ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتمیں کتاب ہوں!

میں کتاب ہوں!

سرفراز عالم ،عالم گنج، پٹنہ

( انشائیہ)

میں کتاب ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے قلم کے بعد سب سے پہلے میرا نام لیا ہے ۔قلم کو حکم دیا گیا کہ لکھ اور مجھے میرا وجود مل گیا۔سب سے پہلے میں کتاب مبین کہلائی ۔میرے اوراق قیامت تک کے واقعات سے بھر دیئے گئے ۔میں اس وقت سے ہوں جب حضرت آدم علیہ السلام کا وجود بھی نہ تھا۔ میں اس وقت بھی اعمال نامہ انسان کی شکل میں باقی رہوں گی جب پوری کائنات ٹوٹ پھوٹ کر فنا ہو جائے گی ۔میرا اصلی مسکن لوح مخفوظ میں ہے۔ کہیں میں قرآن کی شکل میں ہوں تو کہیں بائبل اور گیتا کی شکل میں۔ اللہ نے پہلی وحی اقراء بسم ربک الذی کے ذریعہ پڑھنے کا حکم دے کر میری اہمیت کو اور بلند کر دیا ۔مجھے پڑھنا دنیا کا سب سے عظیم کام مانا گیا ۔جو مجھ سے دور رہتا ہے اللہ اسے حکمت عطا فرماتا ہے اور نہ وہ کسی چیز میں غور وفکر کر پاتا ہے ۔دنیا کی تمام عظیم شخصیات نے بھی میری اہمیت کا اعتراف کیا ہے ۔امریکہ کا ایک صدر براک اوبامہ کہتا ہے ۔
“Reading is important. If you know how to read, then the whole world opens up to you.”
( Barack Obama)

ترجمہ : "مطالعہ بہت ضروری ہے ۔اگر آپ کو پڑھنے کا شوق اور شعور آ جاتا یے تو پوری دنیا (کائنات کا بھی ) کا راز آپ کے سامنے کھل جاتا ہے” ۔

میں کتاب ہوں!

مجھے پڑھ کر ہی لوگ دین و دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں ۔میں ہمیشہ سے ہی انسانوں کی زندگی کا اہم حصہ رہی ہوں ۔دنیا میں جتنی بھی فکر و نظریات ہیں وہ سب کتاب کے ذریعہ ہی سامنے آتی ہیں۔ میں ہمیشہ لوگوں کی سب سے اہم اور اول ضرورت رہی ہوں ۔مجھے گود سے گور تک ہر شخص گلے لگانا چاہتا ہے ۔مجھے لوگوں نے اپنا سب سے اچھا دوست تسلیم کیا ہے ۔میں ٹوٹے ہوئے دلوں کا سب سے بڑا سہارا بھی ہوں۔مجھ میں یادوں کی برات محفوظ کر دی جاتی ہیں ۔میں نےدنیا کے بڑے بڑے دقاق کو راستہ دکھایا ہے ۔جو مجھ سے دوستی کرتا ہے وہ کبھی اپنے آپ کو اکیلا محسوس نہیں کرتا ہے۔مجھے پڑھ کر ہی لوگوں نے اپنی دنیا وآخرت بنائی ہے ۔ہر کامیاب انسان کے پیچھے میرا سب سے بڑا ہاتھ ہوتا ہے ۔چاہے کچھ بھی کہیں میرے سینے میں ہی سارے انسانوں کا سچ چھپا ہوا ہے۔ میرے پاس ہی سچ کا سب سے بڑا خزانہ ہے ۔جرمنی کا عظیم حکمراں نیپولین نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جو خاندان کتاب سے قریب رہے گا اس کی دنیا مثالی ہوگی۔

“Show me a family of readers, and I will show you the people who move the world.”
(Napoleon Bonaparte)
ترجمہ : "مجھے پڑھنے والا ایک خاندان دکھاؤ، میں ان لوگوں کو دکھا دوں گا جنہوں نے دنیا کا رخ موڑ دیا ہے "۔

لیکن میں تب سے بہت اداس ہوں جب سائنس کی ترقی نے مجھے لوگوں سے دور کر دیا ہے۔یہ کیسی ترقی ہے جس نے قلم اور کتاب کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ایسی ترقی بالکل کسی کی دوست نہیں ہو سکتی ہے ۔افسوس سائنس کی ترقی کے نشے میں اب لوگ مجھ سے ہزاروں سال کی رفاقت بھولتے جا رہے ہیں ۔سائنسی ایجادات نے سب سے زیادہ مجھ پر ظلم کیا ہے ۔طرح طرح کے سائنسی آلات نے انسان کو اپنے چنگل میں پھنسا لیا ہے ۔اب لوگ سارا وقت اسی میں برباد کر رہے ہیں ۔اب تو زیادہ تر لوگوں نے مجھے الماریوں میں بند کرنا شروع کردیا ہے ۔لائبریری میں مجھ پر سے گرد ہٹانے والے بھی اب ختم ہوتے جا رہے ہیں ۔ایک وقت تھا کہ مجھے حاصل کرنے کے لئے لائبریری پر قبضہ کیا جاتا تھا۔ مجھ سے سیکھنے کے لئے لائبریری کی میزیں قارئین سے بھری ہوئی ہوتی تھیں ۔میرے سینے میں دفن لال وگہر کھوج کر قوموں نے اپنی قسمت بنائی مگر آج مجھے پرانا کہہ کر کنارے کردیا گیا ہے ۔کچھ بھی ہو لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پڑھی جانے والی دوسری تمام چیزیں کبھی بھی میری برابری نہیں کر سکتی ہیں ۔میں نے لوگوں کو یہ بھی سکھایا ہے کہ عقل مند وہی ہے جو بولنے سے پہلے سوچتا ہے اور سوچنے کے لئے مجھ سے دوستی کرنی پڑتی ہے ۔
Think before you speak. Read before you think.
(Fran Lebowitz)

ترجمہ : "بولنے سے پہلے خوب سوچ لیا کرو اور سوچنے سے پہلے کتابوں کا مطالعہ ضرور کرو”۔ ( فران لیبوٹز )
کتابیں بھی بہت طرح کی ہوتی ہے ۔حالانکہ میں تو ہمیشہ اچھی باتیں ہی بتاتی ہوں لیکن کچھ شریر لوگوں نے مجھے بھی آلودہ کر دیا ہے۔ لہٰذا مجھے خریدنے سے پہلے کسی تجربہ کار شخص سے مشورہ ضرور کر لینا ورنہ میں تمہاری نظر میں مشکوک ہو جاؤں گی ۔

بچے بھی اب مجھ سے روٹھنے لگے ہیں ۔اب تو اسکول میں بھی سائنس کے ہاتھوں میں حلال ہو رہی ہوں ۔سب سے پہلےCD Drive نے آکر میرا گلا گھونٹا پھر pdf اور You Tubeنے تو میرا جنازہ ہی نکال دیا ۔خدشہ ہے کہ مجھے اب بچے بھی بھول جائیں گے۔نئی نسل کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ اب ساری کتابیں انٹرنیٹ پر موجود ہیں لہذا کتاب کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے ۔رہی سہی کثر Online Classes نے پوری کر دی ہے ۔خیر جب Internet کا نظام اچانک چرمرا جائے گا تو میں ہی راستہ دکھاؤں گی۔ اس وقت جن کے گھروں میں میری الماری ہوگی وہی سب سے زیادہ روشنی میں ہوگا۔ حیرت تو یہ ہے کہ میری اہمیت کو سمجھنے والے بھی ہار مانتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔سال میں کبھی کبھی جب Book Fair میں میری برات لگتی ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے لیکن وہاں بھی لوگ مجھے دیکھ کر صرف تفریح کرتے ہیں ۔اب تو بچے مجھ سے زیادہ کھلونے خرید کر خوش ہوتے ہیں ۔

ایک چیز سمجھنے سے میں قاصر ہوں کہ جب مجھ سے دوستی ہی ختم ہو رہی ہے تو مجھے شائع کراکر میرا مذاق کیوں اڑایا جا رہا ہے ۔لوگ مجھے شائع کراکر اپنا رعب تو جما رہے ہیں لیکن مجھے نہیں پڑھ کر اکثر لوگ مجھے اذیت پہنچا رہے ہیں ۔ غیر اخلاقی تصاویر شائع کروا کر شریر لوگوں نے مجھے طوائف ہی بنا دیا ہے۔ میری ذات کی سب سے اعلیٰ قسم قرآن واحادیث کو بھی اب لوگ سائنسی آلات کی نظر کر رہے ہیں ۔میری ادنیٰ قسم اخبار بھی اب دم توڑ رہی ہے ۔Online Newspaper کی رغبت نے میرے نام پر کئے جانے والے خرچ کو بھی ختم کر دیا ہے ۔کبھی میری الماری تعلیم یافتہ گھروں کی پہچان ہوا کرتی تھی اب تو ڈرائینگ روم میں قیمتی فرنیچر نے مجھے کنارے کر دیا ہے ۔
"A room without books is like a body without a soul” .
( Marcus Tullius Cicero)

ترجمہ : "کتابوں کے بغیر کوئی گھر ایسا ہے جیسے روح کے بغیر جسم "۔ (سسرو)

خیر میرے سامنے اب دو ہی راستے ہیں یا تو میں اس وقت کا انتظار کروں جب میرے قدردان کی جماعت اٹھے اور مجھ پر پڑے گرد کو ہٹا کر مجھے عزت بخشے یا میں نامعلوم وقت تک حضرت انسان کی کم عقلی پر ماتم کرتی رہوں ۔انسان تو اب بہک کر بگاڑ کے راستے پر چل پڑا ہے اور وہ یہ بھول گیا ہے کہ اس کے اسلاف کا تمام تر سرمایہ میرے پاس ہی محفوظ ہے۔میں اس وقت تک انتظار کروں گی جب سائنسی آلات ناکارہ ہو جائیں گے اور لوگ میری آغوش میں پناہ ڈھونڈھیں گے۔اب بھی وقت ہے انسان مجھ سے دوستی کرلے، مجھے گلے لگائے ورنہ ایک دن میں گوگل بابا سے بھی غائب کر دی جاؤں گی ۔جب کہیں پناہ نہیں ملے گی تب بھی میں ان شاءاللہ وفاداری نبھاؤں گی یہی اللہ کا میرے لئے حکم ہے اور یہی میرا مقدر بھی ہے۔عجیب کشمکش ہے، میں انسانوں کی خوشامد بھی تو نہیں کر سکتی، قیمتی تو ہوں مگر بے جان جو ہوں! وقت کی منتظر الماریوں سے جھانکتی ہوئی میں اپنے اچھے دن کا انتظار کر رہی ایک کتاب ہوں ۔شاید پھر لوگ میری طرف مائل ہوں اور مجھے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔مجھ پر اپنا مال خرچ کرنے میں فخر محسوس کریں ۔اللہ انسانوں کو مجھ سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
رابطہ. 8825189373

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے