مولانا ڈاکٹر عبدالمتین اشرف کی تعلیمی، ادبی وملی خدمات۔ محمد شاہد محمودپوری

104

مولانا ڈاکٹر عبدالمتین اشرف کی تعلیمی، ادبی وملی خدمات۔

محمد شاہد محمودپوری

مولانا ڈاکٹر عبدالمتین اشرف عمری مدنی کی ولادت 5اگست 1963ء کو ویشالی ضلع کے جنداہا بلاک کے تحت مردم خیز بستی مرادآباد میں ہوٸی تھی۔ آپ کے والد بزرگوار کا نام شمس الضحیٰ بن مولوی عبدالقادر اور والدہ کا نام بتول النساء تھا۔ جوایک مہذب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی ابتداٸی تعلیم وتربیت اپنے دادا مولوی عبدالقادر کے زیرسایہ ہوٸی تھی۔ بعد ازاں مرادآباد گاوں واقع سرکاری اردو پراٸمری اسکول سے استفادہ کیا۔ اور اعلیٰ تعلیم جامع دارالسلام عمراآباد سے حاصل کیا۔ مزید دینی تعلیم مدینہ یونیورسیٹی سعودی عربیہ سے مکمل کیا۔ اور عربی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پیشہ وارانہ تعلیم کے تحت آپ نے بی ایڈ کیا۔ تعلیمی فراغت کے بعد آپ کی شادی ماسٹر محمد ظہیرالدین موضع محمد پور گنگٹی بلاک چہرا کلاں ضلع ویشالی کی صاحبزادی شمیمہ خاتون سے ہوٸی۔ جن سے تین بیٹیاں بشریٰ اشرف، حبی اشرف، طوبیٰ اشرف اور دو بیٹے خالد اشرف و شاہد اشرف ہیں۔ سب سے پہلے آپ نے اپنی خدمت مدرسہ اشرف العلوم موضع مرادآباد کو دیا۔ اس مدرسہ کا قیام 1980ء میں ہوا تھا۔آپ متعدد تنظیم اور ادارہ سے منسلک تھے۔ جن میں خاص طور سے جمیعت اہل حدیث ہند، جامع اصلاحیہ سلفیہ پٹنہ اور مدرسہ دارالتکمیل مظفرپور وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ آپ کی پہلی تقرری اردو استاد کی حیثیت سے 2007میں پٹنہ ضلع کے باڑھ ہاٸی اسکول میں ہوٸی تھی۔ پھر جب 34540 زمرہ کی بحالی شعبہ تعلیم کی جانب سے ہوٸی تو آپ کی تقرری بھی گورمنٹ مڈل اسکول بہارشریف میں ہوگٸی۔ اس کے بعد تبادلہ ہوکر مڈل اسکول دانا پور پٹنہ میں تقرری ہوٸی۔ آپ نے مختصر مدت کی ملازمت میں ہی اپنی قابلیت، اعلیٰ اخلاق وشریں زباں کے باعث نہ صرف اسکول کے اساتذہ کرام بلکہ طلبا و طالبات اور علاقہ کے اردو طبقہ کو اپنا گرویدہ بنایا۔ ایک اچھے اور کامیاب استاد میں جو اوصاف ہونا چاہیٸے موصوف میں درجہ اتم موجود تھا۔ آپ اعلیٰ سیرت و کردار کے مالک تھے۔ آپ کے اندر احساس ذمہ داری و فرض شناسی کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ آپ ایک مردم شناسی شخص تھے۔ آپ کے اندر قوت فیصلہ کی پوری صلاحیت موجود تھی۔ آپ غیر جانبدار اور بے تعصبی کے مالک تھے۔ آپ طلبا سے عدل و انصاف اور مساوات کا سلوک کرتے تھے۔ طعن وتشنیع کے بجاٸے خلوص وہمدردی سے پیش آتے تھے۔ آپ اصول و ضوابط کے گہرے پابند تھے۔ آپ کے وضع قطع میں سادگی تھی۔ آپ بچوں کی نفسیات سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔ آپ کے اندر علمی لیاقت وزبان دانی کی صلاحیت بہت زیادہ تھی۔ آپ کو تعلیمی تجربہ، مطالعہ ومشاہدہ کا شوق شروع سے ہی تھا، آپ پڑھائی لکھائی میں سادہ وسلیس زبان استعمال کرتے تھے، آپ کے اندر جدید تعلیم ونفسیاتی تعلیم کی واقفیت تھی۔ اور مزید نٸے نٸے طریقہ تعلیم اپنانے کی صلاحیت موجود تھی۔ موصوف کو صحیح تدریسی طریقہ سے سبق دینے پر قدرت حاصل تھی۔ اور ان کی ملی خدمات قابل تعریف رہی ہے۔ آپ کو حج و عمرہ کی سعادتیں بھی نصیب ہوٸی تھی۔ آپ کی وفات ملازمت کے دوران ہی 23اپریل 2021مطابق 10رمضان بروز جمعہ کو ہوٸی۔ ان کی آخری رسومات ان کے حالیہ سکونت عالم گنج پٹھان ٹولی پٹنہ میں ادا کی گٸی۔ ان کے جنازہ کی نماز مرحوم موصوف کے نسبتی بھاٸی مولانا محمد طاہرحسین نے پڑھاٸی۔ اور پرنم آنکھوں سے عالم گنج پٹھان ٹولی قبرستان میں سپرد خاک کیے گئے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ مرحوم کے نیک اعمال کوقبول فرماٸے۔ اور جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطافرماٸے۔ آمین