جمعہ, 30, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتنیک شوہر کی قدر نیک بیوی ہی کر سکتی ہے۔

نیک شوہر کی قدر نیک بیوی ہی کر سکتی ہے۔

         سرفراز عالم ،عالم گنج پٹنہ

نیک شوہر کی قدر نیک بیوی ہی کر سکتی ہے۔ حالانکہ ایک بیوی کے لیے شاید یہ دنیا کا سب سے مشکل ترین کام ہے کہ وہ اپنے شوہر کی تعریف کرےاور شکر گزار ہو۔اگر ایسا ہوتا تو شاید جنت میں زیادہ تعداد عورتوں کی ہوتی ۔اس کے باوجود ابھی بھی سماج میں ایسی بیویاں ہیں جو وفادار شوہر پر فخر کرتی ہیں۔ شوہر کی وفاداری کو اس کی بیوقوفی نہیں سمجھتی ہیں ۔یہ بھی ذہن میں رہے کہ ایک باشعور اور اعلیٰ ظرف بیوی ہی شریف شوہر کو اپنے لئے خوش قسمت سمجھ سکتی ہے ۔بد قسمتی سے ان دنوں زیادہ کمانے والے شوہر کو ہی سب سے بہتر شوہر مانا جانے لگا ہے ۔

         جس طرح ہر مرد ایک ایسی بیوی کی خواہش رکھتا ہے جو سیرت و صورت میں حسین ہو اسی طرح ہر سنجیدہ عورت ایک ایسے شوہر کا خواب دیکھتی ہے جس کی خوبیوں پر وہ فخر کر سکے۔مرد و زن کے خوبصورت ازدواجی تعلقات سے ہی نسل انسانی قائم ودائم ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ایک صحت مند سماج کی بھی اہم ضرورت ہیں ۔لہٰذا یہ رشتہ جتنا مضبوط ہوگا ہمارا گھر اور سماج بھی اتنا ہی باشعور اور مستحکم ہوگا۔

          عام طور پر دوسرے تمام رشتوں کی لوگ زیادہ فکر کرتے ہیں اور اس پہلے انسانی رشتے کو جوتے کی نوک پر رکھنا بہادری سمجھتے ہیں۔ وعظ و نصیحت میں اکثر شوہر اور بیوی کے ازدواجی تعلقات کو چھوڑ کر والدین، اولاد، بھائی بہن وغیرہ کے حقوق کو ہی گفتگو کا موضوع بنایا جاتا ہے ۔نتیجے میں مرد و زن کے ازدواجی تعلق کا شیرازہ ہر دن کمزور ہوتا جا رہا ہے ۔

       شوہر اور بیوی ایک کامیاب سواری کے دو مضبوط پہئے ہوتے ہیں جو ساتھ ساتھ چلے تو زندگی کا سفر آسان ہو جاتا ہے اور اپنی اپنی راہ چلے تو گھر حادثات کا گڑھ بن جاتا ہے ۔جہاں نیک بیوی کی موجودگی میں گھر خوشحال بن جاتا ہے وہیں ذمہ دار شوہر جب گھر کا نگراں بھی ہوتا ہےتوگھرخوشیوں کا نمونہ بن جاتا ہے۔جس کا شوہر ذمہ دار کے ساتھ وفادار بھی ہو تو وہ عورت خود کو دنیا کی سب سے خوش نصیب بیوی سمجھتی ہے۔ سوشل میڈیا کے یلغار کی وجہ سے ان دنوں شوہر اور بیوی کی وفاداری بھی داؤ پر لگ چکی ہے۔

       اگرچہ انسان کی حیثیت سے اسلام کی نظر میں شوہر اور بیوی دونوں برابر ہیں لیکن دونوں کی الگ الگ ذمےداریاں ہیں۔
    اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
” اور (مردوں پر ) عورتوں کا حق ہے جیسا کہ (مردوں کا) عورتوں پر حق ہے، معروف طریقہ پر۔ (سورۂ البقرہ. 228)
      اس آیت میں میاں بیوی کے تعلقات کا ایک جامع دستور پیش کیا گیا ہے۔ یہ آیت بتارہی ہے کہ بیوی کو محض بیوی یا گھر کی خادمہ مت سمجھنا بلکہ یہ یاد رکھنا کہ اس کے بھی کچھ حقوق ہیں جن کی پاس داری شریعت میں ضروری ہے۔ ان حقوق میں جہاں نان ونفقہ اور رہائش کا انتظام شامل ہے وہیں اسکی دلجوئی اور راحت رسانی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
      اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” تم میں سب سے اچھا آدمی وہ ہے جو اپنے گھر والوں (یعنی بیوی بچوں) کی نظر میں اچھا ہو” ۔
     ظاہر ہے کہ گھر والوں کی نظر میں اچھا وہی ہوگا جو اُن کے حقوق کی ادائیگی کرنے والا ہو۔ اسی طرح اِس آیت میں بیوی پر بھی حقوق کی ادائیگی کو لازم کیا گیا ہے۔
      یہاں اچھے شوہر کی چند خوبیاں اور اہم ذمہ داریاں بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔ !
      (1)  نکاح کے وقت مہر کا اعلان کے ساتھ نقد ادا کرنا اسلام میں پسندیدہ ہے۔مہر قبول کرنے یا نہ کرنے کا پورا حق ہونے والی بیوی کو حاصل ہے۔اچھا شوہر وہی ہو سکتا ہے جو بغیر کسی دکھاوے کے اللہ کی رضا کی خاطر نقد مہر ادا کر دے۔یہ الگ بات ہے کہ بعد میں بیوی محبت میں اس پیسے کو گھر کی ضروریات میں ہی خرچ کر دے۔
        اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: عورتوں کو ان کا مہر راضی وخوشی سے ادا کردو۔ (سورۂ النساء ۴)
    (2)  اسی طرح اچھے شوہر کو چاہیے کہ شادی کے اخراجات کا بھار لڑکی کے والدین پر نہ ڈالے۔ اسی طرح اگر عورت کو کوئی چیز وراثت میں ملی ہے تو وہ عورت کی ملکیت ہوگی، سسر یا شوہر کو وہ رقم یا جائیداد لینے کا کوئی حق نہیں ہے یہاں تک کہ وہ خود اجازت دے۔
       اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: بچوں کے باپ (یعنی شوہر ) پرعورتوں (یعنی بیوی) کا کھانا اور کپڑا لازم ہے دستور کے مطابق۔ (سورۂ البقرہ ۲۳۳)
   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:    "عورتوں کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ اللہ کی امان میں تم نے اُن کو لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے اُن کی شرمگاہوں کو تمہارے لئے حلال کیا گیا ہے۔ دستور کے مطابق اُن کا مکمل کھانے پینے کا خرچہ اور کپڑوں کا خرچہ تمہارے ذمہ ہے” ۔                                      (صحیح مسلم)
     (3) شوہر کو چاہئے کہ وہ بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ ویسے تو تمام جھگڑے کی شروعات زبان کے سخت استعمال سے ہی ہوتی ہے ۔لہٰذا اچھے شوہر کو چاہیے کہ جب بیوی سے کوئی بھی غلطی ہو جائے تو نرم کلامی سے اس کو تنبیہ کرے۔اگر یہ نہ ہو سکے تو چپ ہو جائے اور وہاں سے ہٹ جائے۔ہو سکتا ہے اس طریقہ کار کا اچھا اثر بیوی پر اچھا پڑے ۔ خاموشی ہزار بلا بھی ٹالتی ہے، ورنہ شیطان میاں بیوی کے درمیان جدائی دلانے کی فراق میں ہر وقت گھات لگائے رہتا ہے جس کا راستہ زبان درازی سے ہوکر گزرتا ہے ۔
          اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
      ” ان کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آؤ یعنی عورتوں کے ساتھ گفتگو اور معاملات میں حسن اخلاق کے ساتھ معاملہ رکھو گو تم انہیں ناپسند کرو لیکن بہت ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت ہی بھلائی کردے” ۔
                          (سورۂ النساء 19)
     (4)  شوہر کی چوتھی ذمہ داری ہے،
حسب استطاعت بیوی اور بچوں پر خرچ کرنے میں فراخدلی سے کا م لینا چاہئے۔شاید ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ اچھی بیوی کی موجودگی میں شوہر اپنی کمائی خرچ نہ کرے۔مگر بیوی بہت کم شکر گزار ہوتی ہے ۔میرا تجربہ ہے کہ بیوی بچوں کی فضول خواہشات کی تکمیل کے لئے ہی اکثر شوہر غلط ذریعہ معاش اختیار کرتا ہے اور دین و دنیا میں سبھوں کے نقصان کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔آج کل بیشتر مرد کمانے والی بیوی تلاش کرتے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ دونوں مل کر کمائیں گے تو زیادہ خوش رہیں گے ۔جبکہ خوشی اور سکون کا تعلق زیادہ مال سے قطعی نہیں ہے ۔
    جیساکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
     ” اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید کے ساتھ اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہے تو وہ صدقہ ہوگا” ۔     (صحیح بخاری)
       (5) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گھر کے نظام کو چلانے کی ذمہ داری مرد کے ذمہ رکھی گئی ہے جیساکہ قرآن کریم میں مرد کے لئے قوَّام کا لفظ استعمال کیا گیا ہے یعنی مرد عورتوں پر نگہبان اور منتظم ہیں۔ لیکن حالات کے تحت عورت سے بھی گھر کے نظام کو چلانے کے لئے مشورہ لینا چاہئے۔
      جیساکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
   "یعنی بیٹیوں کے رشتے کے لئے اپنی بیوی سے مشورہ کیا کرو” ۔
                        (ابوداؤد، مسند احمد)
    (6)  بیوی کی بعض کمزوریوں سے چشم پوشی کریں، خاص طور پر جب کہ دیگر خوبیاں ان کے اندر موجود ہوں۔ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے عموماً ہر عورت میں کچھ نہ کچھ خوبیاں ضرور رکھی ہیں۔
        نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
       ” اگر عورت کی کوئی بات یا عمل ناپسند آئے تو مرد عورت پر غصہ نہ کرے کیونکہ اس کے اندر دوسری خوبیاں موجود ہیں جو تمہیں بھی اچھی لگتی ہیں” ۔                                          (صحیح مسلم )
       اس کے باوجود اگر خامی اخلاقی طور پر بہت پریشان کن ہو تو پہلے سمجھائے، پھر بھی گزارا کرنا مشکل ہو تو خوبصورتی سے اس کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ الگ ہو جائے۔اللہ آئندہ دونوں کے لئے راستہ ہموار کردے گا ۔
     (7) مرد بیوی کے سامنے اپنی ذات کو قابل توجہ یعنی اسمارٹ بناکر رکھے کیونکہ شوہر جس طرح اپنی بیوی کو خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے اسی طرح بیوی بھی شوہر کو اچھا دیکھنا چاہتی ہے۔آج کی بھاگ دوڑ کی زندگی میں اس کی وجہ سے بھی ازدواجی تعلقات کمزور ہو رہے ہیں ۔لہٰذا حتی المکان شوہر کو چاہیے کہ بیوی کی نفسانی خواہشات کا خیال رکھے۔اس سلسلے میں غیر ملکوں میں کام کرنے والے شوہروں کو زیادہ حساس ہونے کی ضرورت ہے ۔
      صحابی رسول ومفسر قرآن حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ” میں اپنی بیوی کے لئے ویسا ہی سجتا ہوں جیسا وہ میرے لئے زیب وزینت اختیار کرتی ہے” ۔
                                 (تفسیر قرطبی)
    (8) گھر کے کام کاج میں عورت کی مدد کی جائے، خاص کر جب وہ بیمار ہو۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے تمام کام کرلیا کرتے تھے۔ جھاڑو بھی خود لگالیا کرتے تھے، کپڑوں میں پیوند بھی خود لگالیا کرتے تھے اور اپنے جوتوں کی مرمت بھی خود کرلیا کرتے تھے۔
                           (صحیح بخاری)
      بیوی جب بیمار پڑتی ہے تو سب سے زیادہ اپنے شوہر کی توجہ چاہتی ہے ۔لہٰذا کسی بھی وجہ سے اگر شوہر پردیس میں ہے تو نیک بیوی پر اس کا بہت برا اثر پڑتا ہے ۔اس طرح جو شوہر بیوی کے ساتھ رہتے ہیں وہ ہر لحاظ سے خوش نصیب ہوتے ہیں ۔ایسے میں مرد کو بیوی کی مزاج پرسی کے لئے وقت نکالنا چاہئے ۔کم آمدنی میں بھی اچھے جوڑے ایک دوسرے کو سنبھال لیتے ہیں ۔
    (9)  شوہر کو اپنی بیوی کے والدین یا بھائی بہن کی عزت کرنی چاہئے تاکہ بیوی کو تکلیف نہ ہو ۔عام طور پر شوہر اپنے گھر والوں کے مقابلے میں انہیں کم اہمیت دیتے ہیں جو جھگڑے کی وجہ بن جاتی ہے ۔اس کے برعکس بیوی بھی اکثر اپنے میکہ والوں کے لئے زیادہ نرم دکھائی پڑتی ہے اور شوہر کے رشتہ داروں کی اندیکھی کر دیتی ہے جس سے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں ۔
     (10) آخری اور سب سے اہم بات جس کا خیال دونوں کو رکھنا چاہیے، وہ یہ کہ اپنے آپ کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت سے بھی آراستہ کریں۔صرف تعلیم انسان کے اندر زعم پیدا کرتی ہے جبکہ تربیت شعور اور انکساری کو پروان چڑھاتی ہے۔ اخلاقی بلندی میں تعلیم کے ساتھ تربیت کا اہم رول ہے ۔صرف زیادہ تعلیم احساس برتری پیدا کرتی ہے جبکہ اعلیٰ تربیت احساس ذمہ داری کو یاد دلاتی ہے۔اچھی تربیت ہی بلند اخلاق کا پیمانہ ہوتا ہے جس سے زندگی خوشگوار بنتی ہے ۔تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ پچھلے دور میں کم تعلیم یافتہ مگر تربیت یافتہ مرد عورت بہترین والدین ثابت ہوئے ہیں جبکہ آج زیادہ تعلیم یافتہ لوگوں کے گھروں میں ازدواجی تعلقات زیادہ درہم برہم ہے۔
         آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ایک اچھا انسان ہی بہترین شوہر بن سکتا ہے ۔ایسا شوہر جو تمام رشتوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہو۔ وہی گھر آئیڈیل بن سکتا ہے جہاں ذمہ دار شوہر اور اس کی قدر کرنے والی نیک بیوی ہو۔اللہ ایسے ہی گھروں میں فرمانبردار اولاد بھی میسر فرماتا ہے۔ ایسے ہی گھروں کی تعمیر ہماری ذمہ داری بھی ہے۔ اللہ ایسے  گھروں کو اپنی برکتوں سے نوازے، آمین!
             رابطہ. 8825189373
روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے