موہن بھاگوت کا بیان: زمین پر کتنا درست، کامران خان نئ دہلی

62

موہن بھاگوت کا بیان: زمین پر کتنا درست،
کامران خان
نئ دہلی

مکرمی:راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (سنگھ) کے سربراہ موہن راؤ بھاگوت نے مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ‘خوف کی زندگی’ سے نکلنا چاہیے اور یہ نہ سوچنا چاہیے کہ ہندوستان میں اسلام خطرے میں ہے۔ کیونکہ ہندوستانیوں کا ڈی این اے عام طور پر ایک جیسا ہے۔ بھاگوت نے یہ بھی کہا کہ ہندتوا کا ایجنڈا لینچنگ اور قتل کے خلاف ہے۔ بھاگوت نے یہ خیال مسلم راشٹریہ منچ کے ایک پروگرام میں غازی آباد (4 کلائی) کو بیان دیا۔ سب کے سامنے ایک کتاب لاتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ مذہب اور کھانے کے فرق کے باوجود ہندوستانی صدیوں سے ساتھ رہتے آٸے ہیں۔ بھاگوت کے ان خیالات کو الگ الگ ترازو میں تولا گیا۔ کچھ نے اچھا کہا اور کچھ نے صرف بیان بازی ۔لیکن یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ یہ صرف ہماری مشترکہ ورثہ کو دکھاتےہیں۔ اب ایسا لگتا ہے کہ سنگھ کے سربراہ کو اتحاد کی ضرورت سمجھ میں آنےلگی ہے تاکہ ملک خوشحال ہو سکے۔ حالیہ برسوں نے مذہبی جنونیت میں تبدیلی دیکھی ہے جس کی وجہ سے اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات کے ساتھ ساتھ اسلاموفونیا اور سماجی تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا ہے۔ گائے ذبیحہ کے نام پر لنچنگ اورمسلمانوں کو ہندوؤں کے لیے خطرہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کی زندگی مشکل ہو گئی ہے ، جس کی وجہ سے ان کو سیاسی اور سماجی بائیکاٹ ملنا شروع ہو گیا ہے۔اس لحاظ سے دیکھا جاۓ تو بھاگوت کا بیان درست ہے کیونکہ سماجی اتحاد امن اور ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ بھاگوت نے یہ بھی کہا کہ ہمارا ملک جمہوری ہے (جہاں ہندو یا مسلمان ایک دوسرے سے اوپر نہیں ہو سکتے۔ یہ بیان مذہبی اتحاد ، اتحاد اور رواداری کو بھی فروغ دیتا ہے جو آئین میں دیا گیا ہے۔ ہندوستانی مسلمان بھی اس نقطہ نظر سے سمجھتے ہیں کہ سماجی دوری ان کی ترقی میں معاون نہیں ہو سکتی۔ یہ بات کو ہندوؤں کو سمجھنا چاہیے اور انہیں دھمکی اور جارحیت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ ہندوستانی سماج کو اس بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور سماجی فاصلے کو کم کرنا چاہیے۔