نبیﷺ کی تعلیمات میں کسب معاش کی اہمیت

39

محمد قمر الزماں ندوی مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ کئی سال (تقریبا نصف صدی پہلے) کی بات ہے۔ پرتاپگڑھ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ایک بارہ سال کا بچہ بھیک مانگ رہا تھا، لڑکے کے بال اور دوسری علامتوں سے معلوم ہو رہا تھا کہ وہ لڑکا کسی پنجابی ( سکھ) کا ہے چونکہ ابھی اس نے ایک ہی دو روز سے یہ کام شروع کیا تھا اس وجہ سے جھجھک، پریشانی اور گھبراہٹ کے آثار اس کے چہرے پر باقی تھے۔۔
بچہ بھیک مانگتے مانگتے ایک سردار (پنجابی) کے پاس پہنچا۔۔ شاید دل میں یہ خیال بھی رہا ہوگا کہ سردار جی پلیٹ فارم پر کھڑے دوسرے مسافروں سے کچھ زیادہ ہی اسے دیں گے، اس لیے کہ وہ ان کی ہی برادری کا بچہ تھا۔ کسی برادری کا اپنی برادری کے بارے میں ہمدردی و محبت اور تعاون و امداد کا جذبہ ایک مشہور و معروف بات ہے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔۔ جب لڑکا سردار جی کے پاس پہنچا تو سردار جی نے اولا اسے نیچے سے اوپر تک بغور دیکھا اور پھر اس کے چہرے پر ایک تمانچا رسید کردیا۔۔ اور کہا تو اس لیے پیدا ہوا ہے کہ اپنی قوم کا نام ڈبو دے۔۔ اس کے بعد سردار جی نے بچہ کا ہاتھ پکڑا اور اسٹیشن سے باہر لیجا کر ایک ٹھیلے والے سے کچھ مونگ پھلیاں خرید کر ایک جگہ بٹھا دیا اور کہا :
لے شام تک اس کو بیچتا رہ کل مجھ سے پھر ملنا، لڑکے نے ایسا ہی کیا اور چند ہی دنوں کے بعد ہی معلوم ہوا کہ وہ لڑکا کافی کمائی کرنے لگا۔۔۔۔ (ماہنامہ نوائے ہادی فروری ۲۰۱۳ء)
یہ واقعہ ایک ایسی قوم کا ہے جس کے پاس نہ تو اسلام جیسی کوئی مذہبی طاقت ہے، اور نہ قرآن جیسا نظام زندگی، اور نہ ہی اصول معاشیات اور اقتصادیات۔۔ لیکن ہماری قوم (جس کے پاس اسلام جیسی مذھبی قوت ہے اور قرآن جیسا نظام زندگی) کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہماری قوم میں گداگری اور بھیک مانگنے کا رواج بڑ رہا ہے، لیکن ہم اپنی قوم کو اس کے پیر پر کھڑا کرکے خودداری اور خود اعتمادی والی زندگی گزارنے کا جذبہ اور حوصلہ پیدا نہیں کر رہے ہیں جو بہت ہی افسوس اور دکھ کی بات ہے۔۔۔۔
اسلام فقیری اور گداگری کی تعلیم نہیں دیتا ہے، سوال کرنے اور بلا ضرورت دست سوال پھیلانا، اسلام اس کو کسی طرح پسند نہیں کرتا اور نہ اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اسلام تو مانگنے اور سوال کرنے اور بلا ضرورت ہاتھ پھیلانے کو ذلت و رسوائی سے تعبیر کرتا ہے۔
اسلام نے جہاں زندگی کے تمام شعبوں میں مکمل رہنمائی کی، وہیں معاش اور کسب معاش کے سلسلے میں پوری وضاحت فرمائی، اور دین و دنیا دونوں کی بھلائی مانگنے کی تلقین کی، اور یہ بتایا کہ انسانی زندگی کے دو دور ہیں پہلے دور کا نام مذہب کی اصطلاح کے مطابق دنیا ہے اور دوسرے دور کا نام آخرت ہے۔۔۔ نبیﷺ نے زندگی کے دونوں حصوں کے درمیان تعلق پیدا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔۔۔
مال و دولت زندگی کی اساس ہے، قرآن مجید نے مال کو زندگی کے قیام کی بنیاد اور اساس قرار دیا، کہیں مال و دولت کو خدا کا فضل قرار دیا گیا۔۔۔ سورہ آل عمران اور سورہ جمعہ میں اس کی تفصیل موجود ہے، کہیں مال کو خیر کے لفظ سے تعبیر کیا، پیارے آقاﷺ کی حیات مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر آپ نے کسی پریشان حال مسلمان کو غم دنیا سے نجات پانے کے لیے کوئی دعا تعلیم فرمائی تو اس کے ساتھ ایک انصاری مسلمان کو یہ ہدایت فرمائی کہ تم بازار سے ایک کلہاڑی لاو، پھر حضور ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اس کلہاڑی میں لکڑی کا دستہ ڈالا۔ اور ان صحابی کو جنگل سے لکڑیاں کاٹنے اور پھر بازار میں فروخت کرنے کا حکم دیا اور فرمایا میں تمہیں پندرہ دن تک یہاں نہ دیکھوں، پندرہ دن کے بعد صحابی رسول ﷺ خدمت اقدسﷺ میں حاضر ہوئے اور ان کے پاس پندرہ درہم موجود تھے۔ آپ نے ان درھموں اور تجارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا، یہ تیرے لیے بہتر ہے، سوال کرنے اور بھیک مانگنے سے۔۔ (ابو داود)
معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے بندوں کو صرف دعائیں تعلیم نہیں فرمایا کرتے تھے بلکہ ساتھ ساتھ محنت، کسب معاش کے طریقے اور ڈھنگ بھی بتایا کرتے تھے۔۔
امام غزالی رحمة الله عليه نے احیاء العلوم میں توکل پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کسب معاش اور تجارت و زراعت کی جدوجہد سے کنارہ کش ہو کر دوسروں کی خیرات و عطیات پر نظر رکھنا توکل نہیں ہے، توکل کا مطلب یہ ہے کہ شریعت کے حکم کے مطابق کسب معاش کے لیے بھرپور کوشش کی جائے، اور کوشش کے بعد نفع و نقصان کی جو صورت بھی پیش آئے، اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے یقین کرکے صبر و شکر اختیار کرے۔۔ امام غزالی رحمة الله عليه نے اس سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک روز حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی ﷺ کی طرف سے گزرے اور دیکھا کہ وہاں کچھ لوگ بے وقت بیٹھے ہوئے ہیں، آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ کسی نے جواب دیا ھم المتوکلون، یہ لوگ اللہ پر توکل کرنے والے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، لا، بل ھم المتاکلون ۔۔ نہیں، بلکہ یہ لوگ مفت کھانے والے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ دین کا کام کرنے کے ساتھ ساتھ، تبلیغ و دعوت کے ساتھ ساتھ نماز و روزہ کے ساتھ ساتھ کسب معاش کی کوشش کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو سوال کرنے سے اس درجہ منع فرمایا اور اس کی تعلیم دی کہ وہ معمولی چیزیں مانگنے سے بھی احتراز کرتے تھے۔۔ اسلام نے توکل کی تعلیم ضرور دی، لیکن لوگوں نے جو بے عملی اور فرائض سے پہلو تہی کو توکل کا نام دے رکھا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اصلاح بھی فرمائی۔۔۔

نوٹ مضمون کا اگلا حصہ کل ملاحظہ فرمائیں