نقوش طنز و مزاح ، ایک مطالعہ

155

مبصر۔ محمد قمر انجم فیضی

مشہورِ زمانہ مزاح نگار اسٹیفن لی کاک، اپنی کتاب”ہیومینٹی اینڈ ہیومر”میں مزاح کی تخلیق کے بارے میں لکھتاہے کہ مزاح زندگی کے ناہمواریوں کے اس ہمدردانہ شعور کا نام ہے جس کا فنکارانہ اظہار ہوجائے،مزاح کی اس تعریف کے مطابق ایک مزاح نگار زندگی میں موجود ناہمواریوں کو نہ صرف محسوس کرتاہے بلکہ تخلیقی سطح پر اس کا اظہار یوں کرتاہے اس سے ہنسی کو تحریک ملتی ہے طنز اور مزاح میں ایک بڑا فرق یہ بھی ہے کہ ایک مزاح نگار مزاح کا حصہ بن کر اس سے محظوظ ہو رہا ہوتاہے جب کہ طنز نگار سارے ماحول سے الگ تھلگ ہوکر اپنے آپ کو بچا کر چوٹ کرتاہے یہی وجہ ہے کہ طنز میں ایک گونا جارحیت اور ایذاکوشی کا عنصر موجود ہوتاہے نیز مزاح میں انسان دوستی کا شائبہ پایا جاتاہے، طنز ایک طرح کی تنقید ہےلہذا ادب میں طنز کی اہمیت و افادیت اس کی مقصدیت کے باعث ہےاسی لئے اس کی تلخی کو گوارا کرلی جاتی یے، مقصد کے بغیر طنز ومزاح کی تخیلق ممکن نہیں، کہ خالص مزاح سے توصرف ہنسی دل لگی یا مذاق وغیرہ کا ہی صرف کام لیا جاسکتاہے اور یہ مزاح کی عمومی سطح ہوتی ہےاس صورت میں اس کی کوئی واضح سمت نہیں ہوتی ہے، مزاح اس وقت سمت آشنا ہوتاہےجب اس میں طنز شامل ہو تو گویا طنز ہی مزاح کی سمت متعین کرتاہے ایک مزاح نگار ہی معاشرے میں موجود برائیوں ،کمیوں ،اور نا ہمواریوں پر اس انداز سے چوٹ کرتاہے کہ ہنسی کے ساتھ ساتھ ان معاملات پر غور وفکر کی دعوت بھی ملتی ہےاور مزاح کی سطح اس وقت بلند ہوتی ہے جب مزاح نگار ذاتی تنقید سے گذر کر حالات سماج، معاشرے، سیاست، واقعات حالات اور ماحول کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے، اسی سطح پر پہنچ کر مزاح طنز میں تبدیل ہوجاتا ہے اورمزاح نگار رکاکت سے گریز کرتے ہوئے انسانی ماحول کا بہترین اور اعلی درجے کا نقاد بن جاتا ہے، مسرت اور عنصر استعجاب,مزاح کے دو لازمی اجزاء ہیں، ایک مزاح نگار جب اپنی ذہانت اور فطانت سے کسی صورت حال کے وہ پہلو معلوم کرلیتاہے جو عام شخص کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں اور ان کا اظہار ایسے موڑ پر کرتاہے کہ سننے والے کو حیرت اور مسرت محسوس ہوتی ہے یہ سارا عمل انتہائی مشکل اور پیچیدہ ہوتاہے، تاہم ایک مزاح نگار اس کو اپنے مہارت تامہ سے فطری انداز میں پیش کرتاہے ،اس کے متعلق رشید احمد صدیقی کی رائے ملاحظہ کریں، طنزومزاح کا شمار دنیا کے مہلک ترین اسلحہ جات میں شمار ہوتاہے اس کے استعمال کا منصب ہر وقت ہر سپاہی یا پا پیادہ کو نہ ہو نا چاہئے بلکہ خاص سپہ سالار کی اجازت اور اس کی براہ راست نگرانی میں اس کو بروئے کار لانا چاہیئے، طنز ومزاح سے محظوظ ہونے کے لئے انسان کے اندر اس صفت کا ہونا ضروری ہے جو اسے حیوانِ ظریف کے مقام پر فائز کرتی ہے ،مزاح صرف عیب جوئی، طعن وتشنیع، یا فقرے بازی کانام نہیں ،بلکہ ہم آہنگی، تضاد میں امتیاز، نا معقولیت اور ناہمواریوں کو ایسے دل پذیر انداز میں اجاگر کرنے کا نام ہے کہ سننے والا قائل ہوجائے، زیر مطالعہ کتاب، نقوش طنز ومزاح کے مصنف ڈاکٹر محمدقائم الاعظمی علیگ(ساکن۔ اعظمی کلنک، برجمن گنج ضلع مہراج گنج یوپی) ہیں،

یہ کتاب 224 صفحات پر مشتمل ہے،ناشر بیت الحکمت محلہ کریم الدین پور، پوسٹ گھوسی ضلع مئو یوپی ہے، اور تقسیم کار خلیل اللہ اکیڈمی جمالڈیہہ چافہ پوسٹ بڑھنی بازار ضلع سدھارتھ نگر ہے، نیز اس کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیاہے، اول۔مزاحیہ مضامین، دوم علمی وادبی مضامین، سوم-قصہ وکہانی اور اسفار، ابتدائیہ کلمات میں پیش لفظ کے عنوان سے ڈاکٹر محمدقائم الاعظمی علیگ نے اپنی تخلیقاتی کاوشوں، کوششوں، اور اس کی غرض وغایت کا برملا اظہار کیاہے، جب کہ تاثرات،برادر معظم مفکر ملت صاحب تصانیف کثیرہ حضرت علامہ ڈاکٹر محمدعاصم اعظمی مدظلہ العالی شیخ الحدیث، جامعہ شمش العلوم گھوسی مئو،نے پیش کیا،

اور راقم الحروف نے، تصنیف و مصنف ایک جائزہ کے عنوان سے لکھا ہے، اور سراغ منزل کے عنوان سے عالمہ فاضلہ محترمہ صاحبزادی رضوانہ خان رضوی صاحبہ اترولہ ضلع بلرامپور نےبہترین خامہ فرسائی کرکے مصنف اور ترتیب کردہ کے احوال وکوائف کو بہترین اور دلکش انداز میں قارئین کے سامنے پیش کیاہے،ادیب شہیر مفکر ملت مورخ اسلام حضرت مفتی ڈاکٹر محمدعاصم اعظمی مدظلہ العالی طنزومزاح کے تعلق سے تحریر فرماتے ہیں ،زندگی سنجیدگی سے انسان کو بچانے اور اسے شکست خواب سے پیدا ہونے والے ناقابل برداشت صدموں کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنے کے علاوہ احساس مزاح کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ اس کا وجود سوسائٹی کی بنیادوں کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوتاہے، وہ مثل کہ “ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا،بیٹھ اکیلے روناہوگا، اس بات کا بین ثبوت ہے کہ مزاح کے طفیل انسانوں کے درمیان ایک ناقابل شکست رشتہ معرض وجود میں آتاہے، مزاح نہ صرف انسانوں کو مربوط کرنے کا ذریعہ ہے بلکہ ہر اس شخص کو نشان تمسخر بنایا جاتاہے جو سوسائٹی کے مروجہ قواعد وضوابط سے انحراف کرتاہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام زبانوں کے ادبیات عالیہ میں طنزومزاح کو خاص اہمیت حاصل ہے، اردوزبان وادب کا دامن نثر نظم بھی طنزومزاح کے گہر پاروں سے مزین ہے، مرزاغالب، اکبرالہٰ آبادی، رتن ناتھ سرشار، سجادحسین، مرزافرحت اللہ بیگ، عظیم چغتائی، ملارموزی،پطرس بخاری، رشیداحمدصدیقی شوکت تھانوی، کنہیالال کپور، کرشن چندر، فکرتونسوی، احمدجمال پاشا، مشتاق یوسفی، اور کرنل محمدخان، کے نام بڑی اہمیت رکھتے ہیں، انہیں باکمال طنزومزاح نگاروں کی روایت طنزومزاح کو دور حاضر کے مزاح نگاروں کو بڑھانے میں مصروف ہیں عصرحاضر کے مزاح نگاروں کے قافلے میں ایک باکمال ادیب ڈاکٹر محمدقائم الاعظمی علیگ بھی ہیں، جوکہ میرے برادر اصغر ہیں،ڈاکٹرمحمدقائم الاعظمی علیگ کی نگارشات کا بیشتر سرمایہ ظرافت پر مشتمل ہے،

جو بلاشبہ بڑی اہم چیز ہے، درجنوں ادبی ومزاحیہ مضامین جیسے، قوم کے قائدین اور ان کی اہم زمہ داریاں، اسلام اور دنیا کے پیچیدہ مسائل کاحل، مشرقی اترپردیش کےقصبہ گھوسی میں فروغ اردو کا کردار، اسلام کا نظریہ حفظان صحت ایک صحتمند قوم کا ظامن ،مسلمانوں کی سیاسی پسماندگی کاپس منظر، موبائل فون سےہم نے کیا کھویااور کیا پایا، ہندوستان میں سلسلوں کا تصور، ایسے ہی تین درجن سے زائد مضامین کا مجموعہ، نقوش طنزومزاح، میں شامل کرکے کتابی شکل دی ہے، اسی کتاب کا ایک مضمون ،داستان غم خوردگان شوہراں، سے قارئین کے لئے ایک اقتباس نقل کرتے ہیں ،بہت سی عالمی جنگیں لڑی گئیں دوملکوں کے مابین اور اندرون ملک انتشار وخلفشار کا ماحول ہوتارہاہے، قبائلی وصوبائی جھڑپیں ہونے کے بعد صلح وآشتی میں تبدیل ہوگئیں، لیکن مسئلہ کشمیر کی طرح میاں بیوی کے درمیان بڑے سے بڑے چھوٹے سے چھوٹے یا معموملی پیچیدہ مسئلوں کا کوئی حل نہیں نکل سکا، یہی وجہ ہے کہ صدرمملکت، وزرائےاعظم واعلی، وزرائے خارجہ، جج ووکیل، ڈپٹی کلیکٹر، ڈاکٹر، وفلاسفر، یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ، اپنے اپنے وقت کے تیس مار خان، یا رستم زماں ہوں، مگر جب اپنے گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو کچھ دیر کے لئے سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ آیا اس وقت بیوی کا مزج معتدل ہے یا غیر معتدل، کیونکہ کسی چیز کے مزاج میں موسم کے متغیر ومتبدل ہونے سے تبدیلی آسکتی ہےلیکن بیوی کے مزاج پر موسم کا کوئی بھی اثر نہیں پڑتا، دیر رات گھر پہنچنے پر اکثر شوہروں کو تو کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا، پھر باورچی خانے میں جاکر خود سے پکا کر اپنی بھوک وپیاس مٹانی پڑتی ہے،الحاصل ڈاکٹر محمدقائم الاعظمی علیگ کی تحریروں میں طنزو مزاح کی چاشنی میں لپٹاہوا اصلاح معاشرہ کاپہلو ہے.اور وہ اپنی تحریروں میں زندگی کے کیف و کم کو الفاظ کے پیکر میں اس طرح ڈھالتے ہیں کہ آنسو اور قہقہہ دونوں بغل گیر ہوجائیں،ان کی تحریروں میں طنز و مزاح میں لپٹا ہوا اصلاح معاشرہ بھی ہے، اور مزاح کا پہلو بھی. آپ کے یہاں زبان سادہ سلیس اور عام فہم ہے.. مزاح آسان کام نہیں ہے مگر ڈاکٹرمحمدقائم الاعظمی علیگ طنز میں مزاح کی آمیزش اس طرح کرتے ہیں اور الفاظ کے نشتر اس طرح لگاتے ہیں کہ قارئین محظوظ ہونے کے ساتھ ساتھ اس چبھن کو بھی محسوس کرتا ہے جس کا احساس ان کے لفظوں کی بدولت ہوتاہے.ڈاکٹرمحمدقائم الاعظمی علیگ کے قلم میں جملوں اور محاروں کی بھرمار ہے یہ آپ کے انداز تحریر کا کمال ہے آپ کے یہاں بدصورتی بھی خوبصورتی معلوم ہوتی ہے.حالات و واقعات کا تسلسل،بہاؤ اور تیزی قاری کو ہر دم مصروف رکھتی ہے۔ڈاکٹرمحمدقائم الاعظمی منظر نگاری میں کمال کرتے ہیں۔کتاب پڑھ کر ایک بارضرور چچا شاہد میاں ،حضرتوا اور عادل میاں کا خیال آتا ہے۔مصنف ان سے خاصے متاثر نظر آئے۔ الحاصل ڈاکٹرمحمدقائم الاعظمی علیگ جذبوں کی عکاسی کے ہنر سے آشنا ہیں.