میرے ہاتھ میں قلم ہے میرے ذہن میں اجالا

112

میرے ہاتھ میں قلم ہے میرے ذہن میں اجالا

مجھے کیا ڈرا سکیگا یہ ظلمتوں کا پالا

تقریب رسم اجرا پیام میوات

18/10/2020/ بروز اتوار “پیامِ میوات” کے رسمِ اجراء کی عظیم الشان اور پروقار تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت حضرت مولانا جمیل احمد صاحب نوحی دامت برکاتہم نے فرمائی اور نظامت کے فرائض نوجوان عالم دین، جامعہ صدیقیہ عین العلوم نوح کے مہتمم مفتی تعریف سلیم ندوی اور بے باک صحافی و قلمکار مولانا محمد مبارک صاحب آلی میو نے باری باری انجام دیئے، اس موقع پر میوات و بیرون میوات کی مقتدر علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے “پیامِ میوات” کے افتتاحی شمارے کے منظر عام پر آنے سے خوشی کا اظہار کیا اور اپنے قیمتی تاثرات و خیالات کا گلدستہ پیش کیا_کیونکہ کتب، رسائل اور مجلات کا ایک صالح معاشرے کی تشکیل اور تعمیر میں کلیدی کردار ہوتا ہے، اس تعلق سے دنیا کا ہر باشعور شخص واقف ہے اور اس کے دور رس اثرات کے مرتب ہونے کو ہر فرد بشر قبول بھی کرتا ہے کیونکہ کتب، رسائل اور مجلات کے مضامین قوم کا رخ جس طرف موڑنا چاہتے ہیں، اور جس مسئلہ کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں، تو قلمکار تسلسُل کے ساتھ ان پر قلم اٹھاتے ہیں اور قوموں کے رخ کو موڑ بھی دیتے ہیں اور بدل بھی دیتے ہیں،

ھندوستان کی تاریخ کا اگر آپ مطالعہ کریں تو سن 1857 / سے لیکر 1935 تک کا یہ وہ زمانہ ہےجب ھندوستان کے صحافیوں نے، بلند ہمت قلمکاروں نے انگریزوں کے خلاف، ان کی ظلم و زیادتی کے خلاف اور ان کے ناروا کردار کے خلاف جب قلم اٹھایا ہے تو انگریزوں کے پاوں میں بھی لغزش طاری ہو گئی مجھے اس موقع پر اکبر الہ آبادی شعر یاد آتا ہے _

کہ کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو

جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو_

میوات کی تاریخ تہذیب و ثقافت سے نسل نو کو روشناس کرانے کے لئے ڈاکٹر مولانا مشتاق احمد تجاروی کی سرپرستی و نوجوان عالم دین مولانا توصیف الحسن میواتی الہندی کی ادارت و مفتی محمد تعریف سلیم ندوی میواتی،و مولانا محمد مبارک میواتی آلی میو نے مشترکہ طور پر نظامت کے فرائض انجام دئے، اٹھارہ اکتوبر گذشتہ کل بروز اتوار کو ضلع ہیڈ آفس نوح ہوڈل روڈ مدرسہ عین العلوم صدیقیہ میں علاقہ میوات کے مقتدر علماء کرام و اہل قلم کے ہاتھوں نہایت ہی تزک واحتشام کے ساتھ عمل میں آیا، بعد ازیں سب سے پہلے مکتب کے طالب علم محمد سعد نے قرآن مجید کی تلاوت سے مجلس کا آغاز فرمایا اسکے بعد نعت پاک کا گلدستہ محمد دانش نے پیش کیا گیا، اس موقع پر مفتی محمد تعریف سلیم ندوی، نے سبھی قلمکاروں کا تعارف پیش کیا، مولانا توصیف الحسن نے پیام میوات کے اغراض ومقاصد بیان کئے، بعد ازیں چراغ میوات مؤرخ صدیق احمد میو، نے کہا تاریخ، تمدن، ثقافتی سرگرمیاں کسی بھی قوم کی زندہ ہونے کی نشانیاں ہوتی ہیں، انہوں نے کہا جو قوم اپنی تاریخ کو بھول جاتی ہے وہ صفحہ ہستی سے مٹ جایا کرتی ہے،یہ رسالہ پیام میوات بھی میوات کی تاریخ کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کریگا، خطیب میوات جمعیت علماء متحدہ پنجاب کے نائب صدر حضرت مولانا حکیم الدین اشرف اٹاوڑی نے اپنے منفرد انداز میں تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا انسان اپنے ما فی الضمیر کو ادا کرنے میں دو چیزوں کا سہارا لیتا ہے، زبان، قلم، انہوں نے نوجوان علماء کرام سے تقریر کے ساتھ ساتھ تحریر وقلم پر زور دینے کی طرف توجہ دلائی، انہوں نے پیام میوات کے سالانہ ممبر شپ حاصل کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی، اور اردو سے دوری پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ میوات میں رہنے والا کوئی بھی شخص اردو سے نا آشنا کیسے ہوسکتا ہے جب کہ میوات میں مکاتب کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے، مولانا حکیم الدین نے پیام میوات کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا، اسلامی اسکالر مدرسہ ابی بن کعب تحفیظ القرآن گھاسیڑہ کے مہتمم مولانا شیر محمد امینی نے کہا پیام میوات کا یہ بہترین قدم ہے اس سے نوجوان نسل کو میوات کی تہذیب و ثقافت کی جانب فکرمندی پیدا ہوگی، مدرسہ عبد الرب دہلی کے شیخ الحدیث مفتی ظفر الدین نے اپنے تاثراتی کلمات میں پیام میوات کی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے پیام میوات کے تعلق سے چند باتوں کی جانب توجہ مبذول کرائی، مفتی محمد رفیق سعید جالیکی، مولانا حنیف مناکا، ڈاکٹر عبد الماجد سنگار، میوات کے نوجوان الیکٹرانک میڈیا کے صحافی زبیر احمد ڈیمروت راولکی، مولانا عرفان چیتوڑہ، مفتی محمد عاقل بچھور دہلی نے بھی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور نوجوان علماء کرام کی توجہ تحریر، و مضمون نگاری کی جانب مرکوز کرائی، تقریب کے صدر شیخ الحدیث حضرت مولانا جمیل احمد نوحی نے دعا سے پہلے ناصحانہ انداز میں اضاعت وقت سے پرہیز کرنے، وکتب بینی کا خاص مشورہ دیا،

آخر میں مدرسہ صدیقیہ عین العلوم نوح کے مہتمم مفتی محمد تعریف سلیم ندوی نے آنے والے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا

ناز کرتا زمانہ ناز کو بھی ناز ہے

تم بلندی پر رہو دل کی یہی آواز ہے

مہمان نوازی وضیافت کا بھی پورا پورا حق ادا کیا، مولانا فیصل قاسمی رانیکا نے تحریری طور پر کہا

ماشاءاللہ “پیامِ میوات” کو اہل علم کے ہاتھوں تک پہنچانے میں جس طرح رسالہ کے مدیر رفیق محترم جناب مولانا توصیف الحسن صاحب کی محنت و کاوش رہی ہے اسی طرح رفیقان محترم جناب مفتی تعریف سلیم صاحب ندوی اور بے باک صحافی مولانا محمد مبارک میواتی آلی میو کی محنت و کوشش بھی نمایاں رہی ہے، اللہ تعالیٰ ان حضرات کی مخلصانہ خدمت کو قبول و منظور فرمائے اور “پیامِ میوات” رسالے کوعام اور تام فرمائے،

اور جن جن علماء کرام نے پیام میوات تقریب میں تشریف لاکر رونق بخشی میں ان تمام علماء کرام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، خاص طور پر تقریب کے صدر محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا جمیل احمد نوحی،مولانا شیر محمد امینی گھاسیڑہ،مولانا حنیف مناکا الور،مولانا زبیر احمد باؤلہ،مولانا حکیم الدین اشرف اٹاوڑی،مفتی ظفر الدین عبد الرب دہلی،مفتی رفیق سعید جالیکی حسین بخش دہلی،مفتی عاقل بچھور استاد عبد الرب دہلی، مولانا انیس الرحمن دیؤلہ دہلی، مفتی محمد تعریف سلیم ندوی، مولانا عمران سنابلی گوہانہ، میوات ٹائمز کے ڈائریکٹر صحافی سفیان سیف، نیوز نیشن کے بے باک صحافی زبیر احمد ڈیمروت راولکی، ڈاکٹر عبد الماجد سنگار،میوات وکاس سبھا کے صدر سلام الدین ایڈووکیٹ نوٹکی، بھائی عبد الصمد نوح، ابو عاصم میؤ، اوصاف الحسن میواتی، مفتی سراج الحق میؤلی، میانجی محمد فاروق نوح، محمد عابد نگلہ ڈوبوکر کاماں، ماسٹر ارشد نگینہ،ڈاکٹر سرور نگینہ، جمعیت علماء متحدہ پنجاب کے نائب صدر مولانا زاہد امینی گھاسیڑہ، راشٹریہ سہارا میوات کے قلمکار بھائی خالد حسین میواتی گھاسیڑہ، مولانا ارشد عالیاوی گھاسیڑہ،مولانا سالم سوندھ، شاعر مولانا عرفان قمر چیتوڑہ مقیم حال اکبرپور،سمیت دیگر علماء کرام نے بھی پیام میوات کی حوصلہ افزائی فرمائی کچھ نام باقی رہ گئے اللہ تعالیٰ پیام میوات کو قبول فرمائے اور اس میں کسی بھی طرح تعاون دینے والوں کو بھی قبول فرمائے

آمین ثم آمین یا رب العالمین _

___________

پیش کردہ

محمد مبارک میواتی آلی میو