ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتنسلیں ماں کی گود میں،اصلاحی پروگرام برائے خواتین سے مولانا کبیر الدین...

نسلیں ماں کی گود میں،اصلاحی پروگرام برائے خواتین سے مولانا کبیر الدین فاران مظاہری کاخطاب

نسلیں ماں کی گود میں

اصلاحی پروگرام برائے خواتین میں مولانا کبیر الدین فاران مظاہری کا اظہار خیال

(پریس ریلیز20-12-2021۔پورنیہ)ابوالحسن علی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر ٹرسٹ کے زیر اہتمام جامع مسجد گنڈواس ضلع پورنیہ میں ایک اصلاحی پروگرام برائے خواتین حضرت مولانا کبیر الدین فاران مظاہری ناظم مدرسہ قادریہ مسروالا ضلع سرمور ہماچل پر دیش کے زیر صدارت منعد ہوا۔

 مولانا کبیر الدین فاران نے علاقہ کی عالمات و خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ،زیب وزینت سے باہر آنا کمال نہیں بلکہ زیب وزینت کو چھپانا کمال ہے۔دنیا میں کوئی قیمتی چیز کھلی نہیں رہتی۔ہیرا چھپا ہوتاہے پہاڑوں کے بیچ،موتی چھپاہوتاہے صدف کے بیچ،مکئی کا دانہ چھپاہوتاہے تہہ درتہہ پردوں کے درمیان کوئی پھل بغیر پردے کے نہیں ہوتا اور کوئی قیمتی چیز سر بازار نہیں پھینکی جاتی۔ قرآن نے عورتوں کا نام چھپایا،امرأۃالعزیز،امرأۃفرعون حضرت مریم ؑکے سوا کسی کا نام نہیں لیا لوگوں نے مریم ؑکے بیٹے کو اللہ کا بیٹا بنا دیا تھا تو پھر اس نے کہا۔ ذٰالِکَ عِیْسَی بْنُ مَرْیَمَ (پارہ: ۶۱ سورہ: مریم آیت:۴۳)

 یہ مریم کا بیٹاہے۔ ماں سے نسل چلتی ہے ماں کی گو دہری ہو تو جہاں بھی ہرا ہوجاتاہے جب ماں کی گو دمیں ویرانی ہوتی ہے تو جہاں بھی ویران ہوتاہے جب ماں کی گود خشک ہوتی ہے تو سارا جہاں خشک ہوجاتاہے جب ماں کی گود میں خزاں ہوتو سارے جہاں میں خزاں آجاتی ہے،جب ماں کی گود میں بہار ہوتی ہے تو پھر ساری دنیا بہار سے بھری ہوتی ہے

 مولانا فاران نے کہا کہ جب ماں کی گود میں تربیت کا نظام ٹوٹ جاتاہے تو پھر جیسے کیکر پر کانٹے اگتے ہیں ایسے ہی ماں کی گود سے قاتل نکلتے ہیں،زانی نکلتے ہیں، شرابی نکلتے ہیں، آوارہ جسم فروش،،عصمت فروش،عصمت کو لوٹنے والے عورت کے قاتل نکلتے ہیں اور جب ماں کی گود ہری تھی تربیت سے وابستہ تھی تو حضرت عمر ؓ پیدا ہوئے،خالد بن ولیدسیف اللہ پیدا ہوئے کوئی ابن طارق پیدا ہوئے کوئی فاتح عراق پیدا ہوئے کوئی جنید بغداد ی بن کر نکلا توکسی نے شیخ عبدالقادر جیلانی بن کر دنیا کو ہدایت دی،کوئی رابعہ بصریہ پیدا ہوئی تو کوئی معروف کرخی تو کوئی بختیار کاکی بنکر نکلتاہے۔آج کی ماں کی گود بانجھ ہوچکی ہے ساری مائیں بے اولاد اور سارے باپ بے اولاد ہیں۔

 پہلے کی مائیں بچے کو دودھ پلاتے وقت اور لوریاں دیتے وقت قرآن کریم کی تلات کیا کرتی تھیں تو نسلیں بیدار تھیں آج کی مائیں دودھ پلاتے وقت یہ نیت کرتی ہیں کہ بچہ جلد سوجائے گا لوریاں دیتے وقت گانے سناتی ہیں اس لئے آج پوری قوم اور نئی نسل سوئی ہوئی ہے۔

 مولانا نے ایک انگیز واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ بہلول ؒ گذررہے تھے ایک بچہ کو دیکھا وہ کھڑ ارورہاتھا دوسرے بچے اخروٹ سے کھیل رہے تھے۔انہوں نے سمجھا اس کے پاس اخروٹ نہیں ہیں اس لئے رو رہاہے۔میں اس کو لیکر دیتاہوں بہلول ؒ نے کہا بیٹا رو نہیں! میں تجھے اخروٹ لے کر دیتاہوں تو بھی کھیل اس بچے نے کہا بہلول ہم دنیا میں کوئی کھیلنے آئے ہیں؟آپ نے کہا تو پھر ہم دنیا میں کیوں آئے ہیں بچے نے کہا اللہ کی عبادت کرنے کیلئے بہلو ل نے کہا بچہ ابھی تو بہت چھوٹاہے تیرے کرنے کی یہ چیز نہیں ہے ابھی تو تیرااس منزل میں آنے میں بھی بہت وقت پڑاہے اس نے کہا ارے بہلول مجھے دھوکہ نہ دے میں نے اپنی ماں کو دیکھاہے وہ صبح جب آگ جلاتی ہے تو پہلے چھوٹی لکڑی سے جلاتی ہے اور پھر بعد میں بڑی لکڑیاں رکھتی ہے اسلئے مجھے ڈر ہے کہ کہیں دوزخ مجھ سے نہ جلائی جائے اور میرے اوپر بڑوں کو نہ ڈالاجائے یہ سن کر بہلول تو بیہوش ہوکر گر گیا کس ماں نے بچے کو ایسی تربیت دی تھی۔

 علاقہ کے مشہور عالم دین اور نصف درجن کتابو ں کے مصنف جناب مولانا کبیر الدین فوزان نے مولانا کبیر الدین فاران کا استقبال کیا اور تعریفی جملہ میں کہا کہ مولانا کبیر الدین فارن کی آمد خوش آئند ہے اور یہ علاقہ ان کی خدمات کا تہہ دل سے اعترف کرتا ہے اور مستقبل میں بھی امید ہے کہ مولانا اس علاقہ کا دورہ کرتے رہیں گے۔

  اخیر میں علاقہ کے علماء، ائمہ اور عالمات کو حضرت مولانا کبیر الدین فاران صاحب نے کمبل کاہدیہ پیش کیا۔

 اس مجلس میں مولانا زبیر صاحب، مولانا معین الدین مظاہری صاحب، مفتی خالدحبیب ندوی، صاحب،مولانا جہانگیر صاحب،مولانا اصغر زید،مولانا خورشید ربانی،حافظ سہیل صاحب۔ موجود رہے اس موقع پر مولانا قربان صاحب قاسمی نے آنے والے سبھی مہمانوو حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے