مولانا محمد صابر حسین ندویؔ کی تازہ ترین تصنیف “دانائے سبل” کا اجراء:

141

۱۲/جنوری ۲۰۲۱)جامعہ ضیاءالعلوم کنڈلور: خوشی و مسرت کا بڑا دلکش مقام تھا جب آج بروز منگل بعد نماز ظہر استاد جامعہ ضیاء العلوم کنڈلور مولانا مفتی محمد صابر حسین ندوی کی تازہ ترین سیرت النبی پر مشتمل کتاب بنام “دانائے سبل” کا جامعہ ہذا کی مسجد میں اجراء عمل میں آیا، جس میں جامعہ کے سبھی اساتذۂ کرام نے شرکت فرماکر مصنف کو خوب تہنیت و مبارکبادی پیش فرمائی۔*
*اس موقعہ پر جامعہ کے استاذ الفقہ مفتی فیاض احمد محمود برمارے حسینی مدظلہ العالی نے مصنف کو داد تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا: دنیا کی عظیم ترین شخصیت کی سیرت سے متعلق قلم کو حرکت دینا یہ عمل ذریعۂ نجات ہے، نیز فرمایا کہ نبئ اکرم کی ہر ادا مثالی اور أسوہ ہے جس سے متعلق ہر امتی کو پڑھنا اور جاننا حددرجہ ضروری ہے۔* *دوسری طرف جامعہ کے استاذ التفسیر والادب حضرت مولانا محمد الیاس صاحب ندوی دامت فیوضہم نے بھی مبارکباد پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری پوری زندگی تعلیمات نبوی کے مطابق و موافق ہونی چاہئے، نیز “یقیں محکم’ عمل پیہم’ محبت فاتح عالم” کی تشریح کرتے ہوئے نبوی عقیدت سے متعلق بنیادی باتیں ارشاد فرمائیں۔*
*بعدہ مصنف سے کچھ گفتگو کی درخواست کی گئی، حمد وثناء کے بعد انہوں نے سب سے پہلے بارگاہ ایزدی میں عاجزی و انکساری کی اور شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ اتنی بڑی شخصیت سے متعلق لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی یہ رب کریم کا احسان و فضل ہے، نیز کتاب سے متعلق باتیں بتاتے ہوئے فرمایا کہ جس انسان کی زندگی سیرت نبئ رحمت سے خالی ہو اس کی زندگی ہر اعتبار سے ناکام ہے، گویا وہ ایسا ہے جیسے کہ اس کی زندگی ہی ختم ہو گئی ہو، نیز دور حاضر میں جب اسلام پر ہر ناحیہ سے حملے کئے جارہے ہیں اس صورت میں سیرت کی ضرورت مزید بڑھ جانے کی طرف اشارہ کیا۔*
*آخر میں صدر مجلس’ بانی و ناظم جامعہ ضیاءالعلوم کنڈلور و قاضئ شریعت ضلع اڈپی حضرت مولانا عبیداللہ ابوبکر ندوی دامت برکاتہم نے بھی مبارکبادی پیش فرماتے ہوئے مختصرا خطاب فرمایا، جس میں سیرت کی کتاب کی اہمیت اور دور حاضر میں اس کے مطالعہ کی ضرورت پر کافی اہم گفتگو فرماتے ہو ئےکہا کہ ہماری زندگی بغیر سیرت نبوی کے خوبصورت ہو ہی نہیں سکتی، مزید فرمایا کہ سیرت نبوی اور نعتیہ اشعار پر کام کرنا دیگر مضامین و اشعار کے مقابلے میں حددرجہ مشکل عمل ہے، واحد توفیق الٰہی و فضل خاص سے یہ کام عمل میں آتا ہے ، اخیر میں ناظم جامعہ کے ہاتھوں “دانائے سبل” کا اجراء عمل میں آیا جس میں ناظم جامعہ نے مصنف کو خوب مبارکبادی پیش کرتے ہوئے اس کتاب کے مقبول و عام ہونے نیز امت کے لئے مفید ثابت ہونے کی دعا فرمائی، اخیر میں تمام اساتذۂ جامعہ نے مصنف کو مبارکبادیاں دیتے ہوئے خوب سراہا، پھر یہ مجلس دعائیہ کلمات کے ذریعہ اپنے اختتام کو پہنچی۔*

✍️ *شیخ کلیم اللہ ندوی*
*استاذ- جامعہ ضیاءالعلوم کنڈلور کرناٹک*