مکہ مکرمہ میں امیر شریعت حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ علیہ کے حق میں دعائیہ وتعزیتی نششت کا انعقاد

65

مکہ مکرمہ میں امیر شریعت حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب رحمہ اللہ علیہ کے حق میں دعائیہ وتعزیتی نششت کا انعقاد
4 /اپریل بروز اتوار بعد نماز عشاء(رپورٹ: عطاء اللہ قاسمی،مکہ مکرمہ)
حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب علیہ الرحمہ (جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لاء بورڈ، امیر شریعت امارت شرعیہ بہار،اڑیسہ و جھاڑکھنڈ، سجادہ نشیںخانقاہ مونگیر ) کے انتقال پر ملال پر مکہ مکرمہ میں أم القری یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالرس طلبہ ہندو نیپال کی جانب سے ایک دعائیہ و تعزیتی نششت کا انعقاد کیا گیا،
حضرت مولانا ولی رحمانی رحمہ اللہ ، رد قادیانیت کے سرخیل ،بانی دارالعلوم ندوۃ العلماء حضرت مولانا علی مونگیری کے پوتے، اور عظیم مجاہد آزادی ،امیر شریعت رابع حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی کے فرزند ارجمند تھے ، آپ خانوادہ رحمانی کے گل سر سبد، تصوف و سلوک کے امین و محافظ، جامعہ رحمانیہ مونگیر کے ناظم تھے،
عصر حاضر میںآپ ایک منفرد شخصیت کے حامل تھے، جہاں ایک طرف آپ زبان وقلم، خطابت وسیاست، فہم وفراست، صلاح وتقوی سے مزین، تصوف وسلوک کے رمز سناش، اور حقیقی معنوں میں اسم با مسمی ولی صفت عالم دین تھے، وہیں آپ نے ملک وملت کے لئے بے شمار کارنامے انجام دیئے ،جن میں رحمانی- 30 کا قیام آپ کا ایک عظیم کارنامہ ہے، جو یقینا ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ان خیالات کا اظہار اس تعزیتی نشست میں کیا گیا۔
نشست کا آغاز رات 10.بجے ہوا،آدھے گھنٹہ تک تلاوت قرآن کا اہتمام کیا گیا، اس کے بعدحاضرین نے مولانا مرحوم سے متعلق اپنی خوشنما یادوں اور ان کی زندگی کے مختلف پہلؤں پر روشنی ڈالی،
تمہیدی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نعمت اللہ ناظم نے مولانا مرحوم کا مختصر تعارف کرایا اور ان کی اہم دینی، دعوتی، ملی اور تعلیمی خدمات کا تذکرہ کیا،نیز گلستان رحمانی سے اپنے خوانوادے کے پرانے تعلقات کی طرف اشارہ بھی کیا ،آپ نے کہاکہ حضرت مولانا محمد قاسم مظفرپوری نوراللہ مرقدہ اور میرے والد محترم جناب حافظ محمد ناظم رحمانی سے مولانا مرحوم کے بہت اچھے مراسم تھے ، اسی نسبت سے امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی اور خود مولانا ولی رحمانی کئی بار گھر پر بھی تشرف لائے، اس موقعے پہ انہوں نے اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا جیسی جامع صفات و کمالات کے حامل شخصیت کا ملنا بظاہر مشکل نظر آرہا ہے،
آپ نے کہا کہ مولانا کی شخصیت ایک عظیم مفکر، مدبر،صاحب قرطاس وقلم، فن خطابت کا جادوگر،سیاست کے وادی کا شناسا اور قوانین ہند پر گہری نگاہ رکھنے والا، حق گوئی و بے باکی میں اپنے تمام ہم عصروں میں فائق، ہزار صلاحیتوں کا حامل،فرد میں انجمن کا صحیح مصداق تھی،اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ہندوستان کے مسلمانوں کو ان کا نعم البدل دے۔
ڈاکٹر ابو البقاء محمد علی ندوی نے مولانا کے انتقال کو ایک ایسا عظیم ملی خسارہ قرار دیا جس کا پر ہونا بظاہر مشکل نظر آرہا ہے،انہوں نے مولانا علیہ الرحمہ سے 1993 ء میں دارالعلوم ندوہ العلماء کے زمانہ طالب علمی میں ایک ملاقات اور عباسیہ ہال میں مولانا کی پر مغز وپرلطف تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ حضرت مولانا کو گویا میں دیکھ رہا ہوں، انہوں نے دوران تقریر جیب سے 5 یا 10 کا ایک نوٹ نکال کر زمین پر گرایا اور پھر طلبہ سے سوال کیا بچوں آپ بتاؤ یہ نوٹ جو زمین پر گرا ہوا ہے اسے ہم کیسے اٹھائیں گے؟، ظاہر ہ ہے کہ ہ اس کیلئے ہمیں جھکنا پڑیگا، اس مثال سے آ پ نے سمجھایا کہ ہمیں بھی کسی چیز کے حصول کیلئے جھکنا پڑیگا، آپ طالبعلم ہیں لہذا حصول علم کیلئے ادارہ کے سامنے، وہاں کے انتظام وانصرام کے سامنے، اساتذہ و ذمہ داران کے سامنے آپ کو جھک کے رہنا پڑیگا تب ہی جاکر آپ کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔
مفتی شاہد حسین قاسمی ریسرچ اسکالر جامعہ ام القری، نے مولانا سے دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلی بار حضرت کو دارالعلوم دیوبند کی سجاد لائبریری کے ناظم اعلی کی حیثیت سے سجاد لائبریری کے سالانہ پروگرام میں مدعو کیا تھا اور دار الحدیث کی عظیم پرشکو عمارت میں مولانا کے پرمعز خطاب سے مستفید ہونے کا موقع ملا تھا، اسکے بعد بارہا مولانا سے ملاقات رہی، ہمیشہ مولانا نے شفقت ومحبت کا اظہار کیا ،خانقاہ رحمانی مونگیر بھی جانا ہوا تو وہاں بھی حضرت ن کی ذرہ نوازی دیکھنے کو ملی۔
مفتی شمیم صاحب قاسمی ریسرچ اسکالر جامعہ ام القری نے مولانا کے وفات پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کی طبعیت کے بارے میں پل پل کی خبریں مل رہی تھیں، لیکن ڈ رسا لگا ہوا تھا، بالآخر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا ، موت وحیات مقدر ہے، لیکن ظاہری اسباب کو دیکھیں تو کرونا ویکسن کے بعد ہی مولانا سنبھل نہ سکے اور علم وعمل، سیاست و خطابت، تقوی وسلوک کی جامع عظیم شخصیت ہم سے ہمیشہ کیلئے جدا ہو گئی۔اللہ سے دعا گوں ہو کہ حضرت کو اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے۔
مفتی کلیم صاحب قاسمی (ماجستیر دعوہ اسلامیہ) نے اپنے تعزیتی کلمات میں کہا کہ مولانا عظیم خانودہ سے تعلق رکھتے تھے،وہ اپنے آباؤ اجداد کے علم وہنر، فہم وفراست کے امین تھے، اللہ تعالی نے آپ کو بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا، ان کی خوبیاں اور کمالات وھبی بھی تھیں، اور کسبی بھی، وہ عابد وزاہد فی اللیل، و مجاہد فی النہار جیسی عظیم صفات سے متصف تھے، عام لوگوں کی طرح جامد اور خشک مزاج نہیں تھے، ان کی شخصیت ہشت پہلو شخصیت تھی، زبان و قلم کے بھی شہسوار تھے، اور قائدانہ صفت ایسی کہ ان کا مخالف بھی اس امر کو تسلیم کرتا تھا، اللہ تعالٰی اپنے فضل و کرم سے انہیں غریق رحمت کرے، اور امت مسلمہ ہندیہ کو ان کا نعم البدل عطاء فرمائے۔
اس تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عطاء اللہ قاسمی(ریسرچ اسکالر ام القری یونیورسٹی) نے کہا کہ حضرت مولانا سے مجھے ملاقات کا شرف پہلی بار ۲۰۱۰ ء میں المعھد العالی الاسلامی حیدرآباد میں ملا، آپ فقہ اکیڈمی کے ایک پروگرام میں تشریف لائے تھے، مولانا سے وہی پہلی اور آخری ملاقات تھی، المعہد العالی میں مولانا نے اپنے خطاب کے درمیان ایک واقعہ سنایا تھا جو آج دس سال بعد بھی لفط بلفظ میرے سینوں میں محفوظ ہے،مولانا نے اپنی تقریر کا یہ واقعہ ذکر کیا تھا کہ جب (ر حمانی- 30) کا قیام عمل میں آیاتو اسکے کچھ دنوں بعد ایک پروگرام ہوا ، اس میں عصری علوم کے ماہرین کو بلایا گیا، بعض ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے اس کو خوب سراہا اور بعض نے علماء کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوے کہا”چلو کسی مولوی کو اللہ نے توفیق تو دی یہ شعبہ بھی سنبھالے”
مولانا نے اپنی بے باکی اور حکیمانہ انداز میں ان کو یوں جواب دیا کہ،،سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹنے پائے،
مولانا اس پر تبصرہ کرتے ہوے اپنی تقریر میں کہنے لگے اسکے بعد پھر کسی نے مولانا ،مولوی کو اپنی تنقید کا نشانہ نہ بنایا،
سامنے والا بھی مثقف اور سمجھدا رتھا، اس نے بھی باتوں کو بھانپ لیا، باتوں باتوں میں اسکو جواب بھی مل گیا اور مولوی کے خلاف زہر افشانی کے لئے منہ بھی بند ہوگیا،یہ بات وہی کہ سکتا ہے ، جس کے اندرعلوم دینیہ میں گہرائی اور غیرت کے ساتھ ساتھ جرأت ایمانی ہو،۔
پروگرا م میں موجود مولانا مسبح اللہ قاسمی نے اپنے علاقہ بیگو سرائے کے علاقوں اور دیہا توں میں مولانا کا فیض اور زمینی سطح پر مولانا کی خدمات پر روشنی ڈالی اور مولانا کے انتقال پر غم اظہار کیا، ساتھ ہی مولانا نظام الدین محی الدین نے بھی مولانا سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوے کہا میں چشمہ فیض ململ میں مولانا مکین احمد رحمانی اور مہتمم مولانا وصی احمد صدیقی سے رحمہما اللہ سے بارہا مولانا کے متعلق سنتا رہا، مولانا خاص وعام میں جس قدر مقبول تھے، اسکا تصور ناممکن ہے ،وہ اہنے فیصلہ ہر اٹل رھتے تھے، اور بڑی بے باکی سے اپنی رائے رکھتے تھے، اور اس پر پتھر کی طرح جم جاتے۔
پروگرا کا اختتام قاری و مفتی سالم صاحب قاسمی مقیم مکہ مکرمہ کی پر سوز دعاؤں پر ہوا،مشارکین میں مولانا فیروز صاحب قاسمی (ماجستیر) مولانا عرفان الحق فیاض الحق، (ماجستیر) مولانا نظام الدین مقبول ندوی، اور مولانا عبد الباسط مفتاحی، مولانا ساجد ندوی اور اور جامعہ الملک عبد العزیز جدہ کے ایک طالبعلم اسد اللہ ندوی بھی شریک تھے۔
اخیر میں شرکاء نے ڈاکٹر نعمت اللہ ناظم کا شکریہ ادا کیا کہ کہ انہوں نے اس تعزیتی پروگرام کی تنسیق کی اور شاندار ضیافت کا اہتمام کیا، اللہ تعالی انہیں اس کا شایان شان بدلہ عطا فرمائے۔