نابغہ روزگار ، بے باک قائد، ولی کامل، محسن قوم‌وملت حضرت امیر شریعت کا وصال ایک عظیم خسارہ

97

نابغہ روزگار ، بے باک قائد، ولی کامل، محسن قوم‌وملت حضرت امیر شریعت کا وصال ایک عظیم خسارہ

 

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آب بقائے دوام لا ساقی

ابھی١٢ فروری ٢٠٢١ کی بات ہے کہ نابغہ روزگار ، بابصیرت عالم دین ، ملت اسلامیہ کا دھڑکتا ہوا دل حضرت اقدس مولانا سید شاہ محمد ولی رحمانی صاحب نوراللہ مرقدہ بنفس نفیس مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوھدی بیلا دربھنگہ بہار تشریف لاکر ایک جم غفیر کی موجودگی میں دارالقضاء امارت شرعیہ مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوھدی بیلا دربھنگہ کا افتتاح فرمایا تھا اور آج آپ کی وفات کی اندوہناک خبر آرھی ہے ۔
انا للہ واناالیہ راجعون

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئ
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

آپ رحمتہ اللہ علیہ خانقاہ رحمانی مونگیر، امارت شرعیہ بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ پھلواری شریف پٹنہ ،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، رحمانی تھرٹی اور رحمانی فاؤنڈیشن کے علاوہ سیکڑوں دینی اور ملی اداروں کی سرپرستی ونگرانی کا کام بھی باحسن وجوہ انجام
دے رھے تھے

اے فرشتہ اجل کیا خوب تیری پسند ہے
پھول تونے وہ چنا جو گلشن کو ویران کرگیا

29 نومبر 2015 کو دارالعلوم رحمانی ،زیرو مائل ارریہ میں مجلس ارباب حل وعقد نے باتفاق راءے آپ کو امیر شریعت منتخب کیا آپ کی امارت میں امارت شرعیہ کا جملہ شعبہ جات ہمہ جہت ترقی پذیر تھا ،خاص طور پردینی و عصری علوم کے فروغ اور اردو کی بقا ء وتحفظ کے لیے زمینی سطح پر مسلسل کوششیں اور مختلف علاقوں میں دارالقضاء کا قیام آپ کی امارت کا ایک روشن باب ھے مدرسہ اشرفیہ میں قیام دارالقضاء اسی سلسلے کی ایک سنہری کڑی ہے ، واقعہ کچھ اس طرح ھے کہ حضرت والد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے اس علاقہ میں دارالقضاء کی ضرورت کو محسوس کیا جس کو آپ رحمہ اللہ کے سا منے اس طرح رکھا :

مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوھدی بیلا دربھنگہ آپ کا محبوب ادارہ ھے ، یہاں دارالقضاء کی سخت ضرورت ھے

جواب میں حضرت امیر شریعت نوراللہ مرقدہ نے کچھ اس طرح تحریر فرمایا:

 

یقیننا مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوھدی سے دلی تعلق ہے اور آپ کی وجہ سے یہ تعلق بہت زیادہ ہے ، اگر آپ وہاں دارالقضاء کی ضرورت محسوس کررہے ھیں تو وہاں دار القضاء قائم ہوجائے گا

بالاخر ١٢ فروری ٢٠٢١ دارالقضاء کا قیام عمل میں آیا

1943 میں خانقاہ رحمانی میں پیدا ہونے والے قوم وملت کے دینی اور ملی بے باک اور دور اندیش قائد نے قوم وملت کی سربراہی اور سر بلندی کے لیے بہار قانون ساز کونسل کے سنہ 1974 تا 1996 رکن رہے اور قوم وملت کے فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی کے لئے کوشاں رہے ۔

آپ بھارت جیوتی ایوارڈ ، راجیو گاندھی ایکسلنس ایوارڈ، شکچھا رتن ایوارڈ ، سر سید ایوارڈ، کولمبیا یونیورسٹی سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری اورامام رازی ایوارڈ یافتہ تھے

آپ نے اپنی عمر کی 78 بہاریں دیکھ کر ایک عالم کو روتا بلکتا چھوڑ کر ھمیشہ ھمیش کے لیے جوار رحمت میں پہنچ گئے، باری تعالیٰ آپ کے خدمات کو قبول فرمائے ،علیین میں جگہ نصیب کرے اور ملت اسلامیہ کو آپ نعم البدل عطاء کرے ۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی حفاظت کرے

محمد عاصم قاسمی
‌‌ نائب ناظم وخادم دارالقضاء
مدرسہ اشرفیہ عربیہ پوھدی بیلا دربھنگہ
٢٠ / شعبان المعظم ١٤٤٢