مولانا نذر الحفیظ صاحب ندوی ازہری ۔چند یادیں چند باتیں محمد قمر الزماں ندوی

85

مولانا نذر الحفیظ صاحب ندوی ازہری ۔چند یادیں چند باتیں

محمد قمر الزماں ندوی
دگھی ،مہگاواں گوڈا ، جھارکھنڈ

میرے جیسے ہزاروں کے مربی ،مشیر اور استاد , دار العلوم ندوة العلماء لکھنؤ میں شعبہ عربی کے صدر ، حضرت مولانا محمد احمد پرتاپ گڑھی صحبت یافتہ و حضرت مولانا علی میاں ندوی رح کے فیض یافتہ و تربیت یافتہ ارباب ندوہ کے معتمد اور مغربی میڈیا جیسی شہرئہ آفاق کتاب کے مصنف ،علم وعمل کے جامع ادیب و انشا پرداز جناب مولانا نذر الحفیظ صاحب ندوی ازہری آج 28/مئی 2021ء عین جمعہ سے قبل اللہ کو پیارے ہوگئے اللہ تعالٰی حضرت کی بال بال مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے آمین
جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آب بقائے دوام لا ساقی

  • آپ کا تعلق سرزمین بہار کے ضلع مدھوبنی کے مردم خیز قصبہ ململ سے تھا ۔آپ کے والد ماجد مولانا محمد احمد رح کے مرید اور تربیت یافتہ تھے اور پرتاب گڑھ سیٹی کے مدرسہ میں تعلیمی خدمت انجام دیتے تھے ۔مولانا نذر الحفیظ صاحب کا تعلق مولانا پرتاپ گڑھی سے بچپن ہی سے تھا ۔مولانا کی پیدائش 1939ء میں ململ میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم اور حفظ کی تعلیم پرتاپ گڑھ سیٹی میں ہوئی ۔پھر ندوہ میں اعلی تعلیم کے لیے داخل ہوئے، عربی اول فضلیت تک مکمل تعلیم ندوہ میں ہوئی ۔ 1962ء میں عالمیت اور 1964ء میں فضیلت کی ڈگری حاصل کی، اور پھر مادر علمی ندوہ ہی میں پہلے بحیثیت استاد ثانویہ آپ کی تقرری ہوئی ۔کچھ سالوں کے بعد 1975ء حضرت مولانا علی میاں ندوی رح کی ایماء پرجامع ازہر شریف مصر اعلی تعلیم کے لیے گئے اور 1982ء تک وہاں قیام رہا ،علوم شرعیہ میں مہارت حاصل کی اور انعام و توصیف سے بھی نوازے گئے ۔واپس آکر پھر ندوہ میں تدریسی خدمت میں پوری دلجمعی کے ساتھ لگ گئے اور ہزاروں شاگرد تیار کئے ۔جامع ازہر سے آپ نے بی اے ۔۔ اور ایم تک کی تعلیم حاصل کی ۔ایم اے میں آپ کے مقالے کا عنوان تھا الزمخشری کاتبا و شاعرا ۔ایم اے کے بعد آپ نے پی ایچ ڈی میں داخلہ لیکن مشرف کے بیرون ملک چلے جانے کی وجہ سے اس کی تکمیل نہ ہوسکی ۔اور آپ کو مجبورا قاہرہ ریڈیو میں وقتی طور پر ملازمت اختیار کرنی پڑی ۔
    آپ کے مشہور اساتذہ میں مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاں ندوی رح ،شیخ التفسیر مولانا محمد اویس نگرامی ندوی رح مولانا ابو العرفان خان ندوی رح مولانا محمد ایوب اعظمی رح مولانا اسحاق سندیلوی رح
    مولانا عبد الحفیظ بلیاوی رح ۔مولانا تقی الدین ندوی۔مظاہری مولانا مفتی محمد ظہور صاحب ندوی رح اور مرشد الامہ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی مد ظلہ العالی مولانا سعید الاعظمی ندوی ہیں ۔
    آپ کے ساتھیوں اور معاصرین میں چند کے نام یہ ہیں ۔ مولانا عبد النور صاحب ندوی ازہری رح ( جو ازہر میں بھی آپ کے ساتھ تھے اور ندوہ میں بھی پڑوس میں رہے ) مولانا شمس الحق ندوی صاحب مولانا شفیق خاں ندوی صاحب مولانا محمود الازہار ندوی صاحب مولانا تقی الدین فردوسی صاحب مولانا شفیق الرحمن ندوی رح وغیرہ
    آپ کے مشہور شاگردوں میں چند نمایاں حضرات یہ ہیں ۔مولانا سید سلمان حسینی ندوی ۔مولانا سجاد نعمانی ندوی مولانا شکیل اعظمی ندوی حال مقیم بحرین مولانا خالد غازی پوری ندوی مولانا سعید الرحمن فیضی ندوی کناڈا مولانا یعقوب ندوی مولانا عبد العزیز بھٹکلی ندوی مولانا سلیم اللہ ندوی
    مولانا اکرم ندوی ڈاکٹر فہیم اختر ندوی ڈاکٹر طارق ایوبی ندوی وغیرہ
    آپ کی مشہور زمانہ کتاب مغربی میڈیا اور اس کے اثرات ہے ،جس کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی اور اب تک اس کے دسیوں ایڈیشن ہند و پاک سے شائع ہوچکے ہیں ۔اس کتاب کا تقریباً چھ زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے ۔اس کے علاوہ أپ کے سیکڑوں علمی تحقیقی اور ادبی مقامات و مضامین ہیں جو مجلوں میں شائع ہوچکے ہیں ۔آپ کو کئی ایوارڈ بھی مل چکے ہیں ، مصر کے قیام میں ایک عالمی مسابقہ قرآن ہوا تھا جس میں آپ اول انعام کے حق دار ہوئے تھے ۔یہ انعام حج بیت اللہ کی شکل میں تھا ۔اس انعام کو آپ اپنی زندگی کا سب قیمتی سرمایہ خیال کرتے تھے ۔2002ء میں آپ کو عربی زبان و ادب کی خدمت پر صدر جمہوریہ ایوارڈ ملا ۔جو أپ نے اس وقت کے صدر عزت مأب جناب اے پی جی عبد الکلام کے ہاتھوں حاصل کیا ۔اس موقع پر آپ نے ان کے سامنے ندوہ کا بھی تعارف کرایا اور ان کو ندوہ آنے کی دعوت دی ۔2005ء میں آپ کی خدمات کے اعتراف میں آپ کے اہل وطن نے اور وہاں کے اہل علم و دانشوروں نے مجاہد آزادی محمد شفیع بیرسٹر کے نام سے موسوم شفیع بیرسٹر ایوارڈ سے نوازا
    مولانا نذر الحفیظ صاحب ندوی میرے ضابطے کے استاد نہیں تھے ، سوء اتفاق کے میرے سیکشن میں کبھی ان کے گھنٹے نہیں رہے، لیکن وہ میرے محبوب مربی اتالیق اور مشیر تھے ،میری تحریر کے قدر دانوں میں تھے ہمت افزائی کرتے تھے ،مجھے بہت عزیز رکھتے تھے ۔کوئی اہم بات ہوتی یا کوئی واقعہ ندوہ میں پیش آتا تو کبھی کبھی خود ہی فون کر دیتے تھے ،میں شرم سے پانی پانی ہو جاتا اور معذرت کرنے لگتا یہ ان کا بڑا پن اور اعلیٰ ظرفی تھی ۔وہ میری زود نویسی اور مستقل مزاجی کی تعریف کرتے اور دوسروں سے بھی اس کا تذکرہ کرتے ۔ان کی اچانک انتقال کی خبر سن کر طبیعت پر بہت اثر ہے ۔
    باقی کل ملاحظہ کریں ۔