بدھ, 5, اکتوبر, 2022

میری ماں!

خالدانورپورنوی 

ماں کے انتقال پرملال پر 2017میں یہ تحریرہم نے لکھی تھی،آج یہ تحریر نظرسے گذری،تو پھ ردل بے قرارہوگیا۔اللہ سب کی ماں کی عمردراز فرمائے،اور ان کاسایہ تادیرقائم ودائم رکھے۔آمین

دوڑا،دوڑا ٓئی سی یو کی طرف آیا،نرس نے اندرجانے کو کہا:ڈاکٹر صاحب نے دیکھتے ہی کہا :سوری ! گاڑی کاانتظام کرلیجئے ،سراب کیسی ہے ،امی جان؟۔۔اب وہ اس دنیامیں نہیں رہی،ایسالگا۔جیسے پاوں تلے زمین کھسک گئی،ساری تدبیریں پھیل ہوچکی تھیں،جس لفظ کو ہم سننانہیں چاہ رہے تھے،اور جس کے سننے کی ہمارے اندر طاقت نہیں تھی،مگر ہم سننے پر مجبورتھے کہ اب میری ماں اس دنیاسے ہمیشہ کے لئے رخصت گئی،اناللہ واناالیہ راجعون

صبح کے تقریبانوبج رہے تھے،گیارہواں مہینہ تھااور گیارہویں تاریخ بھی،اور ہفتہ یعنی سنیچر کادن تھا، مہاویرکینسرہاسپیٹل کے آئی سی یومیں امی جان ایڈمیٹ تھیں،معمول کے مطابق صبح کے سات بجے آئی سی یوکا دروازہ کھلا، ہمارے بھائیوں نے امی جان کوبرش کروایااور منہ ہاتھ دھلوایا،تھوڑٖی دیربعدہم نے دوائی منہ میں دی اور ناشتہ کے طورپردودھ پیش کیا،چہرہ ،شکل وصورت اور ان کی کیفیت سے یقیناوہ بہت زیادہ پریشان لگ رہی تھی،مگر ہم نے انہیں تسلی دی،اور آئی سی یو سے باہر آکر اپنے دل کو بھی سمجھاتارہا،ان شاء اللہ امی جان اچھی ہوجائے گی،کچھ دوستوں سے ہم نے یہی با ت کہی بھی،اور دعاء کی گذارش بھی کی،اس لئے کہ خون وغیرہ کی رپورٹ بہت اچھی آگئی تھی،مگر نیم بیہوشی کی جو کیفیت تھی ،اسے دیکھ کر کسی خیر کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی تھی،اسی کشمکش میں اور مختلف طرح کی الجھنوں میں ہم برآمدہ میں ٹہل رہے تھے،کسی نے اطلاع دی ،ڈاکٹر صاحب نے بلایاہے،دوڑا،دوڑآیا،تو یہاں ماجراہی کچھ اور تھا، دنیاکے جھمیلوں سے تھک ہارکرامی جان ہمیشہ کے لئے آرام کی نیدسوگئی تھی،جسے جگانااب ہمارے لئے ممکن نہیں تھا۔
موت کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں
تب جاکر کہیں تھوڑاساسکوں پاتی ہے ماں

ٹھیک ایک ہفتہ قبل،ہفتہ ہی کے دن پورنیہ سے ریفر کے بعدہم لوگ پٹنہ پہونچے تھے،اور مکمل ایک ہفتہ موت وحیات کی جنگ لڑتی رہی،اور ہفتہ ہی کے دن اس دنیاسے رحلت فرماگئیں،اس بیچ ہمارے دوستوں، خیرخواہوں،ہمدردوں،اور کرم فرمائوں کو اللہ جزائے خیردے، انہوں نے نہ صرف دعائے صحت کا اہتمام کیا،بلکہ ہر طرح کا تعاون بھی کیا،مہاویرکینسر اسپتال کے ڈائریکٹر سمیت،ڈاکٹروں کی پوری ٹیم نے اپنی پوری طاقت جھونک دی،وہ لوگ بولتے بھی تھے:یہ ہماراVIP PATIENT ہے،مگر وقت موعودآپہونچاتھا،اور ساری کی ساری تدبیریں دھری کی دھری رہ گئیں۔
آسمان تیری لحد پر شبنم افسانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

’’ماں‘‘ماں ہے ،بے پناہ محبت،پیار،قربانی ،جانفشانی،محنت،جدوجہد،صبر، درگذر،عزت اور عظمت کا نام ہے،دنیامیں ہر چیز کا متبادل ہے ،لیکن ماں ایک ایسالفظ ہے جس کا دنیامیں کوئی متبادل نہیں،ماں ایک ایسی ہستی ہے کا ئنات میں جس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی ہے ،دنیامیں کچھ نہیں ہے اگر ماں ہے تو سب کچھ ہے اور ساراجہاں ہے ؛ مگرماں نہیں ہے،تو کچھ بھی نہیں ہے،مادیت کے اس دور میں بھی اگر سراپاخلوص اور جذبۂ بے لوث دیکھنا ہوتو صرف ماں کی ممتامیں ملے گی،ایک قلم کیاحق اداکرسکتاہے ماں کا؟ان کی عظمت،منزلت،مرتبت کے لئے زندگی کے تمام دن ہی ناکافی ہیں۔

اگر بچہ ہنستاہے تو ماں ہنستی ہے ،وہ روتاہے تو ماں اس سے زیادہ تکلیف سے کراہ اٹھتی ہے ،اپنی خواہشات کیاہوتی ہے؟ ماں کو پتہ ہی نہیں،مگر بچوں کی خواہشات کیلئے اپنی زندگی کو دائو پر لگادیتی ہیں ،بچوں کی مستقبل کی فکر لئے محنت ومزدوری تک کرناکوئی عیب نہیں سمجھتی ہے ،ہم نے بھی دیکھاہے اپنی والدہ مرحومہ کو،ان کی محبتوں کو ، اور ہمارے بہتر مستقبل کے لئے ان کی فکرمندی کو،بیماری کے دنوں میں جبکہ وہ بہت زیادہ پریشان حال تھیں،ان کی تکلیف،درداور بے چینی کو دیکھ کر ہماری آنکھیں بھرآتی تھیں،مگر ان کی فکر اس بات پر تھی کہ میرے بچوں کا بہت زیادہ پیسہ بربادہوجائے گا،وہ کہتی تھیں میں جیسی بھی ہوں ؛مگر بچوں کا گھر تباہ ہوجائے گا ، اوہ ! کیاایسی ہی ماں ہوتی ہے،میں آج انہیں کیسے سمجھائوں کہ آپ نہیں ہیں تو کاغذ کے ان ٹکروں کی اہمیت ہی کیاہے؟
پھولوں کی خوشبو،پہاڑوں کی برسات ماں ہی تو ہے
مہک رہی ہے جس سے میری کائنات ماں ہی تو ہے
سچی ہیں جس کی محبتیں ،سچی ہیں جس کی چاہتیں
سچے ہیں جس کے پیار کے جذبات ماں ہی توہے

بیمار تو میری امی دوچار سالوں سے اکثر ہی رہتی تھیں،چونکہ وہ شوگر کا PATIENTتھیں،مگر کمزورولاغر ہونے کے باوجودچلتی،پھرتی تھی،گھر کا مکمل نظام،وہی سنبھالتی تھی،ہرچھوٹے،بڑے کام،مہمان نوازی،اور رشتہ داری نبھانے سے لے کر شادی بیاہ تک سب کچھ وہی کرتی تھیں،ہماری پڑھائی لکھائی سے لے کر یہاں تک پہونچنے میں انہی کا اہم رول رہا،وہ خود تو پڑھی لکھی نہیں تھی،مگر ہماری پڑھائی اور تعلیم کیلئے وہ بہت زیادہ کوششیں کرتیں ، زندگی میں طرح طرح کے موڑ آئے،مگر حالات اور سخت تھپیڑوں کے رخ کو موڑتی رہی،ہم اپنی تعلیم مکمل کرلیں ، اس کیلئے انہوں نے بڑی سے بڑی قربانیاں پیش کیں،ہم جیسے بھی ہیں،اور جس طرح بھی ہیں، مگر وہ ہمیں دیکھ کر بیحد خوش ہوتیں،اور لوگوں سے وہ کہتی تھیں:’’ہم نے تو اللہ سے انہیں مانگ کرلیاہے ‘‘۔

آج سے 6؍7؍سال قبل جب پختہ مکان کی طرف ہم لوگ منتقل ہونے لگے،امی جان!مٹی کے پرانے گھر کے برآمدہ میں بیٹھی ہوئی تھیں،دیوار امی جان پر گرگئی،اور وہ مٹی کے نیچے دب گئیں،بڑی مشکل سے انہیں باہر نکالاگیا،ان کی حالت یقینا دگرگوں ہوگئی تھی،مگر اللہ کو کچھ اور منظور تھا،اللہ نے انہیں صحت دی،مگر پھروہ شوگر کی patientہوگئیں،تین سال قبل ان کی طبیعت پھر بہت زیادہ بگڑ گئی،شوگر بڑھ گیا،بالکل نیم بیہوشی کی کیفیت تھی ، کمزوری حددرجہ بڑھ گئی،شایدوہ سوچی ہوگی کہ اب وہ دنیامیں نہیں رہے گی،مجھ سے کہنے لگی :تم بڑے ہو،تم سے سب ڈرتے ہیں ،سب کا خیال رکھنا،مگر الحمدللہ ،اللہ نے ان کو تندرستی دی،فرسٹ جولائی 2013میں میری شادی کروائی ،اور خوشی کی انتہااس دن ہوگئی جب اسی تاریخ فرسٹ جولائی 2014میں میرے گھر ایک بیٹی رحمت بن کرآئی،ان کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ سب سے چھوٹی بہن کی شادی ہوجائے،25مئی 2015 میں اللہ نے اس کی بھی تکمیل کرادی،اور اب آرام کا وقت تھا،وہ رہتی،بسے بسائے چمن کو دیکھ کر خوش ہوتی ؛مگر وہاں سے بلاواآچکاتھا،جہاں سب کو جاناہے۔

اس ایک ہفتہ میں اپنی ماں سے بہت کچھ سیکھااورسمجھا،ان کی برکتوں،رحمتوں،اوردعاؤں کودیکھا،جس کو لکھنے کی یہاں گنجائش نہیں،ہاں جب ایک دن وہ بہت زیادہ پریشان لگ رہی تھیں،اورسوالیہ نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھیں ،میں نے امی جان سے عرض کیا،میں آپ کے بعد آپ کی پوری ذمہ داری نبھاؤنگا،وہ یہ جواب سن کربہت خوش ہوئی ،اس کے بعد حج کاتذکرہ آیا،میں نے کہا:میں آپ کی طرف سے ان شاء اللہ حج بھی کرونگا ، تو کہنے لگی ہاں،تم ضرورکروگے اورمیں توہمیشہ دعاکرتی ہوں اللہ تم کوجنت نصیب فرمائے،کیااسی کوماں کہتے ہیں ، وہ خودجنت ہے،پھربھی جنت اپنی اولادکیلئے مانگ رہی ہے۔

دنیامیں محبت کے جتنے بھی رشتے ہیں ،سب اپنی محبت کی قیمت مانگتے ہیں،مگر ماں کا رشتہ دنیامیں ایک واحد رشتہ ہے ،جو اولاد سے محبت کے بدلہ میں کچھ نہیں مانگتی،وہ ایک دوست ہے جو کبھی بے وفانہیں ہوتی،ایک ایسا وعدہ جو کبھی ٹوٹتانہیں،ایک ایساخواب جو ہمیشہ تعبیر بن کر ساتھ رہتاہے،ایک ایسی محبت جو کبھی کم نہیں ہوتی ، ایسی پرچھائیں جو ہرمصیبت میں بچانے کیلئے ساتھ رہتی ہیں ،ایسی محافظ جو ہر ٹھوکر لگنے سے بچاتی ہے ، ایسی دعاء جو ہمیشہ اس کے لب پر رہتی ہے ،شاید اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جنت کو کسی عام عورت کیلئے نہیں ؛بلکہ مائوں کے قدموں کے نیچے رکھی ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوااور عرض کیا:حضور!سب سے زیادہ حسن سلوک کس کے ساتھ کروں؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’اپنی ماں کے ساتھ‘‘ اس شخص نے دوبارہ عرض کیا۔نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’اپنی ماں کے ساتھ‘‘ اس شخص نے پھر تیسری بار عرض کیاکس کے ساتھ؟ نبی کریمﷺنے پھر فرمایا: ’’اپنی ماں کے ساتھ‘‘اس شخص نے چوتھی بار عرض کیا تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’اپنے باپ کے ساتھ ۔ یعنی تین درجہ ماں کے ساتھ اور ایک درجہ باپ کے ساتھ۔ایک دفعہ نبی کریمﷺ حج کیلئے روانہ ہورہے تھے ، ایک صحابیص جن کی والدہ بیمار تھیں ،ان کی خواہش تھی کہ وہ بھی نبی کریمﷺ کے ساتھ حج کی سعادت حاصل کریں، آپ ﷺ نے سختی سے منع فرمادیااورکہا: ’’جائواپنی بوڑھی ماں کی خدمت کرو، تمہیں اس کا ثواب حج کے برابر ملے گا۔‘‘

ماں کی خدمت سے صرف ماں ہی نہیں ؛اللہ کی رضابھی حاصل ہوتی ہے ،جنت منتظر ہے ایسے لوگوں کی جو اپنی ماں کی خدمت عبادت سمجھ کرکررہے ہیں،وہ اولادیقیناخوش نصیب ہے جنہیں اللہ نے ماں کی دولت سے نوازاہے،انہیں چاہئے کہ اس دولت کی حفاظت کریں،اور قدربھی کریں،ورنہ ان سے پوچھئے جن کی مائیں اس دنیامیں نہیں ہیں:-
پیارکہتے ہیں کسے اور مامتاکیاچیزہے
کوئی ان بچوں سے پوچھے جن کی مرجاتی ہے ماں

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے