میرا منہج ہے صحابہ کی وکالت کرنا حافظ میر ابراھیم سلفی

63

عطا اسلاف کا جذب دروں کر
شریک زمرۂ لا یحزنوں، کر
خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں
مرے مولا مجھے صاحب جنوں کر

صحابہ کرام کسی وکالت کے محتاج نہیں اور نہ ہی کسی تعارف کے.صحابہ کرام کی شان تو رب ذوالجلال نے بلند فرمائی ہے.صحابہ کرام کی رفعت و عظمت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی.لیکن عصر حاضر میں صحابہ کرام کی وکالت کرنا ایک بنیادی مسئلہ بن گیا ہے.صحابہ کرام کا دفاع کیوں کیا جائے؟ اس سؤال کا جواب یہ ہوگا کہ صحابہ کرام کا دفاع اللہ تعالی کی بھی سنت مبارکہ ہے اور امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی سنت.صحابہ کرام پر اٹھنے والی انگلیاں درحقیقت ہماری شریعت پر ڈاکہ ڈالنا چاہتی ہیں.پورا دین جس راستے سے آکر ہمیں ملا وہ راستہ صحابہ کرام ہی ہیں.صحابہ پر تبرأ کرنے والا اصلاً قرآن کو نشانہ بنارہا ہے.صحابہ کی عصمت پر تنقید کرنے والا دراصل احادیث صحیحہ کو مشکوک بنارہا ہے.جس سند سے ہمیں یہ دین حاصل ہوا اس کی ابتداء بھی صحابہ اور انتہا بھی صحابہ کرام ہی ہیں.نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو عملی جامہ پہنانے والے یہی مقدس اور عظمت والی جماعت ہے.عقل پرست (liberals) جب بھی باطل تأویلوں کے ذریعے شرعی احکام کو ناقص باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں ،ان کا پہلا نشانہ صحابہ ہی ہوتے ہیں.صحابہ کرام اللہ کی وہ منتخب کردہ جماعت ہے جن کی ثناخوانی خود رب ذوالجلال نے فرمائی.عصر حاضر میں بعض نامنہاد مفکرین (اصلاً ملحدین) طلب شہرت اور طلب مال کی ہوس میں آکر اسی طیب جماعت کو داغدار کرنے کی ناپاک اور مذموم کوشش کررہے ہیں.صحابہ کرام ہی امام اعظم محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سعادت مند شاگرد گزرے ہیں.یہ وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل ہے.اس دین مبین کی حفاظت اور نشر و اشاعت کا فریضہ اسی بابرکت جماعت نے انجام دیا.تبھی تو ان سے محبت کرنا ایمان کا جزء و حصہ قرار پایا.حسرت ہے ایسے ملحدین پر جو اپنا سیاسی پروگرام مستحکم بنانے کی خاطر صحابہ کرام کی خلافت و نظم پر اپنی زبان و قلم کو آلودہ کررہے ہیں.تمام صحابہ محفوظ و مغفور ہیں اور رضی اللہ عنہم و رضو عنہ کے مستحق.اللہ نے انکو اپنی رضا عطا کی ہے.شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی بیان فرماتے ہیں کہ “پس اللہ کی طرف سے رضا قدیم صفت ہے ,اور اللہ صرف ایسے بندے سے راضی ہوتا ہے جس کے بارے میں جانتا ہے کہ وہ رضا کے آداب پورا ادا کرے گا,اور جس سے اللہ راضی ہوگیا اس سے کبھی ناراض نہیں ہوتا”.(الصارم المسلول)

علامہ البانی رحمہ اللہ نے السلسلة الصحيحة جلد ٥ ص ۴۴٦ کے تحط ایک روایت لائی ہے جسے شواہد کی بنیاد پر انہوں نے صحیح قرار دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “میرے صحابہ کو گالی مت دو ,جس نے انہیں گالی دی اس پر اللہ کی ,فرشتوں کی اور سارے لوگوں کی لعنت ہو,اللہ ایسے شخص سے نہ تو فرض قبول کرے گا نہ تو نفل”.صحابہ پر تبرأ کرنا,ان پر تنقید کرنا ,ان کی شان میں گستاخی کرنا ملعون فعل ہے. صحابہ کرام عادل ہیں اور ان پر جرح کرنا جائز نہیں ہے.اللہ عزوجل نے بندوں کے دلوں میں جھانک کر صحابہ کو چن لیا,انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وزیر بنا دیا.ان کی راہ اختیار کرنے پر ہدایت کا وعدہ کیا گیا.وہ دل کے کھرے,علم کے گہرے ,تکلف سے پاک اور راہ مستقیم پر گامزن تھے.ان سے محبت رکھنا دین,ایمان اور احسان قرار پایا جبکہ ان سے بغض رکھنا کفر ,نفاق اور سرکشی قرار دیا گیا.ابن الصلاح رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ “اس بات پر امت کا اتفاق ہے کہ تمام صحابہ کرام اور ان میں آزمائشوں میں مبتلا ہونے والے عادل ہیں”.(الحدیث والمحدثوں) .ان کی عدالت و ثقاہت کے بارے میں سؤال کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ اپنی زبانوں اور قلوب کو ان کے بارے میں محفوظ رکھا جائے گا.اللہ خالق کائنات نے ان کے لئے بخشش کی دعا کا حکم دیا ہے.صحابہ میں سے کسی ایک صحابی کی گھنٹہ بھر کی عبادت ہماری ساری زندگی کے عمل سے بہتر ہے.امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سؤال کیا گیا کہ “ابو بکر ,عمر اور عائشہ کو گالی دینے والا کیسا ہے؟”. تو انہوں نے جواب دیا کہ “میں نہیں سمجھتا کہ اسلام میں (باقی) ہیں”.(السنة للخلال) امام احمد رحمہ اللہ کا فتویٰ بھی ہے کہ “جب تم کسی آدمی کو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی کرتا دیکھو تو اسلام کے بارے میں اسے متہم قرار دو”. صحابہ کرام کے آپسی مشاجرات پر سکوت لازمی ہے.

بعض شرپسند عناصر کذب بیانی سے کام لیتے ہوئے موضوع اور منقطع روایات کے سہارے عظمت صحابہ کے خلاف کلام کرتے ہیں.سیدنا ربیع بن نافع حلبی رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ “اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ایک پردے کی حیثیت رکھتے ہیں,پس جب کوئی اس پردہ کو کھولنے کی کوشش کرتا ہے تو ماورائے پردہ کے متعلق وہ جری ہوجاتا ہے”.(البدایہ والنھایہ) برصغیر پاک و ہند میں یہ فتنہ دن بہ دن پروان چڑھتا ہوا نظر آرہا ہے.لیکن علماء حق اس فتنے کا تعاقب احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں جن میں,محقق العصر غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ تعالی, محقق العصر ڈاکٹر حافظ ابو یحیی نورپوری حفظہ اللہ تعالی اور قائد ملت علامہ ابتسام الہی ظہیر حفظہ اللہ تعالی صف اول میں کھڑے ہیں.سلف و صالحین کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ قرآن و سنت کی طرح اپنے اولادوں کو حب صحابہ سکھایا کرتے تھے.کبھی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی سیدنا عثمان ذی النورین رضی اللہ عنہ کو.بعض افراد تو یہاں تک گر جاتے ہیں کہ امہات المومنین رضی اللہ عنہن اجمعین کو بھی نہیں بخشتے.جان لو! صحابہ کرام ہمیں اپنے والدین سے زیادہ محبوب ہیں.امہات المومنین ہمیں اپنی ماؤں سے زیادہ پیاری ہیں .اہل ایمان اپنی نصبی ماں کے خلاف کچھ نہیں سن سکتے تو مومنوں کی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی توہین کیسے برداشت کرلیں.عظمت صحابہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا.علامہ ابتسام الہی ظہیر حفظہ اللہ کے عظیم الفاظ نقل کررہا ہوں ,فرماتے ہیں کہ “کیا جماعت اسلامی کے لوگ مولانا مودودی کو گالی سننا گوارا کرسکتے ہیں؟ کیا بریلوی مسلک کے لوگ مولانا نورانی کو گالی سننا گوارا کرسکتے ہیں؟ کیا دیوبندی مسلک کے لوگ مولانا مفتی محمود کی توہین کو گوارا کرسکتے ہیں؟ کیا اھل الحدیث مسلک کے لوگ علامہ شہید کی توہین کو گوارا کرسکتے ہیں؟ او جن کو اپنے موجودہ اکابرین سے اتنا پیار ہو کہ وہ ان کی توہین کو گوارا نہیں کرسکتے ,رب کعبہ کی قسم ہے ! ہم صدیق کی توہین کو بھی گوارا نہیں کرسکتے…. فاروق کی توہین کو بھی گوارا نہیں کرسکتے….ذی النورین کی توہین کو بھی گوارا نہیں کرسکتے….حیدر قرار کی توہین کو بھی گوارا نہیں کرسکتے…..مر تو سکتے ہیں لیکن عظمت صحابہ پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے”.(یا سبحان اللہ) ہائے……! یہ وہ معصوم کلیاں ہیں جنہوں نے اپنی خوشیاں,اپنا آرام,اپنی عیش و عشرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر نچھاور کردی.سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ سے کون واقف نہیں؟ اہل سیر نے لکھا ہے کہ “’مکے میں مصعب سے زیادہ کوئی حسین و خوش پوشاک اور پروردۂ نعمت نہیں تھا”.ان کی والدہ خناس بنت مالک ان سے شدید محبت کرتی تھی.اللہ تعالیٰ نے جہاں انہیں انتی نعمتوں سے نوازا تھا وہاں ان کے آئینۂ دل کو بھی نہایت صاف و شفاف بنایا تھا جس پر صرف ایک عکس کی دیر تھی.جب امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی صدا بلند کی تو مشرکین عرب طعنہ دینے لگے کہ محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کلام سنارہا ہے جس سے باپ اور بیٹے کے درمیان جدائی پیدا ہوجاتی ہے,بھائی’بھائی کا نہیں رہتا….لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت رشتوں کو جوڑنے کے لئے کی گئی نہ کہ توڑنے کے لئے…مسئلہ یہ ہے کہ توحید کا نور اور شرک کی ظلمات ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتی.مصعب نے اس صدا پر لبیک کہا اور گلشن اسلام میں قدم رکھا ,پھر کیا تھا …ماں کی محبت ..نفرت میں تبدیل ہوگئی,سارے ناز و نعم ختم ہو گئے,اور ’’مجرم توحید‘‘ کو قیدِ تنہائی کے مصائب و آلام کے حوالے کر دیا گیا.مصعب آلام و مصائب برداشت کرتا رہا اور کائنات گواہ ہے جب بندے کا دل نور توحید سے منور ہوجاتا ہے ,پھر یہ مصائب بھی رحمت بن کر گزرتی ہے.غزوہ احد میں علمبرداری کا شرف ان کو حاصل ہوا .اس جنگ میں ایک اجتہادی خطا نے جب فتح و شکست کا پانسہ پلٹ دیا اور فاتح مسلمان ناگہاں طور سے مغلوب ہو کر منتشر ہو گئے تو یہ علمبردار اسلام اس وقت بھی یکہ و تنہازغۂ اعدئ میں ثابت قدم اور ہمت آزما رہا کیونکہ پرچم توحید کو پیچھے کی طرف جنبش دینا اس فدائی ملت کے لئے سخت عار تھا۔ غرض اسی حالت میں مشرکین کے ایک شہسوار ابن قمیۂ نے بڑ کر تلوار کا وار کیا جس سے داہنا ہاتھ شہید ہو گیالیکن بائیں ہاتھ نے فوراً علم کو پکڑ لیا۔ اس وقت ان کی زبان پر یہ آیت جاری تھی,”وما محمد الا رسول——“.بالآخر ان کو شہید کردیا گیا …ان کی میت سے مخاطب ہوکر سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ,”میں نے تم کو مکہ میں دیکھا تھا جہاں تمہارے جیسا حسین و خوش پوشاک کوئی نہ تھا۔ لیکن آج دیکھتا ہوں کہ تمہار بال الجھے ہوئے ہیں اور جسم پر صرف ایک چادر ہے۔ بے شک خدا کا رسول گواہی دیتا ہے کہ تم لوگ قیامت کے دن بارگاہِ خداوندی میں حاضر رہو گے۔‘‘یہ منظر اس وقت درد کی انتہا کو پہنچا جن کفن دینے کا وقت آیا… سیدنا مصعب کی لاش پر صرف ایک چادر تھی، جس سے سر چھپایا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور پاؤں چھپائے جاتے تو سر کھل جاتا تھا۔ …(اللہ اکبر)

گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا

اہل علم جانتے ہیں کہ حب صحابہ عقیدہ کا مسئلہ ہے اور سلف تا خلف نے حب صحابہ کے متعلق مختلف کتب مرتب کیں.لیکن اس عظیم اور بنیادی مسئلے کو اتنا نظر انداز کردیا گیا کہ اب امیر المومنین فی الحدیث سیدنا ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کی ذات کو بھی نشانہ بناکر علم حدیث کے ایک بڑے خزانے سے امت کو محروم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے.کبھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ عہد نبوی میں بعض منافقین بھی تھے. یہ منطق ہی باطل و مردود ہے کیونکہ منافق صحابی نہیں ہوتا اور صحابی منافق نہیں ہوسکتا.شریعت کی اصطلاح میں صحابی اس کو کہتے ہیں جس نے ایمان کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہو یا امام اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک صحبت کا شرف حاصل کیا ہو اور اسی حالت میں وہ دُنیا سے رخصت ہو گیا ہو.غزوہ فکری وہ ہتھیار ہے جسے استعمال کرکے نوجوان ملت کو ان مقدس ہستیوں کے متعلق بدظن کرایا جارہا ہے.صحابہ کرام سنتوں پر اپنی جان نثار کرنے والے تھے.امام محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ نے السیرۃ کے اندر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خطبہ نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا “جب تک میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کروں تو میری اطاعت کرو,اور جب میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی (معاذ اللہ) نافرمانی کروں تو تم پر میری کوئی اطاعت (لازم) نہیں ہے”.(وسندہ حسن) انکے عقائد,انکی عبادات,انکے معاملات,انکا کاروبار,انکی سیاست قرآن و سنت کا عملی نمونہ تھی.وہ اصحاب تقویٰ ,اصحاب تزکیہ اور عظمت کردار کے مالک تھے.فرمان ربانی ہے کہ “محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں کفار پر سخت ہیں آپس میں رحم دل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع و سجود کر رہے ہیں اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی تلاش کرتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں میں سجدہ کا نشان ہے، یہی وصف ان کا تورات میں ہے، اور انجیل میں ان کا وصف ہے، مثل اس کھیتی کے جس نے اپنی سوئی نکالی پھر اسے قوی کر دیا پھر موٹی ہوگئی پھر اپنے تنہ پر کھڑی ہوگئی کسانوں کو خوش کرنے لگی تاکہ اللہ ان کی وجہ سے کفار کو غصہ دلائے، اللہ نے ان میں سے ایمان داروں اور نیک کام کرنے والوں کے لیے بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے”.(سورۃ الفتح)

منہج صحابہ حجت ہے اور اس سے انحراف کرنے والا ضلالت کے گھڑے میں دفن ہوجاتا ہے.قرون مفضلہ کی بشارت احادیث صحیحہ میں صراحت کے ساتھ موجود ہے.سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ “لن نضل ما تمسکنا بالأثر” یعنی “جب تک ہم اثر کو لازم پکڑے رہیں گے ہرگز گمراہ نہیں ہونگے”.(مختصر الحجتہ فی تارک المحجتہ) ایک خاص موقع پر امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھاتے پھر فرمایا: ”تارے بچاؤ ہیں آسمان کے، جب تارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی (یعنی قیامت آ جائے گی اور آسمان بھی پھٹ کر خراب ہو جائے گا) اور میں بچاؤ ہوں اپنے اصحاب کا جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں) اور میرے اصحاب بچاؤ ہیں میری امت کے جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے۔“(صحیح مسلم) جیسا کہ ایک شاعر نےکہا……..

ہیں مثل ستاروں کے مری بزم کے ساتھی​
اصحاب کے بارے میں یہ فرمایا نبی نے​

طلاب العلم پر لازم ہے کہ وہ سلف و صالحین کی کتب کا مطالعہ کریں جو عقائد کے باب میں لکھی جاچکی ہیں تاکہ اس فتنے کا خاتمہ جلد از جلد ممکن ہوسکے….اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے دلوں کو صحابہ کی محبت اور عظمت سے بھردے اور انکے فہم و منہج پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عنایت فرمائے…..آمین یا رب العالمین.