ہفتہ, 8, اکتوبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتمکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بارے میں چندباتیں_

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بارے میں چندباتیں_

مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی

۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں مقدس شہر ہیں ، ان کے بارے میں بار بار طرح طرح کی خبریں شائع ھوتی رھتی ہیں جبکہ حرمین شریفین کی وجہ سے یہ دونوں شہر مقدس ہیں ، مکہ مکرمہ میں اللہ کا مبارک گھر کعبہ ھے ، یہ پہلا گھر ھے جو اللہ کی عبادت کے لئے بنایا گیا ھے ،تو مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ھے ،جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قابل احترام روضہ ھے ،دونوں شہروں میں اھم اھم آثار و شعائر بھی ہیں ،اس طرح دونوں شہروں سے مسلمانوں کا مذھبی رشتہ ھے ،اور ہر مسلمان کے دل میں ان کے متعلق عزت و احترام کا جذبہ پایا جاتا ھے ،
ملک عرب کی تاریخ سے یہ بات واضح ھوتی ھے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ بھی مکہ شہر کا احترام کرتے تھے ،مسلمانوں کے دور میں اس میں مزید اضافہ ھوا ، جہانتک مدینہ کی بات ھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہاں ہجرت کے بعد آپ ص نے اس شہر کو بھی حرم قرادیا ، تاریخ کی کتابوں سے پتہ چلتا ھے کہ ترکی خلافت تک ان دنوں شہروں کا تقدس برقرار رہا ،انہوں نے اس کے تقدس کا پورا پورا احترام کیا ،مگر موجودہ حکومت کے زمانہ میں طرح طرح کی خبریں آرہی ہیں ،مکہ مکرمہ اور اس کے گرد نواح میں شہر دجال بسانے کی خبر آئی ،ریاض اور جدہ میں سنیما گھر اور لڑکیوں کے کبڈی یا کھیل میچ کی خبر آئی ،اب یہ خبر آئی ھے کہ مدینہ منورہ میں 10/ سنیما ہال بنائے جائینگے ، یہ سب خبریں یقینا تشویشناک ہیں ،اور اس پر ردعمل کا آنا فطری ھے ،البتہ ایسے موقع پر اس کی بھی ضرورت ھے کہ ان خبروں کی کیا حقیقت ھے ؟ اس کی تحقیق کی جائے کہ یہ خبریں صحیح ہیں کہ غلط ؟ ابھی مدینہ منورہ میں سینیما ہال بنانے کی بات عالم اسلام کے ایک موقر عالم دین حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب کے ٹیوٹر کے حوالہ سے وائرل ھوئی ھے ،لیکن اخبار ،ٹی وی یا کسی دوسرے ذرائع ابلاغ میں یہ خبر نہیں آئی ،اور نہ خود ان کا کوئی ردعمل سامنے آیا ،اور نہ کسی پڑوسی ملک میں اس پر کوئی ردعمل دیکھنے میں آرہا ھے ،اس لئے اس کی ضرورت ھے کہ اس طرح کی خبروں کی تحقیق کی جائے ،اگر خبر صحیح نہیں ھے تو پھر اس سلسلہ کو بند کیا جائے ،اور اگر خبر صحیح ھے تو ہماری غیرت ایمانی کا تقاضہ ھے کہ ھم اس کے لئے جو مناسب ھو وہ کریں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین راستے بتائے ،ایک یہ کہ اگر کوئی منکر کو دیکھے اور اس میں روکنے کی طاقت ھو تو طاقت سے روک دے ،دوسرا یہ کہ اگر روکنے کی طاقت نہ ھو تو زبان سے سمجھائے ،تیسرا یہ کہ اگر اس کی بھی طاقت نہ ھو تو دل سے برا سمجھے ،اور یہ کمزور ترین ایمان ھے ، اس حدیث کا تقاضہ ھے کہ ھم حسب استطاعت کام کریں اس کے لئے بہتر طریقہ پر امن احتجاج درج کرانا ھے ،اگر خبر صحیح ھے تو کوئی بھی شخص اپنے اپنے اعتبار سے ملک کے قانون کے دائرے میں رھتے ھوئے احتجاج درج کرا سکتا ھے ،وہ مندرجہ ذیل ہیں
(1) سعودی حکومت کے سفارت خانہ میں میمورنڈم پیش کرکے اظہار ناراضگی کی جائے ، اور اس عمل سے باز آنے کا مشورہ دیا جائے (2) اگر افہام و تفہیم سے کام نہ چلے ،تو مزید دباؤ بنانے کی کوشش کی جائے (3) اگر اس سے بھی کام نہ چلے ،تب اعزازات کی واپسی پر غور کیا جائے ، (4) اگر اس سے بھی کام نہ چلے تو دل میں برا سمجھنا ،یہ تو آخری درجہ ھے
گروپ میں بہت سے صحافی ،دانشور اور معلومات رکھنے والے علماء موجود ہیں ،ان سے اپیل ھے کہ اس پر توجہ دیں اور یہ بتائیں کہ اس خبر کی کیا حقیقت ھے ؟ اگر خبر صحیح ھو تو ملک کے قانون کے دائرہ میں رھتے ھوئے ملک کی راجدھانی دہلی کے علمائے کرام اور دانشوران عظام اور ملی تنظیموں کے قائدین کی پہلی ذمہ داری ھے وہ آپس میں صلاح و مشورہ کریں ، اور سعودی حکومت کے نمائندے کے پاس وفد لے کر جائیں ، میمورنڈم پیش کریں اور مسلمانوں کے پاکیزہ جذبات سے واقف کرائیں ، اور وہاں سینیما ہال یا غیر شرعی کاموں کے لئے کوئی بھی تقریب منعقد کرانے سے باز رکھنے کے لئے کوشش کریں ،اللہ تعالی کامیابی عطا کرے

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے