ہی میں بےشمار نمایاں کارنامے انجام دے چکی ہے،جو ہر ایک کے سامنے عیاں ہیں۔
ابھی چند سالوں سے جمعیت علماء نیپال کی یہ کوشش تھی کہ ملک نیپال میں قائم سیکڑوں مدارس کو ایک لڑی میں پرویا جائے:یعنی نیپال میں بھی "وفاق المدارس العربیہ” کا قیام عمل میں لایا جائے،جس کے ذریعےمدارس کے تعلیمی معیار کو مزید بلند کیاجائے،تاکہ یہاں تعلیم یافتہ طلبہ کے لیے عصر حاضر کے چیلنجزز کا مقابلہ آسان ہوسکے۔
اس کے لیے جمعیت علماء نیپال نے تین سال قبل "وفاق المدارس العربیہ”کے عنوان پر ایک” سمینار” مدرسہ دعوة القرآن بہواروہ ضلع روتہٹ نیپال میں کیا،مگر اس کے قیام کو لے کر کوئی حتمی فیصلہ نہ ہوسکا۔
اسی” وفاق المدارس العربیہ ” کے قیام کو لےکر آج بتاریخ 20/دسمبر بروز سوموار،چندر نگاہ پور کی جامع مسجد میں جمعیت علماء نیپال کا ایک انتہائی اہم اجلاس ہوا۔
جس کی صدارت جمعیت علماء ضلع روتہٹ نیپال کے صدر مولانا محمد شوکت علی قاسمی المدنی نے فرمائی،جس میں ملک کے اجلہ علماء کرام نے شرکت کی۔
مجلس کا آغاز مولانا وقاری اسرار الحق قاسمی(رکن جمعیت علماء ضلع روتہٹ نیپال ونائب ناظم معہد ام حبیبہ رضی اللہ عنہا للبنات جینگڑیا روتہٹ نیپال)کی تلاوت قرآن سے ہوا،شان رسالت میں نذرانہ عقیدت مولانا عبد القادر صاحب نے پیش کیا۔
جمعیت علماء نیپال کے ناظم عمومی مولانا وقاری محمد حنیف عالم قاسمی مدنی نے چند تجاویز پیش کیں،جن میں سے چند پیش کیا جاتاہے:
مدارس کے نظام میں یکسانیت ہو۔قابل ذکر عصری تعلیم کو جگہ دی جائے،جس سے مدارس کا مقصد وجود متاثر نہ ہو۔مدارس کے نظم و نسق کا ملکی پیمانہ پر ایک ہی اصول و ضابطہ ہو۔حکومتی مراعات کی قبولیت کس درجے میں ہو۔مدارس کو جو مسائل درپیش ہیں یا مستقبل میں آسکتے ہیں،ان کے حل کےلیے کیا کیا جائے؟
جلد ہی ملکی پیمانہ پر مدارس کے اربابِ اختیار پر مشتمل ایک "سمینار” طلب کرکے وفاق کے خاکہ کو حتمی شکل دیاجائے۔
جمعیت علماء نیپال کے مرکزی رکن مولانا ثناء اللہ ندوی نے کہا:کہ حکومت یہ نہیں چاہتی ہے کہ مسلمان تعلیمی میدان میں آگے بڑھیں ،چوں کہ انہیں مسلمانوں سے خطرات لاحق ہیں کہ اگر یہ لوگ تعلیم یافتہ ہوجائیں گے،تو پھر ہماری حکومت ختم ہو جائے گی؛اس لیے حکومت یہ نہیں چاہتی ہے کہ مسلمان تعلیمی میدان میں آگے آئیں۔
اس لیے اگر ملک میں ہمیں اپنا وجود برقرار رکھناہے،تو حکومت سے علاحدہ "وفاق المدارس العربیہ”کا قیام عمل میں لاناہوگا،جس کے تحت ہر مدرسہ کا تعلیمی نصاب ایک ہو اور امتحان وغیرہ بھی ایک ہی ہو،تب ہی جاکر ہم کامیاب ہوسکتے ہیں۔
جمعیت علماء نیپال کے مرکزی ممبر اور جامعہ سید ابوالحسن علی میاں ندوی کے ناظم مولانا قاری محمد حنیف ندوی نے کہا:ہم مدارس والوں میں آپسی اختلاف و انتشار اس قدر ہے کہ اللہ کی پناہ!
ہر طبقہ کے لوگوں میں آپسی اتحاد و اتفاق ہے؛مگر ہم میں کیوں نہیں؟معمولی پیشہ والوں میں اتنی یکسانیت اور اتحاد و اتفاق ہے کہ جس کا کوئی جواب نہیں۔
مثال میں انہوں نے” کسان آندولن” کو پیش کیا اور انہوں نے کہا:کہ کسانوں میں اتنی یکتائیت اور اتحاد ہے کہ انہوں نے چند ناموافق قانون کے خلاف اپنی لڑائی،اس وقت تک جاری رکھی،جب تک مغرور مودی حکومت نے ان قانون کو واپس لینے کا اعلان نہ کردیا:یعنی ان کی طاقت کے سامنے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑگئے،اور یہ سب آپسی اتحاد ہی بنا تو ہوا ہے،ورنہ کیا یہ کبھی ہوسکتاتھا۔
اسی طریقہ سے اگر ہم میں بھی اتحاد ہوگیا،تو ہم بھی بڑے بڑے کارنامے بآسانی انجام دے سکتے ہیں۔
جمعیت علماء نیپال کے نائب صدر مولانا محمد اکرم قاسمی نے کہا:کہ وفاق المدارس العربیہ کا قیام ضرور ہو؛مگر اس سے ہماری تعلیم کا اصل مقصد بھی متاثر نہ ہو۔
اخیر میں جمعیت علماء نیپال کے صدر،بلند پایہ عالم دین مولانا مفتی محمد خالد صدیقی نے کہا:کہ کیا آپ حضرات چاہتے ہیں کہ "وفاق المدارس العربیہ” کا قیام عمل میں آئے،تو تمام علماء کرام نے برجستہ کہا:کہ ضرور اس کا قیام ہو۔
صدر جمعیت نے کہا:کہ "وفاق المدارس العربیہ” کے قیام سے ہماری طاقت مزید مضبوط ہوگی اور ہمیں بھی فخر ہوگا کہ ہمارے پیچھے بھی ایک طاقت ہے،تب ہم کھل کر اور ڈٹ کر بول پائیں گے اور ہمیں مزید کام کرنے کا حوصلہ ملے گا۔
صدر جمعیت نے کہا:کہ ہم میں کا ہرفرد قیمتی ہے،خواہ وہ مسجد کا امام ہی کیوں نہ ہو،ہم ہر ایک کی عزت کرتے ہیں۔
صدرِ جمعیت نے کہا:کہ "جمعیت علماء نیپال” مدارس اسلامیہ کے لیے حصار :یعنی آہنی دیوار کے درجہ میں ہے۔
صدرِ جمعیت نے کہا:کہ ہر ایک فرد اپنے اندر بات ماننے کی صلاحیت پیداکریں ،تاکہ آپ بھی کبھی کسی بلند مقام پر پہنچیں،تو آپ کے ماتحت لوگ آپ کی بات ماننے پر مجبورہوجائیں؛کیوں کہ ہر چیز عوض میں ملتی ہے۔
واضح رہے کہ” وفاق المدارس العربیہ”کے قیام کا فیصلہ ہوچکاہے۔
عنقریب ہی ملکی پیمانے پر” جامعہ سید ابوالحسن علی میاں ندوی” میں وفاق المدارس العربیہ کے عنوان پر ایک سمینار ہوگا،جس کی تاریخ کا جلد ہی اعلان کردیا جائے گا۔
اس اہم اجلاس میں شرکت کرنے والے چند عبقری شخصیات کے اسماء گرامی مندرجہ ذیل ہیں:
مولانا محمد عزرائیل مظاہری (مرکزی ممبر جمعیت علماء نیپال) انجینئر عبد الجبار صاحب( خازن جمعیت) مولانا شفیق الرحمن قاسمی،مولانا معین الدین قاسمی،مولانا اسعد اللہ مظاہری (مرکزی ممبر جمعیت علماء نیپال) مولانا محمد عبد الخالق قاسمی (جنرل سکریٹری دوحہ قطر) مولانا محمد درخشید انور (مرکزی ممبر جمعیت علماء نیپال)قاری ساجد(مشیر مدرسہ تجوید القرآن خیرا) مولانا محمد خیر الدین مظاہری(جنرل سکریٹری جمعیت علماء ضلع روتہٹ)مولانا اسلم جمالی قاسمی(سکریٹری جمعیت علماء ضلع روتہٹ) مولانا رحمت اللہ(نائب صدر جمعیت علماء ضلع روتہٹ) مولانا عبد القیوم (نائب صدر جمعیت علماء ضلع روتہٹ)مکھیا سلیم اللہ(مرکزی ممبر جمعیت علماء نیپال) مولانا محی الدین مظاہری (صدر جمعیت علماء ضلع مہوتری) مولانا انیس صاحب،مولانا کلام الدین ،مولانا ارشاد( مرکزی ممبر جمعیت علماء نیپال) مولانا راشد احمد بردی بانس۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے