جمعرات, 6, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتمیرے گاؤں کا ہندوستان

میرے گاؤں کا ہندوستان

میرے گاؤں کا ہندوستان
ڈاکٹر ظفردارک قاسمی
( مضمون نگار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ دینیات سنی سے پوسٹ ڈاکٹریٹ ہیں)
zafardarik85@gmail.com
ہندوستانی معاشرے کا باہمی رکھ رکھاؤ، اخوت و بھائی چارگی ، اعتماد وارتباط اور انسان دوستی کوچند مخصوص فکر کے حاملین ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ سماج ٹوٹ پھوٹ جائے، منافرت و تنگ نظری عام ہوجائے، تعصب و جانبداری کا لوگ شکار ہونے لگیں یا اسی طرح ہر وہ عمل کرنا چاہتے ہیں جو انسانیت اور بقائے باہم کے خلاف ہو۔ محبت و الفت سے مملو جملہ مواد و عمل کو مٹانا ان کا وطیرہ بن چکا ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ اس نظریہ اور سوچ کی ترویج و اشاعت کے مناظر گاہ بگاہ دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں۔ معاشرتی اکائیوں کو توڑنے اور سماجی اپنائیت کو نابود کرنے کے لیے جن اسباب و عوامل کا استعمال کیا جارہاہے اس میں سب سے زیادہ موثر تحریری مواد ہے جو سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے نشر کیا جارہاہے ۔ باقاعدہ سماجی رابطوں کی سائٹس پر کچھ لوگوں کو اسی کام کے لیے مقرر کیا گیا ہے کہ وہ معاشرے میں خوف و ہراس، مایوسی، نفرت و بیزاری اور اشتعال انگیز مواد کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں اور پھر معاشرے میں اس سے تناؤ، دوری اور کشیدگی کا ماحول پیدا ہو۔
اسی پر بس نہیں ہے بلکہ باقاعدہ ایسی تحریریں کتابی شکل میں بھی شائع ہورہی ہیں۔ جو معاشرے میں بد امنی اور بدعنوانی کا سبب بن رہی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس منفی اور نفرت آ میز ادب ولٹریچر کا شکار ہمارا نوجوان طبقہ زیادہ ہورہا ہے۔ بات در اصل یہ ہے کہ جو لوگ معاشرے کی یکجہتی اور ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں ان کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس طرح کی چیزوں اور باتوں میں نئی نسل کو ملوث کیا جائے۔ ملک وسماج کو ترقی وکامرانی کی منازل سے ہم کنار کرنے کے لیے لازمی طور پر ہر اس فعل وعمل اور قول و قرار کو یکسر معدوم کرنا ہوگا جس سے معاشرے میں کسی بھی طرح کی بد امنی اور نا اتفاقی کے پھیلنے کا انیشہ ہو، مذہب ودھرم کے نام پر نفرت و عداوت کی جو لہر ہمارے نوجوان میں بڑی تیزی سے سرایت کررہی ہے اس سے نوجوانوں کو بچانا ہوگا اور ان کو محبت، انسانیت اور ہمدردی جیسی صفات سے آ شنا کرانے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ نظریاتی گروہ خواہ اس کا تعلق کسی بھی معاشرے، دھرم، اور جماعت سے ہو اس سے عموما عوام میں منفی اثرات ہی مرتب ہوتے ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ذہن نشیں کرنا ہوگا کہ اگر کسی بھی سماج و قوم اور ملک و ملت کے نوجوانوں کو ایسے کاموں میں لگایا گیا جو منفی ہیں تو پھر یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ پھر اس معاشرے کو فکری، و ذہنی تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم اور ملک کا سرمایہ ہوتے ہیں ان کے روشن اور بہتر مستقبل سے ملک وقوم کی عظمت و تقدس میں اضافہ ہوتا ہے۔ لہذا ملک وقوم کی عظمت رفتہ کی بازیابی کے لیے لازمی طور پر حکومتوں کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو مثبت فکر ونظر سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کریں اور ان کے مستقبل کو تابناک بنانے کے لیے جامع اور منظم منصوبہ بندی کی جائے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آ ج ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ جذباتی اور اشتعال انگیز نوجوانوں کو بنایا جارہاہے ۔ اس میں دوکردار بڑا اہم رول ادا کررہے ہیں، ایک سیاسی طبقہ اپنی بالادستی اور اقتدار کو بچانے کے لیے، دوسرا مذہبی گروہ بھی ان کے مستقبل سے کھلواڑ کررہا ہے۔ خیر ہمیں اس موضوع پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ملک میں نفرت و عداوت کا ماحول کیسے ختم ہو اور اس کھائی میں گرتے ہوئے نوجوانوں کو کیسے بچایا جائے۔
دوسری اہم بات یہ گوش گزار کرنی ہے کہ ملک میں جو لوگ اپنے محدود مفادات کی خاطر کسی بھی طرح کی منفی کوشش کررہے ہیں انہیں یقیناً کامیابی وکامرانی نہیں مل سکتی ہے کیونکہ اس ملک میں امن و سلامتی اور قومی یکجہتی کی روایات اس قدر مضبوط و مستحکم ہیں جو چند مٹھی بھر عناصر کے کمزور کرنے سے کمزور نہیں ہوپائیں گی۔ ہندوستان کی ان تہذیبی اور ثقافتی قدروں کو دیکھیے جو دیہاتوں اور گاؤں میں پائی جاتی ہیں۔ آ ج بھی ملک کے طول و عرض میں ایسی قدریں مل جاتی ہیں کہ جہاں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ ایک تھالی میں کھاتے ہیں۔ ذرا تصور کیجیے کہ آ ج بھی ہمارے ملک کے بہت سارے دیہاتوں میں یہ تہذیب موجود ہے کہ گرمیوں میں درخت کے سائے میں چوپال پر بیٹھ کر اور جاڑوں میں الاؤ لگا کر ہندو اور مسلمان ایک ساتھ حقہ پیتے ہیں ، گپ شپ کرتے ہیں۔ کہانیاں اور قصہ گوئی کرتے ہیں۔ تمام مذاہب وادیان اور تہذیبوں کے علمبردار اس طرح کی نشستوں کو آ راستہ کرتے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہےمذہب و دھرم اور قوم و ملت کے نام پر کوئی اونچ نیچ نہیں، امتیاز و تفریق نہیں ہوتی ہے۔ یہ قدریں اور تہذیبی روایتیں وہ ہیں جو ہندوستانی معاشرے میں رنگا رنگی اور کثرت میں وحدت کے یقین کو مستحکم کرتی ہیں۔ اسی طرح آ ج بھی ہمارے ملک میں یہ ثقافت موجود ہے کہ جب کسان اپنے کھیت کی سنچائی اور بوبائی کرتا ہے یا اس کی نلائی تو کھیت میں کام کرنے والے ہندو اور مسلمان سبھی ہوتے ہیں وہ سب لوگ کھانا ایک ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہیں۔ ہمارے ملک کی یہ بھی خوبصورتی ہے کہ جس طرح ہندو اور مسلمانوں کے گھر ایک محلے اور ایک گلی میں ہوتے ہیں اسی طرح برابر برابر ہندو اور مسلمانوں کے کھیت بھی ہوتے ہیں وہاں جو ایک دوسرے کے تئیں پیار اور محبت دیکھنے کو ملتی ہے وہ بڑی اہم ہوتی ہے۔ اب ذرا سوچئے اور غور وفکر کیجئے کہ یہ تمام تہذیبی امتیازات صرف ہندوستان جیسی سر زمین پر ہی پائے جاتے ہیں۔ ان ہی روشن روایتوں اور سیکولر قدروں کی وجہ سے ہم بجا طور پر اپنے ملک اور یہاں کی تمدنی قدروں پر فخر کرسکتے ہیں۔ اسی ضمن میں یہ بات بھی عرض کی جاسکتی ہے کہ ہمارے ملک کا ہر شہری انسانیت و ہمدردی کا حامی اور ادیان و افکار، نظریات و عقائد کا احترام کرتا ہے کیوںکہ وہ اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ اگر ملک میں صدیوں پرانی بنیادوں کو مخدوش کیا گیا تو بہت ممکن ہے کہ ملک کی مشترک قدریں متزلزل ہو جائیں۔یقینا آ ج ملک کی مشترک قدروں اور یہاں کی روحانی روایتوں کو چند شر پسند عناصر برباد نہیں کرسکتے ہیں۔ بھلے ہی ایسے لوگ وقتی طور پر کامیاب ہو جائیں لیکن یاد رکھیے ہر برے عمل کی عمر بہت کم ہوتی ہے وہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آ ج جو لوگ ہمہ ہمی اور مذہبی منافرت پھیلا رہے ہیں اس کا جلد ہی خاتمہ ہو جائے گا۔
ہندوستان میں قومی ہم آہنگی اور رواداری کی جو شاندار مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں ان کے اثر سے ہر وہ عمل اور نظریہ کالعدم ہوجایے گا جو معاشرتی اور سماجی سطح پر یکجہتی کو نقصان پہنچا تا ہو۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کو اپنی تہذیبی قدروں اور ہندوستانی رویوں کی مثبت کارکردگی کو قطعیت بخشنی ہے تو پھر اجتماعیت اور بلاتفریق مذہب وملت ان تمام عوامل کا مقابلہ کرنا ہوگا جو کسی بھی طرح سے معاشرتی مرکزیت کو تہ وبالا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ بات بھی عرض کرنی ضروری ہے کہ نفرت کے اس ماحول سے سیکولر مزاج کے حامل طبقہ کو قطعی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارا معاشرہ فطری طور پر یکجتی کی خوبیوں کا ثناء خواں ہے۔ وقت اور حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی اشتعال انگیزی اور نفرت آ میز بیان وتحریر کا جواب گرمی اور شدت کے ساتھ نہیں دینا ہے بلکہ سنجیدگی، متانت اور حکمت و دانشمندی سے دینا ہوگا۔ قومیں وہی سرخ رو اور کامیاب ہوتی ہیں جو اپنے مسائل کا حل حکمت و دانائی سے نکال تی ہیں ،برے وقت میں بھی کسی کو اپنا دشمن نہیں بناتی ہیں۔ بدلتے حالات اور سماجی رویوں کی تبدیلی پر گہرائی سے نظر رکھنی ہوگی، ہمارے لیے ملک و قوم کی سالمیت کے لیے کیا مناسب اور ضروری ہے ان امور کو انجام دینا ہوگا، تبھی جاکر ہم ہندوستان کی تمام مشترک قدروں اور متنوع تہذیبی عناصر کو شر پسندوں اور سماج دشمنوں سے محفوظ و مامون رکھ سکیں گے۔

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے