نیا سال یا محاسبہ نفس : ابو طالب ندوی

59

نئے سال)(new year )کی آمد آمد یے،اور خوشیوں کا ما حول سرگرم ہونے کو ہے، دنیا کے لگ بھگ ہر ملک میں نیا سال منایا جاتا ہے، اور ہر ملک کے لوگ، اور وہاں کے باشندے اپنے کلچر اور تہذیب کے اعتبار سے نئے سال کی خوشی مناتے ہیں، اور خوشی اس طور پر مناتے ہیں ، کہ آئندہ سال یعنی جو آنے والا سال ہے وہ صحیح وسلامت سے گزرے، جیسا کہ امسال ہم لوگوں نے گزارا ہے، اور اس کا سرا ڈائریکٹ یہودی ونصاریٰ سے ملتا ہے کیونکہ یہی لوگ اس ناسور خوشی کے مبتدی ہیں، اور جنکا مقصد اس دنیا میں فحاشی، بدکاری،زناکاری، افعال بد، برائیاں،اشرار وفتن،وعریانیت رقص وسرود عام کر نا ہے، اور آج یہ اپنے مقصد میں سو فیصد کامیاب وکامران نظر آ رہے ہیں

اگر دیکھا جائے تو اس کا تعلق نہ تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ۶۳سالہ زندگی میں موجود ہے اور نہ ہی انکے بعد معزز ومحترم مکرم صحابہ کرام کی حیات میں ہیں ہے اور اسی طرح ہمارے تابعین اور تبع تابعین کی زندگی میں اس کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی ہے، لیکن ان لوگوں نے امت مسلمہ کو گمراہ کرنے کے اسباب اختیار کیا، اور آج ہمارا ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک بھی اس ناسور کے شکار ہو گئے ہیں ، اور عرب ممالک بھی اس زہریلے فتنے کے آغوش میں ہیں اور خاص طور سے جب یہ دن آتا ہے تو شباب وکباب کی محفلیں سجائی جاتی ہے ، رقص وسرود کا ماحول بنایا جا تا ہے ، ڈی جے ( D J,لگائے جاتے ہیں، کیک کاٹے جاتے ہیں، آتش بازی کی جاتی ہے، گھروں کو رنگ برنگ کے رنگ سے سجایا جاتا ہے، شاہراہ پر گانے بجانے والے کو گانے کے لیے لاکھوں روپیہ خرچ کر کے لایا جاتا ہے،

اور اس مقصد کے لیے ہوٹلیں بک کی جاتی ہیں تب جا کر کے اس دن میں ناچتے ہیں، گاتے ہیں، ڈانس کر تے ہیں، اور روپیوں کو ناجائز اس دن بے تحاشہ صرف کرتے ہیں، اور اپنے حیات مستعار کے قیمتی ایام کو بیجا اور لایعنی چیزوں میں صرف کرتے ہیں، اور اسی خوشی میں شراب نوشی کرتے ہیں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس آب و گل میں جتنے بھی مذہب کے ماننے والے ہیں سب کے نذدیک شراب نوشی کرنے کی ممنوعیت موجود ہے لیکن اس کے باوجود شراب پیتے ہیں اور مدحوشی کے عالم میں ناجائز اور نامناسب، زناکاری، بدکاری، قتل وگارتگیری، لوٹ مار جیسے گناہوں کا بلا جھجک ارتکاب کرتے ہیں اور مزید شرم و حیا کے لبادہ کو بالائے طاق رکھ کر غیر محرم مرد سے ناجائز تعلق قائم کرتے ہیں ، اور اس فعل بد کو کار خیر سمجھتے ہیں، اور فخر بھی محسوس کر تے ہیں،

اور نہ جانے کون کون سے گل کھلاتے ہیں ،اور اس طرح سےhappy new year مناتے ہیں،

لیکن ہمارا ملک ہندوستان امسال تنزلی وانحطاط کا شکار رہا۔ ہے پورا سال پروٹیست اور آندولن میں گزرا،اور آج بھی اسی کگا ر پر کھڑا ہے، جسکی وجہ سے لوگ پریشان وبدحال ہوگئے ہیں، بے روزگاری عام ہوگئی ہے ، اور لوگوں کی صورتحال ام سال بد سے بد تر ہوگئی ہے،خوشیوں سے دور ہوگئے ہیں، حالات ناموافق ہوگئے ہیں، زندگی کا گزار نا بہت ہی مشکل ہوگیا ہے، وقت کے بڑے بڑے فتنہ پر ور دجال نے نئے نئے فتنے مختلف اسماء سے نکال دئیے ہیں ، لوگوں کی عقل سلیم کو ماؤوف کرنے کی سازش چل رہی ہے اس لیے ہم اس نئے سال کے موقع پر اپنے ملک وملت کے لیے دعا گوہ ہیں کہ ہم اور ہمارا ملک ترقی کی راہ پر از سر نو گامزن ہو جائے، اور ہم اس موقع پر اس ملک کے بقاء کی خاطر دعاگو ہیں کہ یہ سلامتی سے گزرے، اور اس نئے سال کی آمد پر امن و شانتی و سلامتی، فرحت وانبساط، خیروبرکت، عفت و پاکدامنی سے رہنے کی، اور آئندہ ایام کو صحیح قطع کرنے کی، اور محاسبہ نفس کی مبارک بادی پیش کرتا ہوں، اور دیگر ممنوعات سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے اپنی بات اس شعر کے ساتھ ختم کرتا ہوں

نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئے

خدا کرے کہ نیا سال سبکو راس آئے