مولانا ولی رحمانی عظیم خانوادے کے عظیم فرزند تھے ـ آن لائین تعزیتی نششت میں علماء وخواص کا زبردست خراج تحسین

88

ممبئی ۵ اپریل آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے ممبئی میں مقیم اراکین کی جانب سے امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات پر ایک آن لائین تعزیتی نششت منعقد ہوئی جس میں ممبئی واطراف کے علماء وخواص کے ساتھ حضرت کے صاحبزادے جناب فہد رحمانی اور امارت شریعہ کے کئی بڑے ذمہ داران نے بھی شرکت کی ـ

حضرت کے فرزند فہد رحمانی نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ ہم نے حضرت کے کام کرنے کے انداز کو قریب سے دیکھا ہے، ہم ملت اسلامیہ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم امیر شریعت کے نقش قدم پر چلیں گے، جو ذمہ داریاں وہ ہمارے سپرد کرکے گئے ہیں پوری جان لگا کر ان کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے، فہد رحمانی نے تمام حضرات سے اس سلسلے میں تعاون کرنےکی درخواست بھی کی ـ

امارت شریعہ بہار، اڑیسہ و جھارکھنڈ کے نو منتخب نائب امیر شریعت مولانا شمشاد قاسمی رحمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امیر شریعت کی پوری زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے، آخری دم تک قوم ملت کی فلاح کے لئے سرگرم رہے، پرسنل لا بورڈ، امارت شریعہ، خانقاہ رحمانی اور رحمانی فاونڈیشن اور دیگر تنظیموں میں بھی آپ نے انقلابی کام کیا ہے ـ مدارس کے ساتھ ساتھ آپ نے اسکول، ڈگری کالج، اسپتال اور ٹکنکل کالج بھی قائم کئے، ان کو استحکام بخشا ـ واضح رہے کہ آخری علالت سے محض دس روز قبل حضرت مولانا ولی رحمانی نے مولانا شمشاد کو نائب امیر شریعت نامزد کیا تھا ـ

امارت شریعہ کے قاضی القضاۃ مولاناقاضی انظار قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے امارت شریعہ، دارالقضاء اور جامعہ رحمانیہ کے سلسلے میں امیر شریعت کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امیر شریعت نے دارالقضاء کے سلسلے میں اپنے والد گرامی حضرت مولانا منت اللہ رحمانی کے خواب کو پورا کیا ہے، بہار اڑیسہ اور جھاڑکھنڈ ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں جگہ جگہ پرسنل لاء بورڈ کے تحت دارالقضاء قائم کرائے، قاضیوں کی تربیت کا نظام قائم کیا تاکہ کہیں بھی قاضیوں کی قلت سامنا نہ کرنا پڑے، امارت شریعہ کو مزید استحکام بخشا، بہار اڑیسہ اور جھارکھنڈ کے جن اضلاع میں امارت کی شاخیں نہیں تھی وہاں شاخییں قائم کروائیں، خانقاہ میں مریدین و متوسلین کے لئے بہتر انتظامات فرمائے ـ

مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے مولانا ولی رحمانی کے عظیم خانوادے ان کے والد مولانا منت اللہ رحمانی اور ان کے دادا کی خدمات کو ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مولانا ولی رحمانی سادات کے اسی عظیم خاندان کے عظیم فرزند تھے، ان کے خاندان کا سلسلہ سلطان المشائخ عبدالقادر جیلانی سے ہوتا ہوا حضور تک پہونچتا ہے ـ مولانا نعمانی نے کہا کہ امیر شریعت کو اللہ نے بے پناہ بصیرت سے نوازا تھا، انھیں پہلے سے حکومتوں کی بد نیتی کا اندازہ ہوجاتا ہے اور وہ پوری جرات اور ہمت کے ساتھ حکومتوں کے سامنے اپنا موقف پیش کرتے تھے، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے لئے ان کی خدمات آپ زر سے لکھی جائیں گی ـ

میٹنگ کی نظامت کرتے ہوئے علماء کونسل کے جنرل سکریٹری اور پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا محمود احمد خاں دریابادی نے کہا کہ امیر شریعت کی شخصیت ہمہ جہت اور جامع کمال تھی، انھوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں گرانقدر خدمات انجام دی ہیں اور اپنے تابندہ نقوش چھوڑے ہیں، آر ٹی ای کے نام سے لازمی حق تعلیم کا قانون ہو یا جی ٹی سی کے تحت تمام مذہبی امور میں براہ راست تیس فیصد ٹیکس وصول کرنے کا حکومتی قانون، ان دونوں قوانین کی خطرناکی کو سب سے پہلے حضرت نے ہی محسوس کیا اور ان کے خلاف بورڈ کی قیادت میں زبردست تحریک چلائی بالاخر حکومت کو ان میں ترمیم کرنی پڑی، اسی طرح اوقاف کے قانون میں ترمیم کرانے میں مولانا ولی رحمانی کی ہی کوششوں کا دخل ہے، تین طلاق اور بابری مسجد معاملات میں بھی آپ کی زبردست کوششیں رہیں، کڑوڑوں مسلم خواتین کے اجتماعات ہوئے، خواتین نے مسلم پرسنل لاء کی حمایت میں دستخط کئے جو حکومت کے اعلی ترین ذمہ داروں کو پیش کئے گئے ـ یہ الگ بات کہ ظالم حکومت کی منمانیوں کی وجہ سے بظاہر کامیابی نظر نہیں آئی ـ

پرسنل لا بورڈ کے قانونی مشیر یوسف مچھالہ نے کہا کہ مولانا ولی رحمانی ایک زبردست قائد تھے، ان کے اندر بے پناہ صلاحیتیں تھیں بعد والوں کو ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیئے ـ

اسی طرح اہل تشیع کی نمائندگی کرتے ہوئے مولانا علی حیدر اصغری نے کہا کہ مولانا ولی رحمانی اتحاد امت کے داعی تھے، ان کے اندر سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بے پناہ صلاحیت تھی، ان کی کمی دیر تک محسوس کی جائےگی ـ جماعت اسلامی حلقہ مہاراشٹرا کے نائب امیر مولانا الیاس فلاحی نے امیر شریعت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ان چھوڑے ہوئے کاموں کو ان بعد آنے والے اسی طرح آگے بڑھاتے رہیں گے ـ صوبائی جمیعۃ اہل حدیث کی نمائندگی کرتے ہوئے مولانا عبدالجلیل سلفی نے کہا کہ آج کے حالات میں امت کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے، مولانا ولی رحمانی نے اِنھیں کوششوں میں اپنی ساری زندگی لگادی، ہم سب کو بھی اسی سمت میں اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہیٰیے ـ

جمیعۃ علماء مہاراشٹرا کے جنرل سکریٹری مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ مولاناولی رحمانی کو اللہ نے وسعت نظر سے نوازا تھا، ملت کے لئے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، جمیعۃ علماء کے ناظم تنظیم مفتی حذیفہ قاسمی نے مولانا رحمانی کے عالی خاندان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سادات کا یہ گھرانہ ملتان سے مظفر نگر اور وہاں سے کانپور آکر بسا تھا، مولانا کے دادا مولانا محمد علی مونگیری اپنے مرشد مشہور بزرگ حضرت مولانا فضل الرحمان گنج مرادابادی کے حکم پر مونگیر آگئے تھے جہاں قادیانی مقامی مسلمانوں کا ایمان خراب کررہے تھے، حضرت مونگیری نے وہاں مدرسہ اور اپنے شیخ کے نام پر خانقاہ قائم کی اور ان ہی کی کوششوں سے علاقے میں قادیانیت کا قلع قمع ہوا، مولانا ولی رحمانی کے والد اور خود انھوں نے اس خانقاہ ومدرسہ کو سنبھالا اور ترقی دی ـ

مشہور انگریزی صحافی وجیہہ الدین نے کہا کہ عموما حکومتں مسلمانوں کو ٹکنکل تعلیم کے نام پر محض آئی آئی ٹی انسٹیٹوٹ قائم کرکے بہلا دیا کرتی تھیں، مگر حضرت امیر شریعت نے امارت شریعہ کے تحت آئی ٹی آئی کالج قائم کرکے قوم کو نیا راستہ دکھایا ـ انھوں نے مولانا کی دیگر خدمات کا ذکرکے بھی زبردست خراج تحسین پیش کیا ـ

میٹنگ سے خطاب کرنے والوں ڈاکٹر ظہیر قاضی، ڈاکٹر عظیم الدین، ڈاکٹر سلیم خان حافظ اقبال چوناوالا، سلیم الوارے اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کی خاتون رکن سمیہ نعمانی بھی شامل تھیں ـ میٹنگ میں مفتی سعید الرحمن فاروقی مولانا برہان الدین قاسمی، فرید شیخ، اسلم غازی، مفتی عبدالباسط، مولانا کریم الرحمان، قاضی مطیع الرحمن، مولانا نصرالباری، عبدالحسیب بھاٹکر اور بورڈ خاتون رکن عاملہ مونسہ بشری عابدی وغیرہ.بھی شریک تھے ـ

بصیرت ٹی وی اور مولانا طہ جونپوری کے تعاون سے یہ میٹنگ یو ٹیوب پر نشر کی گئی ـ