واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی پالیسی اور دیگر متبادل ایپز – ساجدہ فرحین فرحی

77

دنیا کی مقبول ترین میسجنگ اپلیکشن واٹس ایپ کی جانب سے نئی پرائیویسی پالیسی متعارف کرائے جانے کے بعد صارفین کی جانب سے بہت زیادہ تنقید کی جارہی ہے . اس پالیسی کے تحت واٹس ایپ صارفین کے ڈیٹا تک فیس بک اور اس کی شراکت دار کمپنیوں کو رسائی حاصل ہوجائے گی، جبکہ پرائیویسی پالیسی کو قبول نہ کرنے پر صارف کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کردیا جائے گا .

نئی پالیسی کے مطابق واٹس ایپ اپنے صارفین کو مجبور کر رہا ہے کہ اگر وہ مستقبل میں ایپ کا استعمال جاری رکھنا چاہتے ہیں تو انھیص نئی حفاظتی پالیسوں کو قبول کرنا ہو گا۔اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔

 

واٹس ایپ اب آپ کے بارے میں جمع کردہ معلومات کو فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر کمپنیوں سے شیئر کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس ڈیٹا میں صارف کا فون نمبر جس پر واٹس ایپ رجسٹر کیا گیا ہے شامل ہونے کے علاوہ آئی پی ایڈریس ( انٹرنیٹ کنیکشن استعمال کرنے کا مقام) موبائل فون یا لیپ ٹاپ سے متعلق معلومات، بشمول اس کا ماڈل اور کمپنی، واٹس ایپ ایپلیکیشن کب اور کتنے وقت کے لیے استعمال کی گئی، سٹیٹس، گروپس، رقم کی ادائیگیاں یا کاروباری خصوصیات، پروفائل فوٹو سمیت چند تکنیکی چیزیں بھی شامل ہیں۔’واٹس ایپ’ نے واضح کیا ہے کہ اس کی پالیسی اپ ڈیٹ سے صارفین کے میسجز کی پرائیویسی متاثر نہیں ہو گی۔واٹس ایپ نے اپنے ایک بیان میں صارفین کو کہا ہے کہ یہ بات 100 فی صد واضح ہونی چاہیے کہ واٹس ایپ صارفین کے میسجز ‘اینڈ ٹو اینڈ اِن کرپٹڈ’ ہیں۔واٹس ایپ کی نئی پالیسی کا اطلاق آٹھ فروری سے ہونا ہے جس کے تحت صارفین سے متعلق معلومات واٹس ایپ کی مالک کمپنی فیس بک سے شیئر کی جائیں گی۔البتہ اس نئی پالیسی کا اطلاق واٹس ایپ یورپ، برازيل اور امریکہ میں ان نئی پالیسوں کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ وہاں موجود رازداری کے حوالے سے موجود سخت قوانین ہیں۔ جن کی پاسداری کرنے کے لیے واٹس ایپ پابند ہے۔

 

نئے اپ ڈیٹ کے تحت صارفین کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کا فون نمبر، واٹس ایپ کے ذریعے دوسرے لوگوں سے رابطہ کرنے کا دورانیہ اور واٹس ایپ استعمال کرنے کا وقت وغیرہ اشتہاری مقاصد کے لیے فیس بک کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔یہ ضروری نہیں کہ واٹس ایپ صارف کا فیس بک اکاؤنٹ بھی ہو۔ بلکہ تمام وہ صارفین جن کے پاس واٹس ایپ کی جانب سے اپ ڈیٹ کا نوٹس جائے گا، اُن کی مذکورہ معلومات فیس بک سے شیئر کی جائیں گی۔خیال رہے کہ فیس بک نے 2016 میں واٹس ایپ کے مالکانہ حقوق حاصل کیے تھے۔ اس کے بعد سے اس ایپلی کیشن کے استعمال کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔واٹس ایپ کی جانب سے دوسری بار اس کی نئی پالیسی سے متعلق وضاحت سامنے آئی ہے۔ قبل ازیں واٹس ایپ نے کہا تھا کہ اس کی نئی اپ ڈیٹ صرف بزنس اکاؤنٹس سے متعلق ہے۔صارفین کی آگاہی کے لیے واٹس ایپ کے جاری کردہ حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ اور فیس بک دونوں ہی صارفین کے میسجز نہیں پڑھ سکتے اور نہ ہی صارفین کی کالز کو سن سکتے ہیں۔ اس لیے صارفین دیگر لوگوں کے ساتھ میسجز میں جو بھی شیئر کرتے ہیں، وہ بھیجنے والے اور وصول کرنے کے درمیان ہی رہتا ہے۔

 

واٹس اپ کی مالک فیس بک کمپنی ہیں کچھ سال قبل فیس بک نے واٹس ایپ کو 19 ارب ڈالردے کر اسے خریدا تھااب اتنا پیسہ فیس بک نے خرچ کیا تھا تو اس کا کچھ استعمال بھی کرے گا

جتنے بھی واٹس ایپ کے یوزر ہیں واٹس ایپ کو استعمال کرنے والے ہیں ان کا ڈیٹا جو اب تک فیس بک کے ساتھ شیئر نہیں کیا جاتا تھا اب کیا جائے گااور جو ڈیٹا شیئر کیا جائے گا اس کی تفصیلات کچھ اس طرح سے ہیں

 

مثلاً آپ کا فون نمبر کیا ہے

 

آپ کون سا موبائل نیٹ ورک یوز کرتے ہیں

 

کس قسم کا فون یوز کرتے ہیں

 

کونسی لوکیشن سے یوز کرتے ہیں

 

آپ کی سگنل اسٹرنتھ کیا ہے

 

آپ کا ٹائم زون کیا ہے آپ کا آئی پی ایڈریس کیا ہے

 

آپ کس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں

 

اگر ہم اس ساری تفصیلات کو اکھٹا کرکے رکھ لیں اور کوئی اس کو استعمال کرنا چاہے تو یہ ایک بہت زبردست بزنس انفارمیشن ہےٹارگٹ افراد کو آسانی سے ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے بہت اچھے طریقے سے ان ساری معلومات کو اگر صحیح طریقے سے استعمال کیا جائےکمپنیز اپنی پروڈکٹس کی ایڈورٹائزمنٹ کرتی ہیں اپنے یوزر تک بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ ہماری پرائیویسی پر حملہ ہے بات در اصل یہ ہے کہ ہم جتنی بھی فری سروسز استعمال کرتے ہیں تو وہ لوگ ہماری ان ساری معلومات کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں اور ہم اس سے بے خبر ہوتے ہیں

ان ساری باتوں سے پریشان ہوں گے کچھ لوگ واٹس اپ کو چھوڑ کے دوسرے متبادل ایپس کی طرف جا رہے ہیں جیسے ٹیلیگرام اور سگنل وغیرہ لیکن اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ جب وہ ایپس بھی اپنی مقبولیت کے انتہا کو پہنچ جائیں گے تو وہ بھی یہ سب کچھ نہ کریں واٹس اپ اور فیس بک کر رہے ہیں انٹرنیٹ کی دنیا میں اور عام دنیا میں کوئی چیز مفت کی نہیں ملتی

اور اگر آپ ایسی چیز فری میں یوز کر رہے ہیں کوئی سروس آپ مفت میں یوز کر رہے ہیں تو یو آر دا پروڈکٹس آپ جو سروسز مفت میں استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو آپ اسکی کسی نہ کسی طرح قیمت ادا کر رہے ہوتے ہیں اگر پیسوں کی صورت میں نہیں اپنی پرائیویٹ معلومات کی صورت میں وہ آپ کے بارے میں آل ریڈی معلومات دوسروں کے ساتھ شیٸر کر چکے ہوتے ہیں

آپ دراصل سہولت کے بدلے اپنی پرائیوسی بیچ رہے ہوتے ہیں۔

 

دانستہ یا نادانستہ طور پر چاہتے ہوۓ یا نہ چاہتے ہوئے لوگوں نے یہ ایگریمنٹ کرلیا ہے۔ بد قسمتی سے ہم اپنے اتنے آگے چکے ہیں کے واپسی کا کوئی راستہ نہیں اسلے اگر ہمیں کسی ایک ایپ سے کچھ خدشات لاحق ہیں تو ہمیں متبادل ایپز کی تفصيلات بھی جاننا ضروری ہے تاکہ ان کے ذریعے اپنی مطلوبہ سہولت حاصل کرسکیں واٹس ایپ کی جانب سے نئی پالیسی کا اعلان پانچ جنوری کو کیا گیا تھا۔ اس پالیسی کے اعلان کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر صارفین کی پرائیویسی سے متعلق بحث چھڑ گئی تھی اور بہت سے لوگوں نے واٹس ایپ کی اس پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دیگر میسجنگ ایپس استعمال کرنے کا اعلان کیا تھا۔واٹس ایپ کی اس نئی پالیسی کے اعلان کے بعد سے اسی نوعیت کی دیگر ایپس کی ڈاؤن لوڈنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔رپورٹس کے مطابق حالیہ چند روز کے دوران میسجنگ ایپ ‘ٹیلی گرام’ 17 لاکھ اور ‘سگنل’ کو 12 لاکھ نئے صارفین نے ڈاؤن لوڈ کیا ہے۔ عمومی طور پر سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہونے والی ایپ واٹس ایپ کو اس عرصے کے دوران 13 لاکھ لوگوں نے ڈاؤن لوڈ کیا۔ترکی نے واٹس ایپ کی نئی پالیسی کے اعلان کے بعد واٹس ایپ اور فیس بک کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان کی میڈیا ٹیم نے بھی واٹس ایپ کا استعمال ترک کر دیا ہے اور ترکی کی مقامی کمپنی ‘ترک سیل’ کا تیار کردہ میسجنگ ایپ ‘بیپ’ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب بھارت میں تاجروں نے حکومت کو ایک خط لکھا ہے جس میں واٹس ایپ کی نئی پالیسی کے بعد اس پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہر قسم کی ذاتی معلومات جن میں رقوم کا تبادلہ، موبائل فون میں موجود کانٹیکٹ نمبرز، لوکیشن اور دیگر معلومات شامل ہیں، نئی پالیسی کے تحت دیکھی جا سکیں گی۔واٹس ایپ کی نئی پالیسی کے بارے میں معلومات سامنے آنے کے بعد اس پر بحث شروع ہو گئی تھی جو تاحال جاری ہے۔دنیا کے امیر ترین شخص اور الیکٹرک کاریں بنانے والی امریکی کمپنی ٹیسلا کے سی ای او ایلن مسک نے ٹوئٹ کیا کہ “سگنل استعمال کریں۔”غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واٹس ایپ کی پالیسی میں تبدیلی کے بعد صارفین تحفظات کا شکار ہیں ، ایسے میں ترکی میں سب سے بڑی موبائیل کمپنی ترک سیل نےپیغام رسانی کے لیے بیپ ( بی آئی پی ) کے نام سے ایپ تیار کی ہے، جس کے صرف ترکی میں صارفین کی تعداد 24گھنٹے میں 11لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔جبکہ دنیا بھر میں بی آئی پی ایپ کے صارفین کی تعداد 5کروڑ 30لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، ترک سیل کمپنی وائس کال اور وڈیو کال کی سروس کو دنیا میں 192ممالک میں متعارف کروانا چاہتی ہے۔اس ایپ کی خاصیت یہ ہے کہ واٹس ایپ کی طرح جیسے ہی پیغام کنندہ میسیج کو وصول کرے گا تو بھیجنے والے کو اس کی نشاندہی ہوجائے گی، قدرتی آفات اور ایمر جنسی کی صورت میں متعلقہ اداروں کو بروقت پیغام بھیج سکتا ہے۔

 

بی آئی پی ایپ میں مختلف زبانوں کے ترجمے کی سہولت بھی موجود ہے،106زبانوں میں موصول ہونے والا پیغام صارف اپنی زبان میں پڑھ سکتا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے واٹس ایپ نے اپنے پرائیوسی رولز میں تبدیلی کی تھی جس کے تحت اب واٹس ایپ صارفین کی معلومات فیس بک اور اس کے دیگر کمپنیوں کے ساتھ شیئر کی جائیں گی، صارفین جب تک اس نئے رول کو قبول نہیں کرتے وہ واٹس ایپ استعمال نہیں کرسکیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ واٹساپ اور بپ کے ترمس اینڈ کنڈیشن میں کوئی زیادہ فرق نہیں بلکہ بپ کی شرائط واٹساپ سے زیادہ خطرناک ہیں۔ واٹساپ صرف فیسبک کو انفارمیشن شیئر کرے گا جو خود واٹساپ کی مالک ہے مگر بپ ایپ ہر اس تھرڈ پارٹی کو آپکی کی انفارمیشن شیئر کر دے گا جو اسے پیسہ دے گا۔ اس ایپ کے شرائط میں صاف لکھا ہوا ہے کہ تھرڈ پارٹی کو ڈیٹا شیئر کیا جائے گا اور فی الحال مائیکروسافٹ اور گوگل پہلے سے تھرڈ پارٹی کے طور پر بپ سے اشتراک بنائیے ہوئے ہیں۔

 

’’بیپ ‘‘ (Bip)موبائل ایپ کی خرابیاں

 

(1) پرائیویسی پالیسی (رازداری) واٹس جیسے کثیرالاستعمال ایپ کو اگر صرف پرائیویسی پالیسی کے لیے چھوڑا جارہا ہے، تو اس بیپ نامی ایپ کی پالیسی آپ کی پرائیویسی کے لیے مزید خطرناک ہے،ایپ کے ذریعے دی گئی پالیسی تفصیلات کے کچھ اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:

 

# (”پالیسی”) بتاتی ہے کہ ہم کس طرح معلومات (”ذاتی ڈیٹا”) اکٹھا کرتے، استعمال کرتے اور بانٹتے ہیں جو آپ کی شناخت کو مخصوص یا قابل شناخت بناتا ہے (”آپ”، ”آپ کا یا صارف کا ہے”)۔ اگر آپ کو اس پالیسی کے بارے میں کوئی درخواست یا شکایت ہے تو، براہ کرم ہم سے ڈیٹا پروٹیکشن آفیسر کے توسط سے رابطہ کریں”

 

# ہم آپ سے بالواسطہ طور پر ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں، اسی طرح تیسری پارٹی سے حاصل کردہ معلومات بھی۔آپ کو مندرجہ ذیل حصوں میں کون سے مقاصد کے لئے کون سا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے اس کے بارے میں تفصیلی معلومات مل سکتی ہیں۔

 

کون سا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے؟

 

ہم جن ذاتی اعداد و شمار کو جمع کرتے ہیں ان کے زمرے کے نیچے مزید تفصیل سے بیان کرتے ہیں:

 

شناخت اور رابطے سے متعلق معلومات: اکاؤنٹ کو محفوظ رکھنے کے لئے فون نمبر، صارف نام (عرفیت)، اوتار، جی ایس ایم آپریٹر اور پاس ورڈ استعمال کیا جاتا ہے۔استعمال کی معلومات: تکنیکی آلات کے ذریعہ آپ کے آلے سے جمع کردہ تکنیکی اعداد و شمار، بھیجے گئے پیغامات کی قسم (اس کے مواد کے بارے میں کوئی معلومات اکٹھا کیے بغیر) (ٹیکسٹ میسج، ویڈیو، وغیرہ)، استعمال شدہ فعال وقت، خدمات کی قسم، ایپلیکیشن انٹرفیس سے متعلق استعمال کی عادات، درخواست میں آخری لاگ ان کی تاریخ غلطیوں اور غلطیوں کے بارے میں معلومات جو ایپلی کیشن کے استعمال کے دوران واقع ہوئی ہیں۔ذاتی نوعیت کی معلومات اور سروے: عرفیت، پروفائل فوٹو، حیثیت سے متعلق معلومات، مسدود کردہ نمبر۔ درخواست کے ذریعہ کئے گئے سروے کے نتائج سے متعلق ڈیٹا۔مقام کی معلومات: اگر صارف مقام سے متعلقہ افعال استعمال کرتے ہیں تو، ترتیبات پر انحصار کرتے ہوئے ان کے آلے کے (قریب) مقام پر ڈیٹا۔

 

ڈیوائس کی معلومات: ڈیوائس ماڈل، ڈیوائس آپریٹنگ سسٹم، فون کی ترجیحی زبان، آپریٹر استعمال کرنے والے صارفین کے بارے میں معلومات، ملکی معلومات۔

 

استعمال کی اطلاع: مواصلات کی قسم (بی آئی پی کالز، فوری پیغامات وغیرہ) کے بارے میں ڈیٹا، مواصلات کی مدت، تاریخ اور فریقین، لوگوں نے رابطہ کیا۔ بی آئی پی درخواست کے ذریعہ آپ کے مواصلات کے مواد سے متعلق کوئی ڈیٹا اکٹھا نہیں کرتا ہے۔بیک اپ کی معلومات: اگر صارف درخواست کرتے ہیں تو، مواصلت کے اعداد و شمار کو بی آئی پی کے ذریعے بیک اپ کیا جاسکتا ہے۔ایڈریس بک کی معلومات: صارف کے آلے پر موجود فون نمبرز، اور رابطہ کی فہرست۔آپ کے ذاتی ڈیٹا کو کس مقصد کے لئے پروسس کیا جاتا ہے؟آپ کے ذاتی ڈیٹا پر عملدرآمد بائی پی کے ذریعہ ذیل میں بیان کردہ مقاصد کے لئے کیا جاتا ہے۔شناخت کی معلومات: اس معلومات کا اطلاق صارف کی رجسٹریشن، غلطی / ناکامی کی اطلاعات، کنٹرول، ترقی اور آپریشنل سرگرمیوں کی وصولی، کاروباری ترقی، خدمت کے معیار کی پیمائش، مواصلات، داخلی تشخیص، فروغ، سروس تجزیہ، شکایت انتظامیہ، کسٹمر سروے عمل کے مقاصد کے لئے کیا جاتا ہے۔ڈیٹا کا استعمال اور پسندیدہ: یہ ذاتی ڈیٹا کاروباری ترقی، براہ راست یا بالواسطہ مارکیٹنگ (درخواست میں صارفین کی مہمات، صارفین کو مشورے، خدمات اور افعال، اشتہارات کی پیش کش)، پروفائلنگ (عملی طور پر آپ کی ترجیحات، صارفین کے مقام، آپریٹر، استعمال کی مدت، کے مطابق اشتہارات کی پیش کش کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ قیام اور افعال کی مدت کے مطابق درجہ بندی)، آڈٹ اور کنٹرول، رسک مینجمنٹ، داخلی تشخیص، پیمائش اور خدمات کے معیار میں بہتری، مواصلات، شکایت کے انتظام کے عمل پر عمل درآمد، عمل درآمد اور آپریشنل سرگرمیوں کی ترقی وغیرہ”

واضح رہے کہ پچاس فیصد ایپلیکیشنز اسی طرح سے آپ کے ڈیٹا کا حصول کرتی ہیں۔تاہم بیپ کے اصول رازداری کو پڑھ کر اتنا تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ایپ جب چاہے ہماری معلومات کسی تھرڈ پارٹی کو دے سکتا ہے یا فروخت کرسکتا ہے۔

 

(2) دوسری بات یہ کہ بیپ ایپ مکمل مفت نہیں ہے، جی ہاں! اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنا اور اس کا استعمال تو فری ہے؛ لیکن اس کے اندر کی مزید سہولیات کے حصول اور استعمال کے لیے آپ کو 10 روپے سے لے کر چھبیس سو روپے تک دینے پڑ سکتے ہیں۔

 

(3) تیسری بات یہ کہ اس ایپ کا حجم بہت زیادہ ہے: ”35” ایم بی۔ یعنی دیگر دو چیَٹ ایپلیکیشن کے برابر۔سگنل اور ٹیلیگرام آج بھی محفوظ ہیں اور یہ کسی بھی کمپنی کے ساتھ آپکا انفارمیشن شیئر نہیں کرتے۔ آگے کی بات بعد میں جب یہ اپنی پالیسی بدلیں گے تو واٹساپ کی طرح انھیں بھی یوزر کو بتانا پڑے گا تب دیکھا جائے گا اور یہ دونوں کے کوڈ انٹرنیٹ پر موجود ہیں اسلئے ان میں شفافیت بھی زیادہ ہے۔

 

ٹیلی گرام کی کچھ خصوصیات یہ ہیں

 

واٹس ایپ گروپ میں زیادہ سے زیادہ 256 افراد شامل ہو سکتے ہیں جبکہ ٹیلی گرام اپنے سوپر گروپ میں ایک لاکھ ممبرز تک کو شامل کرنے کی سہولت دیتا ہے.جبکہ چینل میں شمولیت کی کوئی حد مقرر نہیں.

 

واٹس ایپ میں کسی بھی گروپ میں شمولیت کے وقت آپ اس گروپ میں نابینا ہو کر شامل ہوتے ہیں.یعنی آپ کو یہ قطعاً معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کی شمولیت سے قبل گروپ میں کیا کچھ چل رہا تھا،کس کس نے کیا کیا میسجز کیے تھے اور کیا کچھ شئیر ہو چکا تھا..جبکہ ٹیلی گرام پہ کسی بھی گروپ یا چینل میں شمولیت کے بعد آپ ابتداء سے ہونے والی تمام تر بات چیت اور مواد دیکھ سکتے ہیں.گویا ٹیلی گرام پہ کسی بھی گروپ میں شمولیت کے بعد اپ کو یہ افسوس نہیں رہتا کہ آپ پہلے کیے گئے میسجز سے محروم رہ گئے ہیں بلکہ گروپ کا تمام مواد آپ کی دسترس میں ہوتا ہے.

 

واٹس ایپ میں کسی بھی گروپ میں شمولیت سے قبل آپ یہ پتہ نہیں چلا سکتے کہ گروپ میں کیسا مواد موجود ہے..آپ کو گروپ میں جھانکنے کے لیے گروپ میں شامل ہونا پڑے گا.اس کے برعکس ٹیلی گرام آپ کو یہ سہولت دیتا ہے کہ آپ پہلے گروپ میں جھانک کر اس کا جائزہ لے لیں پھر اپنی مرضی سے اس میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرلیں.واٹس ایپ پہ آنے والے تمام مواد کا بوجھ آپ کی فون میموری پہ ہوتا ہے.چنانچہ کوئی بھی آڈیو،ویڈیو یا دیگر فائل جو آپ دیکھنا چاہیں پہلے آپ اسے فون میں ڈاؤنلوڈ کریں گے تب اسے دیکھ سکیں گے.جبکہ ٹیلی گرام اس تمام مواد کا بوجھ خود اٹھاتا ہے اور آپ کے فون اور میموری کارڈ کو اس بوجھ سے آزاد رکھتا ہے.چنانچہ ٹیلی گرام پہ شئیر ہونے والی کسی بھی آڈیو یا ویڈیو کو آپ سننا یا دیکھنا چاہیں تو آپ ٹیلی گرام پہ ہی اسے دیکھ سکتے ہیں.یہ فائل اس وقت تک آپ کی فون میموری میں نہیں جائے گی جب تک آپ اسے دیکھنے کے بعد خود اسے فون گیلری میں نہیں بھیجیں گے..میرے خیال میں یہ ٹیلی گرام کا سب سے عمدہ فیچر ہے.یوں آپ اس جھنجٹ سے قطعاً آزاد ہوں گےکہ بار بار گیلری کھول کر غیر ضروری مواد حذف کریں.

 

واٹس ایپ پہ آپ جب کسی بھی گروپ میں یا فرد سے بات چیت کرتے ہیں تو آپ کا نمبر سامنے والے کے سامنے آجاتا ہے.ٹیلی گرام آپ کو یہ سہولت دیتا ہے کہ آپ اپنی شناخت اور نمبر ظاہر کیے بنا صرف user name کی بنیاد پر کسی سے بھی اجتماعی یا انفرادی بات چیت کر سکتے ہیں.ٹیلی گرام کا ایک اہم فیچر “بوٹ” ہے.یہ ایک خودکار روبوٹ ہے جو آپ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے.یہ بوٹ بہت سے کاموں میں خودکار طریقے سے آپ کا ہاتھ بٹا کر آپ کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے.ٹیلی گرام میسج ارسال کر دینے کے بعد اس میں ترمیم کی سہولت بھی مہیا کرتا ہے.جس سے آپ میسج بھیج دینے کے بعد بھی اس میسج میں تبدیلی کر سکتے ہیں.واٹس ایپ یہ سہولت نہیں دے رہا.واٹس ایپ پہ شئیر کی جانے والی ویڈیو کے حجم کی حد سولہ ایم بی ہے.اس سے زیادہ حجم کی ویڈیو واٹس ایپ پہ ارسال نہیں کی جاسکتی.دیگر فائلوں میں یہ حجم ایک سو ایم بی تک ہے.جبکہ ٹیلی گرام اس حجم کو بڑھا کر 1.5 جی بی تک لے گیا ہے.یعنی آپ واٹس ایپ پہ ڈیڑھ جی بی تک کی ویڈیو ارسال کر سکتے ہیں.

 

ٹیلی گرام saved message کی صورت میں آپ کو اپنے سرور پر جگہ بھی فراہم کرتا ہے جہاں آپ ضروری پیغامات ، ویڈیوز یا دیگر فائلیں محفوظ کر سکتے ہیں.اور ضرورت پڑنے پر کسی بھی جگہ انہیں استعمال کر سکتے ہیں.یوں آپ اس فکر سے بھی آزاد ہو جاتے ہیں کہ خدانخواستہ موبائل کی گمشدگی یا ری سیٹ ہونے کی صورت میں اپ قیمتی مواد سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے.

سیکیورٹی کے اعتبار سے ٹیلی گرام واٹس ایپ سے زیادہ قابل اعتماد ہے.سیکرٹ چیٹ سے آپ کو یہ سہولت بھی میسر ہوتی ہے کہ آپ میسج کو اپنی مرضی کے وقت کے ساتھ منسلک کرکے بھیج دیں.وصول کنندہ کے موبائل سے آپ کا ٹائم میسج مقررہ وقت کے بعد خود بخود ڈیلیٹ ہو جائیگا.مزید براں ٹیلی گرام اس فیچر پہ بھی کام کر رہا ہے کہ اگر وصول کنندہ آپ کے میسج کا سکرین شاٹ لے تو آپ کو الرٹ کر دیا جائے.

یہ چند فیچرز ہیں جو ٹیلی گرام کو واٹس ایپ سے منفرد اور بہتر بناتے ہیں

 

اور اب کچھ فیچرز سنگل کے بارے میں واٹس ایپ اور سگنل کا موازنہ دونوں ایپس کے درمیان متعدد فیچر مماثلت رکھتے ہیں جوکہ صارفین کی توجہ حاصل کر سکتے ہیں۔دنیا بھر میں پیغام رسائی کی مقبول ترین ایپلیکیشن واٹس ایپ نئی پرائیویسی پالیسی کے باعث اپنی اہمیت کھو رہی ہے اور متعدد واٹس ایپ صارفین اب سگنل ایپ کی جانب راغب ہورہے ہیں۔واٹس ایپ کی نئی متنازع پالیسی نے کئی اسمارٹ فون صارفین کے دل توڑ دیئے ہیں۔ لوگ اب متبادل پلیٹ فارمز کا رخ کررہے ہیں۔ ایسے میں سگنل ایپ کی صورت میں صارفین کو امید کی کرن نظر آئی ہے۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ دونوں ایپس کے درمیان مختلف فیچز ایک دوسرے سے مماثلت رکھتے ہیں۔

 

شیئرنگ کی سہولت

 

سگنل ایپ واٹس ایپ کی طرح صارفین کو تصاویر، ویڈیوزاورڈاکیومنٹ شیئر کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

 

گروپ

 

واٹس ایپ کی طرح سگنل پر بھی گروپ بنا کر بیک وقت متعدد افراد سے بات چیت کی جاسکتی ہے۔

 

کال

 

سگنل ایپ بھی صارفین کو واٹس ایپ کی طرح مفت کال کی سہولت دیتی ہے۔

 

آڈیو میسجز

 

واٹس ایپ کا آڈیو میسج کا فیچر صارفین میں بے حد مقبول ہے، سگنل ایپ پر بھی یہ فیچر موجود ہے۔

 

مخاطب کرنے لیے خصوصی نشان

 

سگنل ایپ اور واٹس ایپ دونوں میں صارف گروپ میں کسی بھی شخص کو مخاطب کرنے کے لیے @ کا استعمال کرسکتا ہے۔

 

فاروڈ میسجز

 

سگنل پر فاروڈ میسجز اور میسج پہنچ جانے کا نشان بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

 

چیٹ لاک

 

واٹس ایپ کی طرح سگنل پر بھی صارفین فنگرپرنٹ یا پن کوڈ کے ذریعے چیٹ کو لاک کرسکتے ہیں۔

 

تھیم

 

سگنل پرآپ مختلف کلر تھیمز تبدیل کرسکتے ہیں جبکہ واٹس ایپ میں بھی یہ فیچر موجود ہے۔اسکے علاوہ ٹیلو ٹاک ایک پاکستانی میسنجر ایپ ہے جو بلکل واٹس ایپ کی طرح کام کرتی ہے آپ اس میں کسی بھی دوست کو میسج کر سکتے ہیں بالکل واٹس ایپ کی طرح اور آپ کال بھی کر سکتے ہیں واٹس ایپ کی طرح اس میں کافی زیادہ گروپس ہیں جن کو آپ جوائن کر سکتے ہیں اور ان گروپس میں ویڈیوز بھیج سکتے ہیں فوٹوز بھیج سکتے ہیں اس کے علاوہ آپ اس ایپ میں سٹوریز پوسٹ کر سکتے ہیں انسٹاگرام اور یوٹیوب کی طرح واٹس ایپ کی نئی پالیسی ان صارفین کو متاثر کر سکتی ہے جو واٹس ایپ کے علاوہ کسی اور سوشل ایپلیکیشن جیسے فیس بک اور انسٹاگرام کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔ ان کا ڈیٹا بھی ان کمپنیوں کے پاس چلا جائے گا جو اب تک صرف واٹس ایپ کے پاس تھا۔ ‘ہاں اگر آپ دیگر سوشل پلیٹ فارمز پر بھی موجود ہیں تو آپ کے لیے پریشانی کی بات نہیں ہے

Join BiP to experience a fun way to engage with friends and community. Download from https://play.google.com/store/apps/details?id=com.turkcell.bipJoin BiP to experience a fun way to engage with friends and community. Download from https://play.google.com/store/apps/details?id=com.turkcell.bip

IMG 20210114 050052