مولانا عتیق الرحمن اروی

54

مولانا عتیق الرحمن اروی
مکرمی:مولانا عتیق الرحمن اروی 1903 میں بہار کے ایک منصوری خاندان میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم مکتب سے اور اس کے بعد کی تعلیم دار العلوم دیوبند سے حاصل کی۔ملک سے برطانوی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے انہوں نے بہار کے چھوٹے چھوٹے شہروں سے لے کر گورکھپور، بنارس ،دہرادوں،کراچی ،پشاور اور لاہور تک کا سفر کیا ۔انہوں نے مذہب سے قطع نظر ہر گھر میں آزادی جدوجہد کے پیغام کو عام کرنے کیلئے ملک کے کونے کونے میں تقریریں کیں۔ اس کے بعد دہرادون میں برطانویوں نے ان کو گرفتار کرلیا اور لاہور جیل بھیج دیا.جیل سے باہر آنے کے بعد مولانا اروی واپس بہار آئے اور برطانوی حکومت کے خلاف لوگوں کو پھر سے متحرک کرنا شروع کردیا ان کے قریبی ساتھیوں میں پرکاش سنگھ،گڈری سنگھ یادو اور جگدیش ساؤ شامل تھے۔1937 میں مسلم لیگ نے پاکستان کی تشکیل کے لئے ایک قرارداد منظور کی اور مسلمانوں سے کہا کہ وہ یوم پاکستان شان و شوکت کے ساتھ منائیں،تاہم مولانا اروی جیسے سچے دیش بھکتی اس کی سختی سے مخالفت کئے اور جناح کے دو قومی نظریہ کو ختم کردیا ۔انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ اسلام مذہب کی بنیاد پر کبھی بھی تقسیم کی اجازت نہیں دیتا ہے۔گنگا جمنی تہذیب اور ہندوستان کے تصور پر ایک سچے عقیدے ہونے کیوجہ سے ،مولانا اروی نے اپنے دونوں بیٹوں کا نام موہن لال اور سوہن لال رکھا تھا۔بڑی ذات کی نمائندگی کرنے والے مسلم لیگ کے ممبران مساوات پر اعتماد کیوجہ سے مولانا اروی کی تضحیک کیا کرتے تھے ،مولانا کو پختہ یقین تھا کہ سب خدا کے فرزند ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس کنبے،قبیلے،ملک یا کس ذات سے تعلق رکھتا ہے۔