ہوممضامین ومقالاتمیں موبائل ہوں...! انشائیہ

میں موبائل ہوں…! انشائیہ

میں موبائل ہوں…! انشائیہ
میں اکیسویں صدی کی سب سے بڑی ایجاد، موبائل ہوں۔پہلی بار 1973 میں نیو یارک کے موٹرولا کمپنی کے مارٹن کوپر نے مجھے بنایا۔اس وقت میرا وزن 2 کیلو گرام تھا۔2016 سے مجھے بنانے والوں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔2001 میں 3rd Generation کے ساتھ میں لوگوں سے بہت قریب ہوگئی۔4th Generation کے ذریعے تو میں نے سب کو اپنا غلام بناہی لیا ہے اور اب 5th Generation کا لوگ خود بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔ اب تو میرے خاندان کی ہی سب سے تیز ترار ایجاد ARTIFICIAL INTELLIGENCE پر مبنی روبوٹ ہی لوگوں کا سب سے بڑا خیر خواہ بن کر سامنے آنے والا ہے۔
موبائل فون آنے کے بعد لوگ سمجھ رہے تھے کہ اب آپس کے رشتے بہت مضبوط ہوجائیں گے۔رشتوں کی دوریاں ختم ہو جائیں گی، لیکن لوگوں کا خواب بھی میں نے چکناچور کر دیا ہے۔ لگ بھگ سارے رشتے آن لائن ہو کر رہ گئے۔ دور رہ کر ہی کرو بات قریب مت آؤ۔ ضرورت پڑے تو کسی کو بھی ڈیجیٹل کرنسی بھیج دو بس۔ والدین کی خدمت کرنی ہو تو ویڈیو کال کر کے دیکھ لو۔کم خرچ کے باوجود لوگ اب صرف مطلب پڑنے پر ہی کسی سے گفتگو کرتے ہیں۔میرا مشہور قول ” کرلو دنیا مٹھی میں”، کو میں نے ایک دھوکا ثابت کر دیا۔حقیقت میں سارے رشتے ہی مٹھی سے باہر نکل گئے جو میرا مقصد خاص تھا۔
میں موبائل فون ہوں، میں نے زندگی سے سکون اور وقت سے برکت کو ختم کر دیا ہے۔ میں نے انیسویں صدی کے لگ بھگ تمام ذرائع ابلاغ کو نگل لیا ہے۔ ریڈیو ہو یا گھڑی، ٹی وی ہو یا کمپیوٹر سب کو میری بری نظر لگ گئی۔ٹیپ ریکارڈ کے وجود کو مٹا کر تو میں نے پرانی تمام یادوں کو ہوا میں اڑا دیا ہے۔
میں موبائل ہوں، میں نے چٹھی پتری کو تو تباہ ہی کردیا ہے۔ کتابوں پر بھی میری بہت بری نظر ہے۔گھروں سے کتابوں کی الماری تو غائب کر ہی رہا ہوں، بہت جلد اسکولوں سے بھی کتاب ختم کر دوں گا۔ لائبریری کو تو لوگ لگ بھگ بھول ہی چکے ہیں۔ساری کتابیں ڈیجیٹل کروارہا ہوں تاکہ لوگ مجھ سے دور نہ ہو سکیں۔اب تلاوت قرآن کے لئے بھی لوگ مجھ سے رجوع کرنے کے لئے مجبور ہو چکے ہیں۔
میں موبائل ہو، زبانی جوڑ گھٹاو کے ساتھ میں نے کیلکولیٹر کو بھی ہضم کر لیا ہے۔ اب تو مجھے سامنے رکھ کر صرف نمبر بول دیں، نہ لکھنا پڑے نہ جوڑنا پڑے، جواب حاضر ہے۔ حساب کتاب کرنے کی تمام پریشانیوں کو میں نے ختم کر دیا ہے۔میں سکنڈ بھر میں تمام مسائل کو حل کر دیتا ہوں۔
میں موبائل ہوں، میرا سب سے بڑا حملہ تو بچوں پر ہوا ہے۔ بچپن کے سارے کھیل کو کھا گیا۔ان دنوں بچوں کا بچپن کھا کھا کر موٹا اور مضبوط ہوگیا ہوں۔ میں نے بچپن اور جوانی کو کھا لیا پھر بھی بھوک نہیں مٹی تو دادا دادی، نانا نانی کی کہانی کو کھا گیا۔ میں خبروں کا بھنڈار ہوں لیکن یاد رہے میں نیند چُرا لیتا ہوں۔صبح سویرے اٹھنا تو بھلا ہی دیا ہے۔ نہ چہل قدمی کی ضرورت نہ علی الصباح کی روزی کی برکت۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کو کام کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے اور لوگ سب کچھ چھوڑ کر مجھ سے دوستی نبھاتے رہیں۔
میں موبائل ہوں، مجھ سے جو لاپرواہی کرے گا وہ مجھ سے جدا ہو جانے کے غم میں خودکشی ضرور کر لے گا۔میں ایسی مجبوری بن چکا ہوں کہ لوگ مجھے بانہوں میں لے کر سوتے بھی ہیں۔میں سبھوں کا پہلا پیار بن چکا ہوں۔اب تک کے تمام سائنسی ایجادات کو چکمہ دے کر میں نے خود کو انسانوں کا سب سے بڑا خیر خواہ ثابت کر دیا ہے۔
میں موبائل ہوں، میں نے تو باورچی خانے کا بوریا بستر بھی لپیٹنا شروع کر دیا ہے۔میرے ایک بٹن پر فرمائش بھیجئے دوسرے بٹن سے اس کی قیمت، ہر پسندیدہ ڈش گھر پر حاضر۔آپ کو جسمانی محنت سے بھی میں نے بچا لیا اور کہیں جانا بھی نہیں پڑا۔لوگوں کو تو میرا شکرگزار ہونا چاہئے۔
میں موبائل ہوں، میں نے آپ کی یادداشت پر ایسی ضرب لگائی ہے کہ مجھ سے جڑے بنا لوگوں کا حافظہ ہی مشکوک مانا جاتا ہے۔ اب کچھ یاد نہیں رکھنا ہے، موبائل پاس میں ہے ہی۔میں وہ مشین ہوں کہ جس نے قرآن پاک کی تلاوت سننا بھی آسان کردیا ہے، پڑھنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔
میں موبائل ہوں، زیادہ تر لوگوں کی اسپورٹس سے دلچسپی کا فائدہ اٹھا کر میں نے عوام کے گلے میں غلامی کا پٹہ باندھ دیا ہے۔میری اجازت کے بغیر اب کوئی میچ بھی نہیں دیکھ سکتا ہے۔میں نےہر جگہ میچ دیکھنا آسان بنا دیا ہے۔ آفس ہو یا گھر، میچ کے زمانے میں سارے کام کاج چھوڑ کر مجھے ہی لوگ لئے پھرتے ہیں۔
عریانیت کو تو میں نے عروج پر پہنچا دیا ہے۔ایک کلک پر جو چاہیں دیکھ سن لیں۔اسی کے سہارے میں نے زنا کو آسان بنا دیا ہے۔دنیا بھر کی تمام خوبصورتی میں مہیا کراسکتا ہوں۔شیطانی دنیا تو سب سے زیادہ میری مشکور ہے۔شادیوں کی محفل میں میری جلوہ منائی تو دیکھتے ہی بنتی ہے۔ خوشنما وڈیوز اور تصاویر سے ہر طرف عریانیت جھانکتی ہوئی نظر آتی ہے۔
میں موبائل ہوں، نئی نسل کے لئے تو میں سب سے بڑا تحفہ ہوں۔ان کو میں نے پوری طرح قبضے میں کر لیا ہے۔اب تو میرے بنا نئی نسل کی زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔اب کسی عالم کی ضرورت ہی نہیں، نئی نسل تو دین کے نئے ایڈیشن کو بھی مجھ سے ہی سیکھ رہی ہے۔مسلکی تعصب کو بھی میں پروان چڑھارہا ہوں۔
میں موبائل ہوں، چھوٹی چھوٹی خفیہ نیکیوں کو بھی میں کھا جاتا ہوں تاکہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی نصیب نہ ہو۔چھوٹی چھوٹی نیکی کرکے لوگ نمائش ضرور کرنا چاہتے ہیں تاکہ میری نظروں سے دیکھ کر لوگ ان کو مبارکباد پیش کریں۔ان کا نفس بھی موٹا ہوتا رہے اور لوگوں کی واہ واہ بھی ملتی رہے۔
میرا دعویٰ ہے کہ میں کامیاب موبائل ہوں اس لئے کہ میں نے لوگوں کے دلچسپی کی تمام چیزوں کو ان کی سہولت کے مطابق ایک جگہ کر دیا ہے۔میں چند خوبیوں کے ساتھ انسانوں کا خیر خواہ بھی رہا ہوں۔ آواز ہو یا تصویر، فلم ہو یا سیریل، فیس جمع کرنا ہو یا کوئی بل یا ٹکٹ،اخبار نکالنا ہو یا کتاب شائع کروانا، راستہ تلاش کرنا ہو یا کوئی رشتہ، پیسہ نکالنا ہو یا جمع کرنا،( آن لائن پیسہ ٹرانسفر کرنے میں غیر ضروری خرچ کرنے کا احساس بھی چلا جاتا ہے) بغل کا کمرہ ہو یا دور دیس میں بیٹھا کوئی رشتہ دار جب چاہیں دیکھ لیں، غرض اب انسان کو زیادہ جسمانی محنت کی کوئی ضرورت نہیں، سب کچھ میں نے آسان کردیا ہے

 

ہمارے یوٹیوب چینل سے جوڑنے کے لئے لنک پر کلک کریں

https://youtube.com/@millattoday6426
میں موبائل ہوں،کل تک جہاں مسجد میں کیمرہ یا فوٹوگرافی کے تصور سے بھی ہماری روح کانپ جاتی تھی وہاں مسجدوں میں نکاح کے بہانے میں نے اپنے داخلہ کو جائز کروا لیا ہے۔عام مساجد کو تو چھوڑیئے مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں بھی میرے استعمال کو خوشی خوشی گوارا کر لیا گیا ہے۔
امید کرتا ہوں کہ مختلف روپ دھار کر میں آئندہ صدیوں تک انسانوں کی پہلی پسند بنا رہوں گا۔مجھے یہ بھی امید ہے کہ میں مکرو فریب کے جال میں انسانوں کو پھنساتا بھی رہوں گا۔میں یہ بھی اعتراف کرتا ہوں کہ جو میری حقیقت پہچان کر میری چال سے بچا رہے وہی خوش نصیب بھی ہوگا۔ یہ بھی سچ ہے کہ میں اس دن بیکار ہو جاؤں گا جب انسان اپنی فطری زندگی پر لوٹ آئے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ غیر فطری زندگی کو ایک دن تباہ کردے گا۔لہٰذا انسانوں کو چاہیے کہ میرا صحیح استعمال کرے ورنہ بربادی ان کا مقدر ہوگی۔
سرفراز عالم
عالم گنج پٹنہ
رابطہ 8825189373 

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے