ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہومبزم خواتیننکاح،اورشادی،بیاہ کامقصد

نکاح،اورشادی،بیاہ کامقصد

نکاح،اورشادی،بیاہ کامقصد زوجین کے مابین الفت ومحبت،ایک دوسرے کے لئے دلوں کی تسکین،اور عفت وپاکدامی کا حصول ہے،اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ میاں،اور بیوی دونوں مذہبِ اسلام پر قائم ہوں،مذاہب کی تفریق کے ساتھ،وقتی طورپر پیار،اور زوجین کے مابین محبت نظربھی آجائے،لیکن اس میں پائیداری نہیں ہوسکتی ہے،چونکہ اسلام شرک وبت پرستی کاسخت مخالف ہے،ایک ہی گھرمیں دونوں چیزیں ہوں،یہ ممکن نہیں ہے،اسی لئے ان لڑکیوں کے کثرت سے وی ڈیوز موصول ہورہے ہیں جنہوں نے اپناگھر،سماج،خاندان،بلکہ مذہب اسلام سے بغاوت کرکے شادیاں کیں،محض ایک،آد سال میں ہی آج وہ دردرکی ٹھوکریں کھارہی ہیں،جو شوہرکل تک ساتھ،رہنے،اورجینے کی قسمیں کھارہاتھاآج وہی گھرسے دھکادے کرگھرسے نکال دیاہے!
قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے مردوں کو خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ تم مشرکہ عورتوں سے شادی نہیں کرسکتے ہو،جبکہ عورتوں کے بارے میں براہِ راست عورتوں سے خطاب نہیں کیاگیا،بلکہ مردوں کو کہاگیاکہ تم ان کی شادیاں مشرک مردوں سے نہ کرو،اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دیگر معاملات کی طرح نکاح،شادی،بیاہ میں بھی عورتوں کے لئے ان کے گارجین کی رضامندی ہی شریعت کو مطلوب ہے،پڑھ،لکھ کر ہماری بہت سی بیٹیاں اوربہنیں خود سے اس طرح کا فیصلہ کرلیتی ہیں،یہاں تک کہ اپناگھر، والدین،بھائی،بہن، سماج،معاشرہ بلکہ اپنے مذہب اسلام سے بغاوت کرلیتی ہیں،اور پھر بعدمیں دھکے مار گھرسےنکال دی جاتی ہیں تو افسوس کرنے لگتی ہیں،اور ہردن اس طرح کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔
#اس وقت ارتدادکی آندھی چل رہی ہے،پتہ نہیں اس کی زدمیں کتنے کچے، پکے مکانات آجائیں گے؟کچھ نہیں کہاجاسکتاہے،اس لئے وقت رہتے ہوئے اس طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے،ایساکیوں ہورہاہے؟یہ جاننابھی ضروری ہے،اوراس کی روک تھام کے مضبوط پلان بھی ضروری ہے،عصری تعلیم کے ساتھ،بیٹیوں کو دینی تعلیم سے جوڑنابیحدضروری ہے،ماں،باپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دیکھیں،اور اپنی بیٹیوں کی حفاظت کے لئے خودتیارہوں، اگر آپ نے کوششیں نہیں کیں،اورجانے،انجانے میں اس طرح کی غلطی آپ کی بیٹیوں،یابہنوں سے سرزدہوگئیں تو قیامت کے دن آپ چھوڑے نہیں جائیں گے!
آج تک یہی مطالبہ ہوتارہاہے کہ مدرسوں کو عصری تعلیم سے جوڑاجائے، جویقینا بیحدضروری ہے،مگر جو عصری ادارے ہیں،وہاں دینی تعلیم کا کس طرح انتطام ہو؟اس سے بھی زیادہ ضروری ہے،ابھی امارت شرعیہ پھلواری شریف،پٹنہ کی جانب سے امارت ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ پھلواری شریف کے ذمہ داران کے ساتھ خصوصی میٹنگ میں امارت شرعیہ کے نائب امیر شریعت ،قائم مقام ناظم ودیگرذمہ داران نے اس بات کی طرف خصوصی توجہ دلائی کہ تعلیم کے ساتھ اسلامی تربیت مقصدبنایاجائے،ہمیں بہت اچھا لگا، مگریہ سلسلہ رکنانہیں چاہئیے،دیگرکوچنگ سینٹرز،عصری وٹیکنکل اداروں کی فہرست بناکر ایک مشن کی طرح کام کیاجاناچاہئیے،سرگرم جماعتوں میں امارت شرعیہ،جمعیۃ علماء،جماعت اسلامی،ودیگردینی،ملی تنظیمیں اگر آپسی تال میل کے ذریعہ حلقہ،یااثرورسوخ کے اعتبارسے یاپھر اپنے اپنے طورپر اس کام کے منصوبہ بندی کرلیں تو اس کے مفیداثرات محسوس کئے جائیں گے۔
#ان اداروں میں بتانے کی ضرورت ہے کہ ایمان واسلام کوئی معمولی چیزنہیں ہے،ایمان کے مقابلہ میں پوری دنیاکی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے، ایمان کے لئے مرمٹنے والے حضرات صحابہ کرام اور صحابیات کے واقعات کو بتانے کی ضرورت ہے،اسی کے ساتھ،نمازِ پنج گانہ،خوفِ خدا،عذاب جہنم کاڈر ، اور جنت میں جانے کا شوق،اس طرح کے دیگرمضامیں کو شاملِ نصاب کیا جاناچاہئیے،اس کے بغیردنیاوآخرت میں کامیابی کاتصورفضول ہے!
اس طرح کے واقعات ان علاقوں میں بھی سرزدہورہے ہیں،جہاں کی لڑکیاں دینی،وعصری دونوں تعلیم سے بالکل عاری ہیں،وہاں بچیوں کی تعلیم کی طرف توجہ ہونی چاہئیے،جس طرح صبح وشام گاؤں،دیہاتوں میں مکاتب کانظام قائم ہے،اس کو مفیدسے مفیدتربنانے کے ساتھ،بچیوں کے لئے بھی مستقل نظام بنانے کی ضرورت ہے،ظاہرہے کہ جب اچھی چیزیں دل وماغ میں نہیں ڈالی جائیں گی،توشیاطین کی گندی باتوں کو دل وماغ کیوں قبول نہیں کرے گا؟ہردن کے واقعات،حادثات سے صرفِ نظر کرلینایہ کمال نہیں ہے،اس کا مقابلہ کرنایہ دانشمندی ہے،بالکل اسی طرح جس طرح شدھی تحریک جب 1923 میں جنم لی تھی،اور اس کے ذریعہ اس کے بانی سوامی شردھانند نے محص تین سال میں ہزاروں کی تعدادمیں مسلمانوں کو ارتدادکی راہ پر لاکرکھراکردیاتھا،مگر 1926میں عبدالرشیدنامی ایک باغیرت مسلمان نے اسے قتل کردیااور یہ تحریک وہیں دفن ہوکررہ گئی،آج کے حالات میں،گھرواپسی کے جو نت نئے طریقے ہردن ایجادہورہے ہیں،اس تحریک کو دفن کرنے کے لئے جو بھی بہتر طریقہ ہے اس طرف توجہ دینی چاہئیے، ہماری نظرمیں سب سے بہترطریقہ یہی ہے:-"دینی تعلیم کا فروغ”ہربیٹی کے لئے،ہربہن کے لئے،بلکہ تمام مسلم خواتین کے لئے!
روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے