جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتورنہ بلاکسی وجہ شورائی گروپ پر پابندی عائد کرنے کی سعی کرنا...

ورنہ بلاکسی وجہ شورائی گروپ پر پابندی عائد کرنے کی سعی کرنا یہ کہاں کا انصاف ہے؟

ورنہ بلاکسی وجہ شورائی گروپ پر پابندی عائد کرنے کی سعی کرنا یہ کہاں کا انصاف ہے؟
انوارالحق قاسمی
(ترجمان جمعیت علماء روتہٹ نیپال)
تبلیغی جماعت بھی دوگروپوں میں تقسیم ہوچکی ہے(1)سعدی گروپ(2)شورائی گروپ ۔پڑوسی ملک ہندوستان میں ان دونوں کے مابین کس حدتک اتحاد ہے ،اس پر میں کچھ نہیں لکھتا۔البتہ نیپال میں ان دونوں گروپوں کے حامیوں درمیان کیا اتحاد ہے ؟اس پر میں مختصرا لکھ رہاہوں،جس سے ان کے باہمی اتحاد کا علم ہوجائے گا۔
براٹ نگر کے جناب آفتاب حسن انصاری صاحب ہیں ،جو شورائی گروپ سے مربوط ہیں اور یہ انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ تبلیغ کا کام کررہے ہیں۔چوں کہ یہ شورائی تبلیغی جماعت میں سرگرم ہیں ؛اس لیے ان کی یہ دلی تمنا ہوئی کہ نیپال میں شوری کے اکابر کا دورہ ہو،تو انہوں نے چند افراد پر مشتمل اکابرِشوری کو ایک وفد کی شکل میں نیپال کا دورہ کرانےلگے۔جب سعدی گروپ کے حامیوں کو پتا چلا کہ شوریٰ کے اکابر نیپال کا دورہ کرہےہیں ،تو ان کی یہ ہرممکن کوشش جاری ہوگئی کہ اکابرِشوری کو نیپال کی کسی مسجد میں وعظ و بیان تو دور ،ٹہرنے کی بھی جگہ نہ ملے۔چناں چہ انہوں نےاپنے اس مقصد میں کامیابی کے لیے ہرجگہ کے تبلیغی ذمہ داران سے بذریعہ فون رابطہ کرکے انہیں سختی کے ساتھ اس بات کی تاکید کی کہ ہرگز اکابرِشوری کو کسی مسجد میں وعظ و تبلیغ کے لیے جگہ نہیں ملنی چاہیے۔سعی بلیغ کی بنا انہیں بعض جگہ بڑی کامیابی ملی(کہ اکابرِشوری کو قیام اور وعظ و تبلیغ کی اجازت نہ مل سکی)اور بعض جگہ ناکامی ہاتھ آئی(کہ اکابرِشوری کو بےحد عزت ملی اور ان کے اہم خطابات بھی ہوۓ)۔جب ہمیں ان کے باہمی شدید اختلافات کا علم ہوا،تو میرے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ ان کے اس آپسی اختلافات کا سبب معلوم کروں،تو میں نے مورخہ 30/اگست کو براٹ نگر چھاتابیلی کے شورائی تبلیغی جماعت کے دوروزہ عظیم الشان اجتماع میں شرکت کیا۔اس اجتماع میں انجینئر حضرت شمیم صاحب ،حضرت مفتی محمد شبیر شیس صاحب ،انجینئر حضرت سہراب صاحب کے اہم خطابات ہوۓ۔انجینئر شمیم صاحب نے کہا کہ جس مسلمان کے دل میں بھی اللہ کا خوف ہوگا،وہ نماز کا تارک نہیں ہوگا۔اگر کوئی نماز اور دیگر کوئی فرائض و واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی کرتاہے،تو سمجھیے اسے اللہ سے محبت نہیں ہے اور نہ ہی اس کے دل میں اللہ کا کوئی خوف ہے۔انجینئر صاحب نے یہ بھی کہاکہ اگر کسی بستی کے مسلمانوں کادین معلوم کرناہو،تو پھر وہاں کے مصلیوں کی تعداد دیکھ لیں ،جس قدر دین ہوگا،اسی قدر نمازی بھی ہوں گے۔انجینیئر صاحب نے مزید کہا کہ یہ بہت ہی افسوس کی بات ہے 85/فی صد مسلمان مسجد سے دور ہیں،انہیں دین سے کوئی مطلب نہیں ہے،اگر انہیں دین سے نہیں جوڑا گیا،تو پھر امت کا بہت بڑانقصان ہوگا۔
انجینئر صاحب نے کلام دراز کرتے ہوۓ کہا:کہ تبلیغی جماعت کا مقصد ہی ہےبےدینوں کو دین پر لانا اور بے دینوں میں دین داخل کرنا۔جولوگ مسجد سے دور ہیں ،انہیں مسجد سے قریب کیاجاۓ، انہیں نماز پڑھنے کا طریقہ سکھایا جاۓاور بھی دیگر شریعت کے موٹے موٹے احکام سکھائے جائیں۔
جنہیں شریعت کا علم ہے مثلا علماء کرام تو انہیں چاہیے کہ فرصت کے اوقات میں تبلیغ والوں کا ساتھ دیں اور انہیں دین سکھائیں ۔انجینئر شمیم صاحب ایک بات بار بار کہہ رہے تھے :کہ تبلیغ میں وقت لگائے ہوۓ افرادعلماے کرام سے اپنا رشتہ مضبوط رکھیں اور جو کچھ بھی دین کے سلسلے میں معلوم نہ ہو فورا علماے کرام سے پوچھ لیں ،کیوں کہ اصل دین کا علم تو علماۓ کرام کے پاس ہے۔
انجینئر شمیم صاحب نے یہ بھی کہا:کہ جماعت امارت سے آۓ یا شوری سے آپ ہرایک کی عزت و توقیر کریں،انہیں خوب خوب کام کرنے کا موقع دیں اور ان کا ہرپل تعاون کریں۔
ان کے اس بیان سے تو مجھے صاف معلوم ہوگیاکہ اختلاف کا سبب ،بس تبلیغی جماعت کا دو گروپوں میں تقسیم ہوجاناہے؛کیوں کہ جو کام سعدی گروپ کا ہے وہی کام شورائی گروپ کا بھی ہے۔ سعدی گروپ کا بھی کام مسلمانوں کو راہ راست پر لانا اور بےدینوں میں دین عام کرناہے اور بعینہ یہی کام شورائی گروپ کا بھی ہے۔تو پھر جب کام ایک ہے ،تو صرف شوریٰ پر پابندی کیوں لگے گی؟ہاں سعدی گروپ کو اگر ان میں کوئی اعتقادی خامی نظر آتی ہو،تو پھر لوگوں کو اس خامی سے روشناس کرائے؛ورنہ بلا کسی وجہ شورائی گروپ پرپابندی عائد کرنے کی سعی کرنا یہ کہاں کا انصاف ہے؟
مجھے تو یہی لگا کہ شوریٰ گروپ کو سعدی گروپ سے کوئی دقت نہیں ہے،ان کی چاہت بس یہی ہے کہ اختلاف سے قطعِ نظر دونوں گروپ اپنی اپنی جگہ کام کرے،کوئی کسی کے لیے خار دار کانٹا نہ بنے۔میں بھی یہی کہتاہوں ہوں کہ دونوں گروپ آپسی مودت کے ساتھ تبلیغ کریں،کوئی کسی کے کام میں ٹانگ نہ اڑاے؛ورنہ اس کا بڑا نقصان ہوسکتاہے؛کیوں کہ تبلیغی جماعت کا تعلق علماء سےنہیں ،بل کہ عوام سے ہے۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے