جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتنتیش کمار اور تیجسوی یادو کا مشترکہ ایجنڈا

نتیش کمار اور تیجسوی یادو کا مشترکہ ایجنڈا

ذات برادری کی بنیاد پر مردم شُماری کا مطالبہ کیا گل کھلائے گا ۔۔۔؟
تحریر ——————- عبدالرحمن عابد

کل پھر بہار کی سیاست میں ایک عجیب منظر دیکھا گیا ، وزیراعلی نتیش کمار اور کےان قریب ترین حریف بہار اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو مشترکہ طور پر بہار کی تقریباً ایک درجن سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کے ہمراہ وزیر اعظم سے ملاقات کے لئے پہونچے ، ملاقات کا بنیادی مقصد ذات برادری و قبائل کی بنیاد پر مردم شُماری کرانے کا مطالبہ کرنا تھا ، نتیش کمار نے وزیراعظم مودی سے ملاقات کے بعد پریس کو بتایا کہ وزیراعظم نے سنجیدگی اور توجہ سے انکی تمام باتوں کو سنا ، ادھر تیجسوی سے بعض چینلز نے طویل گفتگو کرکے کریدنے کی کوشش کی کہ نتیش کمار کے ساتھ مودی سے ملاقات صرف ذات برادری کی بنیاد پر مردم شُماری کرانے کے مطالبہ تک ہی محدود ہے یا آئندہ کچھ اور بھی ممکن ہے ؟
گذشتہ الیکشن کے بعد نتیش کمار کی پارٹی کی طاقت اسمبلی بہت کم ہوگئی ہے بی جے پی کے ممبران اسمبلی کی تعداد جے ڈی یو سے تقریباً دو گنی ہے مگر نریندر مودی نے وزیرِ اعلیٰ کا عہدہ نتیش کمار کو ہی دیا تاکہ وہ بی جے پی کی طرف سے اپوزیشن کے خلاف اچھی بیٹنگ بالنگ کرتے رہیں لیکن جس طرح بہار بی جے پی کے لیڈرس آئے دن نتیش کمار کے خلاف مورچہ کھولے کھڑے رہتے ہیں اس سے نتیش کمار دکھی ہیں ، انہوں نے اسمبلی الیکشن سے پہلے بھی مہا گٹھ بندھن کی طرف آنے کے اشارے دئیے تھے لیکن اس وقت مہا گٹھ بندھن کے ماہر تجربہ کار لیڈر لالو پرساد یادو جیل میں تھے اور نوجوان تیجسوی نے نتیش کمار کو قریب آنے نہیں دیا شاید وہ خود کو متوقع وزیرِ اعلیٰ دیکھ رہے تھے ، تیجسوی اور نتیش کمار کے درمیان تلخیوں کے طویل دور کے بعد اچانک اتنی قربت سیاسی پنڈتوں کے لئے چونکانے والی ہے ، کیونکہ اس کا مقصد محض ذات برادری کی بنیاد پر مردم شُماری کے مطالبہ تک محدود تو نہیں سمجھا جا رہا بلکہ دو قدم آگے کچھ اور بھی ہوسکتا ہے ایسا سوچنے والوں کی کمی نہیں ہے۔
دوسری طرف بہار کے پچھڑی ذات کے وزیر اعلی اور پچھڑی ذات کے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو اتی پچھڑےجیتن رام مانجھی کا ایک سر میں ذات برادری کی بنیاد پر مردم شُماری کا مطالبہ کرنا برہمنوادی ملائی خور طبقہ پر بجلی بنکر گرا ہے ، کل سے ہی تمام برہمنوادی استحصالی میڈیا ، سنگھ پریوار کی بغل بچہ منو وادی تنظیمیں ، بی جے پی آر ایس ایس کے برہمنوادی طبقہ نے "جاتیہ پرتھا ” ذات برادری کے سسٹم کے خلاف مگر مچھ کے آنسو بہانا شروع کر دئیے ہیں ، لیکن جب آر ایس ایس کے نظریہ سازوں سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ منو اسمرتی کو غلط مانتے ہیں تو وہ بغلیں جھانکنے لگتے ہیں ، کیونکہ منو اسمرتی تو انکا ایمان ہے ، برہمن چھتری ویش کے علاوہ شودر اور ملیچھ انسانوں کو ووٹ کی خاطر کیمرے پر بھائی بتانے اور دلتوں گھروں میں رنگ روغن کرا کر فائیو اسٹار باورچیوں کے بنائے کھانے کھاکر جو منظر پیش کئے جاتے ہیں وہ سیاسی ضرورت کے تحت فلمی مناظر کی حیثیت سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے ، حقیقت میں زندگی کے اصول وہی ہیں جو منو اسمرتی میں متعین کئے گئے ہیں ، اس لئے نتیش کمار اور تیجسوی کے اس اتحاد سے سنگھ پریوار میں کھلبلی مچنا لازمی ہے ۔

آج سے بتیس سال پہلے جب پارلیمنٹ میں آج کی مودی کی بی جے پی کی طرح راجیو گاندھی کی کانگریس پارٹی کے دو تہائی اکثریت سے بھی زیادہ لوک سبھا میں ممبران تھے اور بی جے پی کے ایک جمع ایک کل دو ممبران اٹل بہاری واجپائی اور لال کرشن اڈوانی ہی پارلیمنٹ کے ممبر تھے ، لیکن سنہ 1988/89 میں وشوناتھ پرتاپ سنگھ کی قیادت میں بی جے پی ، لوک دل ، جنتا پارٹی، کمیونسٹ پارٹیوں اور تمام سماجوادیوں نے متحد ہوکر کانگریس کے خلاف بوفورس رشوت معاملہ پر زبردست مہم چلائی اور نتیجتاً 1989 کے الیکشن میں کانگریس اقتدار سے باہر ہوگئی وی پی سنگھ وزیراعظم اعظم بن گئے تو بہوجن نایک کانشی رام ، دیوی لال ، شرد یادو ، رام بلاس پاسوان وغیرہ کے اصرار پر وی پی سنگھ نے منڈل کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے کا اعلان کردیا ، بس پھر کیا تھا ، بی جے پی جو وی پی سنگھ کے کاندھوں پر سوار ہوکر لوک سبھا میں دو سیٹوں سے اچانک بیاسی سیٹوں پر پہونچ گئی تھی اسی بی جے پی نے منڈل کمیشن کے خلاف سڑکوں پر زبردست نفرت آمیز تحریک شروع کردی ، اسکے مقابل بی جے پی کی تحریک کے خلاف شرد یادو اور رام بلاس پاسوان نے دلتوں اور پچھڑوں کی طرف سے مورچہ کھول دیا ، پاسوان نے تو دلت سینا بھی بنالی تھی ( جو بعد میں رام بلاس پاسوان کے اقتدار کی خاطر آر ایس ایس کے لئے ہی استعمال ہوئی ۔) دہلی ایمس چو راہے پر گوسوامی نام کے ایک نوجوان نے خود کو آگ لگا کر ( آتم داہ ) خود کو ہلاک کر لیا تھا ، اس موت کو بھی بی جے پی نے اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کو اپنے ساتھ لام بند کرنے کے لئے استعمال کیا ، مگر اگڑوں پچھڑوں کی اتنی بھیانک نفرت انگیز تحریک کے باوجود جب بی جے پی کو یقین ہوگیا کہ وی پی سنگھ قدم پیچھے نہیں لینے والے ہیں اور ادھر سماجی سطح پر بی جے پی کو پچھڑوں کی نفرت کا احساس ہونے لگا تب بی جے پی منڈل کے مقابلے کمنڈل تحریک میں ناکام ہوکر حکمت عملی تبدیل کرلی اور رام مندر تحریک کا جھنڈا بلند کرکے لال کرشن اڈوانی نے سومناتھ مندر سے ایودھیا تک ملک گیر رتھ یاترا شروع کر دی اس یاترا کا تمام تر مینجمنٹ پرمود مہاجن کے ہاتھ میں تھا موجودہ وزیر اعظم ایک کارندے کے طور پر اڈوانی کی اس خونی رتھ یاترا کے انتظامی امور میں شامل تھے ، اڈوانی وہ رتھ ہندوستان کی تاریخ میں خونی رتھ یاترا ہی درج کی جائے گی اس یاترا میں جو زہریلے نعرے لگائے جاتے تھے ان میں ، رام للا ہم آئیں گے’ مندر وہیں بنائیں گے ، ہندوستان میں رہنا ہوگا جے شری رام کہنا ہوگا ، ملوں کے بس دو استھان ، قبرستان یا پاکستان ، اسی یاترا کے دوران جے سیا رام کے نعرے کو ، جے شری رام سے بدل کر گالی بنایا ، وی پی سنگھ نے بہت کوشش کی کسی طرح لال کرشن اڈوانی رتھ یاترا ختم کردیں ، اٹل بہاری واجپائی کو سمجھایا گیا کہ وہ اڈوانی جی کو منائیں مگر تمام کوششیں ناکام ہوگئیں ، درجنوں شہروں کو فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جھونکتی ہوئی خونی یاترا بہار کی حدود میں داخل ہوئی تو بہار کے وزیر اعلی لالو پرساد یادو نے لال کرشن اڈوانی کو گرفتار کر کے اس خونی رتھ کو روک دیا لیکن اس وقت تک پورا شمالی ہندوستان فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جھلس چکا تھا ۔

بات کہیں سے کہیں نکل گئی اصل موضوع کی طرف آئیے اور اس پس منظر میں غور کیجئے کہ برہمنی بالا دستی والے منووادی نظام اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کو جان کی طرح عزیز ہے ، یہ جو ان کو مسلمانوں کے مقابلہ میں لڑانے کے لئے ہندو ہونے کا دھوکہ دیا جاتا ہے وہ تو صرف ووٹوں کی وجہ سے ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی دلتوں ملیچھ آدی واسیوں کے لئے ان کے یہاں اتنی ہی نفرت ہے جتنی پہلے تھی ، ہم تحقیق سے یہ بات جانتے ہیں کہ اگر مسلمانوں سے برہمنوادی ہندؤوں کو سولہ آنے دشمنی ہے تو اوبی سی اور دلتوں سے اٹھارہ آنے نفرت ہے ، مصنوعی اپنائیت کا اظہار کرنا انتخابی سیاست کی مجبوری ہے اگر آئین رکاوٹ نہ ہو تو سب سے پہلے یہ عام آدمی کو ووٹ دینے کا اختیار ختم کرکے ایسی ایسی تکنیکی پخ لگائیں کہ کسی دلت اوبی سی ایس سی ایس ٹی کو ووٹ دینے کا حق ہی باقی نہ رہے ، اس کے بعد او بی سی ، دلتوں بور قبائلیوں کے لئے کتنی محبت ہے اس کا اندازہ ہوجائے گا نمونہ دیکھنا ہو تو بھیما کورے گاؤں معاملہ کو گہرائی سے سمجھ لیں تمام حقیقت واضح ہوجائے گی ۔
برہمنی استحصالی میڈیا کسی قیمت اسے برداشت نہیں کرسکتا کہ ذات برادری کی بنیاد پر مردم شُماری کرائی جائے اور پھر اسی کی بنیاد پر از سرِ نو ریزرویشن کے قواعد و ضوابط اور کوٹہ فیصد کا نیا نظام متعین کیا جائے ، وجہ صاف ہے کہ میرٹ کے نام سے پندرہ فیصد منووادی طبقہ نے % 80 اسی فیصد اعلٰی عہدوں پر قبضہ جما رکھا ہے آزادی کے بعد سے لیکر آج تک یہی صورت حال ہے ، بیک ورڈز ، ایس سی ، ایس ٹی کے لوگوں کے لئے ریزرویشن کے تحت جو سہولت مختص کی گئی وہ تیسرے اور چوتھے درجہ کی ملازمتوں میں ہے انتظامیہ کے اعلٰی عہدوں پر اور اعلیٰ عدالتوں میں برائے نام بھی کہیں نظر نہیں آتی ، اب اگر نتیش تیجسوی ایک ساتھ مل کر اس کوٹہ سسٹم میں کسی ایسی تبدیلی کی کوشش کریں گے جو منووادی استحصالی سسٹم کو راس نہیں آتی تو ظاہر ہے ان کوششوں کو سبو تاز کرنا انکے لئے فرض اولین ہے ، ہمارے ملک میں جو مین اسٹریم میڈیا ہے وہ انہیں استحصالی عناصر کے شکنجہ میں ہے جسے یہ عناصر ایک دانشورانہ ہتھیار کی طرح استعمال کرتے ہیں ، اس لئے دیکھنا ہوگا کہ بہار کے وزیر اعلی اور اپوزیشن لیڈروں کی اس کوشش کا آنے والے وقت میں کیا انجام ہوگا آیا کچھ نتیجہ خیز ثابت ہوں گی یا استحصالی سسٹم اور میڈیا کی لعنت ملامت کا شکار بن کر بے نتیجہ ختم ہو جائے گی۔!
عبدالرحمن عابد 24/8/2021

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے