میوات سے متصل فرید آباد میں نو عمر لڑکے کا پر اسرار قتل

38

میوات سے متصل فرید آباد (نوائے ملت نیوز میوات مبارک میواتی آلی میو) کے گونچھی حلقے میں اکثریتی فرقے کے چند نوجوانوں نے اقلیتی فرقے کے 19 سالہ مسلم نوجوان عبد الواحد کا پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا جیون نگر فرید آباد کے رہنے والے عبد الواحد، اور پرویز دونوں بھائی سنجے کالونی میں دودھ کی ڈیری چلارہے ہیں قریب میں ہی اکثریتی فرقے کے لوگوں کی بھی ڈیری ہے، اکثریتی فرقے کے نصف درجن لوگوں نے دونوں بھائیوں پر حملہ بول دیا پرویز وہاں سے بھاگ گیا اور عبد الواحد کو بری طرح زدوکوب کیا، انکو نیم مردہ حالت میں سروودے اسپتال لے جایا گیا جہاں سے اس کی نازک حالت کے پیش نظر گروگرام کے میدانتا اسپتال ریفر کردیا جہاں چند گھنٹوں کے دوران ہی عبد الواحد اس دنیا کو الوداع کہہ گئے بادشاہ خان اسپتال میں پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد لاش گھر والوں کو سونپ دی گذشتہ کل تیئیس کی شام کو انکو سپرد خاک کر دیا گیا مولانا زاہد کھنداولی نے نماز جنازہ پڑھائی،پولس کی آنا کانی کو دیکھ کر جمعیت علماء فرید آباد کے صدر مولانا جمال الدین اونچا گاؤں موقع پر پہنچ کر پولس سے مقدمہ درج کرنے کی مانگ رکھی پھر بھی پولس ڈھیلا رویہ برت رہی تھی مولانا نے انکو مقدمہ درج کرنے تک وہیں دھرنے پر بیٹھنے کی دھمکی دی اسکے بعد پولس نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فورا مقدمہ درج کر لیا پولس تھانہ گونچی انچارج مہیندر سنگھ نے پرویز کی شکایت پر مختلف دفعات کے تحت امت، گورو، منوج، یوگیش،سمیت 6 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے پرویز نے بتایا کہ شرپسند عناصر نے عبد الواحد کو لاٹھی ڈنڈوں سے بری طرح مارا پیٹا جس سے انکو گہری چوٹ پہنچی اور وہ اس دنیا کو چھوڑ کر چلے گئے، آج جمعیت علماء متحدہ پنجاب کے سرپرست مولانا خالد قاسمی، جنرل سیکرٹری مولانا شوکت قاسمی،مولانا جمال الدین اونچا گاؤں،ایک وفد کے ہمراہ عبد الواحد کے اہل خانہ سے ملنے وتعزیت کرنے انکے گھر پہنچے،جہاں انہوں نے عبد الواحد کے والد ننھے خاں سے ملاقات کی اور جمعیت علماء کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، مولانا جمال الدین نے بتایا کہ جمعیت علماء فرید آباد ہر طرح سے قانونی کارروائی کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے انہوں نے کہا جب تک مجرم کیفر کردار تک نہیں پہنچینگے ہم عدالت میں لڑائی جاری رکھینگے،مولانا خالد قاسمی اور انکے ہمراہ سبھی نے ننھے خان، چاند بھائی، پرویز بھائی کو دلاسہ دیا،اس موقع پر مولانا خالد قاسمی،مولانا شوکت قاسمی، مولانا اشرف علی بڑھکل،مولانا اقبال، مولانا ہارون رشید، مولانا انعام الحسن، قاری اسلم، مفتی سلیم گونچی،حاجی شاہد، حاجی اختر، حاجی چمن، حاجی سردار خان، مولانا زاہد، مولانا ساجد اٹاوڑی، وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں