مولانا محمد علی کی پگڑی

152

مولانا محمد علی کی پگڑی
گذشتہ جمعہ مورخہ ۹/اپریل ۲۰۲۱ءکو خانقاہ رحمانی مونگیر کے چوتھے سجادہ نشیں حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی کی دستاربندی ہوئی ہے ۔موصوف کےسرپرقطب عالم فاتح قادیانیت اور بانئ ندوہ حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمہ اللہ علیہ کی پگڑی باندھی گئی ہے۔دیکھنےیہ میں محض ایک رسم ہے،درحقیقت ایک مشن کی یاددہانی ہے۔جس کی ابتدا صاحب دستار نے کی ہے،پھردوسرےسجادہ نشیں خانقاہ رحمانی حضرت مولانا منت اللہ رحمانی رحمہ اللہ علیہ نےاسی پر اپنی عمر تمام کی ہے،ابھی تیسرے سجادہ نشیں مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ علیہ کا وصال ہواہے، تعزیت کا سلسلہ ہنوزجاری ہے،ہم میں ہرکوئی حضرت مولانا مرحوم ومغفورکو سچی خراج تحسین پیش کرناچاہتا ہے،ہربزم میں عقیدت ومحبت کے پھول نچھاور کرتا ہے اور اپنا کلیجہ بھی نکال کر سامعین کے سامنے رکھ دیتا ہے،مگراس پگڑی کی تاریخ سےعدم واقفیت کی وجہ کرسچی خراج عقیدت پیش نہیں کرپارہا ہے،یہاں بھی رسمی انداز اپنا رہا ہے جو مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ علیہ کے شایان شان نہیں ہے۔
حضرت مونگیری رحمہ اللہ علیہ کے مشن کو سمجھے بغیر مفکراسلام حضرت مولانا ولی رحمانی رحمہ اللہ علیہ کے مشن کوپورا کرنے کا عزم لینا بیکار ہے اور بے سود ہے،وہ اس لئے بھی کہ آپ کا مشن تو وہی ہے جسکی ابتدا آپ کے دادا قطب عالم مولانا محمد علی مونگیری رحمہ اللہ نے کی ہے، سر پر بھی یہی پگڑی باندھی گئی تھی اور آپ اسی مشن کو آگے لے جانے اور شباب پر پہونچانے کے لئے تاعمرکوشاں رہے ہیں، اور کامیابی بھی آپ کے قدم بوس ہوئی ہے ۔دور سے دیکھنے والوں کے لئے مولانا ولی رحمانی رحمہ اللہ علیہ کےکام بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں ،قریب سے دیکھیئے تویہ آباء واجداد کی مکمل پیروی اور تقلید ہے۔روایتی کام سے۰ ہٹ کروقت وحالات کے موافق امت اسلامیہ ہند کی مکمل رہبری اور رہنمائی کا اجتہادی کارنامہ یہ آپ کے آباءواجداد کی سیرت رہی ہے۔ والدگرامی قدر حضرت مولانا منت اللہ رحمانی کے بعد آپ نے مولانا محمدعلی مونگیری رحمہ اللہ علیہ کی پگڑی کو اپنے سر پر رکھ کر اس مشن میں بڑی انوکھی کاوشیں کی ہیں ۔حضرت مونگیری کا مشن کیا ہے؟ اس پر گفتگو اگر دارالعلوم ندوہ العلماء سے شروع کی جائے تو بات بآسانی خانقاہ رحمانی مونگیر تک پہونچ جاتی ہے، اوراس کے لئےکسی تمہید کی ضرورت نہیں پڑتی ہے ۔ملک ہند میں جہاں ہم اور آپ سکونت پذیر ہیں، اس دھرتی کو ہم نے اپنے خون جگر سے سینچا ہے،باوجود اس کے علمائے کرام کے تعلق سے یہاں یہ خیال اس وقت پیدا ہوگیا تھا کہ علماءکرام اس وقت حجروں میں معتکف ہیں ۔حضرت مولانا محمد علی مونگیری رحمہ اللہ علیہ کمر بستہ ہوئے،آپ نے اس خیال کا عملی جواب دیا ہے، اور یہ دارالعلوم ندوہ العلماء کی بنیادہے،اس ادارہ نے ہمیشہ عالمینی گفتگو کی ہے،یہاں سے ایسے جیالے پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے عالم اسلام اور اقوام عالم کی رہنمائی کی ہے،آج اندرون ملک و بیرون میں ہر جگہ اورہرمحاذ پر علمائے کرام کی ایک جماعت نظر آرہی ہے، ہرشعبہ حیات میں ان کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے ، انکی مضبوط حاضری لگ رہی ہے بلکہ نمائندگی ہورہی ہے۔یہ قطب عالم مولانا مونگیری رحمہ اللہ علیہ کے بھی مرہون منت ہے، مزےکی بات تو یہ ہے کہ اس کے معا بعد ہی بانی ندوہ نےخود کو ایک حجرہ( خانقاہ رحمانی مونگیر )میں معتکف بھی کرکے دنیا کوحیران بھی کردیا ہے ،اور یہ تسلیم کرنے پر مجبور کردیا ہے کہ ایک عالم جب کسی حجرہ میں معتکف ہوتا ہے تو وہ پورے عالم پر چھاجاتا ہے،بقول جگر:
ع ۰۰۰وہ مجھ پہ چھاگئے میں زمانے پہ چھا گیا
ضلع مونگیریہ قادیانیت کی تبلیغ کا مرکز بن گیا تھا، 1901ء میں ایک خانقاہ کی بنیاد ڈالی گئی، اوریہ الہامی خانقاہ خانقاہ رحمانی میں بدل گئی، یہ صالحیت وصلاحیت کا مرکز بن گئی،قادیانیت کی یہاں سے بیخ کنی ہوئی،یہاں کاجوان بھی پیر ومرشد بنتاچلا گیا، ننھا پودا بھی تناور درخت میں تبدیل ہوتا گیا،یہاں سے شروع ہونے والا ایک چھوٹا سامکتب بھی جامعہ کہلایا، قبولیت ومقبولیت کا ہر خاص و عام نے دونوں آنکھوں سے مشاہدہ کیا، حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ علیہ کے زمانے میں جامعہ رحمانی کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوگیا،ایک خانقاہی مدرسہ عالم اسلام کی سب سے بڑی یونیورسٹی جامعہ ازہرمصر سے جاکر ملحق ہوگیا، مصر کے علمائے کرام یہاں آکر درس و تدریس کا فریضہ انجام دینے لگے اور یہاں کے فارغین کا داخلہ بغیر ٹیسٹ کے جامعہ ازہر مصر میں ہونے لگا۔ آج جب آپ نہیں ہیں تو آپ کی جانشینی آپ کےفرزندارجمند کے حوالہ کی جارہی ہے مگر سر پر پگڑی آپ کےدادا قطب عالم کی باندھی گئی ہے، مقصود یہی باور کرانا ہے ہم سبھوں کاوہی مشن ہے جوبانی خانقاہ کا مشن ہے،یہ خالص اجتہادی کوششوں سے عبارت ہے، وقت اور حالات کے پیدا شدہ نت نئے مسائل کا اسمیں حل ہے،اور ملک وملت کی ہر محاذ سے نمائندگی کا راز اسمیں مضمر ہے،کبھی ادارہ سے یہ کام لیا گیا ہے تو کبھی خانقاہی نظام سے اسے تام کیا گیا ہے، حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ علیہ اپنے باپ دادا کے بہتر جانشین ہیں، آپ نے اسی خانقاہ کے نام پر 1996ءمیں فاونڈیشن کا قیام کیا ہے،جسے ہم سبھی رحمانی فاونڈیشن کے نام سے جانتے ہیں، یہاں سے آپ نےعصری اداروں کے قیام پر اور عصری تعلیم کی طرف اپنا زور زیادہ صرف کیا ہے،2005ءمیں رحمانی تھرٹی کے ذریعے سینکڑوں غریب طلبہ کو ملک کے اعلی مناصب پر پہونچانے کا کام کیا ہے،ووکیشنل کورس، اسٹڈی سینٹر کا جال بچھا دیا ہے، بہار کے دس اضلاع میں طالبات کے ووکیشنل کورس کے ذریعے مضبوط نظام تعلیم دیا ہے، مونگیر میں ایڈ کالج کا قیام عمل میں لایا ہے،یہ آپ کے کام وخدمات دراصل اسی پگڑی کی آپ نے لاج رکھی ہے جو مولانا محمد علی مونگیری کی آپ کے سر پر ڈالی گئی تھی، وقت وحالات کا مقابلہ آپ نے عصری تعلیم کے ذریعے کیا ہے،اس وقت اور ان حالات میں انہیں کی امت اسلامیہ ہند کو شدید ضرورت ہے،یہی رحمانی مشن ہے،اسطور پر آپ واقعی اپنے آباء واجداد کے بہتر جانشین ہیں۔
آج آپ کے فرزند ارجمند جناب حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی کے سر پر محمد علی مونگیری رحمہ اللہ علیہ کی پگڑی دیکھ کر ہم سبھی انہیں مبارکباد دیتے ہیں، اور امید ہے کہ آپ بہتر جانشینی کا حق ادا کریں گے، اور نعم البدل ثابت ہوں گے، اللہ کے یہاں کچھ بھی مشکل نہیں ہے، اور یہ شعر نذر کرتے ہیں:
عمر گزری ہے اس دشت کی سیاحی میں
پانچویں پشت ہے شبیر کی مداحی میں
ہمایوں اقبال ندوی
جنرل سکریٹری ،پورنیہ کمشنری
تنظیم ابنائے ندوہ ریاست بہار
رابطہ، 9973722710