ندرتِ افکار کے جوہر دکھاتا ہے قلم

81

فتی اسعداللہ قاسمی مظاہری صدرمدرّس جامعہ ام الہدی ،مدہوبنی،بہار ڈائریکٹر دارالسّلام فاؤنڈیشن دربھنگہ،بہار

 

قلم علم ودانش کا خوش ترین ذریعہ اوراحیائے دین واشاعتِ حق کامؤثرترین وسیلہ ہے،پہلی وحی میں قلم کاتذکرہ فرماکر اس کی عظمت و اہمیت پرروشنی ڈالی گئی ہے۔

(العلق:4)
سورۂ نون میں قلم اورنگارشاتِ اہلِ قلم کے تقدّس کی قسم کھائی گئی ہے۔(القلم:1)
حدیثِ نبوى میں قلم کواس کائناتِ رنگ وبُو کااوّل ترین آفریدۂ خداقراردیاگیاہے۔
(ترمذی:3319)
نبی ہاشمی قرشیﷺ کی طرف سے لکھنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے ، چالیس سے زیادہ صحابہ سے قرآن مجید لکھنے کی خدمت لی گئی ہے ، احادیث لکھنے کا حکم دیاگیاہے۔
(الاتقان فی علوم القرآن : 1/205)
دربارِ نبوی سے مختلف شاہانِ مملکت کے ایوانوں میں دعوتی خطوط لکھے گئے ہیں ،انہیں کفروشرک کی تپتی دھوپ سے نکل کر اسلام کی ٹھنڈی چھاؤں میں آنے کی دعوت دی گئی ہے ۔
حافظ ابن کثیر رحمة الله علیہ رقم طراز ہیں:
نبی اکرم ﷺ خود نہیں لکھتے تھے،تاکہ لوگوں کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ آپ نے کسی کتاب کو پڑھ کر خود سے قرآن مقدس بنالیا ہے،بلکہ آپ کے پاس کچھ نویسندہ اصحاب ہوتے،جو وحی الٰہی بھی لکھتے اور بادشاہوں کے پاس خطوط بھی۔
(تفسير ابن كثير” 6/ 285-286)

نفع بخش علمی نگارشات انسان کے لیے صدقۂ جاریہ ہوتی ہیں ،جوہمیشہ اس کے لیے نیکی کی شمع ،فروزاں رکھتی ہیں۔
حدیث شریف میں انسان کی شمعِ حیات گل ہونے کے بعد تین چیزوں کوسدابہار ذریعۂ ثواب قراردیاگیا ہے ،جن میں ایک وہ علم بھی ہے جس سے فائدہ اٹھایا جائے۔
( مسلم: 1631)
یہ نصوص اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ قلم ایک ربّانی نعمت ہے،جسے ہردورمیں اہلِ دانش نے عزت دی ہے،ایک یزدانی دولت ہے جسے ہر زمانہ میں اہلِ فکر نے اپنی زندگی کی زینت بنائی ہے،بلکہ قلم وہ خدائی اسلحہ ہے ،جسے ہرعہد میں احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کے لیے استعمال کیاگیاہے۔
اس کے بےشمار حیرت آفریں کارنامے ہیں،جواس کی رفعتِ شان کے جیتے جاگتے ثبوت ہیں:جہاں اس نےجمعِ قرآن کے لیے اپنا مقدّس وجود پیش کیاہے،وہیں اس نے تدوینِ احادیث کے لیے اپنا مکمل زورصرف کیاہے،۔۔۔۔۔جہاں اس نے تفسیرِقرآن کے لیے اپنا خون پسینہ ایک کیا ہے ،وہیں اس نے شرحِ حدیث کے لیے اپنا خون جگر نچوڑ کر رکھ دیا ہے ،جہاں اس نے اسلامی عقیدوں کولوحِ قرطاس پر کندہ کیاہے،وہیں اس نے فقہی مسئلوں کو سینۂ ورق پرثبت کیاہے ،جہاں اس نے اسلام کی درخشاں تاریخ سےاس دنیا کوروشناس کیاہے، وہیں اس نے تمام دینی و عصری علوم و فنون کو کتابوں کے رخشندہ صفحات میں نقش کردیاہے ،جہاں اس نے ظالموں کے ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا ہے،وہیں اس نے عدل پروروں کے عدل کا حسین نغمہ سنایا ہے۔
جہاں اس نے سماج میں خیر کی تخم ریزی کے لیے ہرممکن کوشش کی ہے،وہیں اس نے شر کی بیخ کنی کے لیے اپنے تن من دھن کی بازی لگادی ہے،غرض اس کے بے شمار حسین کرشمے اور دلکش نیرنگیاں ہیں، جن کا ذکر شورش کاشمیری نے اپنے اشعار میں کیا ہے:
صفحہ کاغذ پہ جب موتی لٹاتا ہے قلم
ندرتِ افکار کے جوہر دکھاتا ہے قلم
بندگانِ علم وفن کی خلوتوں کا آشنا
ان کے فکر وفہم کی باتیں سناتا ہے قلم
یادگاروں کا محافظ تذکروں کا پاسباں
گم شدہ تاریخ کے اوراق لاتا ہے قلم
شاعروں کے والہانہ زمزموں کی آبرو
دانش وحکمت کی راہوں کو سجاتا ہے قلم
اہلِ دل ، اہلِ سخن، اہلِ نظر، اہلِ وفا
ان کے خط وخال کا نقشہ جماتا ہے قلم

جی ہاں! اگر قلم نہ ہوتا، توعلمی سرمایے محفوظ نہ ہوتے ،فرامینِ الہی جمع نہ ہوتے ،ارشادات نبویؐ مدون نہ ہوتے۔ اسلاف کی روشن تاریخ سامنے نہ آتی، ایمان افروز واقعات منصۂ شہود پر جلوہ نمانہ ہوتے،اصلاحی و اخلاقی مضامین زیورِ طبع سے آراستہ نہ ہوتے۔انجام کار عقائد و نظریات پر دُھول جم جاتی، دین ودنیا کا امتیاز مٹ جاتا، اخلاق و کردار کا جنازہ نکل جاتا، اسلامی تہذیب و تمدن کا نام ونشاں ختم ہوجاتا۔ امن وامان ایک خواب وخیال بن جاتا ، شرافت وانسانیت عنقاہوجاتی ، ظلم و بربریت کی حکمرانی ہوتی،روشنی کافورہوجاتی ،تاریکی کابسیراہوتا،اورپورے عالم کا نظام درہم برہم ہوجاتا۔

قلم وہ ہتھیارہےجو تلوارسے زیادہ طاقتور ہے،کیوں تلوار سے دل نہیں،ملک فتح کیے جاتے ہیں ،جب کہ قلم سے ملک نہیں ،دل فتح کیے جاتے ہیں ،دلوں میں ایمان ویقین کی شمع روشن کی جاتی ہے،شرافت وانسانیت کی روح پھونکی جاتی ہے،تلوار کی فتوحات عارضی ہیں،اورقلم کی فتوحات لازوال ہیں۔آج دنیا نہ معلوم کتنےاصحابِ سیف فراموش کر چکی ہے،لیکن اصحابِ قلم زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہیں گے،اس لیے ہرعالم ودانشورکوقلم وقرطاس سے اپنا رشتہ مضبوط کرناچاہیے۔

شیخ تاج الدین سُبكى رحمة اللہ علیہ (م771ھ) اپنی کتاب “جمع الجوامع”کے خطبہ میں رقم طرازہیں:
“ایک عالم ودانشورکی شہرت چاہےجس قدرعالم گیر ہوجائے،میدانِ مباحثہ میں اس کامقام خواہ جس قدر بلند ہوجائے،اس کے عقیدت مندوں کی تعداد چاہے جس قدر بڑھ جائے ،حتی کہ وہ علم ودانش کے بنددریچےکھول دے،لیکن اس کے باوجود اس کے علم ودانش کی افادیت اس کی زندگی تک ہی سمٹ کر رہ جاتی ہے،ہاں!اگراس کی کوئی قلمی کاوش منظرِعام پر آجائے ہے،تویہ کرۂ ارض پراس کے سدا بہاررہنے کی ضمانت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔میں حلفیہ یہ کہ سکتاہوں کہ اس شخص کامقام اس کی قلمی کاوش نے بلندکیاہے،کیوں کہ رشحاتِ قلم دیر تک رہتےہیں،اور اہلِ قلم کو جریدۂ عالم پر نقشِ دوام بخشتے ہیں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انہیں پسِ مرگ زندہ بنادیتے ہیں۔اس لیے اس مہتم بالشان قلمی کاوش سے میری زندگی کا معمولی وقفہ بھی خالی نہیں رہتا، کوئی ایساوقت نہیں گذرتا جس میں ہم علم ودانش کے آب دار موتیوں کوپِروکر قیمتی مالا نہ بناتے ہوں اورزمانے کے تانے بانے میں کوئی لمحۂ فراغت ایسانہیں ہوتاجس میں قلم تصنیف وتالیف کے بابرکت عمل کے لیے حرکت وجُنبش میں نہ ہو “۔

اسلام کی چودہ سوسالہ تاریخ میں ہردور کے علمائے امت اور محسنینِ ملت کا قلم وقرطاس سے مستحکم رشتہ رہا ہے،جن کے قلم سے علم وفن کی متلاطم ندیاں بہی ہیں۔۔۔۔ جن کے قلم نے دفاعِ اسلام کے میدان میں اپنی شجاعت وبسالت کے جلوے دکھائے ہیں۔۔۔۔۔انسانیت کے دشمن فرعونی ٹولوں کے پنجے مروڑے ہیں۔۔۔۔۔ جن کے قلم خرمنِ باطل پر پر بجلی بن کرگرے ہیں۔۔۔۔۔
بلکہ جہاں ان عظیم ہستیوں کی علمی کاوش کے واقعات حیرت انگیز ہیں،اسی طرح یہ امر بھی نہایت حیرت آفریں ہے کہ یہ ائمہ باوجود اپنی بے شمار مصروفیتوں کے روزانہ تصنیف بھی اسی حدتک کرلیتے کہ آج کوئی شخص صرف اس کام کو کرنے کے لیے تیار ہو ،تو بہ مشکل تمام بھی ایسی پُر مغز ومعنی آفریں کتابیں نہیں لکھ سکتا۔
امام رازی رحمة اللہ علیہ کے روزانہ تصنیف کی مقدار کم وبیش 20/ صفحات ہوتے ہیں ،اور ہرصفحہ میں باریک خط کی 31/سطریں ہیں۔محمد ابن جریر طبری رحمة اللہ علیہ کی تصنیفات کااوسط روزانہ 40/صفحات یعنی 80/ورق نکلتاہے۔امام غزالی رحمة اللہ علیہ کی تصنیفات کاحساب یومیہ 16/صفحہ ہے ،جوآپ کے بےشمارمشاغل،سفر،تدریس،افتاء،ودیگر معاملات کے ساتھ نہایت حیرت انگیزہے۔
علامہ ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ کی پانچ سو شاہکار کتابیں ہیں،جن میں سے بعض کتابیں کئی جلدوں میں ہیں۔
علامہ ابن الجوزی رحمة اللہ علیہ کی کثرتِ تصنیف کااندازہ اس واقعہ سے لگائیے کہ جب آپ کے انتقال کا وقت قریب ہوا آپ نے وہ تراشۂ قلم لوگوں کو نکال کر سپرد کیا جسے احادیثِ نبویہ لکھنے کے وقت قلم بنانے میں جمع کیا گیا تھا اور فرمایا کہ میرے نہلانے کے لیے پانی اسی تراشۂ قلم سے گرم کرنا،چناں چہ حسبِ وصیت اسی تراشہ سے پانی گرم کرکے آپ کو نہلایا گیا۔
(العلم والعلماء:40/41)
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی نوّراللّہ مرقدہ قرآن وحدیث اور فقہ وتصوف کے متبحر عالم تھے، علومِ اسلامیہ میں ان کا درجہ ایک بالغ نظر محقق کا ہے ایک ہزار سے زائد ان کی تصنیفات ہیں جو حدیث کی شرح، تفسیر، فقہ، اخلاقیات اور تصوف وتزکیہ نفس نیز دور حاضر کے توجہ طلب مسائل وتحقیقات پر مشتمل ہیں ۔

(دارالافتاء،دارالعلوم دیوبند:سوال وجواب نمبر:32720)
اللہ اکبر!جس طرح ان خوش نصیب ہستیوں نے اپنا جسم وجان راہِ علم میں وقف کردیا تھا،ویسے ہی اللہ جل شانہ نے ان کو دائمی پھل سے سرفراز کیا اور تاابد اُن کانام دنیاکے نقشوں میں زندہ کردیااور ہم جیسے کندۂ ناتراش طلباء جس طرح اپنے زمانے کو ضائع کررہے ہیں اسی طرح زمانہ ہم کو ضائع کررہا ہے۔
نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا
سوبار جب عقیق کٹا تب نگیں ہوا

ہماری روشن تاریخ میں قلم وقرطاس سے والہانہ عقیدت ومحبت کی داستان طویل بھی ہے اور تحیّر آفریں بھی،ہم جیسے تساہل پسندوں کے لیے
چشم کشابھی ہے اورسبق آموز بھی،ان عاشقینِ لوح وقلم نے علمی دانش گاہوں میں ہی نہیں،بلکہ زندان خانوں میں بھی بیٹھ کرعلم وتحقیق کے وہ چشمے بہائے ہیں ،جن کے تصور سے بھی دانتوں کو پسینہ آتاہے۔

شمس الائمہ سرخسی رحمة اللہ علیہ نے اوزچند کے قیدخانہ میں گہرے کنویں سے حالتِ قید میں اپنےشاگردوں کو”المبسوط”نامی شاہکار کتاب زبانی املاء کرائی تھی،جب کہ آپ کے پاس اس وقت کوئی دوسری کتاب موجود نہ تھی ،یہ دس ضخیم جلدوں میں فقہِ حنفی کی مایہ ناز اور فقید المثال کتاب ہے۔
(الجواھر المضیۃ فی طبقات الحنفیہ 3/ 80-78)
امامِ نحوابن المامون رحمة اللہ علیہ گیارہ سال سلاخوں کے پیچھے رہے،جہاں انہوں نے اسی حال میں اسّی جلدیں لکھیں ،جن میں ایک فن لغت میں امام ثعلب رحمة اللہ علیہ کی مشہور کتاب “الفصیح” کی شرح “شرح الفصیح” بھی ہے۔
(بغية الوعاة:1/943)
عالمِ عرب کے مشہور محدث شیخ ناصر الدین البانی رحمه اللہ نے دمشق کے قیدخانہ میں محض تین ماہ میں صحیح مسلم کی تلخیص وتہذیب کی،اس وقت ان کے پاس صرف صحیح مسلم اور ایک پینسل تھی۔
حضرت مفتی عنایت احمد صاحب کاکوری رحمة اللہ علیہ نے مالٹا کی اسارت کے دوران فن صرف کے موضوع پردرسِ نظامی کی مشہور ترین کتاب “علم الصیغہ”،اورسیرت کے موضوع پر “تواریخ حبیب الہ”لکھی،جب کہ آپ کے پاس مصادر کے طور پر کو ئی کتاب نہ تھی ،نیزاسی دوران ایک انگریز کی فرمائش پر عربی جغرافیہ کی مشہور کتاب تقویم البلدان کااردو ترجمہ کیا۔
(مقدمۂ علم الصیغہ)
شیخ الہند حضرت مولانا محمودالحسن صاحب دیوبندی رحمة اللہ علیہ سے کون ناواقف ہے،آپ گرفتاری سے قبل قرآن کریم کے صرف دس پارے کاترجمہ کرسکے تھے،جب آپ کو مالٹا کی جیل میں قید کیاگیا،توآپ نے قرآن کریم کاترجمہ مکمل کیااور سورۂ نساء تک حواشی اور فوائد تحریر فرمائےاوراسی دوران بخاری شریف کے ابتدائی چند ابواب کی شرح بھی کی ،جو”الأبواب والتراجم” کے نام سے مشہور ہے۔
(تذکرہ شیخ الہند:128)

أولئك أبائي فجئني بمثلهم

إذا جمعتنا يا جرير المجامع

لوح وقلم کے روشن کارناموں کی یہ داستان صرف دینی مضامین سے ہی ہم رشتہ نہیں ،بلکہ عصری مضامین کے حوالے سے بھی ایک طویل تاریخ ہے،جس میں امت کے محسنوں کاایک ناقابلِ شمار سلسلہ ہے جن کے مُشکیں سخن، بدیع آثار قلم نے لازوال علمی نقوش چھوڑے ہیں۔
چاہے وہ عطار بن محمد جیسا عظیم کیمیادان ہو یاابومعمر بن مثنی جیساعالی قدر ماہرحیوانیات،چاہے وہ جابر بن حیان جیساباکمال سائنس دان ہو،یا ابوحنیفہ الدینوری جیسا بلند مرتبہ ماہرنباتیات، ۔چاہے وہ ابویوسف یعقوب کندی جیسانامورفلسفی ہو، یامحمد بن موسی خوارزمی جیسا جلیل القدر ماہرِ ریاضی وفلکیات،
چاہے وہ ابن خلدون جیسا شہرۂ آفاق مؤرخ ہو یاابوبکر بن زکریا رازی جیسابلندقدرحکیم و طبیب ۔
ان سب دانشوروں نے اپنے شمیم افشاں قلم کو تعمیری کاموں میں استعمال کیا،اوراسلامی کتب خانوں کو اپنی علمی تحقیقات سے مالامال کیا، جس کی وجہ سے ان کے جوہرریز قلم نے انہیں شہرت ونیک نامی کے کوہِ ہمالہ تک پہنچایا،انہیں عزت وثروت سےسرفراز کیا۔اوروہ ہمیشہ ہمیش کے لیے تاریخ کے روشن اوراق میں زندہ جاوید ہوگئے۔
اسی لیے ایک فارسی شاعر نے قلم کی زبان سے یہ کہا ہے کہ :

قلم گوید کہ من شاہ جہانم
قلم کش را بدولت می رسانم

یہ قلم اور اہل قلم کی کاوشوں کی ہلکی سی جھلکیاں ہیں، اس مختصر تحریر میں سب کااحاطہ مشکل ہی نہیں ،ناممکن ہے۔میں ہردورکے لاکھوں اورکروڑں شہنشاہانِ قلم کی خدمت میں سلامِ عقیدت ومحبت پیش کرتاہوں ،جنہوں نے اپنے عنبریں وعطرپاش اورگوہر بار وفیض افشاں قلم سے دین وانسانیت کی خدمت کی ہے۔

تاریخ کے اوراق پر سرسری نظر ڈالیں ،توآپ کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ ہوگا کہ ہر دور میں اہلِ قلم کے دوطبقے رہے ہیں:ایک وہ لوگ ہیں جواپنا قلم بلند مقاصد کے لیے اٹھاتے ہیں،وہ اپنے قلم سے یاتو علم وتحقیق کے انمول موتیاں بکھیرتے ہیں ،یا صحت مند معاشرہ کی تشکیل کے لیےجد وجہدکرتےہیں۔ان کے قلم جہاں تشنگانِ علم کے لیے آب زلال ہوتے ہیں،وہیں دردرسیدہ دلوں کے لیے تریاقِ شفاءاورمُردہ ضمیروں کے لیے اکسیرِ حیات ہوتے ہیں۔
اوردوسرے وہ لوگ ہیں جواپنے قلم کو فاسد ومکروہ مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں ،ان کے قلم سے علم ودانش کے سوتے نہیں پھوٹتے ،بلکہ جہل وعناد کاتعفُّن پھیلتاہے،وہ سماج کوصالح نہیں،بلکہ اسے آلودہ بنانے کی فکر میں رہتے ہیں،ان کےقلم تریاق نہیں ،زہرہَلاہَل اُگلتے ہیں،اس لیے بحیثیتِ مسلمان قلم اٹھانے سے پہلے
ایک صاحبِ قلم کے لیے قلم کی رفعتِ شان کو سمجھنااور اس کے آدابِ اسلامی کو جاننا بہت ضروری ہے۔

قلم سےسچائی کی ترجمانی کی جائے،دروغ گوئی سے اس کے تقدّس کوپامال نہ کیا جائے ۔حدیث شریف میں فرمایا گیا “سچائی کولازم پکڑو”۔
(ترمذی:1917)
قلم سے محبت وشیفتگی کی قندیلیں روشن کی جائیں، نفرت ودشمنی کی کاشت نہ کی جائے،اگرکوئی اپنے قلم سے دوسروں کی کردار کشی اور د ل شکنی کرتا ہے،اورنفرت وعداوت کی بیج بوتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اس بارِامانت کا اندازہ نہیں، جو قلم کی بدولت اسے بخشا گیا ہے۔جس نبی مكرّم پرہم ایمان رکھتے ہیں،ان کا وصف یہ تھا کہ ‘وہ نہ سخت مزاج تھے اور نہ رسوا کرنے والے”
(شمائل ترمذی:228)
قلم کو الحاد وکج روی سے، تذکرۂ بادۂ نوشی سے،فحش گوئی وفحاشی سے، جذبات میں ہیجان انگیزی سے اورحسن و عشق کے ناروا مراحل کی عکاسی سے آلودہ نہ کیاجائے،جس اسلام کی ٹھنڈی چھاؤں میں ہم سانس لیتے ہیں ،اس کی خوبصورتی اسی میں ہےکہ لایعنی مشاغل ترک کر دیے جائیں۔(ترمذی:2317)
صاحبِ قلم کے لیےاقدارِ عالیہ اور ضمیرکا پابند ہونا ضروری ہے ،وہ کسی کے دباؤ میں آکر قلم کا غلط استعمال نہ کرے ،بلکہ ناموسِ قلم کا خیال رکھے،اس کا مقدس مشن یہ ہوناچاہیے کہ وہ پہاڑوں کے سینہ کو چیر کر نہریں نکال دے اور بادِ مخالف کا رخ موڑدے اور ہر حال میں دیانت داری پر ثابت قدم رہے۔
قلم سے ملک وملت کے بے لوث خادموں کی حوصلہ افزائی کی جائے،فاسقوں اور غداروں کی مدح سرائی نہیں(شعب الایمان:٤٥٤٤) قلم کے بول میں خیر ضروری ہے ورنہ خاموشی بہترہے (بخاری 6476) قلم سے تحقیقی خبریں لکھی جائیں،اڑتی ہوئی غیرمستندخبروں سے اس کا وقار مجروح نہ کیا جائے (الحجرات:6)
اور ایک اہم ترین بات یہ ہے کہ قلم کوسحرآفریں بنانے کے لیے جہاں عبارت کی سلاست وروانی،اسلوب کی شگفتگی ودل کشی،مضمون کی آمدوبے ساختگی ضروری ہے۔وہیں دلِ نیازمنداورفکرِ ارجمندکی ضرورت ہے،ایک صاحبِ قلم کواگردلِ بے تاب اورشبِ بے خواب کی جراحتیں میسرنہ ہوں،تواس کی آواز صرف نگاہوں سے ٹکڑاتی ہے،دلوں کے دروازوں پر دستک نہیں دیتی ،اورنہ ہی سامعین کے ضمیرکو اس بات کے لیے جھنجھوڑتی ہے کہ وہ اپناسمتِ سفرتبدیل کرے،خوابِ غفلت سے بیدارہوجائے،لذت کوشی کی سرمستی سے دست کش ہوجائے، اورفکرِآخرت کواپنی زندگی کانصب العین بنالے، تحریرمیں جب تک خونِ جگراورپیغمبرانہ دردوکرب شامل نہ ہو،وہ سامعین کے لیے انقلاب آفریں اوراثرخیزثابت نہیں ہوسکتی۔
قرآن کریم میں ہے:
تو اگر یہ لوگ اس بات (یعنی : توحید ) پر ایمان نہ لائیں تو شاید آپ مارے غم کے ان کے پیچھے اپنی جان دے دیں گے!

.(الكهف:6)
اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد آپ ﷺ کی داعیانہ تڑپ اور لوگوں کے راہِ ہدایت پر آجانے کے لیے بے قراری کو ظاہر کرتا ہے ، یہ اُمت چوں کہ دعوتِ دین کے فریضہ کو ادا کرنے میں اپنے پیغمبر کی جانشین ہے ؛ اس لیے انسانیت کی ہدایت کے لیے یہی تڑپ اور بے قراری اس سے بھی مطلوب ہے ۔ان سب کے علاوہ قلم کو جادو اثر بنانے کے حوالے سے ایک قلم کارکے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اخلاقِ حمیدہ سے آراستہ ہو، نرم گفتارہو، دولتِ اخلاص سے مالامال ہو،امیدوبصیرت سے سرشار ہو،موقع شناس ہو، عملِ صالح کی خوشبو سے معطر ہو،اس کے قول وعمل میں تضاد نہ ہو،تبھی اس کی تحریر إن من البيان لسحرًا کا مصداق ہوسکتی ہے،لوگوں کو گناہ آلودبدبودارماحول سے نکال کردینی خوشبوداردینی ماحول میں ڈال سکتی ہے،دین ودنیاکے بلند مقاصد تک رسائی حاصل کرسکتی ہے۔

القصہ قلم کی عظمت عظیم، اور اس کی خدمت ہمہ گیرہے ،اس سے دین کے تحفظ وبقاء اورزندگی کے صلاح وفلاح دنوں کاکام لیاجاسکتاہے۔قلم کے ذریعہ علم وتحقیق کے شیریں چشمے بہائے جاسکتے ہیں۔۔۔۔۔فکرودانش کی نئی راہیں کھولی جاسکتی ہیں۔۔۔۔۔کفروشرک کی چلچلاتی دھوپ میں کھڑی پیاسی انسانیت کوتوحید کی پاکیزہ اور ٹھنڈی شراب پلائی جاسکتی ہے ۔۔۔۔۔۔دشمنانِ دین کی طرف سے اسلام کےصاف شفاف چہرے پرلگائے گئے داغ کو پوچھاجاسکتاہے۔۔۔۔۔۔۔ مستشرقین کی طرف سے پیش کردہ دلوں میں کانٹے بن کرچبھنے والے شکوک وشبہات کی بیخ کنی کی جاسکتی ہے۔۔۔۔۔۔دنیاکے تمام باطل افکارونظریات کاسرقلم کیاجاسکتاہے۔۔۔۔۔۔وقت کی خون آشام حکومت کو عدل وانصاف اورانسانیت وہمدردی کادرس دیاجاسکتاہے۔۔۔۔۔۔مسلم امہ کے غفلت کوش انسانوں کو بیدارکیاجاسکتاہے۔۔۔۔۔۔ مردہ ضمیروں میں نئی روح پھونکی جاسکتی ہے ۔۔۔۔بیمار دلوں کوزود اثردوادی جاسکتی ہے۔۔۔۔ سردقلوب کوعشقِ الہی اورحبِّ نبوی سے گرمایاجاسکتاہے۔۔۔۔
اسی لیے امام قتادہ رحمة اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:
القلم نعمة من الله عظيمة ،لولاالقلم لم يكن دين ولم يصلح عيش.
قلم اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ، اگر یہ نہ ہوتا تو نہ دین قائم رہتا اور نہ زندگی بہتر ہوتی ، ( تفسیر قرطبی : ۲۰؍ ۱۲۰)