میرےنبی کی زندگی

74

*میرےنبی کی زندگی*

نحمدہ ونصلي علي رسوله الكريم
امابعد
فاعوذ بااللہ من الشیطٰن الرجیم
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

نبی مکرم شفیع آعظم رحمت دوعالم *صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم* کانسب،طیب وطاہراور پوری دنیاسےزیادہ شریف اور پاک ہے(دلائل ابونعیم میں مرفوعاً روایت ہے)کہ سیدالملٰئکةحضرت جبرئیل امیں عَلَی٘ہ السَّلام فرماتےہیں،کہ میں مشرق سے مغرب تک پھرا،میں خاندان بنی ہاشم سےزیادہ رب کی بارگاہ میں کوئی فضیلت والانہیں دیکھا،اور یہ وہ بات ہےجوتمام کفار مکہ *سرخم تسلیم* کرتے،حضرت ابوسفیان رَضِی٘ اللّٰہُ تعالیٰ عنہ نےشاہ روم کےسامنےبحالت کفر اس کااقرارکیا،حالانکہ وہ چاہتےتھے بنی ہاشم کومعیوب کردیں۔

*۔شجرئےنسب۔*
والدماجدکی طرف سےآپ کانسب یہ ہے،
محمدبن عبداللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصّی بن کلاب بن مرّہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن المنفہ بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضربن معدبن عدنان۔یہاں تک سلسلئہ نسب آپ صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم کاباجماع امت ثابت ہے۔علماء کرام فرماتےہیں یہاں سے ابوالبشر حضرت سیدناآدم عَلَی٘ہ السَّلام تک بےشماراختلاف ہیں۔ کوئی صحیح قابل اعتبار روایات نہیں ہیں۔اس لیئے اب آگےترک کررہاہوں۔

*والدہ ماجدہ کی طرف سےآپ کانسب یہ ہے،*
محمدبن آمنہ بنت وہب عبدالمناف بن زہرة بن كلاب۔اس سےمعلوم ہواکہ کلاب بن مرّہ میں آپکےوالدین کانسب جمع ہوتاہے۔ (بحوالہ سیرت خاتم الانبیاء *صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم* صفحہ 20 21)

*آپ کی نبوت کاثبوت*
سرکارمدینہ راحت قلب وسرور سینہ سیدالانبیاء جناب احمد مصطفےٰ *صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وسلم* نےفرمایا،
*حدیث*
*عن العرباض بن سارية عن رسول اللّٰه صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم انّه قال اني عندالله مكتوب خاتم النبيين وان اٰدم لمنجدل في طينتهٖ*
(مشکوٰة شرىف صفحہ ٥١٣ مواہب مع زرقانی صفحہ ٣٩)

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہُ عنہ سےروایت ہے،حضور نبی کریم *صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم* نےفرمایا۔بیشک میں رب تعالیٰ کےنزدیک خاتم النبیین ہوچکاتھا،اورحضرت سیدناآدم عَلَی٘ہ السَّلام ہنوزاپنےخمیرمیں ہی پڑےتھے،

(روایت کیااس کو احمداور بیہقی نے اورحاکم نےصحیح الاسناد بھی کہاہے۔)

مسنداحمدشریف کی ایک روایت ہےآپ *صلی اللہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم* نےارشادفرمایا۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےاس وقت میرےشانےپہ ختم نبوت کامہرلگایا،جب ابوالبشر پیدا بھی نہیں ہوئےتھےیعنی ابھی انکاخمیرہی تیارہورہاتھا،پھرمیرےنبی نےارشادفرمایامیں تم لوگوں کواپنےمعاملہ کی ابتدابتاتاہوں،

میں اپنےباپ حضرت سیّدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السّلام کی دعاہوں،

*رَبَّنَا وَ ابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿سورہ بقرہ ۱۲۹﴾*

*لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ، (ٰاٰل عمران آیت 164)*

*ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ٭ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ۙ﴿۲﴾*

میں بشارتِ حضرت عیسیٰ عَلَی٘ہ السَّلام ہوں،

*یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوۡرٰىۃِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوۡلٍ یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِی اسۡمُہٗۤ اَحۡمَدُ ؕ (قرآن سورة الصف آيت ٦)*

میں والدہ ماجدہ کےخواب کا جائےظہورہوں۔

*حين حملت برسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقيل لها ‏‏‏:‏‏‏ إنك قد حملت بسيد هذه الأمة ، فإذا وقع إلى الأرض فقولي ‏‏‏:‏‏‏ أعيذه بالواحد ، من شر كل حاسد ، ثم سميه محمدا ‏‏‏.‏‏‏ ورأت حين حملت به أنه خرج منها نور رأت به قصور بصرى ، من أرض الشام*

*آپکی ولادتِ باسعادت*
اس بات پراجماع امت ہےکہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ماہ ربیع النور میں پیرشریف کےدن اسی سال ہوئی جب اصحاب فیل نےمکہ پرحملہ کیااور اللہ رب العزت نےچندحقیرجانوروں سےشکست دی جنہیں ابابیل کہاجاتاہے۔ہاں البتہ تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے،ایک روایت کےمطابق آپ دو کوتشریف لائے،ایک قول کےمطابق آپ آٹھ کوتشریف لائے،ایک قول کےمطابق آپ دس کو تشریف لائے،ایک قول کےمطابق آپ بارہ کواس فرش گیتی پرجلوہ افروز ہوئے۔
بعض مؤرخین نےلکھاہے،کہ واقعہ اصحاب فیل( 20 اپریل سنہ 571 عیسویں میں ہوا،جس سےیہ معلوم چلا سرکارمدینہ *صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم* کی ولادتِ باسعادت حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السّلام سےپانچ سواکہتر سال بعدمیں ہوئی۔

دنیاکی تاریخ
امام حدیث-ابن عساکر نےدنیاکی مجمل تاریخ اس طرح تحریرفرمائی،
(1)حضرت سیّدنا آدم علیہ السّلام سےحضرت نوح علیہ السّلام تک ایک ہزار دوسوبرس کافاصلہ ہوا۔
(2)حضرت نوح علیہ السّلام اور حضرت ابراہیم علیہ السّلام کےمابین ایک ہزار ایک سوبیالیس سال کافاصلہ ہوا۔
(3)حضرت ابراہیم علیہ السّلام سےحضرت موسیٰ علی نبینا علیہ السّلام تک پانچ سوپینسٹھ برس کافاصلہ گذرا۔
(4)حضرت موسیٰ علیہ السّلام سےحضرت داؤد علیہ السلام تک پانچ سوبہتر سال کاطویل عرصہ گذرا۔
(5)حضرت داؤد علیہ السّلام سےحضرت عیسیٰ عَلَی٘ہ السَّلام تک ایک ہزار تین سوچھبیس برس کافاصلہ ہوا۔
(6)حضرت عیسیٰ عَلَی٘ہ السَّلام سےمیرےپیارےپیغمبر جناب محمد مصطفیٰ *صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم* تک پانچ ہزاربیس سال کی مدت گذری۔
نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم ابوالبشر سے6 ہزارسال یعنی ساتویں ہزار سال میں کتم عدم سےمنصئہ شہودپرجلوہ افروزہوئے۔

*آپکا اسم گرامی*
آسمان دنیامیں *احمد* اور فرش زمین پر *محمد* مشہور ہوا۔
آپکی کنیت *ابوالقاسم* ہے
آپ ایک عرب کےمشہورومعروف خاندان سےتعلق رکھتے ہیں جسےزمانہ بنوہاشم سےجانتاہے۔
آپکی ولادتِ باسعادت سےدنیاروشن ہوگئی،جتنےسوکھےپیڑپودےتھےسب ہرےہوگئے،موقوف سمندرمیں روانی آگئی،پرندےچہچہانےلگے،موسم سہانہ ہوگیا،ہوا بھی مشکبارہوگئیں،جنتی حوریں جھوم جھوم کےیہ ترانےگنگنانےلگیں،کہ

*بزم کونین میں ہرطرف شورہے*
*مصطفیٰ آگئیے مجتبیٰ آگئیے*

*والدماجدکاداغ مفارقت دینا*
آپ نبی کریم *صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم* ابھی شکم مادر میں ہی تھے حضرت عبداللّٰہ کوانکےوالدماجدحضرت عبدالمطلب نےحکم دیاکہ وہ مدینہ سےکھجوریں لائیں حضرت عبداللّٰہ آپ *صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم* کوبصورت حمل چھوڑ کرمدینہ منورہ کےلیئےرخت سفرباندھا،اوراللہ رب العزت کاکرشمہ دیکھیں وہیں آپ اس فرش گیتی سےمالک حقیقی سےجاملے۔اور آپ دریتیم پیداہوئے۔
ایک روایت کےمطابق آپ کےوالد ماجدکاوصال تب ہواجب آپ کی عمرشریف سات ماہ کی تھی لیکن زادالمعاد میں ابن قیم نےاس قول کومرجوح قراردیاہے۔(زادالمعاد جلد 1صفحہ 8)

*رضاعت وطفولیت کادور*
سب سےپہلےآپکو آپکےوالدہ ماجدہ نےدودھ پلایا،پھر چندروزکےبعدیہ موقع ابولہب کی کنیز ثوبیہ کوملی، پھریہ دولت منتقل ہوتاہواحلیمہ سعدیہ کی مقدر میں آئی۔

*آپکاسب سےپہلا کلام*
آپ *صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم* کی رضاعی والدہ حضرت حلیمہ فرماتی ہیں کہ جیسےہی آپکو دودھ چھڑایاگیاتوسب سےپہلاکلام جوآپکےزبان مبارک سےجاری ہوا،
وہ یہ تھے۔
*اللّٰهُ اَكٌبَركَبِيـٌرَا وَالٌحَمٌدُالِلّٰهِ حَمٌدًاكَثِيٌرًاوَسُبٌحَانَ اللّٰهِ بُكٌرَةًوَّاَصِيٌلَا۔*
(اخرجہ البیہقی عن عباس کذافی الخصائص جلد1 صفحہ 55)

*والدہ ماجدہ کا وصال*
جب آپ کی عمرشریف چار یاچھ سال کی ہوئی توحضرت آمنہ بنت وہب آپکو لیئےمدینہ سےواپس ہورہی تھی راستےمیں مقام ابواء میں ایک ریت کےٹیلےپر آپ کی طبیعت اچانک ناساز ہوتی ہےاور آپ کوعلم ہواجاتاہےکہ اب یہ آخری لمحئہ زندگانی ہے،سیدہ نےاپنےبیٹےمحمد *صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم* کےسرپردست شفقت پھیرا،اور کہاکہ بیٹاہرنئی چیزپرانی ہوجائےگی،اورہرباقی فانی ہوجائےگی،
*وذکرباق وولدت طہرا*
لیکن میراذکر نہیں مٹےگا،اس لیئےکہ تیرےجیساستھرابیٹاچھوڑکےجارہی ہوں،یہ آخری کلمات تھےسیدہ کہ اسکےبعد سیدہ اپنےخالق سےملاقات کےلیئےروانہ ہوجاتی ہیں،نبی اپنی والدہ کو کہتےہیں بولیئے مگرکیاکریں بولتاہوا چمن خاموش ہوگیا،لہلہاتاچمن سوکھ گیا، پھرسرکارنےوہیں تہجیزوتدفین کی،آپ یتیم الطرفین بن کےام ایمن کےساتھ مکہ تشریف لائے۔

*کفالت حضور*
پھرآپ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم داداکی کفالت میں آئے ابھی دوسال کاعرصہ گذرا نہیں تھاکہ پھرایک سائیباں سرسےغائب ہوگیا،پھرچچاکی کفالت میں آئےایک وقت ایسا آیا کہ وہ بھی داغ مفارقت دےگئے،اوراسی سال آپ کی شریک حیات ام المومینین کابھی وصال ہوگیا اس سال کانام *عام الحزن* دکھوں کاسال رکھا۔

*آپ کی ازواج مطہرات*
(1)حضرت خدیجہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا
(2)حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا
(3)حضرت عائشہ صدیقہ رضہ اللہُ تعالیٰ عنہا
(4)حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
(5)حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
(6)حضرت ام سلمہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا
(7)حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالٰی عنہا
(8)حضرت جویریہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
(9) حضرت ام حبیبہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا
(10)حضرت ام صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
(11) حضرت میمونہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا
یہ گیارہ ازواج ہیں!
ان گیارہ ازواج میں سے دو آپ صَلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَی٘ہ وَسَلَّم کی حیات میں ہی وفات پاگئیں تھی جن میں حضرت خدیجتہ الکبری بھی شامل ہیں۔
باقی نو آپکی وفات کےوقت موجود تھی۔۔۔واللہ اعلم

ازقلم
واثق علی رشیدی عرفانی
تاراباڑی پورنوی