نکاح سے قبل ایک نظر دیکھنے کی حکمت !* از: مفتی محمدعامر یاسین ملی

79

نکاح سے قبل ایک نظر دیکھنے کی حکمت !*
از: مفتی محمدعامر یاسین ملی*
(حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب کی سرپرستی میں شائع ہونے والے اخبار ہفت روزہ اخبار حق کی روشنی کا مضمون )
نوٹ: اگر آپ یہ اخبار گھر بیٹھے حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر پر واٹس ایپ کے ذریعے میسیج کریں9028393682)*

حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک خاتون کو نکاح کا پیغام بھیجا،رسول اللہ ﷺ کےسامنےجب میں نے اپنے اس ارادے کا اظہار کیاتو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: کیا تم نے اس خاتون کو دیکھا ہے ، میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا تونہیں ہے،تو آپ ﷺ نے فرمایا ایک نظر دیکھ لو، یہ اس مقصد کے لیے زیادہ مفیدہوگاکہ تم دونوں میں الفت و محبت اور خوش گواری رہے۔(ترمذی)

رشتہ نکاح کا انتخاب ازدواجی زندگی کا سنگ بنیادہے، یہ انتخاب اگر درست ہو توازدواجی زندگی خوشگوار انداز میں بسرہوتی ہے، اور اگر اس انتخاب میں کسی طرح کی کوئی غلطی ہوجائے تو اس کے انتہائی خراب اثرا ت آئندہ کی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ رشتہ نکاح کے انتخاب کے سلسلے میں جناب رسول اللہ ﷺ نے دو بنیادی ہدایات ارشاد فرمائی ہیں، پہلی یہ کہ دین داری ، اچھی سیرت اور عمدہ اخلاق کو رشتہ نکاح کی بنیاد بنایا جائے،اوردوسری یہ کہ جس خاتون سے رشتہ طے کرنا مقصودہو ، نکاح سے قبل ا س کوایک نظر دیکھ لیا جائے،اس کی حکمت ومصلحت بھی جناب رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی جو حدیث کے آخر میں مذکور ہے ،البتہ دیکھنے کے اس عمل میں تین باتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے:
(1) کسی جگہ رشتہ کی بات جب قریب قریب طے ہو جائے اور دیگر حالات معلوم کر کے دل بھی مطمئن ہو جائے تب نکاح کی سنت کی تکمیل کے مقصد سے ایک نظردیکھا جائے۔
(2) یہ دیکھنا بار بار نہ ہو اور تنہائی میں ملاقات یا نکاح سے قبل رابطہ نہ رکھا جائے۔
(3) بہتر یہ ہے کہ لڑکی کے کسی محرم کی موجودگی میں دیکھا جائے، اور اگرکسی تدبیر سے چھپ کردیکھ لیاجائے تو بہتر ہے تا کہ انکار کی صورت میں لڑکی اور اس کے اہل خانہ کو ناگوار نہ گزرے۔

قارئین !رشتہ نکاح کے سلسلے میں اسلام کی یہ وہ زرین تعلیمات ہیں جن کو نظر انداز کرنےکے نتیجے میں بڑے نقصانات سامنے آ رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں(دارالافتاء میں) میرے پاس ایک نوجوان آیا،جس نے نکاح کے چند ہی روز کے بعد بیوی کو ساتھ رکھنے سے انکار کر دیا،میں نے وجہ معلوم کی تو کہنے لگا کہ نکاح سےقبل جس وقت میں لڑکی کو دیکھنے کے لیے گیا تو لڑکی میرے سامنے دوپٹے سے اپنا چہرہ ڈھانک کر اس طرح آئی کہ کوشش کے باوجودمجھے اس کا چہرہ نظر نہیں آیا، میں نےاسی وقت اپنی بڑی بہن کے ذریعے اس کی والدہ سے یہ بات کہی تو انہوں نےکہا کہ ہمارے خاندان میں لڑکیوں کو اسی طرح دکھایا جاتاہے،تب میں نے واپس آنے کے بعد اپنی والدہ سے کہا کہ مجھے یہ رشتہ منظور نہیں ہے،لیکن میری والدہ کا کہنا تھا کہ انکارکرنا مناسب نہیں ہے، اور پھر اس طرح میری خوش دلی اور رضا مندی کے بغیر میرا نکاح کر دیاگیا۔

قارئین!آج اس طرح کے بہت سارے واقعات آج معاشرے میں پیش آرہے ہیں جس کی بنیادی وجہ نکاح سے قبل لڑکااور لڑکی کا ایک دوسرے کو نہ دیکھنایا ایک دوسرے کو پسند نہ کرنا بھی ہے۔سرپرستوں کو اس سلسلے میں غور کرناچاہیے اورخاندانی روایات کے بجائے اسلامی ہدایات پر عمل کرنا چاہئے، یہ بات بھی سمجھنی چاہئے کہ حدیث شریف میں گر چہ دیکھنے کی نسبت مرد کی جانب کی گئی ہے لیکن اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ اسی بہانے لڑکی بھی اپنے ہونے والے شوہر کو ایک نظر دیکھ لیتی ہے۔ لہٰذا اگر لڑکا از خود نہ دیکھنا چاہے تب بھی اسے اس نیت کے ساتھ لڑکی کو دیکھنے کے لئے جاناچاہئے کہ اسی بہانے لڑکی اسے دیکھ لے گی۔متعدد جگہوں پر ایسے واقعات بھی پیش آچکے ہیں کہ ایک دوسرے کو دیکھنے کے بعد خود لڑکی نے اس رشتہ سے انکار کر دیا، ظاہر سی بات ہے اگر دیکھےبغیر ان کا نکاح کر دیاجاتا تو آئندہ کی ازدواجی زندگی میں بڑی دشواری سامنے آتی ۔
*مولانا ابوالکلام آزادؒ فرماتے تھے کہ دریا میں اترنے سے پہلے موجوں کا اندازہ کرلینا چاہیے، دریا میں اترنے کے بعد موجوں کی شکایت فضول ہے۔ موجودہ دور میں نوجوان ازدواجی جوڑوں کے درمیان پائی جانے والی ناچاقیوں اور نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں والدین سے بغاوت ، کورٹ میرج ، اورخود کشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ایک بڑا سبب رشتہ نکاح کے انتخاب میں ان کی پسند نا پسند کو نظر انداز کرنا اور والدین کا اپنی مرضی ان پر مسلط کرنا بھی ہے۔ اس طرح کے حادثات سے بچنے اور ازواجی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے حدیث شریف میں دی گئی ہدایت پر عمل کرناضروری ہے۔ سرپرستوں اور اہلکار حضرات کو اس سلسلے میں مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔