بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتنیک بیوی سب سے حسین

نیک بیوی سب سے حسین

سرفراز عالم ،عالم گنج پٹنہ

نیک بیوی سب سے حسین:” یہ کوئی رومانی جملہ نہیں بلکہ انسانی سماج کی ایک حقیقت ہے۔حسن صورت تو ظاہری اور قلیل مدت ہوتی ہے جبکہ سیرت کا حسن باطنی اور تا زندگی ہوتا ہے ۔اللہ نے سب سے پہلا رشتہ بیوی اور شوہر کا ہی بنایا جس سے اس دنیا میں ابن آدم کا سلسلہ جاری ہوا ۔

نیک بیوی سب سے حسین

یہ مضمون خصوصی طور پر ان شوہروں کے نام ہے جن کو اللہ نے نیک بیوی عطا کی اور وہ اس کی قدر کرتے ہوئے کم سے کم میں بھی خوشی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ۔ساتھ ہی ان نیک بیویوں کے نام ہے جن کی شفقت وقربانی کی وجہ سے گھر جنت نشان بنا ہوا ہے ۔ایسے جوڑوں کی خوشیاں قابل مبارکباد اور قابل فخر ہیں ۔حالیہ وبائی دور کے معاشی بحران میں جن جوڑوں نے صبرو شکر کے ساتھ زندگی گزاری یا گزار رہے ہیں وہ مزید مبارک باد کے مستحق ہیں ۔اللہ ایسی نیک، وفادار اور صابر بیویوں، اعلیٰ ظرف اور خوش مزاج شوہروں کو اپنی نعمت خاص سے نوازے، آمین!

اکثر لوگ بیوی کو وہ عزت نہیں دیتے ہیں جو ان کی خوبیوں کی وجہ سے انہیں دینا چاہیے ۔مردوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایک مرد کی حقیقت کو جتنا ایک بیوی جانتی ہے اتنا کوئی نہیں جانتا یہاں تک کہ اس کے والدین بھی نہیں جن کے ذریعہ ان کی پیدائش ہوئی ۔کچھ لوگ والدین کی محبت میں اچھی بیوی کے جائز حقوق سے لاپرواہ ہو جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ اپنے والدین کو چھوڑ کر آنے والی بیوی اچھے شوہر کی خصوصی توجہ کا حق رکھتی ہے ۔اسلام نے تمام رشتوں کے حقوق کی وضاحت کردی ہے۔ آج کل نوجوان طبقہ تو نکاح کے لئے بہت کم نیک سیرت لڑکی کی تلاش کرتا ہے جس میں ان کے والدین ایک قدم آگے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ زیادہ تر والدین تو بہو نہیں بلکہ جنت کی حور گھر لانا چاہتے ہیں اور داماد کسی فلم کا ہیرو ۔وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ خوبصورتی تو چند دنوں کے لئے ہوتی ہے اور اچھی سیرت زندگی بھر کا سرمایہ ۔صرف ظاہری خوبصورتی کی وجہ سے اکثر گھروں کا نظام بہت جلد درہم برہم ہو جاتا ہے۔

عام طور پر نیک صفت بیوی کو بیوقوف سمجھا جاتا ہے اور اکثر عقلمند عورتیں شاطر ذہن ہوتی ہیں ۔لہٰذا نیک عورتوں کو عقلمند بھی ہونا چاہئے تاکہ حالات کے مطابق معاملات کو طے کر سکیں ۔ جو لوگ نیک بیوی چاہتے ہیں وہ بالضرور اللہ سے دعا مانگتے رہیں اور دوسری تمام لالچ کی چیزوں کو درکنار کرکے نکاح کریں۔ شادی کی تقریب کو بھی سادہ اور آسان بنائیں ۔ان شاءاللہ کامیاب ہونگے۔

نیک بیوی وہ ہوتی ہے جو فطرتاً نیک ہوتی ہے نہ کہ حالات کے تحت نیک بننے کا ڈھونگ کرتی ہو۔سمجھدار عورتیں وہ ہوتی ہیں جو اپنے تمام رشتوں کا پاس و لحاظ رکھتی ہوں ۔فطرتاً نیک اور تربیت یافتہ عورتیں جہاں والدین اور اپنے بھائی بہنوں کے لئے اچھی ہوتی ہیں وہیں سسرال والوں کے لئے بھی عزت کا باعث ہوتی ہیں ۔ وہ میکہ کے تعلق سے نرم اور سسرال کے تعلق سے سخت نہیں ہوتی ہے۔نیک بیوی وہ ہوتی ہے جو خوشی سے بڑھ کر پریشانی میں شوہر کو حوصلہ دے اور ساتھ نبھائے ۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ہر جھگڑے کی شروعات زبان کے غلط استعمال سے ہوتی ہے لہٰذا اچھی بیوی وہی ہے جو شوہر کے ساتھ ساتھ کسی اور سے بھی سختی سے کلام نہ کرے۔اس کا نہ صرف اخلاق اچھا ہو بلکہ وہ گھر کے سبھی افراد کی دل سے خیر خواہ ہو۔ ممکن ہے کہ سسرال میں اس کی نیک نیتی کا اثر دیر سے دکھائی دے لیکن اچھی تربیت اچھا اثر ضرور دکھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیک اور اخلاق مند بیوی کی عظمت بیان کرتے ہوئے آپﷺ نے فرمایا:-حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آپﷺنے فرمایا ایمان کے اعتبار سے مومنین میں کامل ترین وہ ہے جو اخلاق کے اعتبار سے احسن ہو۔(ترمذی)
اکیسویں صدی میں جبکہ ہمارا غیر اسلامی سسٹم عورتوں کو مردوں سے مقابلہ کرنے کے نام پر بے پردہ کر رہا ہے اور شمع محفل بنا چکا ہے، ویسے میں نیک صفت عورتوں کا مقام اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔حالانکہ غیر اسلامی حالات سے متاثر ہو کر عورتیں خود اپنے اعلیٰ اسلامی مقام سے گرتی جارہی ہیں وہیں والدین ان کا ساتھ دے کر انہیں نمائش کی چیز بنا رہے ہیں ۔ان دنوں فیس بک جیسے سوشل میڈیا پر گھر کی عورتوں کی تصویر شئیر کرنا تو عام شعار اور فخر کی بات بن چکا ہے جس کے لئے مرد حضرات ہی ذمہ دار ہیں ۔

بہرحال جتنا بھی ماڈرن بن جائیں سنجیدہ گھر اور سماج آج بھی نیک اور صالح بیوی کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسے اپنے گھرکی بڑی دولت سمجھتا ہے ۔نیک بیوی کی برکت وہی محسوس کرتے ہیں جن کو گھر میں سکون میسر ہے۔اس کے علاوہ ممکن حد تک اسلامی تعلیمات کا پاس و لحاظ رکھنے والی بیوی اپنے بچوں کی تربیت بھی اسی طرح کرتی ہے کہ سسرال جاکر اس کی بیٹی بھی ایک مثال بنے ۔اسی لئے تو آپ ﷺ نے فرمایا:-دنیا کل کی کل متاع ہے اور متاعِ دنیا میں سب سے افضل چیز نیک بخت عورت ہے۔(مسلم )

بہرحال نیک بیوی ہمارے لئے سب سے افضل متاع (دولت) تبھی ہوگی جب ہم رشتہ کرتے وقت دین داری، کو ترجیح دیں گے، دین داری مومن ہونے کی پہچان ہوتی ہے۔نیک بیوی اپنے شوہر کی ہمراز ہوتی ہے اور وہ اس کے تمام عیوب سے واقف ہونے کے باوجود دوسروں کے سامنے اس کو ظاہر نہیں کرتی ہے۔اسی لئے قرآن نے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے لئے لباس کہا ہے۔ نیک بیوی شوہر کی غیر موجودگی میں کسی غیر مرد کو گھر میں نہیں آنے دیتی ہے ۔وہ شوہر کی کم آمدنی میں بھی کفایت شعاری سے خانہ داری چلانے کا فن جانتی ہے۔اتفاق سے اگر نوکری کرنے والی ہے پھر بھی نیک بیوی شوہر کے وقار کا احترام کرتی ہے ۔

مشاہدہ ہے کہ اکثر بیوی اور بچوں کی بے جا خواہشات کو پوری کرنے کے لئے ہی شوہر معاشی طور پر حلال وحرام کی تمیز چھوڑ دیتا ہے اور سب کی آخرت برباد کرتا ہے ۔لہٰذا نیک بیوی وہ ہوتی ہے جو اپنے شوہر کو حرام سے روک کر رزق حلال کی تلقین کرتی ہے۔ نیک بیوی اخراجات میں سے بچت کرکےرکھتی ہے جو آڑے وقت میں بہت کام آتا ہے۔نیک بیوی اپنے شوہر سے سچی محبت کرتی ہے اور اللہ کی رضا کے لئے اس کے مال کی نگرانی اور اولاد کی تربیت کرتی ہے ۔اس کے اندر شکر و احسان کا جذبہ ہوتا ہے اور وہ گھر کو آراستہ و پیراستہ رکھنے کا ہنر بھی جانتی ہے۔ نیک بیوی اپنے شوہر کی توجہ سب سے زیادہ تب چاہتی ہے جب وہ بیمار پڑتی ہے اور اس دوران شوہر کا بھی امتحان ہو جاتا ہے۔خدانخواستہ اگر شوہر کا انتقال ہو جاتا ہے تو نیک بیوی صبر کا پہاڑ بن جاتی ہے اور اپنے گھر کو سنبھال لیتی ہے ۔مگر ہاں زندگی خوشگوار تبھی بنتی ہے جب شوہر بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کرے اور شفقت و محبت سے اس کی دلجوئی کرے ۔یقین مانئے جب نیک شوہر موقع ملنے پر گھریلو کام کاج میں بیوی کا ہاتھ بٹاتا ہے تو ایسا گھر ہمیشہ خوش وخرم اور گلزار رہتا ہے۔یہاں تک کہ یہی نیک بیوی بڑھاپے کا اکلوتا سہارا ہوتی جب اکثر بچے کسی وجہ سے والدین کے ساتھ نہیں رہتے ہیں ۔

آخری کلام کے طور پر یہ کہنا زیادہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ابھی، آئندہ اور ہمیشہ وہی گھر سکون کا مسکن رہے گا جہاں نیک بیوی، ذمہ دار شوہر اور تربیت یافتہ اولاد ہوگی۔ایسا ہی گھر دوسروں کے لئے نمونہ بن سکتا ہے۔ایسے ہی گھروں پر فرشتوں کی دعائیں اور اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں ۔ایسے ہی گھروں کی تعمیر ہماری ذمہ داری بھی ہے۔ فرد سے گھر بنتا ہے، گھر سے ہی اچھا معاشرہ بنتا ہے اور ایسے معاشرے سے ملک و ملت کا اسلامی وجود قائم ہوتا ہے ۔اللہ ایسے گھروں کو اپنی برکتوں سے نوازے، آمین!
رابطہ. 8825189373

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے