(نظم)                ” یہ دنیا ”   ذاکرہ شبنم-کرناٹک

41

(نظم)
” یہ دنیا ”

یہ دنیا مجھے اچھی نہیں لگتی
یہاں- عناد , بغض,کینہ, رِیا
جھوٹ,غیبت,حرص و ہوس
جب سے ہوش سنبھالا ہے
یہی سب کچھ تو دیکھا ہے
مطلبی ہے یہ سارے کا سارا جہاں
کسی کو کسی کی فکر نہیں
دلوں میں ہے پیار کہاں ؟…
یہاں سب اپنے لۓ جیتے ہیں
نیّتیں ہیں کہ پل پل ڈولتی ہوٸیں
حُسنِ عمل تو کُجا
انسان اِنسانیت سےبھی پرے ہو چکا ہے…..!!!

ذاکرہ شبنم-کرناٹک