نوجوانوں کی افسوسناک صورتحال: معاشرتی مقام اورذمہ داریاں مولانا مفتی عمران اللہ قاسمی استاذ دارالعلوم دیوبند

34

نوجوانوں کی افسوسناک صورتحال:
معاشرتی مقام اورذمہ داریاں
مولانا مفتی عمران اللہ قاسمی
استاذ دارالعلوم دیوبند
انسان کی زندگی میں تین مرحلے ہوتے ہیں؛بچپن ،جوانی ، بڑھاپا۔ بچپن کا زمانہ معصومیت اور بھولے پن کا ہوتا ہے، کھیل وتفریح بچوں کا محبوب مشغلہ بیش قیمت سرمایہ ہوتے ہیں۔ اوربڑھاپاانسانی زندگی کا آخری مرحلہ ہوتا ہے اس زمانے میں سوچ وفکر ، عقل ودانش پختہ اور مجرب ہوجاتی ہے تحمل بردباری بھی جگہ پالیتی ہے؛ البتہ قوی مضمحل، اعضاءکمزور ہوجاتے ہیں جذبات سرد اور حوصلے پست پڑ جاتے ہیں۔
ان دونوں مرحلوںکے درمیان جوانی کا مرحلہ ہوتا ہے، یہ عموماً زندگی کی دوسری دہائی سے شروع ہوکر تیسری دہائی کے اختتام تک رہتا ہےیہمرحلہ انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی اور عمدہ حصہ ہوتا ہے اس میں عقل ودانش کا مل، قوی توانا، اعضاءمضبوط ،حوصلہ و ہمت بھر پورہوتے ہیں، جوانی کا مرحلہ نہایت زرخیز ، سرگرم اور مفید تر ہوتا ہے، جوانوںمیںفطری طور پر اللہ تعالیٰ نے طاقت وقوت کاخزانہ اور ایسا حوصلہ وجذبہ رکھا ہے جس کے ذریعہ بڑے بڑے چیلینج کامقابلہ کیا سکتا ہے ،مگرنوجوان میں امنگ وجذبات کی کثرت، لہو ولعب کا جنون اور خواہشات کی بھی فراوانی ہوتی ہے،اگر درست رہنمائی اور تربیت نہ کی جائے تو بے راہ روی اور برائیوں میں مبتلاہو نے کا نہ صرف قوی اندیشہ ہوتاہے بلکہ وہ گناہوں کا خوگر ہوجاتا ہے ۔اور اگر نوجوانوں کی تعلیم و تربیت پرتوجہ دی جائے اور اصلاح و آراستگی پر محنت کی جائے تو پھر صالح اور تربیت یافتہ نوجوانوں کے ذریعہ سے معاشرے میں صالح انقلاب رونما ہو جاتا ہے۔
چونکہ قوم کی ترقی وتنزلی اور کسی بھی معاشرے کے صلاح وفساد اس کی تعمیر وترقی میںنوجوان طبقہ کا کلیدی کردار ہوتا ہے، اس لئے ہر طرح کی تحریک میں نوجوانوں پر خصوصی توجہ صرف کی جاتی ہے، تاکہ ان کے حوصلہ وہمت اورصلاحیتوں کے ذریعہ سے مقاصدبروئے کار لائے جاسکیں ۔
موجودہ معاشرے اور خصوصاً نوجوان طبقہ میں بے شمار برائیاں پائی جاتی ہیں، جن کی وجہ سے مشکلات اور متعدد مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں مگر بعض برائیاں اصل اور بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں کہ ان سے دیگر بہت سی برائیاں جنم لیتی ہیں اگر ایسی بنیادی برائیوںپر قدغن لگا دی جائے ، ان کا سد باب کردیا جائے تو جلد ہی دیگر برائیاںبھی ختم ہوجائیں۔ ان بنیادی برائیوں میں سے ایک اہم برائی فحش اور رزیل گفتگو ہے۔
فحش اور رذیل گفتگو
مجلس میں باہمی گفتگو کرتے ہوئے ،ملاقات کے وقت ، اسی طرح فون پر گفتگو کرتے ہوئے فحش بات چیت ، رذیل اور گندے کلمات بولنا نوجوانوں میں عام ہے، گہری دوستی اور بے تکلفی کا اظہا ر فحش گفتگو سے ہی ہوتا ہے، خوشی کا اظہار اور غصہ کرتے وقت گالی بکنا، ایک دوسر ے سے فحش،بھدے کلمات کا تبادلہ آج کل بکثرت رائج ہے ۔موجودہ زمانے میں پائی جانے والی اس ر ذیل بات چیت اورفحش کلامی کو دوحصو ں میں تقسیم کیاسکتا ہے:
(۱) ایک دوسرے کو برا کہنا، گالی گلوچ کرنا، ماں ، بہن ، باپ ، بھائی اور عورتوں کو فحش الفاظ سے گفتگو میں شامل کرنا، اعضائے مخصوصہ کا نام لینا ،نسب، خاندان، پیشہ کاروبار، گھریلو معاملات ومشاغل پر طنز کسنا وغیرہ ۔شریعت اسلامیہ کی رو سے اس طرح کی گفتگو اور بات چیت سراسر ناجائز ہے۔
(۲) دوسری صورت شہوانی خیالات کا اظہار ہے، شہوت آمیز باتیںکرنا ، عورت کے حسن وجمال ،مباشرت کی کیفیات، مردوعورت کی تنہائی کی گفتگو کو نقل کرنا، جیسا کہ اوباش اور رذیل قسم کے لوگوں کا مشغلہ ہوتا ہے،اس طرح کی فحش گفتگو بڑی شرمناک ہوتی ہے شریعت اسلامیہ نے اس طرح کی ہر گفتگو کو ممنوع قرار دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں اور عورتوں کے مجمع میں خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے، دروازہ بند کرلیتا ہے اور اس طرح خدا کے پردہ میں چھپ جاتا ہے، لوگوں نے فرمایا : ہاں! پھر آپ نے فرمایا اس کے بعد وہ لوگوں کی مجلسوں میں بیٹھتا ہے تو کہتا ہے کہ :میں نے یہ کیا ،میں نے یہ کیا، اس پر سب لوگ خاموش ہوگئے، پھر آپ نے عورتوں کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا :تم سب اس قسم کے واقعات بیان کرتی ہو! ایک عورت نے فرمایا :ہاں! مرد عورت اس قسم کے واقعات بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم جانتے ہو اس کی کیا مثال ہے؟ اس کی مثال چڑیل کی سی ہے جو گلی میں کسی شیطان سے ملی اور اس نے اس سے مباشرت کی حالانکہ لوگ ان کو دیکھ رہے تھے۔(ابوداود۲۳۵۲)
معلوم ہوا کہ تنہائی اور مباشرت کی باتیں اعلانیہ بیان کرنا ،شہوت آمیز فخش گفتگوکرناشرعی طور پر ممنوع ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نا پسند کرتے ہوئے غصہ کا اظہارفرمایا ہے ،لہذا فحش گوئی،بد کلا می مومن کی شان سے بعید ہے اس سے دور رہنا ضروری ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”ان المومن لیس باللعان ولاالطعان ولاالفاحش ولاالبذی¿“(مسند احمد۱۶۱۴)
ایمان والا طنز وتشنیع نہیں کرتا، لعنت نہیں بھیجتا ،بدزبانی اور فحش کلامی نہیں کرتا۔
فحش گفتگوکسی بھی نوعیت کی ہو معاشرے کیلئے سم قاتل ہے، ذہن ودماغ کو آلودہ کرنے کے ساتھ باہمی نفرت پیدا کرنےکا بھی سبب ہے، اسی وجہ سے شریعت میںاس کی ذرا بھی گنجائش نہیں۔
کھیلوں سے رغبت اور جنون
نوجوانوں میں ایک بڑا مرض کھیلوں سے حدسے بڑھی ہوئی دلچسپی ورغبت ہے ، کھیل کا جنون ہر ضروری کام کو پش پشت ڈال دیتا ہے بلکہ بعض کھیلوں میں پورا معاشرہ ٹوٹ پڑتا ہے جس سے کاروبار زندگی ٹھپ ہوجاتاہے، آج کل کرکٹ اور دیگر کھیلوں کو دیکھنے کے لیے دن ورات ٹی وی پر نظریں جمی رہتی ہیں،اسی طرح ویڈیو گیم ، پب جی گیم،کارٹون پروگرام وغیرہ بچوں کی تبا ہی اور نوجوان نسلکی تباہی اور ان کےفکری زوال کا بڑا سبب ہیں،کھیلوں کایہ جنون مال ودولت لٹانے،بے شمارنوجوانوں کی صلاحیتوںکو برباداور فکر کو خراب کرنے کے ساتھ ضیاع وقت کا بھی سبب ہے، کھلاڑیوں کے مابین چپکلش اور کبھی تماش بینوں میںمعمولی بات پرجھگڑے پھوٹ پڑنا اسی جنون کے نتائج ہیں، اس لئے شریعت کی نگا ہ میں ایسے کھیلوں کی بھی گنجائش نہیں ،
۔شریعت اسلامیہ میںہر ایساکھیل ممنوع ہے جوبے کاری لائے، ذہنی صلاحیت، فکری طاقت کومفلوج کرے، جس سے عبادات کا ترک یا تاخیر لازم آئے ، عفت وعصمت باقی نہ رہے، شرم وحیا کا دامن تار تار ہو، اسلامی عقائدواحکام کو خطرہ ہو۔البتہ ورزشی کھیل جو شرعی حدود کے اندر ہوں اور جس کھیل سے جسمانی وذہنی قوت میں اضافہ ہو، عزائم کو مہمیز کرے ،معاشرتی زندگی میں معاون بنے اس کی گنجائش ہے وہ ممنوع نہیں۔ بلکہ قابل قدر ہے۔ترمذی شریف میں ہے:
”کل ما یلھو بہ المرءالمسلم باطل؛ الا رمیہ بقوسہ، وتادیبہ فرسہ، وملا عبتہ امرآتہ فانہن من الحق“(ترمذی شریف ۴۴۷۱)
ہر ایسا کھیل جس سے ایمان والا غفلت میں پڑجائے باطل ہے مگر تیر اندازی ، گھوڑوں کو سدھانا اور اپنی بیوی سے خوش طبعی کرنایہ کھیل درست ہیں۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ لکھتے ہیں:
”بعض لوگ غم غلط کرنے والی چیزوں میں مشغول ہوجاتے ہیں جیسے شطرنج، کبوتر بازی، بٹیر بازی اور جانوروں کو لڑانا وغیرہ، انسان جب ان چیزوں میں مشغول ہوتا ہے تو اس کو کھانے پینے کی خبر نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات پیشاب روکے بیٹھا رہتا ہے اور وہاں سے نہیں ٹلتا، پھر اگر ایسی چیزوں میں مشغول رہنے کا دستور ہوجائے تو یہ لوگ تمام شہر پر بوجھ پڑ جائیں اور اپنی جان کی ان کو خبر نہ رہے اس لئے ان مشاغل سے منع کردیا گیا“۔(المصالح العقلیہ ص :۶۲۳،۷۲۳)
دین اسلام میں کھیل مقصد زندگی نہیں ،ہاں !بعض کھیل ورزشیہوتے ہیںان کی بدولت صحت کی درست رہتی ہے ،ان کی گنجائش ہے لیکن محض تفریح یا غم غلط کرنے،ٹیشن دور کرنے کے نام پر کسی بھی ایسے مشغلہ کی گنجائش نہیں دی جاسکتی جودینی عقائد احکام سے متصادم ،دنیاوی فائدہ سے خالی ہواوربے کاری لانے والا ،ضیاع وقت کا باعث اورغفلت میں مبتلا کردینے والاہو ۔
نشہ آور اشیاءکا استعمال
منشیات کا استعمال ایسی خبیث لعنت ہے جس کو لگ جاتی ہے زندگی بھر چھوٹنے کا نام نہیں لیتی ، اس کی وجہ سے مصائب و جرائم میں اضافہ ہوتا ہے، نشہ آور اشیاءکے استعمال کا اثر عموماً عادی افراد تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ نسلوں میں بھی منتقل ہوتا ہے، عموماً نشہ کا شوق رکھنے والے افرادپہلے نا سمجھی یا کسی بری صحبت کی وجہ سے اس میں مبتلا ہوتے ہیں، پھر رفتہ رفتہ شراب ، افیون، کوکین ،گانجھااور دیگر نشہ آور اشیاءکے استعمال کے عادی ہوجاتے ہیں بعضے اپنے اس شوق کو پورا کرنے کیلئے سب کچھ داو¿ پر لگادیتے ہیں بسا اوقات ان کے پاس خود کے لئے اور اہل وعیال کے لئے کچھ نہیں ہوتا اس کے باوجود بھی نشہ کی لت سے باز نہیں آتے ، اور جرائم کی دنیا کا رخ کرلیتے ہیں اورپورے گھرانے کی بربادی کا سبب بنتے ہیں۔
یہ خبیث لعنت جسمانی قوت کو تو متاثر کرتی ہی ہے ساتھ ہی عقل وفہم میں بھی فتور پیدا کردیتی ہے، آدمی اچھے برے میں تمیز نہیںکرپاتا،صحیح و غلط حلال وجرام میں فرق نہیںکرپاتایہی وجہ ہے شریعت نے اس کو حرام قرار دیا ہے ، چنانچہ قرآن کریم میں نشہ اور شراب کی حرمت کا فیصلہ سناتے ہوئے فرمایا گیا :
اے ایمان والو ! یہ شراب اور جوا اور بت اور سٹہ کے تیر یہ سب شیطان کے گندے کام ہیں، تم ان سے بچتے رہو،تا کہ تم نجات پاﺅ،شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ تمھارے درمیان شراب اور جوے کے ذریعہ دشمنی اور بغض ڈالدے اور تم کو اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے سو اب بھی تم باز آجاﺅگے ۔(المائدہ ۰۹۔۱۹)
ابوداو¿د شریف میں ہے’ ونہی عن کل مسکر ومفتور“ (ابوداو¿د شریف ۳۹۲۳) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نشہ آور اور فتور پیدا کرنے والی چیز سے منع فرمایا۔ لہٰذا ایمان والے کے لئے نشہ آور اشیاءکے استعمال سےمکملطور پر بچنے کی ضرورت ہے۔
خواہشات نفسا نی اور شہوت کی تسکین
خواہشات نفسانی کی پیروی اور شہوت پرستی بھی عجیب روگ ہے،جو رشتے ناتے کے حدود اورمعاشرے وسماج کی پابندیوںکا بھی لحاظ نہیں رکھتا،چونکہ نوجوانوں میں، جذبات و امنگ ، اقدامی مزاج ، خواہشات وشہوت کی بھی فراوانی ہوتی ہے اس لئے تربیت نہ ہونے کی وجہ سے عموما نوجوان خواہشات کے پیچھے چل پڑتا ہے بلکہ جنسی خواہشات کی تسکین کے جنون میں بھی وہ حد سے تجاوز کرجاتا ہے، بے شرمی ،بے حیائی،حیا سوز و مخرب اخلاق طریقے اور ایسے گھناونے افعال کا مرتکب ہوتا ہے جن ذکر بھی باعث شرم ہو اور سنجیدہ ،سلیم الطبع افراد ان افعال کو زبان پر لاتے بھی شرماتے ہیںخواہشات کی پیروی اور شہوت کی تسکین کے جنون کے بھیانک نتائج سامنے آے ہیں۔عشق بازی، عورتوں سے بے محابا اختلاط، اسکول، کالج، مارکیٹ، بازار، شادی بیاہ و دیگر تقاریب میں، ٹرین وجہاز میں،اسٹیشن وایئر پورٹوغیر پر بے تکلفی سے اجنبی عورتوں سے گھل مل جانا ، لطف اندوز ہونا وغیرہ نوجوانوں میں عموما پایا جاتا ہے ، اور باہمی فخر کا ذریعہ ہوتا ہے،یہ صورتحال بڑی خطرناک ہے اس سے انسانی زندگی میں بے امنی و بے اطمینانی بڑھتی ہے ، بے حیائی کو فروغ ملتا ہے، تعلقات اوررشتے مکدر ہوجاتے ہیں، رشتوں کی پاکیزگی ختم ہوجاتی ہے ، اس لئے شریعت اسلامیہ نے خواہشات کی پیروی کی ممانعت فرمادی،اور اس سلسلہ میں نہایت اعتدال والا طریقہ اختیار کیا ،نہ تو فطری وطبعی شہوت کو مٹانے کا حکم دیا نہ ہی رہبانیت اختیار کرنے پر ابھارا چونکہ شریعت اسلامیہ کا مقصد انسان کو اللہ تعالی کا محبوب بندہ بناکر فوز و فلاح سے آراستہ کرنا ہے، اس وجہ سے کچھ حدود اور ضابطے طے کئے تاکہ انسان شریعت کے دائرے میں رہے ،خواہشات پر کنٹرول کرے، ان کی ناجائز طریقہ سے تکمیل سے باز رہے۔
نوجوانوں کو خواہشات کے پیچھے بھاگنے اور شہوانی خیالات وفکر سے دور رکھنے کیلئے شریعت اسلامیہ کی یہ بھیتعلیم ہے کہ آبادی کوایسے تمام مناظر سے پاک صاف رکھا جائے جو جنسی جذبات کو بھڑکا نے والے، غلط خیالات پیدا کرنے اور غلط کاری پر ابھارنے والے ہوں ، شرعی پردہ اور شرعی اصول وضوابط کا نفاذ ہو،تقاریب و مجالس میں اجنبی مرد عورت کا غیر شرعی اختلاط ممنوع ہو، راستے ،چوراہے، شاہ راہیں اور عام جگہیںبھی امن اطمینان کے مقام ہوں فتنہ گاہ نہ ہوں، نیز انسانوں کےلئے قرآن کریم کی تعلیم ہے کہ مومن مرد اورمومن عورتیں سبھی اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں ، ان کو نیچی رکھاکریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلوت میںاجنبی مرد وعورت کے اکٹھا ہونے کو تاکید کے ساتھ منع فرمایا،ارشاد نبویہے ”لا یخلون رجل بامرا¿ة الا کان ثالثھا الشیطان“(ترمذی شریف ۳۴۷۴) جب کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے تو تیسرا شیطان ہوتا ہے۔
خلوت کی طرح جلوت میں بھیڑ بھاڑ کی جگہوں پر بھی مرد و عورت کے لئے باہمی اختلاط سے بچنا ضروری ہے ، یہ پا بندی جہاں عورتوں کے لئے ضروری ہے مردوں کے لئے بھی ضروری ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
”لا¿ن یزحم رجل خنزیرا متلطخابطین اوحما¿ة خیر لہ من ان یزحم امرا¿ة لا تحل لہ“(الترغیب والتر ہیب ۳۶۲)
مٹی یا کیچڑ میں لت پت خنزیر سے لگ جانا آدمی کے لئے اس سے بہتر ہے کہ کسی اجنبی عورت سے اس کا کندھا لگے۔
لہٰذا خواہشات کی پیروی کی ہرایسیصورت سے جو شرعی نقطہ نظرسے ممنوع ہواس سے بچنا اور احتیاط کرنا بہت ضروری ہے تاکہ دیگر برائیوں اور خرابیوں سے بچا جا سکے کیونکہ خواہشات کی پیروی اور شہوت نفسانی کی تکمیل کا جنون اپنے ساتھ بہت ساری برائیوں کو لاتا ہے ، فحش گوئی، رذیل گفتگو، کھیلوں کا جنون، نشہ آور اشیاءکا استعما ل اور خواہشات کی پیروی بے شماربرائیوں اور بیماریوں کی بنیادہے،مذکورہ خرابیوں کا انسداد بہت سی برائیوں کا خاتمہ کرسکتا ہے۔
بے راہ روی میں مبتلا ہونے کے دیگر اسباب
مذکورہ بنیادی برائیوں کے علاوہ بھی کچھ ایسے اسباب ہیں جو موجودہ بے راہ روی کا سبب بنتے ہیں اگر ان اسباب پر بندش لگا دی جائے تو بے راہ روی کا خاتمہ ہو جائےگا۔ جن باتوں سے بے راہ روی کو فروغ ملتا ہے ان میں سے ایک اہم فراغت وقت ہے۔ فارغ البالی نئے نئے خیالات لاتی ہے عجیب عجیب باتیں سجھاتی ہے ،لغو اور فضول باتوں کی عادت کسی بھی انسان کی زندگی کے قیمتی لمحات کو ضائع کرادیتی ہے،آج کل کھیل کے میدانوں ،سڑکوں چوراہوں اور چائے خانوں میں نوجوانوں کی بھیڑجو گپ شپ کرتی نظر آتی ہے ،ان کے پاس فارغ وقت ہے ،تو لا محالہ وہ کسی غلط راہ پر پڑیں گے، اور شیطان کے چنگل میں پھنس کر اپنی دنیا وآخرت کو خراب کریں گے، اس کا بہترحل یہی ہے کہ نوجوانوں میں وقت کی قیمت کا احساس پیدا کرکے ان کو کسی مفید کام میں لگادیا جائے، تاکہ وہ اپنی طاقت ،جذبہ وحوصلے کےساتھ صلاحیتوں کا درست استعمال کرسکیںاور مستقبل کیلئے کچھ ذخیرہ کرسکیں۔
نوجوانوں میں بگاڑ اور برائی کا دوسرا اہم سبب بریصحبت ہے،برے ساتھیوں کی رفاقت اور برے لوگوں کی صحبت بہت جلد اخلاق وکردار کو تباہ کرتی ہے آدمی کی صالحیت کو متاثر کر دیتی ہے ،بری صحبت کے سبب نوجوان بہت جلد گناہوںاور بری عاد توں میںمبتلا ہو جاتاہے ،چناچہ بڑوں کی توہین و بے عزتی ،نافرمانی ان کے ادب و احترام سے روگردانی ،والدین کی نافرمانی کرکے دوست واحباب کو اہمیت وترجیح دینا بری صحبت کے نتائج ہیں، یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے والدین پر ذمہ داری ڈالی ہے کہ وہ اپنے بچوںکی نقل وحرکت پر نظر رکھیں ان کی تربیت کریں،ان کی دینی تعلیم کا پورا پورا خیال رکھیں، ان کے دوست ومصاحبین ،ان کی آمد ورفت کی جگہوں کا جائزہ لیتے رہیں ، گھر میں اور گھر سے باہر اچھا ماحول فراہم کریں،تاکہ وہ بری صحبت سے محفوظ رہیں۔
دیگر اقوام کی نقالی اور ان کی اندھی تقلید نے بھی مسلم نوجوانوں کی زندگیوں پربرا اثر ڈالا ہے، بے حیائی ، غرور وتکبر،بد اخلاقی اورفکر ونظرکی پستی دیگر قوموں کی اندھی تقلیدکے سبب پیدا ہوتی ہیں ،آ ج کل کے لڑکوں میں اپنی چال ڈھال، نقل وحرکت، طورو طریق ، پوشاک ولباس اور سر کے بالوںو چہرے کو زنانہ انداز میں آراستہ کرنے ، بال بڑھاکر طرح طرح کے کلر سے رنگین کرنے کاجنون ہے ،تو لڑکیاں مردانہ طرز اپنانے ،لباس وڈریس میں بے پردگی کا خیال نہ کرکے فیشن کو ترجیح دینے ،بال ترشوانے اور مردانہ صورت اختیار کر کے اپنی نسوانیت کے ہر نشان کے مٹانے کو ترجیح دیتی ہیں، غیر مسلموں خصوصا یہود ونصاریٰ کی نقالی میں بازار ،کالج، آفس بلکہ ہر جگہ بدتمیزی اوربے پردگی کا طوفان بپا ہے ، اس اندھی تقلید نے معاشرے میں سب سے زیادہ بے راہ روی ک کو فروغ دیاہے، آزادانہ فکر، مجرمانہ مزاج ،بے کاری کا رجحان ،حیا وشرم کا فقدان، بے پردگی کا مزاج، منشیات کا استعمال ،فحش گفتار ، حرص مال، حب جاہ، جنسی خواہشات شہوات کی تسکین کا جنون وغیرہ یہ سب برائیاںدیگر اقوام کی نقالی اور اندھی تقلید کا ہی نتیجہ ہیں۔
انٹرنیٹ ،فلم بینی و تصویر کشی
مسلم معاشرہ اور خصوصاً نوجوانوں کی موجودہ بے راہ روی میں میڈیا کا رول کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے، آج میڈیا مختلف شکلوں میں گھر گھر پہنچ چکاہے، موبائل اور انٹر نیٹ کی فراوانی اور ہر انسان تک اس کی بسہولت رسائی نے مغربی طاقتوںکا کام بہت آسان کر دیا، اب نشریات کا دائرہ بہت بڑھ گیا ، عوام کے لئے اتنی آسانیاں ہوگئیں کہ چندپہلے تک اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا ، کسی بھی وقت من پسند فلمیں، فحش مناظر ایمان سوز اور مخرب اخلاق ڈرامے دیکھے جا سکتے ہیں، انٹر نیٹ پر موجود اور ٹی وی پر نشر کی جانے والی فلمیں اور سیریل بے پردگی اور بے شرمی کا درس دیتی ہیں، بلکہ ان میں مجرمانہ کردار اور شہوت ابھارنے والے مناظر بھی ہوتے ہیں جو نوجوانوں کے مزاج وفکر کو بدلتے ہیں ان کی عادت واطوار کو خراب کرتے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نوجوان طبقہ فلموں اور سیریلس میں کردار ادا کرنے والے ایکٹرس، کے زرق برق لباس، زندگی کی عیش وعشرت، رہن سہن کے اعلیٰ معیار، نقل وحرکت ، یہاں تک کہ ان کی گفتگو ،فلموں میںبو لے جا نے والے جملے واسٹائل کی خوب نقل کرتا ہے ، فلم اور سیریل کی باتوں اور اسٹائل کو ہر چیز پر ترجیح دیتا ہے اس کو اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ اس انٹر نیٹ اور ٹی وی نے ایمان کی تباہی، ذہن وجسم کی بربادی میں کیا کردار ادا کیا ہے۔
آج کل نوجوانوں میں تصویر کشی اور سیلفی لینے کا چلن بھی بہت بڑھا ہوا ہے ،شادی ، جلسے جلوس ،کھیل کے میچ اور دیگر تقریبات میںتصویریں کھیچنے اور سیلفی لینے کا شوق خوب فراواں ہے، ملٹی موبائل کی ہر ایک کو دستیابی کی وجہ سے سیلفی لینے کا رواج اسحدتک بڑھ گیا ، کہ بسا اوقات ایسے مواقع میں جہاں تعاون کی ضرورت ہوتی ہے کسی حادثہ یا آفت ومصیبت کے سبب لوگ پریشانی میں ہوتے ہیں، وہاں پر بھی مدد وتعاون کے بجائے لوگ موبائل سے سیلفی لینے میں لگے رہتے ہیں، حادثات کے مواقع پر اس کاخوب نظارہ ہوتا ہے ،سیلفی کے جنون نے بلا ضرورت شوقیہ تصویر کشی کی قباحت بھی لوگو ں کے ذہنوں سے نکال ڈالی ہے حالانکہ اس کے مفاسد واضح ہیں۔
عصر حاضر کے نوجوانوں کی یہی صورتحال ہے، آ ج کل کے نوجوانوں اور صحابہءکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانہ کے نوجوانوں کے مابین اہم فرق یہی ہے کہ عصر صحابہ کے نوجوان اپنا وقت اللہ تعالی کی اطاعت میں گزارتے تھے ،جوانی کی حفاظت کرتے تھے، ان کا سارا وقت اللہ تعالی کی عبادت، تعلیم وتعلم ،دعوت وتبلیغ ،اہل باطل سے نبرد آزمائی میں صرف ہوتا تھا، اور اشاعت اسلام کی فکر شعائر اسلام کی حفاظت ان کے لیل ونہار کا مشغلہ تھا وہ پوری امت کیلئے نمونہ بنے ،اس کے بر عکس موجودہ زمانہ کے نوجوانوں کے حالات کیا ہیں ، ان کے اوقات کس طرح صرف ہوتے ہیںان کی دلچسپیاں کیا ہیں ، مافبل میں لکھی جاچکی تفصیل سے اس پر روشنی پڑتی ہے، کہ موجودہ وقت کے نوجوانوںمیں لہو ولعب ،بے کاری ، عیش وعشرت، بری صحبت، غیروں کی اندھی تقلید، ہوٹل بازی،فلم بینی ،فحش گفتگو ، بے حیائی، بد اخلاقی، منشیات کا استعمال، کھیلوں کاجنون ، جنسی بے راہ روی ،مال و جاہ کی حرص، انٹرنیٹ و موبائل کا بے جااستعمال ، سڑکوں گلی کوچوں پر کھڑے رہ کر وقت ضائع کرنا ،انٹرنیٹ میں لگے رہنا اور دنیا وما فیہا سے بے نیاز ہو جانا بکثرت پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں بہت سی برائیاں پنپ رہی ہیں، اور معاشرہ تباہی کی راہ پر گامزن ہے، اگر ان برائیوں کا خاتمہ ہوجائے ،نوجوان ان برائیوں سے کنارہ کش ہو کرراہ راست پر گامزن ہوجائیں تو صالح معاشرہ کی تشکیل ہوسکتی ہے۔
نیک وصالح نوجوان
ایسا نوجوان جو برائیوں سے دور رہے، اس کو اللہ تعالیٰ کی عبادت عزیز ہو، وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہی مصروف رہتا ہو اس کے لئے بڑی بشارتیں ہیں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
” سَب±عَةµ یُظِلُّہُمُ اللّٰہُ فِی ظِلِّہ یَو±مَ لَا ظِلَّ Êِلَّا ظِلُّہ¾ ،الÊِمَامُ ال±عَادِلُ، وَشَابّµنَشَا¿َ فِی عِبَادَةِ رَبِّہ،وَرَجُلµ قَل±بُہُ مُعَلَّقµ فِی ال±مَسَاجِدِ،وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِی اللّٰہِ اج±تَمَعَا عَلَی±ہِ وَتَفَرَّقَا عَلَی±ہِ،وَرَجُلµ طَلَبَت±ہُ ام±رَا¿َةµ ذَاتُ مَن±صِبٍ وَجَمَالٍ،فَقَالَ: Êِنِّی ا¿َخَافُ اللّٰہَ، وَرَجُلµ تَصَدَّقَ ا¿َخ±فی حَتّٰی لَاتَع±لَمَ شِمَالُہ¾ مَا تُن±فِقُ یَمِینُہ¾ ، وَرَجُلµ ذَکَرَ اللّٰہَ خَالِیًا فَفَاضَت± عَی±نَاہُ “
(بخاری شریف۱۴۳۲)
قیامت کے دن جب اس کے سایہ کے سوا کسی کا سایہ نہ ہوگا تو اللہ تعالیٰ سات آدمیوں کو اپنے سایہ میں جگہ عطا فرمائیں گے، انصاف کرنے والا حاکم، وہ نوجوان جو جوانی کے زمانے میں بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعتمیں مصروف رہا، وہ آدمی جس کا دل مسجد میں لگا رہے، وہ دو آدمی جنہوں نے صرف اللہ کے لیے دوستی کی اور اسی کے لئے اکٹھا ہوئے اور اسی کی خاطر علاحدہ ہوئے، وہ جس کو کسی صاحب رتبہ حسین عورت نے برے کام کے لئے بلایا تو اس نے کہہ دیا میں اللہ سے ڈرتا ہوں، وہ آدمی جس نے اللہ کی راہ میں صدقہ دیا اس طرح چھپا کرکہ دائیں ہاتھ سے دیا تو بائیں کو بھی اسکی خبر تک نہ ہوئی، وہ آدمی جس نے اکیلے میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اشک بار ہوگیا۔
یہ حدیث بتلاتی ہے کہ نوجوان شہوت اور نفس پرستی کا داعیہ ترک کرکے ،اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو سایہ عطا کرے گا، یہ صالح و نیک عبادت گذار بندے کا اعزاز ہے،دوسری روایت میں ہے :
”ان اللّٰہ عزوجل لیعجب من الشباب لیس لہ صبوة“(مسند احمد ۴۴۵۱)
ایسے نوجوان سے خوش ہوتا ہے جس میں بے راہ روی نہ ہو۔
حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ نے قبیصہ بن جابر کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:اے قبیصہ بن جابر ! میں دیکھ رہاہوں کہ تم نوجوان ہو ، صاف دل صاف زبان ہو۔آدمی میں اگر نو اخلاق حسنہ ہوں اور ایک بری عادت ہو ،تو یہی ایک بری عادت اس کے تمام اخلاق حسنہ کو برباد کر دیتی ہے ؛ لہذا جوانی کی لغزشوں سے بچتے رہو۔(السنن الکبری للبیہقی،۱۶۸۹)
نوجوانوں کی ذمہ داریاں
ہر قوم نوجوانوں پر انحصار کرتی ہے ،قوموں کی ترقی نوجوانوں کے عمل سے جڑی ہوتی ہے ،ان کی سرگرمی ،مستقبل کا رخ متعین کرتی ہے ، تا ریخ کا مطالعہ بتلاتا ہے کہ ہر دور میں نوجوانوں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے ،جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے دعوت کا آغاز فرمایا تو اس آڑے وقت میں جن خوش نصیب افراد نے اسلامی دعوت کو گلے لگایا اور اشاعت کا بیڑا اٹھایا اس میں بھی نوجوان ہی پیش پیش تھے ،لہٰذامسلم نوجوان کو چاہئے کہ وہ ہر طرح کی برائی اور بے راہ روی کے اسباب سے خود کو دور رکھیں ، اسلامی تعلیمات وآداب سے اپنے آپ کو آراستہ کریں، دینیتربیت پر توجہ دیں، اور ساتھ ہی ساتھ اسلام مخالف منصوبوں سے آگاہی حاصل کریں۔
وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
شباب جس کا ہے بے داغ ضرب ہے کاری
اگر ہو جنگ تو شیران غاب سے بڑھ کر
اگر ہو صلح تو رعنا غزال تاتاری
نوجوانوں کو چاہئے کہ اپنے اندر حوصلہ پیدا کریں ، حق وصداقت کے علم بردار عدل وانصاف کے داعی، کردار کے غازی بنیں، عفت نزاہت، تقوی، صلہ رحمی، اخلاق ومروت کو شعار بنائیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اسلاف کے عمل و کردار کو اپنائیں، کسی بھی حالت اور مشکل میں دامن اسلام ہاتھ سے نہ چھوٹے ، تبھی وہ اللہ تعالی کے محبوب بندے بن سکتے ہیں ،عرش الہی کے سایہ میں جگہ پاسکتے ہیں۔
نوجوان طاقت وقوت کے اعتبار سے سب اعلی مرحلے میں ہوتاہے اس لئے اس ذمہ داری بھی سب سے زیادہ ہوتی ہے اس لئے نوجوانوںکوچاہئے کہ وہ اپنی اصلاح کےلئے متفکر ہوں ،اپنے والدین کے حقوق ادا کریں،پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کا برتاو کریںاور کوشش کریںکہ مصروفیات سے ٹھوڑا وقت نکال کرسیرت رسول کریم ،صحابہءکرام ،اولیائے عظام کی سوانح کا مطالعہ کریں، مجالس میںان کو سنانے کا اہتمام کریں اور خود کو ان اوصاف و کردار سے مزین کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالی نوجوانوں کو اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

٭٭٭