جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز تعلیم وتربیت اور اس...

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز تعلیم وتربیت اور اس کے انقلابی اثرات

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز تعلیم و تربیت اور اس کے انقلابی اثرات ۔

محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کے لئے ایک عظیم اور مثالی معلم بن کر تشریف لائے تھے ایسے معلم جنکی تعلیم و تربیت نے صرف 23 سال کی مختصر مدت میں نہ صرف پورے جزیرہ عرب کی کایا پلٹ کر رکھ دی بلکہ پوری دنیا کے لئے رشد و ہدایت کی وہ ابدی قندیلیں بھی روشن کر دی جو رہتی دنیا تک انسانیت کو عدل و انصاف امن و سکون اور عافیت و اطمینان کی راہ دکھاتی رہیں گی ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 23 سال کی مختصر مدت میں جو حیرت انگیز انقلاب برپا کیا اس کی برق رفتاری اور اس کے ہمہ گیر اثرات نے ان لوگوں کو بھی انگشت بدنداں کر دیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مشن کے سخت مخالف رہے ہیں یہ آپ کی تعلیم و تربیت کا حیرت انگیز کرشمہ تھا کہ 23 سال کی قلیل مدت میں صحرائے عرب کے جو وحشی علم ومعرفت اور تہذیب وتمدن سے بالکل کورے تھے وہ پوری دنیا میں علم و حکمت اور تہذیب و شائستگی کے چراغ روشن کرتے ہیں

جو لوگ کل تک ایک دوسرے کے خون سے اپنی پیاس بجھا رہے تھے واہ آپس میں بھائی بھائی بن جاتے ہیں جہاں ہر طرف قتل و غارت گری کی آگ بھڑک رہی تھی وہاں امن و آشتی کے گلاب کھل اٹھتے ہیں جہاں ظلم و بربریت کا دور دورہ تھا وہاں عدل و انصاف کی شمعیں روشن ہوجاتی ہیں جہاں پتھر کے بتوں کو سجدہ کیے جا رہے تھے وہاں توحید کا پرچم لہرانے لگتا ہے اور بالآخر عرب کے ہی صحرا نشین جو اپنی جہالت کی وجہ سے دنیا بھر میں ذلیل و خوار تھے ایران و روم کے عظیم سلطنتوں کے وارث بن جاتے ہیں اور ساری دنیا ان کے عدل و انصاف ان کی رحم دلی اور ان کی شرافت نفس کے گن گانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

جس شخص نے بھی سیرت طیبہ کا کچھ مطالعہ کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین نے آپ کے راستے میں کانٹے بچھائے آپ کو طرح طرح سے اذیت پہنچائیں اور آپ پر مصائب وآلام کے پہاڑ توڑنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی لیکن آپ کی پوری سیرت اس بات کی گواہ ہے کہ آپ کے دل میں کبھی ایک لمحے کے لیے انتقام کا جذبہ پیدا نہیں ہوا آپ ان پر غضبناک ہونے کے بجائے ان پر ترس کھائے تھے کہ یہ لوگ کیسی سنگین گمراہی میں مبتلا ہیں اور ہر وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فکر دامن گیر رہتی تھی کہ وہ کیا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے حق بات ان کے دل میں اتر جائے اور یہ ہدایت کے راستے پر آجائیں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز تعلیم و تربیت کی سب سے زیادہ موثر خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے اپنے پیروں کو جس بات کی تعلیم دی اس کا بذات خود عملی نمونہ بن کر دکھایا آپ کے وعظ و نصیحت اور آپ کی تعلیم و تربیت صرف دوسروں کے لئے نہ تھی بلکہ سب سے پہلے اپنی ذات کے لیے تھی اللہ تعالی نے بہت سے معاملات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رخصت و سہولت عطا فرمائی لیکن آپ نے اس رخصت و سہولت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اپنے آپ کو دوسرے تمام مسلمانوں کی صف میں رکھنا پسند فرمایا۔

آپ اس قسم کے معلم نہ تھے کہ محض کوئی کتاب پڑھا کر یا درس دے کر فارغ ہو بیٹھتے ہوں اور یہ سمجھتے ہوں کہ میں نے اپنا فریضہ ادا کر دیا اس کے بجائے آپ اپنے زیرِ تربیت افراد کی زندگی کے ہر شعبے میں دخیل تھے آپ ان کے ہر دکھ درد میں شریک اور ہر لمحے ان کی فلاح و بہبود کے لئے فکرمند رہتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی وصف کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے "بلاشبہ تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک ایسا رسول آیا ہے جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے اور جو تمہاری بھلائی کے لیے بےحد حریص ہے اور مسلمانوں پر بےحد شفیق اور مہربان ہے”

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز کی تلقین فرمائی تو خود اپنا عالم یہ تھا کہ دوسرے اگر پانچ وقت نماز پڑھا کرتے تھے تو آپ آٹھ وقت نماز ادا فرماتے تھے جس میں چاشت اشراق اور تہجد کی نمازیں شامل ہیں تہجد عام مسلمانوں کے لئے واجب نہ تھا لیکن آپ پر واجب تھا اور تہجدبھی ایسی کے کھڑے کھڑے پاؤں میں ورم آجاتا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ عرض کیا یا رسول اللہ! کی اللہ تعالی نے آپ کی تمام اگلی پچھلی لغزشیں معاف نہیں فرما دیں پھر آپ کو اتنی مشقت اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ نے فرمایا بے شک اللہ تعالی نے مجھ پر یہ کرم فرمایا ہے لیکن کیا میں اللہ کا شکر ہے بندہ نہ بنوں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا تو خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یہ تھا کہ عام مسلمان اگر رمضان کے فرض روزہ رکھتے تھے تو آپ کا کوئی مہینہ روزوں سے خالی نہ تھا عام مسلمانوں کو یہ حکم تھا کہ صبح کو روزہ رکھ کر شام کو افطار کر لیا کریں لیکن خود آپ کئی کئی روز سے مسلسل اس طرح روزے رکھتے تھے کہ رات کے وقت میں بھی کوئی غذا آپ کے منہ میں نہیں جاتی تھی۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو زکوۃ دینے اور اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی تاکید فرمائی تو سب سے پہلے خود اپنی عملی زندگی میں اس کا بے مثال نمونہ پیش کیا عام مسلمانوں کو اپنے مال کا چالیسواں حصہ فریضہ کے طور پر دینے کا حکم تھا اور اس سے زیادہ حسب توفیق خرچ کرنے کی تلقین کی جاتی تھی لیکن خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یہ تھا کہ اپنی فوری ضرورت کو نہایت سادہ طریقے سے پورا کرنے کے بعد اپنی ساری آمدنی ضرورت مند افراد میں تقسیم فرماتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تک گوارا نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وقتی ضرورت سے زائد ایک دینار بھی گھر میں باقی رہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروں کو زہدوقناعت کی تعلیم دیں تو خود اپنی زندگی میں اس کا عملی نمونہ پیش کر کے دکھایا غزوہ خندق کے موقع پر جب بعض صحابہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے بھوک کی شدت کی شکایت کی اور پیٹ کھول کر دکھایا کہ اس پر پتھر بندھا ہوا ہے تو سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں اپنا بطن مبارک کھول کر دکھایا جس پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مساوات اور بھائی چارے کی تعلیم دی تو سب سے پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھایا کہ اگر دوسرے مسلمان عام سپاہی کی حیثیت میں مدینہ طیبہ کی دفاع میں خندق کھودنے کی مشقت برداشت کر رہے تھے تو ان کا امیر محمد صلی اللہ علیہ وسلم صرف قیادت و نگرانی کا فریضہ انجام نہیں دے رہا تھا بلکہ بہ نفس نفیس خد ہاتھ میں لے کر خندق کھودنے میں شریک تھا۔ ایثار کی تعلیم ہر معلم اخلاق نے دی ہے لیکن عموما یہ تعلیم معلم کے الفاظ اور فلسفے سے آگے نہیں بڑھتی اس کے بر خلاف انسانیت کے اس معلم اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے نے اپنی زبان سے ایثار کے الفاظ کم استعمال کئے۔ اور عمل سے اس کی تعلیم زیادہ دی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کی چہیتی صاحبزادی ہیں اور مرتبے کے لحاظ سے صرف عرب کی نہیں دونوں جہاں کی قابل احترام شہزادی ہیں لیکن چکی پیستے پیستے ان کی ہتھیلیاں گھس گئی تھی اور آکر درخواست کرتی ہے کہ مجھے کوئی خادمہ دلوا دی جائے۔ لیکن مشفق باپ کی زبان سے جواب یہ ملتا ہے کہ "فاطمہ ابھی صفہ کی عورتوں کا انتظام م نہیں ہوا اس لیے تمہاری خواہش پر عمل ممکن نہیں” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صبر تحمل اور عفو درگزر کا درس دیا تو خود اس پر عمل پیرا ہو کر دکھلایا ایک مرتبہ کسی شخص کا کچھ قرضہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھا اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا اور اس عرض کے لیے کچھ گستاخانہ الفاظ استعمال کیے ساری دنیا جانتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حقوق العباد کی ادائیگی کا کس قدر اہتمام تھا اور آپ اس شخص کے تقاضے کے بغیر ہی اس کا قرض ضرور چکاتے اس لئے اس شخص کے پاس تلخ کلامی کا کوئی جواز نہ تھا چنانچہ جب آپ کے جانثار صحابہ رضی اللہ انہوں نے اس شخص کا یہ گستاخانہ انداز دیکھا تو اسے گستاخی کا مزہ چکھانا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تمام تر اشتعال انگیز تکلیف دہ رویے کو دیکھنے کے باوجود صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ اسے رہنے دو وہ صاحب حق ہے اور صاحب حق کو بات کہنے کی گنجائش ہوتی ہے” اور عفو درگزر کا جو معاملہ آپ نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا وہ ساری دنیا کو معلوم ہے کہ جن لوگوں نے آپ اور آپ کے ساتھیوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے لئے ظلم و ستم کا کوئی طریقہ نہیں چھوڑا تھا انہی لوگوں پر فتح پانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان فرما دیا کہ آج کے دن تم پر کچھ ملامت نہیں جاؤ تم سب آزاد ہو”

خلاصہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت جس نے دشمن تک کے دل جیتے اور جس نے ایک وحشی قوم کو تہذیب و شائستگی کے بام عروج تک پہنچایا اس کی سب سے بنیادی خصوصیت یہ تھی کہ وہ تعلیم محض ایک فکر اور فلسفہ نہیں تھی جسے خوبصورت خول چڑھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروں کے سامنے نے پیش کر دیا بلکہ وہ ایک متواتر اور پیہم عمل سے عبارت تھی آپ کی مبارک زندگی کی ہر ہر ادا مجسم تعلیم تھی۔

آج اگر ہم اساتذہ کی تعلیم، واعظوں کے وعظ اور خطیبوں کی تقریریں نتائج کے اعتبار سے بے جان اور اصلاح معاشرہ کے عظیم کام کے لئے بے اثر نظر آتی ہیں تو اسکی بنیادی وجہ یہی ہے کہ آج ہمارے معلموں واعظوں اور خطیبوں کے پاس صرف دلکش نفاذ اور خوشنما فلسفے تو ضرور ہیں لیکن ہماری عملی زندگی میں دلکش الفاظ اور خوشنما فلسفوں سے یکسر متضاد ہے ایسی تعلیم و تربیت نہ صرف یہ کہ کوئی مفید اثر چھوڑتی ہے بلکہ بعض اوقات اس کا الٹا اثر یہ ہوتا ہے کہ مخاطب ایک شدید ذہنی کشمکش اور فکری انتشار کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے لیکن مخاطب کے دلوں کو متاثر کرنے اور زندگیوں کی کایا پلٹنے کا عظیم کام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک معلم کی تعلیم اور واعظ کا وعظ خود اس کی اپنی زندگی میں عملی طور پر رچا بسا ہوا نہ ہو۔

عبد الصمد قاسمی پورنوی

مدرسہ انوار العلوم اسلامپور،کھیم چند پورنیہ

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے