مولانا ڈاکٹر عبدالقادر شمس قاسمی* _مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی

58

مولانا ڈاکٹر عبدالقادر شمس قاسمی*
_مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ_
ایک سال ہو گیے، تاریخ 25/ اگست 2020ء کی تھی، جب بھری دوپہر میں ”شمسؔ“ غرب ہو گیا تھا، غروب کے اس المناک کرنباک اور دردناک منظر کا گواہ بنا تھا، ہمدرد یونیورسٹی کا مجیدیہ ہوسپیٹل، وقت تھا کوئی گیارہ بجے کا مولانا عبد القادر شمس قاسمی کے اعز واقرباء،جان سے عزیز بھائی مولانا عبد الواحد رحمانی، سب منہہ دیکھتے رہ گیے اور موت کے فرشتے نے اپنا کام کر لیا، وہ یکم اگست سے ہی بیمار چل رہے تھے، پہلی نماز جنازہ ہمدرد یونیورسٹی کے احاطہ میں ادا کی گئی، امامت مولاناشمس تبریز قاسمی ملت ٹائمز نے کی، دوسری نماز جنازہ ان کے وطن ثانی اور نانی ہالی گاؤں ڈوبا ضلع ارریہ میں ان کے بھائی مولانا عبد الواحد رحمانی کی امامت میں ادا کی گئی اور مقامی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی، تہہ خاک آرام فرما ہونے کی تاریخ تھی، 26/ مئی 2020ء۔
مولانا عبد القادر شمس قاسمی بن مولانا عبد الرزاق ؒبن علیم الدین کی پیدائش ان کے نانی ہالی گاؤں (جہاں ان کے والد نے بود وباش اختیار کر لی تھی) ڈوبا ارریا میں ہوئی،سال 1972ء کاتھا، ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں ہوئی، یہاں انہوں نے اپنے نانا حاجی اولاد حسین کے علاوہ حافظ محمد اسماعیل ؒ، مولانا عبد الرحیم ؒ، منشی نظام الدین ؒ وغیرہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا، ابھی حیات مستعار کی آٹھ بہار ہی دیکھ چکے تھے کہ جرائم پیشوں نے 1976ء میں ان کے والد کو شہید کر دیا، اس طرح زندگی یتیمی کے سائے میں آگئی، با حوصلہ ماں صالحہ خاتون نے بیوگی کے باوجودمولانا اور ان کے چھوٹے بھائی مولانا عبد الواحد رحمانی اور تین بیٹیوں کی بہترین تعلیم وتربیت اور پرورش وپرداخت کا انتظام کیا، ثانوی تعلیم کے لیے مدرسہ دا رالعلوم ڈوریا سونا پور میں داخل ہوئے، وہاں سے جون پور مدرسہ قرآنیہ جامع مسجد گئے، عربی پنجم تک کی تعلیم وہیں پائی، وہاں سے دار العلوم دیو بند جانا ہوا، جہاں اور عربی ششم میں داخلہ لے کر1989ء میں دورہئ حدیث کی تکمیل کی، رغبت عصری تعلیم کی طرف بھی تھی، اس لیے دیو بند سے واپسی کے بعد الشمس ملیہ کالج میں انٹرمیں داخل ہوئے، یہیں سے بی اے بھی کیا، دوران تعلیم ہی مثالی میڈل اسکول ارریہ میں تدریس کے فرائض انجام دینے لگے، جس سے تھوڑٰ ی یافت ہونے لگی، جب ملی کونسل کا قیام عمل میں آیا تو مولانا اسرار الحق صاحب کی قربت نے انہیں ملی کانسل سے قریب کر دیا، قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ؒ کی نگاہ التفات ان پر پڑ گئی، چنانچہ وہ آل انڈیا ملی کونسل بہار کے مرکزی دفتر ایفا بلڈنگ پھلواری شریف منتقل ہو گئے، اس زمانہ میں مفتی نسیم احمد قاسمی ؒ ملی کونسل بہار کے جنرل سکریٹری اور میں سکریٹری ہوا کرتا تھا، یہ دوسری میقات کا دور تھا، مولانا عبد القادر شمس ملی کونسل کے ترجمان کے طور پر1995ء سے ملی کارواں نکالنے لگے،جو 1998ء تک جاری رہا، جس سے ان کے لکھنے پڑھنے کے ذوق کو جلا ملی، قاضی صاحب کے حکم سے آپ دہلی منتقل ہو گیے، ملی کارواں بند ہو گیا، اس کی جگہ ملی اتحاد جاری ہوا، تو مولانا عبد القادر شمس اس کے سب ایڈیٹر مقرر ہوئے، اور 1998ء سے 2003ء تک اس حیثیت سے کام کیا،مولانا اسرار الحق قاسمی ؒ کے عملا ملی کونسل سے کنارہ کش ہونے اور قاضی صاحب کے انتقال کے بعد انہوں نے3/ مئی 2003ء کو عالمی سہارا جوائن کر لیا، پھر راشٹریہ سہارا میں آگئے، سہارا سمیے پر بھی تھوڑا وقت دیا کرتے، نئی نسلوں کی صحافت کے حوالہ سے تربیت کرتے، اسی درمیان انہوں نے پروفیسر اختر الواسع کی نگرانی میں الموسوعۃ الفقہیہ کویت پر تحقیقی کام کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی، اس کے قبل وہ جامعۃ ملیہ سے ایم اے اور جے ان یو سے ماس میڈیا میں ڈگری لے چکے تھے، انتقال کے وقت ان کا شمار دہلی کے نامور مسلم صحافیوں میں ہوتا تھا۔ وہ تمام ملی تنظیموں سے جُڑے ہوئے تھے ان کے کام آیا کرتے تھے، لیکن کسی سے بھی رکنیت اور ملازمت کا تعلق نہیں تھا۔
مولانا عبد القادر نے عمرتو مختصر پائی، لیکن عجلت پسند واقع ہونے کی وجہ سے پل پل جیا اور خوب کام کیا،انہوں نے مولانا محمد عارف قاسمی شیخ الحدیث مدرسہ حمیدیہ پانولی گجرات کی رفاقت میں اپنے گاؤں میں کئی تنظیمی، تعلیمی اور رفاہی منصبوں کو زمین پر اتارا، جامعہ دعوۃ القرآن، عبد الغفور میموریل ہوسپیٹل، دعوت پبلک اسکول ان کے گاؤں ڈوبا میں اسی رفاقت کی یادگار ہے، ارریہ شہر میں دعوۃ کمپیوٹر سنٹر بھی کام کر رہا ہے، 2017ء میں سیلاب متاثرین کے لیے پورا ایک گاؤں انہوں نے ریلیف فنڈ سے تعمیر کروادیا۔
وہ دہلی کی طرح اپنے علاقہ میں بھی معروف ومقبول تھے۔
میری ان سے ملاقات 1993ء سے تھی، پٹنہ اور دہلی میں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری تھا، ان سے مل کر خوشی ہوتی اور ان کی ترقیات دیکھ کر دل کو فرحت اور سکون ملتا ان کی زندگی ہر دم رواں پیہم دواں تھی، اکسیڈنٹ کی وجہ سے پاؤں میں تکلیف تھی، وہ کئی مہینے صاحب فراش رہے تھے، لیکن عزم وحوصلہ جواں تھا، اس لئے سب کو جھیل جاتے، درد والم کو بھی اور بھانت بھانت کے لوگوں کو بھی، جب 25/ اگست کو وہ دنیا سے سدھارے تب اندازہ ہواکہ ہر کام میں ان کو اتنی عجلت کیوں تھی، شاید انہیں احساس تھا کہ وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے، آنکھ بند ہوجاتی ہے، کام باقی رہ جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے پس ماندگان میں ایک لڑکا، اہلیہ اور تین لڑکیوں کو چھوڑا ہے، لڑکا ندوی بھی ہے قاسمی بھی اور عصری علوم کا رمز شناش بھی، اللہ کرے کہ وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چل کر ان کے خواب شرمندہ تعبیر کرنے کا ذریعہ بن جائے، اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، اور پس ماندگان کو صبر جمیل، خصوصا ان کے بھائی مولانا عبد الواحد رحمانی کو جن کے لیے سب کچھ مولانا عبد القادر شمس ہی تھے، اب نہ دادی ہال میں کوئی بچا ہے اور نہ نانی ہال میں کوئی ہے، والدہ بھی بیٹے کے غم میں چل بسیں، لیکن قادر مطلق موجود ہے، ہر وقت اور ہر جگہ ہے، عبد القادر کے پس ماندگان کو قاد رمطلق کا سہارا بہت ہے، اللہ بس باقی ہوس۔(بشکریہ نقیب)