مولانا عبدالمتین عمری مدنی کاانتقال ایک عظیم حادثہ

144

 

مولانا عبدالمتین عمری مدنی کاانتقال ایک عظیم حادثہ سے
حاجی پور 04- اگست (نمائندہ)
ویشالی ضلع کے معروف عالم دین اور کاروان ادب کے فعال متحرک کارکن مولانا محمد صدر عالم ندوی نے کہا ہے کہ مولانا عبدالمتین عمری مدنی کانام سب سےپہلے ماسٹر محمد ضیاء الہدی مرحوم حسن پورگنگٹی ،بکساما،ویشالی سےسنا تھا۔غالبادونوں حضرات نےایک ساتھ کسی چیز کا امتحان دیاتھا۔ ویسےماسٹرمحمدضیاءالہدی مرحوم سرمست پورمیں ایک سرکاری اسکول میں ٹیچر تھے،اوروہیں رہتے تھے،سرمست پوراہل حدیث کی بستی ہے۔اورمولانا عبدالمتین عمری مدنی بھی مسلکا اہل حدیث تھے،اس گاؤں میں مولانا کاآناجانا زیادہ تھا۔ اس وجہ سےملاقات رہی ہوگی۔ یا پھر مولانا کا سسرال محمد پور گنگٹی میں تھا۔ جس وجہ سے قربت میں اضافہ ہواہوگا۔ مولاناکانام ایک اچھے عالم کی حیثیت سےسنا،ماسٹرصاحب ہی سے معلوم ہواکہ وہ پٹنہ میں رہتے ہیں۔ اورمدرسہ اصلاحیہ سلفیہ میں پڑھاتے ہیں ،ملاقات کی خواہش تھی۔ لیکن ملاقات کی نوبت نہیں آئی۔ بعدمیں معلوم ہواکہ میرے قریبی دوست ابوبکرصدیقی مرادآباد،جنداہاکےچچا تھے،انتقال کی خبرسن کربہت افسوس ہوا، لاک ڈاؤن کازمانہ تھا۔ خواہش کےباوجود جنازہ میں شرکت سے محروم رہا۔ اب توذکرخیرسننےپرہی اکتفاکرسکتاہوں۔ اوردوسری دنیامیں ملنےکی امیدپراپنےدل کو مطمئن کرسکتاہوں۔
مولانا مدنی ویشالی ضلع کےپہلےعالم تھے۔ جنھوں نے عرب جاکر تعلیم حاصل کی۔اورعرب کی ملازمت کوچھوڑ کر اپنے ملک میں رہ کرخدمت کرناپسند کیا۔اورپوری عمردرس وتدریس میں ہی منسلک رہے۔اوراسی حال میں اللہ کوپیارے ہوگے۔گویاکہ پڑھنا لکھنا ان کااوڑھنا بچھوناتھا۔ ہزاروں شاگرد ان کے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جوان کےلیےبہترین صدقہ جاریہ ہے ۔دوسراکام انہوں نےاپنےو الدین اورمخلصین کےتعاون سےگاؤں میں مدرسہ اشرف العلوم کی بنیاد رکھی۔ جوبہاراسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ سےفوقانیہ تک الحاق ہے،ان کےبھتیجاابوبکرصدیقی مدرسہ کی نظامت کواچھےطریقہ سےدیکھ رہےہیں۔ اورآگےبھی نیک توقعات ہیں۔
بس ایک شعر پراپنی تحریر ختم کرتا ہوں۔
تمہیں کہتاہےمردہ کون تم زندوں کے زندہ ہو
تمہاری خوبیاں زندہ تمھاری نیکیاں باقی