ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتنائب امیر شریعت اسوقت مثل امیر ہیں، دستور کی دہائی دیکر ادارے...

نائب امیر شریعت اسوقت مثل امیر ہیں، دستور کی دہائی دیکر ادارے کو برباد نہ کریں:مفتی محمد نظر الباری الندوی۔

دربھنگہ (پریس ریلیز)
امارت شرعیہ بہار اڈیسہ و جھارکھنڈ کے امیر شریعت ثامن کہ انتخاب کو لےکر بعض احباب کی طرف سے جس طرح کے قدم شروع سے اب تک اٹھائے جارہے ہیں اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف آپس میں اختلاف وانتشار اور عام لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں یاپھر اپنی پسند کے امیر کو منتخب کرنا چاہتے ہیں اسکی ایک مثال تو یہ ہے کہ انہوں نے نائب امیر شریعت’ امارتِ شرعیہ کے مخصوص ذمہ داران ‘اورجملہ اراکین کو اعتماد میں لیے بغیر ١٠ اکتوبر ٢٠٢١ کو امیر شریعت ثامن کے انتخاب کا اعلان کر رکھا ہے جسکی دستوری اعتبار سے کوئی اہمیت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ امارت شرعیہ کی طرف سے بھی تردیدی بیان جاری کرکے اس اعلان کو رد کر دیا گیا ہے۔
مذکورہ باتیں مرکزی جامع مسجد پالی کے امام و خطیب الحاج مفتی محمد نظر الباری الندوی نائب صدر جمعیت علماء ہنددربھنگہ نےاپنے ایک صحافتی بیان میں کہی انہوں نے زور دے کر کہا کیا اہل ایمان اپنے دینی شرعی ادارے کے لیے ذاتی قربانیاں نہیں دے سکتے۔ ؟ یہ جو اتنے دنوں سے ڈرامہ بازی چل رہا ہے کیااس معاملے کو آپس میں بیٹھ کر اور امارت کے اندر رات دن اپنی صلاحیتوں کو قوم و ملت کے لیے کھپانے والے ذمہ داروں کو اعتماد میں لے کرحل نہیں کیا جاسکتا۔ ؟۔
حضرت مفتی صاحب نے کہا کون نہیں جانتا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے زندگی کے تمام شعبے متاثر ہوئے اسی وجہ سے وقت پر انتخاب نہیں ہو سکا۔ یہ ایک قانونی مجبوری تھی پھریہ کہ تین مہینے کے اندر ہی کرونا کے باوجود حضرت نائب امیر شریعت نے آن لائن شوری کی میٹینگ طلب کر کے اہم فیصلے لیے اور پھر اسی کے مطابق اسوقت کام انجام پارہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اسکو هوا ۔۔ بنانے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔مجھےذاتی طور پر خوشی ہوئی نائب امیر شریعت کے حوالہ سے آج امارت شرعیہ کا ایک وضاحتی اور تردیدی بیان پڑھ کر۔
مفتی صاحب نے فرمایا دستوری اعتبار سے اس وقت نائب امیر شریعت حضرت مولانا محمد شمشاد قاسمی دامت برکاتہم العالیہ مثل امیر کے ہیں۔جن کی سمع و طاعت جائز امور میں شرعاً لازم و ضروری ہے جسکی تاکید قرآن وحدیث میں صراحت کے ساتھ آئی ہے مفتی صاحب نے فرمایا خدا را اپنی عاقبت کی فکر کیجیے اورنبی علیہ السلام کے اس فرمان کو ذہن نشین رکھیے۔۔۔ جوشخص امیر کی اطاعت سےنکل جائے اور مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہو جائے اور اسی پر اسکی موت ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا،اس لئے دستور کی دہائی دے کر ایک مضبوط متحدہ پلیٹ فارم اور شرعی ادارے کو برباد نہ کیجئے ذرا سوچئے کہ اگر شوری کے اراکین پٹنہ کی طرح ہر ضلع میں میٹنگ کر کے انتخاب امیر کا اعلان کرنے لگیں تو پھر کیا ہوگا اس لئے ہم سب کی دینی و ملی ذمہ داری ہے کہ نائب امیر شریعت کی سمع و طاعت کا خیال رکھتے ہوئے کام کو انجام دیں۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے