ہومبریکنگ نیوزنئے سال کا پیغام شاہنوازبدرقاسمی

نئے سال کا پیغام شاہنوازبدرقاسمی

نئے سال کا پیغام
شاہنوازبدرقاسمی
سن 2022 کو ختم ہونے میں اب چند گھنٹے باقی رہ گئے ہیں، نیاسال کے استقبال میں دنیا کی ایک بڑی آبادی جشن منانے کیلئے بیتاب ہیں، 2022کے ختم ہونے کا غم اور سال 2023 کے آغاز کی خوشی کے درمیان ہمارے بہت سے نوجوان "وقت” جیسی قیمتی سرمایہ کی قدردانی کے بجائے اس عظیم نعمت کو نظرانداز کررہے ہیں، یاد رکھئے جو وقت کی قدر نہیں کرتے وقت اس کی قدر کیسے کرسکتی ہے اگر زندگی میں کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں آج کے دن جشن اور خوشیاں منانے کے بجائے خود احتسابی کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے 2022میں کیا پایا اور کیا کھویا؟ اگلے سال کیلئے ہماری کیا پلاننگ اور منصوبہ مندی ہے۔
وقت اور حالات بہت تیزی سے بدل رہے ہیں ہر سال دنیا کی تیز رفتار ترقی اور ٹکنا لوجی نے ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے، کیا ہم اس ترقی کے دور میں خود کوکہاں محسوس کررہے ہیں، بھارت میں ہمارا اور ہماری نئی نسل کا مستقبل کیا ہوگا، بچوں کی تعلیم کے ساتھ اس کی صحیح تربیت اور ایمان کی حفاظت کیلئے ہم کیا کررہے ہیں۔ ارتداد کی لہر کو ہم کیسے روک سکتے ہیں، بہت سے دین دار فیملی میں بددینی عام ہوتاجارہا ہے، ہم خود کو تو دین کے ٹھکیدار سمجھتے رہ گئے لیکن ہمارے گھروں میں حرام کو حلال اور ناجائز کو جائز سمجھا جانے لگا۔ہم دوسروں کی اصلاح اور تربیت کی بات تو خوب کرتے ہیں لیکن ہمیں اپنے گھر کی فکر نہیں۔ ہم نے امسال بہی اپنے کئی بزرگوں اور محسنوں کو کھو دیا ہے_
اب سال بدلنے میں وقت نہیں لگتا، دن بدن ہم موت کے قریب آرہے ہیں لیکن ہمیں دین کے بجائے دنیا پرستی نے بے حسی پر مجبور کردیا ہے، سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے اور زندگی جیسی قیمتی سرمایہ کو ضائع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔اس مختصر سی زندگی میں ہم محبت کے بجائے زیادہ وقت نفرت کرنے میں گزارنے لگے ہیں، کیا یہی ہماری زندگی کا مقصد ہے، موقع ملے تو اپنے آپ سے ضرور سوال کیجئے اور سوچئے آپ کا ضمیر یہ سب کیسے گوارہ کررہا ہے خود اس مسئلہ کا حل تلاش کیجئے۔
اس نئے سال کی شروعات نئے عزم، نئے حوصلے اورنیک جذبے سے شروع کیجئے انشاء اللہ اگلے سال ختم ہونے کے وقت ہم پچھتانے کے بجائے شکر منائیں گے کہ الحمدللہ ہم نے وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنے حصے کام کیا۔ یہی ہماری زندگی کا مقصد اور خوداحتسابی ہے۔اب لمبی تحریریں اور طویل گفتگو کسی کو پسند نہیں بس عقل مندوں کیلئے اشارہ کافی ہے ہم سب عجلت پسندی کے شکار ہوتے جارہے ہیں اس لئے آج کے دن کیلئے بس یہی پیغام کافی ہے، اللہ پاک ہمیں لکھنے اور بولنے سے زیادہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے