نئے زرعی قوانین، تاریخی کامیابی یا تاریخی خسارہ

28

تجزیہ

تحریر: محمد اورنگزیب عالم مصباحی گڑھوا ،جھارکھنڈ (رکن:مجلس علمائے جھارکھنڈ)

مکرمی!  ہندوستان جس نازک دور سے گزر رہا ہے تاریخ کے کسی گوشے میں دور دور تک کہیں اس کا وجود نہیں ہے کہ یہاں کے عوام پر جبراً قانون تھوپ دیا جارہا ہے اب چاہے وہ آئین کے موافق ہو یا مخالف موجودہ حکومت کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہندوستانی عوام خوش ہوں یا ناراض اسے سے بھی حکومت کو کچھ فرق نہیں پڑتا تعجب تو تب ہوتا ہے کہ اس قدر جابرانا قانون سازی کے باوجود دعوی ایسے کرتے ہیں جیسے آج تک ہندوستان میں سبھی ناعاقبت اندیش تھے سبھی ظالم و جابر تھے لوگ بھوکوں مر رہے تھے یا غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے حالانکہ اس کے برعکس جب سے مرکزی حکومت اقتدار میں آئی ہے ان میں ایسے امور انجام دیے جا رہے ہیں کہ ہندوستان 70 سالوں بعد پھر غلامی کی دہلیز پر کھڑا ہو چکا ہے

آنکھوں سے آنسو تو تب ٹپک پڑتے ہیں جب سارے ظلم کرکے سرکار دعوی کرتی ہے کہ ہم ہندی باشندوں کی بھلائی کے لیے کام کر رہے ہیں یا یہ فیصلہ ہندوستانیوں کی آستھا کے لیے ہے آپ دیکھیں تین طلاق کا مسئلہ مسلم پرسنل لاء کا تھا مگر قانون بنانے میں سب سے زیادہ دلچسپی حکومت میں نظر آئی اور دعویٰ یہ ہوتا ہے ہم مسلمان عورتوں کو ان کا حق دلارہے ہیں ان پر ہورہی زیادتی ختم کر رہے ہیں حالانکہ وہ مسلمان عورتیں جن کی بھلائی کا دعویدار “جی جی پی” ہے سڑکوں پر اسی قانون کے خلاف علم احتجاج بلند کر رہی ہیں مگر ان کو ناانصافی کا منہ دیکھنا پڑا اور زبردستی کا قانون ان پر تھوپ دیا گیا حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ اگر حکومت مسلمان عورتوں کے ساتھ اس قدر بھلائی کے متمنی ہے تو ان کے ساتھ بڑھتی عصمت دری کے واقعات کے خلاف کوئی قانون بنا دیتی مگر تحقیق و تفتیش کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے حادثات کے پیچھے بھی بی جے پی جیسی تنظیمیں یا اس کے ممبران ہی ملوث ہیں

پھر نوٹ بندی سے متعلق بھی ایسے ہی دعوے کیے گئے تھے مگر اس کا انجام سبھو کے سامنے ہے کہ اس کا نقصان صرف غریبوں نے اٹھایا اور این آر سی سے متعلق بھی حکومتی دعوے ایسے ہی کیے گئے کہ ہم صرف ہندوستانیوں کی بھلائی چاہتے ہیں مگر بھلا کبھی ایسا ہوا ہے کہ جس کے ساتھ بھلائی کیا جائے وہی سڑکوں پر اتر کر ڈی ایم کو میمورنڈم پیش کرکے احتجاج درج کرائے کہ مجھے اس سے نفرت ہے کبھی ایسا نہیں ہوتا مگر قانون پاس ہوا اور حکمت عملی کے پیش نظر بتدریج اس پر بھی کام جاری ہے

اسی طرح لو جہاد کے نام پر بھی قانون سازی کرکے حکومت آئین شکنی کرتی نظر آرہی ہے پھر بھی جمہوریت کے ٹھیکیدار مرکزی حکومت ہی ہے اور پھر متنازعہ زرعی قوانین جو کہ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد ملک میں پچھلے سات سالہ ہنگاموں میں سے ایک ہنگامہ مچ گیا ہے اور کسانوں پر قہر بن کر ٹوٹ رہا ہے

حالانکہ پھر سے سابقہ روایات کے مطابق مودی جی جو لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں انہی کی تاریخی کامیابی بتا رہے ہیں

اگرچہ ان قوانین کی راجیہ سبھا میں منظوری کے دوران بھی اپوزیشن نے پرزور احتجاج اور ہنگامہ کیا کہ کچھ اراکین پارلیمان کو ایک ہفتے کے لیے معطل بھی کر دیا مگر مرکزی حکومت کسی کی سنتی کہاں ہے

حکومت اپنی بات رکھتے ہوئے دلیل پیش کرتی ہے کہ ان قوانین سے کسانوں کو بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اپنی کاشت کو حکومتی منڈیوں میں ایک متعینہ قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور نہیں ہوں گے جن کو کسی بڑے کاروباری کے ساتھ یا کسی کارپوریٹ کمپنی کے ساتھ ڈیل کر سکتے ہیں اپنی مرضی کی قیمت بھی وصول کرسکتے ہیں جس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا

*کسانوں کا مسئلہ*

حالانکہ کسان اور ان کے رہنما کسی بھی بڑے فائدے اور ایکسٹرا آمدنی کا انکار کر رہے ہیں اور اسے جھوٹ اور فریب گردان رہے ہیں کسانوں کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کسانوں کو مسلسل دھوکہ دے رہی ہے اس نے جھوٹ اور فریب کے جھانسے میں پھنسا کر کسان مخالف بل منظور کرا لیے ہیں۔

کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کا جھانسہ دے کر کسانوں کے منڈیوں کو بند کرکے کسان کی کاشت کو بڑے کاروباریوں کے ذریعے اونے پونے داموں فروخت کرانے پر مجبور کر رہی ہے۔

مثال کے طور پر بہار میں دیکھیں کہ مکئی کی کم از کم سرکاری قیمت 1965 روپے فی کوئنٹل کے مقابلے میں بہار کے کسانوں کو اپنی کاشت 900 روپے فی کوئنٹل فروخت کرنی پڑی جو کہ حکومتی دعوؤں کے بالکل برعکس ہے دوگنا کے بجائے آدھی قیمت ہو جاتی ہے۔

دوسری وجہ ہندوستان میں 85فیصد کسان نہایت ہی غریب ہیں جس کے نتیجے میں انہیں بڑے خریداروں سے معاہدہ کرنا کافی مشکل ہے۔

پھر مودی جی کے دعوؤں کو دیکھیں کہ جس جس فیصلوں اور قوانین کو تاریخی قرار دیا سبھی تاریخی خسارہ کے حامل رہے ہیں جیسے تین طلاق ،نوٹ بندی، جی ایس ٹی، یو اے پی اے ،سی اے بی، این آر سی ،کشمیر سے دفعہ 370 کا خاتمہ اور پھر کرونا کا بہانے سے لاک ڈاؤن اور اس سے متاثر نظام ہند،کاروبار اور تعلیم یہ ایسے تاریخی خسارے ہیں جس کا ثبوت ہندوستانی تاریخ کے کسی گوشے میں نہیں ملتا

پھر مرکزی حکومت کی عادت یہ ہے کہ جو اس نے قانون بنائیں اگر اس کے خلاف عوام اپنے حق کے لیے علم احتجاج بلند کرتے ہیں جو ان کا آئینی حق ہے تو ان پر لاٹھی چارج ، ان پر آنسو گیس کے گولے، ان پر تیز پریشر سے پانی کے فوارے برسائے جاتے ہیں

آخر کب تک ہندوستانیوں پر مودی جی ظلم کریں گے یا پھر ہندوستانیوں کا خاتمہ کرکے ہی مانینگے۔

مودی جی کو ظالمانہ رویہ ترک کر کے عوام کے مطابق قوانین بنانے چاہیے اور انکی کامیابی کو ہی ترجیح دینے چاہیے

*اندیشہ*

اگر یوں ہی مودی جی تاریخی کارنامہ دکھاتے رہے تو وہ دن دور نہیں کہ ہندوستان معاشی بدحالی میں نمبر ایک پر آجائے یا پھر کسی کے غلامی کے پنجے تلے دب جائے ان سے گزارش ہے کہ اب بھی تاریخی کارناموں پر روک تھام کریں شاید لوگوں کو کچھ راحت ملے۔