جمعرات, 29, ستمبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتمولانا عبدالقادر رحمانی رحمۃ اللہ علیہ _

مولانا عبدالقادر رحمانی رحمۃ اللہ علیہ _


مولانا عبد القادر صاحب رحمانی ؒ
استاذ مدرسہ اسلامیہ محمودیہ مبارکپور سمری بختیارپور سہرسہ

استاذ محترم حضرت مولانا عبد القادر صاحب رحمانی ؒ مبارکپور بستی کے ایک نامور عالم دین تھے ، اللہ تعالی نے ان کو بڑی خوبیوں سے نوازا تھا ،1993ء – 1994ء کے آس پاس جب میں مدرسہ اسلامیہ محمودیہ مبارکپور میں پڑھتا تھا تو مولانا کو کافی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ، اس زمانہ میں مولانا وہاں استاذ ہوا کرتے تھے ، پوری توجہ اور احساس ذمہ داری کے ساتھ طلبہ کو پڑھاتے تھے اور انفرادی طور پر نماز وغیرہ کی عملی مشق بھی بعض طلبہ کو کراتے تھے ، چنانچہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مبارکپور ہی کے میرے ایک ساتھی محمد صدیقی جو مجھ سے کچھ قربت بھی رکھتے تھے ان کو مولاناؒ مدرسہ کے صحن میں کھڑا کردیتے اور خود بھی وہیں سبز گھاس پر بیٹھ جاتے اور نماز کی عملی مشق کراتے اور غلطی ہونے پر تنبیہ الغافلین کا بھی استعمال فرماتے تھے ،اس لیے کہ مولانا ؒ طلبہ کےبہت ہی خیر خواہ تھے اور ہر وقت ان کی کوشش رہتی کہ طلبہ کچھ سیکھ جائیں ، کچھ پڑھ لیں اور کچھ بن جائیں ، لہذا وہ وقت کی مکمل پابندی کے ساتھ مدرسہ آتے ،درسگاہ میں حاضر رہتے اور پوری توجہ کے ساتھ طلبہ کو پڑھاتے ، مولانا تھے تو بہت کم گو ؛ لیکن درجوں میں طلبہ کو سمجھانے کے لیےخوب بولتے اور بار بار بولتے تھے۔
بظاہر نحیف اور چھریرا جسم،اس پر کرتہ اور پائجامہ زیب تن ،لمبا قد ،آنکھوں پر چشمہ ،سر پر ٹوپی، ایک الگ انداز کی ہلکی ڈاڑھی ،گہری سوچ میں ڈوبا متفکر چہرہ ، آنکھوں سے ٹپکتی ذہانت ،متحمل مزاج ، کم گو،سادہ طبیعت ،سادہ لباس، شفیق و مہربان اور حلیم و بردبار ، اس سراپا کے مالک تھےمولانا عبد القادر صاحب رحمانی ؒ ۔
ہر ایک سے خیر خواہانہ جذبے کا اظہار فرماتے اور سب سے یکساں ملتے جلتےتھے ،موجودہ دورمیں معاصرانہ چشمک علماء کی ایک عام کمزوری ہے ؛ لیکن مولانا ؒ کا دل اس سے بالکل خالی تھا ؛ چنانچہ کسی سے کبھی کوئی معمولی تلخی بھی نہیں ہوئی ، بس اپنے کام سے کام رکھتے ، اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کو بخوبی نبھاتےاور نمازوں کی پابندی فرماتے ، یعنی حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کا بھی مولانا ؒ خوب خیال رکھتے تھے، مولانا ؒ کی زندگی کے آخری ایام بڑے سخت گزرے ، مرض کی شدت اور قوی کے بڑھتے اضمحلال نے انہیں نہ صرف چلنے پھرنے سے معذور کردیا تھا ؛ بلکہ صاحب فراش بنا کر رکھ دیا تھا۔

ولادت اور ابتدائی تعلیم:
مولانا عبد القادر صاحب رحمانی ؒ کی پیدائش 7/ اپریل 1949ء میں اپنی بستی مبارکپور میں ہوئی، (یہی تاریخ پیدائش مولاناؒ کے تمام کاغذات میں درج ہے؛ البتہ ایسا لگتا ہے کہ ان کی پیدائش چار پانچ سال اور قبل ہی ہوئی ہے) والدماجد کا نام معظم حسین تھا اور دادا کا نام الطاف حسین، والد ماجد کو تعلیم و تعلم سے بہت ہی گہرا لگاؤ تھا ، چنانچہ انہیں اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت کی فکر بہت جلد ہی دامن گیر ہوئی اور انہوں نےاپنے بیٹے کو ابتدائی تعلیم و تربیت کے لیے گاؤں ہی کے مدرسہ میں داخل کرادیا، یعنی مدرسہ محمودیہ مبارکپور میں ،یہی وہ مدرسہ ہے جہاں کے فیض یافتگان میں علاقۂ سمری بختیار پور کے بڑے بڑے مشاہیر علماء کے نام شامل ہیں اور جہاں ملک ہندوستان کی متعدد معروف شخصیتیں بارہا تشریف لاتی رہی ہیں،بہر کیف اس طرح سے مولاناؒ کی ابتدائی تعلیم وتربیت کا آغاز ہوا ۔
مولاناؒ دو بھائی اور تین بہنوں میں سب سے چھوٹے تھے،ایک خاص بات یہ تھی کہ مولاناؒ کو پڑھنے لکھنے کا بڑا شوق تھا ، لہذا وہ خوب محنت اور دلجمعی کے ساتھ بلا ناغہ مدرسہ حاضر ہوتے اور درسگاہ کی خوب پابندی بھی فرماتے ، اس پر مستزاد یہ کہ بڑے ذہین و فطین تھے ، یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے تمام ساتھیوں میں قدرے نمایاں ہی رہتے تھے اور اسی لیے اساتذہ کرام کی توجہات بھی ان کو خوب حاصل تھیں۔
البتہ ابتدائی تعلیم کے بعد مولانا ؒ نے تعلیم کا سلسلہ منقطع کردیا اور کاشت کاری کی طرف متوجہ ہوگئے ؛ لیکن علم دین کا حصول اللہ نے ان کے لیے مقدر کر رکھا تھا ، چنانچہ مولانا عبد القدیر صاحب اصلاحی ثم قاسمیؒ جو مولانا شرف الدین صاحب رحمانی حفظہ اللہ کے چچا تھے اور علم نحو و صرف کے بڑے ماہر تھے ، ان کی جب مولانا عبد القادر صاحب ؒ کی ہمشیرہ سے شادی ہوئی تو مولانا عبد القدیر صاحب اصلاحی ؒ نے سوچا کہ میرا نسبتی بھائی تعلیم و تربیت سے کیوں دور رہے ؟ لہذا وہ مولانا عبد القادر صاحب رحمانی ؒ کو اپنے ہمراہ سرائے میر اعظم گڑھ لے کر چلے گئے اور وہاں دوبارہ مولاناؒ کی تعلیم کا آغاز ہوا ، اس طرح ابتدائی تعلیم مکمل ہوئی اور اس کے بعد پھر اعلی تعلیم کے حصول کے لیے مولانا نے ہندوستان کی مشہور و معروف ،علمی ، روحانی اور مرکزی درسگاہ جامعہ رحمانی مونگیر کا رخ کیا۔
یہ کوئی ساٹھ کی دہائی کا زمانہ تھا جب آپ نے جامعہ رحمانی مونگیر میں داخلہ لیا اور یہی وہ زمانہ تھا جب حضرت امیرشریعت رابع مولانا سید منت اللہ صاحب رحمانی ؒ کی جاذب اور عالمی شخصیت یہاں موجود تھی جس کی وجہ سے جامعہ رحمانی کی مرکزیت میں مزید اضافہ ہوگیا تھا ، اور سب سے خاص بات جو تھی وہ یہ کہ حضرت ؒ نے جامعہ میں فن تدریس کے ماہرین کی اچھی خاصی تعداد جمع فرمارکھی تھی ، جس میں ایک سے ایک اساتذۂ فن موجود تھے ، جن کی وجہ سے جامعہ رحمانی کا تعلیمی معیار بہت ہی اونچا اور قابل ذکر تھا۔

اعلی تعلیم اور فراغت:
خیر : مدرسہ اسلامیہ محمودیہ مبارکپور اور سرائے میر اعظم گڑھ سے ابتدائی حاصل کرنے کے بعد مولانا نے اعلی تعلیم و تربیت کے حصول کے لیے جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں داخلہ لیا ، اور وہاں بڑے بڑے ماہرین فن اساتذۂ کرام سے استفادہ کیا۔
اس وقت جامعہ رحمانی کا اپناایک مقام تھا،جس طرح اس زمانہ میں جامعہ میں کسی استاذ کی تقرری اس بات کی علامت ہوتی تھی کہ یہ نہایت ہی قابل اور ذی استعداد ہیں اسی طرح جامعہ سے کسی کا فارغ ہونا بھی اس بات کہ دلیل ہوا کرتی تھی کہ یہ بہت باصلاحیت اور قابل ہیں اور پھر اداروں کی دنیا میں ان کی بڑی پذیرائی ہوتی تھی،لوگ ہاتھوں ہاتھ لیتے تھے ، گویا وہاں کے فارغین منزل کی جستجو میں سرگرداں و پریشاں نہیں پھرتے تھے ؛ بلکہ منزل انہیں خود پکارتی تھی۔
مولانا عبد القادر صاحب رحمانی ؒ جامعہ رحمانی مونگیر کے اولین فارغین میں سے تھے ، جس سال مولانا فضل الرحمن صاحب رحمانی ؒاور مولانا عبد القادر صاحب رحمانی ؒ وغیرہ جامعہ سے فارغ ہوئے وہی پہلا سال تھا کہ جب جامعہ میں دورۂ حدیث شریف کا آغاز ہوا تھا ، جو 1967ء کا زمانہ تھا، اس سے پہلے جامعہ میں دورۂ حدیث شریف تک کی تعلیم نہیں ہوتی تھی ، خلاصہ یہ کہ مولانا جامعہ رحمانی کے بڑے ہی باصلاحیت فاضل تھے اور 1967ء میں جامعہ رحمانی مونگیر سے ان کی فراغت ہوئی تھی۔

چند قابل ذکر اساتذۂ کرام:
اول تا آخر مولانا نے اپنے تعلیمی ایام میں بہت سارے علمائے کرام اور اساتذۂ عظام سے استفادہ کیا تھا،جو اپنے اپنے وقت میں یگانہ روزگار تھے، جن کی نسبت پر آج لوگ فخر محسوس کرتے ہیں کہ فلاں صاحب ہمارے استاذ تھے ، اور فلاں صاحب سے بھی میں نے استفادہ کیا تھا، وغیرہ ؛ لیکن مولانا عبد القادر صاحب رحمانی ؒ کی تعلیم و تربیت میں جن اساتذۂ کرام کا خاص حصہ تھا ان میں حضرت امیر شریعت رابع مولانا سید منت اللہ صاحب رحمانیؒ کا نام سرفہرست ہے، مولانا فضل الرحمن صاحب رحمانی ؒاور مولانا عبد القادرصاحب رحمانی ؒ، ان دونوں کے علاوہ ان کے دیگر ساتھیوں کو بھی حضرتؒ کی خاص توجہ حاصل تھی؛ بلکہ سہی تو یہ ہے کہ وہ جماعت ہی کافی ذہین طلبہ کی تھی جس میں مولانا عبد القادر صاحب رحمانی ؒ شامل تھے۔
مولانا عبد القادر صاحبؒ کی شخصیت کی تشکیل میں حضرت امیر شریعت رابع مولانا سید منت اللہ صاحب رحمانی ؒ کے علاوہ بھی چند اساتذۂ کرام ایسے ہیں جن کا تذکرہ بھی مناسب ؛ بلکہ ضروری معلوم ہوتا ہے، جن میں حضرت مولانا محمدعارف صاحبؒ دربھنگہ ، حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب سنبھلی ؒ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا شمس الحق صاحبؒ ، علامہ محمد اکرام علی صاحبؒ چمپانگر بھاگلپور، حضرت مولانامحمدشفیق عالم صاحب قاسمی پورنویؒ ،حضرت مولانا حسیب الرحمن صاحب قاسمیؒ کشن گنج اور حضرت مولانا ابو اختر صاحب قاسمیؒ بیگوسرائے وغیرہ کے نام شامل ہیں۔
مولانا عبدالقادر صاحب رحمانی ؒ نے جس طرح بڑے بڑے مشاہیر علماء سے استفادہ کیا تھا ، اسی طرح بڑے فہیم اور ذہین و فطین ساتھیوں کا ساتھ بھی ان کو ملا تھا،ایسے باصلاحیت اور باذوق ہم درس و ہم سبق احباب تھے جنہوں نے بعد میں بڑے بڑے اداروں کی نظامت کو زینت بخشی اور اہتمام کو سنبھالا دیا ، اور ایسے نقوش و خطوط چھوڑے جو بعد والوں کے لیے رہنماء ثابت ہوئے ۔

چند مشہورو معروف ہم سبق:
جامعہ رحمانی مونگیر میں مولانا عبد القادر صاحب رحمانی ؒ جس جماعت میں شریک تھے اس جماعت کے تقریبا تمام ہی افراد بڑے ذہین اور محنتی تھے ، اسی وجہ سے ان تمام طلبہ کو سرپرست جامعہ حضرت امیر شریعت رابع مولانا سید منت اللہ صاحب رحمانی ؒ کی قربت و توجہ حاصل تھی،حضرت ان تمام ساتھیوں کو بہت عزیز رکھتے تھے اور ہر وقت علمی کاموں میں مشغول رکھ کر ان سب کو قیمتی سے قیمتی بنانا چاہتے تھے۔
حضرت امیر شریعت رابع ؒ بے شمار خوبیوں اور اسی قدر اوصاف حمیدہ اور اخلاق فاضلہ کے مالک تھے؛ لیکن ان کی تمام خوبیوں میں ایک ایسی اہم خوبی بھی تھی جس کی اہمیت آج کے اس قحط الرجال کے دور میں بہت بڑھ جاتی ہے وہ یہ کہ آپ اعلی قسم کے رجال ساز اور خورد نواز تھے، اور اس سلسلہ میں بطور ثبوت کے مولانا عبد القادر صاحب رحمانی ؒ ، مولانا فضل الرحمن صاحب رحمانیؒ اور حضرتؒ کے دور کے دیگر فضلاء پیش کیے جاسکتے ہیں۔
مولانا عبد القادر صاحب رحمانی ؒ کی پوری جماعت اور ان کے تمام نامور ساتھیوں کے نام سے تو میں واقف نہیں ہوں ؛لیکن اتنا مجھے معلوم ہے کہ وہ جماعت بہت ہی کارآمد جماعت تھی اور فراغت کے بعدان میں سے بعض کو حضرت امیر شریعت رابع ؒ نے جامعہ ہی میں استاذ مقرر کرلیا تھا اور بعض نے ملک کے مختلف خطوں میں پھیل کر بڑے بڑے کام انجام دیے اور قابل ذکر مقام حاصل کیا ، جن میں مولانا فضل الرحمن صاحب رحمانی ؒ ، حافظ غفران صاحب رحمانیؒ جو اسی بستی مبارکپور کے باشندہ تھےاور مولانا حسین احمد صاحب رحمانی ؒ دربھنگوی وغیرہ کے نام شامل ہیں ۔

تدریسی خدمات:
تدریس ایک سعادت ہےاوربڑی ذمہ داری کا کام ہے،تدریسی صلاحیت ہر ایک کے اندر نہیں ہوتی ہے ؛ بلکہ اس کام کے اہل بہت ہی کم لوگ ہوپاتے ہیں؛ لیکن مولانا عبد القادر صاحب رحمانی ؒ نے اپنی پوری زندگی درس و تدریس ہی میں گزاردی ، اور مختلف مدارس و مکاتب میں آپ نے یہ خدمات بحسن و خوبی انجام دیں، اور سب سے اخیر میں اپنی بستی کے معروف ادارہ مدرسہ اسلامیہ محمودیہ مبارکپور کے استاذ مقرر ہوئے اور وہیں کے ہوکر رہ گئے ۔
فراغت کے معا بعد ہی حضرت امیر شریعت رابع ؒ نے مولانا عبد القادر صاحب رحمانیؒ کو تدریسی خدمات کے لیے ضلع سپول کے مدرسہ محمدیہ بھیج دیا ،چنانچہ مولانا ؒ نے حضرتؒ کے حکم سے وہاں چند سال تدریسی خدمات انجام دیں اور وہاں سے واپس چلے آئے،اس کے بعد کرناٹک تشریف لے گئے ، کرناٹک میں بھی کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ وہاں سے واپس گھر تشریف لائے اور بستی ہی میں مدرسہ محمودیہ مبارکپور کے استاذ مقرر ہوئے ۔
مدرسہ اسلامیہ محمودیہ مبارکپور ایک قدیم ادارہ ہے ، جس کو 1926ء میں حضرت مولانا عبد الوحید صاحب ؒ رحمانی نے قائم فرمایا تھا ، بلا شبہ ہمارے پورے علاقے میں اس مدرسہ کا فیض پہونچا ہے ، چنانچہ اس ادارہ کے فیض یافتگان میں علاقۂ سمری بختیار پور کے بڑے بڑے علمائے کرام کے نام شامل ہیں۔
1977ء میں مولانا عبد الاادر صاحب رحمانیؒ وہاں کے استاذ مقرر ہوئےاور اس کے بعد پھر کہیں جانے کا نام نہ لیا ، اور تسلسل کے ساتھ اپنی مفوضہ ذمہ داریوں کو نبھاتے رہے،چنانچہ آج پورے علاقے میں بےشمار ان کے تربیت یافتہ افرادموجود ہیں اور ملک کے مختلف جامعات اور اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ملازمت سے سبکدوشی:
تین دہائی سے بھی زیادہ عرصہ 1977ء سے گاؤں کے مدرسہ میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے اور 2011ء میں وہاں سے سبکدوش ہوئے ،2011ء میں مدرسہ سے سبکدوش ہونے کے بعد گھر ہی پر رہتے تھے اور مکمل وقت مطالعے ہی میں گزار دیتے تھے ،کبھی کبھار ضرورت سے بازار چلے جاتے ؛ ورنہ گھر سے مسجد اورمسجد سے گھر، اور گھر پر مطالعہ ، یہی ان کا مشغلہ رہ گیا تھا،چنانچہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ جس قدر کتابوں میں مشغول رہتے تھے، آج کے وقت کا کوئی طالب علم بھی اس قدر کتابوں میں مشغول نہ رہتا ہوگا۔

مدرسہ اسلامیہ محمودیہ مبارکپور کی تعلیمی ترقی میں اہم کردار:
بحیثیت استاذمولاناؒ کی مدرسہ اسلامیہ محمودیہ مبارکپور میں جب تقرری ہوئی تو انہوں نے پورے انہماک کے ساتھ اپنی تدریسی ذمہ داریوں کو ادا کرنا شروع کیا ، تعلیم تو وہاں پہلے سے بھی بہت اچھی اور معیاری ہوتی تھی؛ لیکن مولانا کے وہاں آنے کے بعد سے اس میں کافی تبدیلی ہوئی اور بہتری آئی ۔
حضرت مولانا محمد یونس صاحب ؒ ، حضرت مولانا محمد انوار الحق صاحبؒ اور حضرت مولانا عبد القادر صاحبؒ، اسی طرح سے جناب ماسٹر محمد طاہر صاحب ؒ ، جناب ماسٹر محمد سلیم صاحبؒ ، جناب ماسٹر محمد جنید صاحب ؒ جناب حافظ نور الہدی صاحب ؒ ، جناب قاری سید منظر الحسن صاحب حفظہ اللہ اور مولانا محمد شرف الدین صاحب رحمانی دامت برکاتہم، یہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے مجموعی طور پر مدرسہ اسلامیہ محمودیہ مبارکپور کو ہر اعتبار سے ترقیات سے آشنا کیا اور اس کے فیض کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا، علاوہ ازیں ان تمام حضرات سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ایسے مخلص ذمہ داران اور اساتذہ یہاں آئے جن کے خلوص اورعلم دوستی سے ادارہ کو بےانتہا فائدہ ہوا اور ترقی کی راہیں کھلیں ؛ البتہ اب مدرسہ ایسے مخلصین ، محبین اور ماہرین سے شاید محروم ہے۔
مدرسہ کا اصل مقصد تعلیم اور تربیت ہے اور تعلیم و تربیت کے علاوہ اس دائرہ میں دیگر چیزوں کی وہ حیثیت نہیں ہو سکتی جو ان دونوں کی ہوتی ہے، تعلیم و تربیت کا بہتر ہونا ، یہ استاذ پر منحصر ہوتا ہے ، اگر استاذ محنتی ہے ، مخلص ہے ، انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے تو تعلیم بھی بہتر ہوگی اور تربیت بھی عمدہ ؛ لیکن اگر استاذ کے اندر یہ چیزیں نہیں ہیں تو پھر تعلیم کی بہتری اور تربیت کی عمدگی کی امید بھی کسی حماقت سے کم نہیں ہے ، حضرت مولانا عبد القادر صاحب رحمانی ؒ کو اللہ تعالی نے ان خوبیوں سے خوب نوازا تھا ، وہ محنتی بھی تھے اور مخلص بھی ، اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کا بھی پورا احساس تھا، چنانچہ جب تک مدرسہ میں رہے پوری محنت اور لگن کے ساتھ کام کرتے رہے ، سچ ہے کہ ایسے ہی لوگوں کی کاوشوں اور کوششوں سے ادارے ترقی کیا کرتے ہیں، اور ان کا افادہ بھی عام ہوا کرتا ہے، اللہ تعالی مولانا عبد القادر صاحب رحمانی ؒ کو اس کا بھرپور بدلہ عطا فرمائے۔

چند مشہور تلامذہ:
مولانا ؒ چوں کہ لمبے عرصے تک درس و تدریس سے وابستہ رہے اس لیے ان کے شاگردوں کا حلقہ بھی کافی وسیع ہے، جن کے ذریعے سے ان کافیض کافی دور تک پہونچا ہے اور ابھی بھی دنیا سے ان کے چلے جانے کے باوجود بالواسطہ ہی سہی ان کا فیض جاری و ساری ہے ، مجھے یقین ہے کہ یہ ان کے لیے صدقۂ جاریہ ثابت ہوگا اور ان کے حسنات میں اضافے کا سبب ہوگا ۔
ان کے مشہور و معروف شاگردوں میں مفتی سعید الرحمن صاحب قاسمی ہیں جو امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ میں فقہ و فتاوی کے باب میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ فرمارہے ہیں ، اور فتاوی امارت شرعیہ کی جمع و ترتیب کا کام بھی انہی کے ذمہ ہے ، جن کی کئی جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں ، بلاشبہ یہ ایک بڑا کام ہے اللہ اس کو پایۂ تکمیل تک پہونچائے۔
اسی طرح مولانا محبوب الرحمن قاسمی ہیں جو جامعہ قاسم العلوم انصار نگر احمد آباد گجرات کے نائب مہتمم ہیں ، نہایت متحرک اور فعال رہتے ہیں ، پورے علاقۂ سمری بختیار پور کے غریبوں ، یتیموں اور بیواؤں کے لیے مسیحا کی حیثیت رکھتے ہیں ، انہوں نے مبارکپور میں” فدائے ملت چریٹیبل ٹرسٹ "کے نام سے ایک رفاہی پلیٹ فارم قائم کیا ہے جس کے ذریعہ ہر سال اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے ، رمضان کے مبارک ماہ میں اناج کٹ تقسیم کیے جاتے ہیں اور بقرعید کے موقع پر قربانی کے جانوروں کا بھی نظم ہوتا ہے ، ان سب کاموں میں گجرات کی بعض تنظیموں کا بہت ہی اہم تعاون تو رہتا ہے ؛ لیکن سہی معنوں میں ان سب کاموں کا سہرا مولانا محبوب الرحمن صاحب قاسمی ہی کے سر جاتا ہے ۔
اسی طرح ان کے تلامذہ میں پروفیسر عبد الباسط حمیدی کا نام بھی شامل ہے ، جو ایک قابل اسکالر ہیں اور ان دنوں پٹنہ یونیورسٹی میں لکچرر ہیں ۔
ان کے علاوہ ڈاکٹر نذر اشرف صاحب مبارکپوری ، مولانا منور حسین رحمانی صاحب ، محمد فاروق منظور صاحب اور ساتھ ہی ساتھ اس خاکسار کا نام بھی مولانا کے خوشہ چینوں میں شامل ہے۔

امتیازی خصوصیات:
یوں تو مولانا ؒ میں بہت ساری خصوصیات جمع تھیں؛ لیکن چند چیزیں ان میں ایسی تھیں جو ان کوموجودہ دور میں دوسروں سے ممتاز کرتی نظر آتی ہیں،جیسے حلم و بردباری اور متحمل مزاجی یہ ایک ایسی صفت تھی ان میں ، جو موجودہ وقت میں خال خال لوگوں ہی کے اندر پائی جاتی ہے؛ ورنہ تو ذرا کوئی بات مزاج کے خلاف پیش آئی اور انسان اپنا آپا کھو دیتا ہے اور یہ مرض آج عام ہوچکا ہے۔
مولانا کی دوسری خصوصیت جو تھی وہ یہ کہ انتظامی صلاحیتوں سے اللہ تعالی نے خوب نوازا تھا ، مولانا اعلی قسم کے منتظم تھے، چنانچہ ان کی انتظامی صلاحیت کی چھاپ اپنی ذاتی زندگی میں واضح طور پر نظر آتی ہے ، ہر چیز کا اپنا ایک وقت متعین ، کب کیا کرنا ہے ، کہاں جانا ہے ، نہ مدرسہ کے وقت کو اپنے ذاتی کام میں لگاتے اور نہ ہی گھریلو نظم و نق کو متأثر ہونے دیتے ، اور کما حقہ تمام ذمہ داریوں کو نبھاتے ۔
تیسری خصوصیت مولانا ؒ کی یہ تھی وہ نہایت کم سخن اور کم گو تھے ، بے ضرورت کہیں زبان نہیں کھولتے تھے اور اگر کچھ بولتے تو بقدر ضرورت ہی بولتے اور خاموش رہتے تھے ، اور اتنے سادہ طبیعت تھے کہ اپنے کاموں کے علاوہ کسی اور مسئلہ میں کبھی دخیل نہیں ہوتے تھے۔
چوتھی خصوصیت یہ تھی کہ مولانا ؒ کو علم دین سے بڑا گہرا لگاؤ تھا ، چنانچہ وہ طلبہ کے ساتھ بہت ہی زیادہ شفقت و محبت کے ساتھ پیش آتے تھے،اور فرماتے تھے کہ یہ مہمانان رسول ہیں ، ان کا بڑا مقام ہے۔
دینی تعلیم و تربیت سے ان کے تعلق ہی کا نتیجہ ہے انہوں نے اپنی تمام اولادوں کو علم دین سے آراستہ کیا، چنانچہ آپ کے تینوں صاحبزادے حافظ قرآن ہیں، اور عمدہ یاد داشت کے مالک ہیں ، ان میں سے دو صاحبزادوں جناب مولانا عبد الباری ندوی اور جناب مولانا عبد الباقی ندوی صاحبان نے تو باضابطہ عالمی شہرت یافتہ دانش گاہ دارالعلوم ندوۃ العلماء سے عالمیت بھی کی ہے، ان دونوں کے علاوہ حافظ عبد الباسط نے حفظ قرآن کے بعد عصری علوم فنون کی طرف توجہ دی اور بحمد اللہ وہ اس وقت ایم بی اے مکمل کرچکے ہیں اور تقریبا ہرسال تراویح میں قرآن پاک سنانے کا اہتمام کرتے ہیں،ان تینوں بھائیوں کے علاوہ مولاناؒ کی پانچ صاحبزادیاں بھی ہیں جو سب کی سب تعلیم یافتہ ہیں۔
ان کے علاوہ مولانا ؒاور بھی بہت ساری خصوصیات کے مالک تھے، گفتگو نہایت نرم فرماتے ، صلہ رحمی کرتے،اپنوں اور دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے اور اتحاد و اتفاق ، امن پسندی و صلح و صفائی کے تو گویا داعی ہی تھے ؛ لیکن انسان کے اندرخصوصیات خواہ کتنی بھی ہوں ، آدمی خواہ کتنا ہی قیمتی ہو ، انمول ہو ؛ لیکن موت بر حق ہے اور وقت بھی متعین ہے،اس پر وہ آکرہی رہے گی کہ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے ، کسی کو اس سے مفر نہیں ۔

وفات:
مولانا عبد القادر صاحب رحمانؒی کافی دنوں سے بیمار چل رہے تھے،تھے تو پہلے ہی سے لاغر اور جسم بھی دبلا پتلا ، اس پر بیماریوں کی شدت نے انہیں مزید کمزور کردیا تھا، چلنا پھرنا بند ہوگیا تھا ؛ لیکن جب تک چلتے پھرتے تھے تو مسجد بھی پابندی سے آتے تھے ، مسلسل علاج و معالجہ بھی ہو ہی رہا تھا ، زود اثر دوائیں بھی چل رہی تھیں؛لیکن وقت موعود ہے کہ آن پہونچا ، بھلا وہ کیوں کر مؤخر ہو کہ اللہ تعالی نے فرمادیا ہے "إن أجل الله إذا جاء لايؤخر”، چنانچہ 26/جون 2021ء کو آنکھیں موند لیں اور ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ گئے ، إنا لله و إنا إليه راجعون۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی استاذ محترم کی بال بال مغفرت فرمائے ، سیئات سے درگزر فرمائے اور حسنات کو شرف قبولیت عطا کرے ، فردوس بریں میں جگہ نصیب کرے، آمین یارب العلمین!
سیف الرحمن ندوی
استاذ جامعہ رحمانی مونگیر بہار
28/اگست 2021ء مطابق 18/محرم الحرام 1443ھ
Snadwi1990@gmail.com
Mob:9795871027

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے