ہومبریکنگ نیوزمولانا عبدالحفیظ گردھر پوری (رحمۃاللہ) کی حیات و خدمات*

مولانا عبدالحفیظ گردھر پوری (رحمۃاللہ) کی حیات و خدمات*

مولانا عبدالحفیظ گردھر پوری (رحمۃاللہ) کی حیات و خدمات*
عقیل احمد خان/ مفتی عبد الغفار ،
آپ کا نام نامی عبدالحفیظ والد کا نام صابر علی آپ اپنے آبائی وطن گردھر پور میں 1980ء میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں مدرسہ مدرسة القران میں حاصل کی. جب آپ مکتب کی تعلیم سے فارغ ہوئے تو آپ کے والد ماجد نے ضلع سنت کبیر نگر کے ایک مشہور مدرسہ مدرسہ عربیہ رحمانیہ نورالعلوم میں درجہ فارسی میں داخلہ کرایا فارسی سے عربی چہارم تک آپ نے رحمانیہ ہی میں تعلیم حاصل کی اُسکے بعد ایشیا کی ایک مشہور درسگاہ دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا دورہ حدیث تک دارالعلوم میں اپنے علم کی پیاس بجھاتے رہے نیز دور حدیث کے بعد تکمیل علوم میں داخلہ لیا پھر اُسکے بعد تحفّظ ختم نبوّت میں بھی داخلہ لیا اس کے بعد آپ ممبئی کی ایک مسجد میں نصف سال تک امام وخطیب رہے لیکن وہاں پر طبیعت جم نہ سکی اس کے بعد اب طالبان علوم نبوّت کو سیراب کرنے کے لئے گجرات کے ایک مشہور مدرسہ جامعہ فیضان القران میں آپ کا عربی درجات میں معلم کی حیثیت سے تقرر ہوا تقریبا دس سال تک وہاں پر طالبان علوم نبوّت کو سیراب کرتے رہے مطالعہ کا ذوق آپ کی فطرت تھی ان کے شاگردوں کا بیان ہے مولانا درس میں ایسا سھل انداز اختیار فرماتے تھے کی مسئلہ بخوبی سمجھ میں آجاتا مناسب اور دھیمی لہجے میں آپ کی تقریر طالب علم کے لئے نہایت بصیرت افروز ثابت ہوتی تھی. آپ اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے یہ التزام فرماتے کی گھنٹہ شروع ہوتے ہی درسگاہ میں حاضر ہو جاتے. اور ختم ہوتے ہی موقوف فرما دیتے. ان کے شاگردوں کا بیان ہے کہ جب کسی طالب علم کا پائجامہ ٹخنوں کے نیچے ہو جاتا تو آپ نہایت بلیغ انداز میں فرماتے کی پائجامہ نہیں سنبھال سکتے تو قوم کو کیسے سنبھالو گے. آپ طلباء کی تربیت کو اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے. بھائی محترم کو اللہ نے جہاں بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا. وہیں ایک خوبی یہ بھی تھی کہ آپ ایک نہایت شریف انسان تھے. جب کسی سے گفتگو کرتے تو مخاطب کے مرتبہ اور اس کے مزاج کی رعایت کرتے ہوئے خوب ٹھہر ٹھہر کر گفتگو کرتے. بھائی محترم مسلك دیوبند و حدانیت کے بے باک ترجمان تھے آپ کی تقریر میں وحدانیت کا بیان غالب رہتا تھا آپ جب تقریر کرتے تو لوگ اُن کی طرف ہمہ تن متوجہ رہتے تقریر میں روانی جذبوں کی تپش جذبات کا ابال تھا. سامع کو ایسا محسوس ہوتا کی اس کی زندگی کا درد اس کی الجھنوں کی حقیقت اور اس کا حل آپ کی زبان میں سمٹ آیا. بھائی محترم مضبوط سوچ کے مالک تھے حالات کے آنے پر مایوس ہونا اور شکستہ دل ہونا اور مایوسی کو اپنا بوریا بستر بنا لینا آپ کی فطرت کبھی نہ رہی. بلکہ حالات کیسے بھی آئے ہمیشہ مسکرا کر مقابلہ کرتے رہے محترم جہاں ایک طرف شعلہ بیان مقرر، کامیاب ترین مناظر، انتہائی باصلاحیت منتظم اور بارعب شخصیت تھے. وہہیں ایک طرف علماء طلباء صلحاء سے بے حد محبت کرتے. جب بھی کسی مدرسے کا سفیر گاؤں میں آ جاتا تو اس کی مہمان نوازی کرنا آپ اپنا فرض منصبی سمجھتے تھے. بچوں کی تربیت کے بارے میں بہت ہی حساس رہتے تھے. مجال کیا کوئی گھر پر رہتے ہوئے مغرب کی نماز کے بعد گھومتا پھرے خود احقر کبھی مغرب بعد اگر غائب ہوتا تو پوچھتے کی کہاں تھے کیا کر رہے تھے مغرب سے لے کر عشاء تک اپنے بچوں کو سبق یاد کراتے نماز فجر کے بعد قرآن پاک کی تلاوت کرواتے وغیرہ وغیرہ. بالآخر فیضان القرآن کو مولانا نے چھوڑدیا جامعہ چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کے علاقہ میں ایک نسواں مدرسے کی ضرورت تھی بچیوں کا میلان بہت تیزی سے کالج کی طرف بڑھتا جارہا تھا. اس کی نحوست یہ تھی کی حیا اور شرم کاجنازہ نکل چکا تھا. ضروری تھا کہ بچیوں کو اسلامی تعلیمات سے آراستہ کیا جائے. چنانچہ والد ماجد کی موجودگی میں علماء کرام کی ایک میٹنگ ہوئی اس میٹنگ میں یہ طے پایا کہ گردھر پور میں ایک مدرسہ قائم کیا جائے. بالآخر والد گرامی کی سرپرستی میں والد صاحب ہی کے مکان میں غالباً 2010ء میں جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات کے نام سے ایک مدرسہ قائم کیا گیا. نیز چند سال کے بعد خليل آباد میں دارالافتاء و امام ابو حنیفہ اکیڈمی بھی قائم کیا. اس کی ذمہ داری بھائی محترم کو سپرد ہوئی. اور یہ طے پایا کہ جب تک مدرسہ کی زمین خریدنے کا انتظام نہیں ہو پا رہا ہے تب تک مدرسہ گھر ہی پر چلایا جائے انتظام ہوتے ہی مدرسہ کو مدرسہ کی زمین میں منتقل کر دیا جائے گا. بھائی محترم نے اپنی اس کم عمری میں امت کے لئے جو خدمات انجام دیں وہ درج ذیل ہیں.

1️⃣مکمل درس نظامی پر مشتمل پانچ سالہ کورس.
2️⃣تصحیح قرآن مع تجوید و دینیات کورس اور سعبهء حفظ.
3️⃣عائشہ سلائی کڑھائی سنٹر پندرہ سلائی کڑھائی مشین.
4️⃣پانچ کتب خانہ تیرہ الماریوں پر مشتمل ایک لاکھ نوے ہزار سے زائد کی کتابیں.
5️⃣مطبخ.
6️⃣8 مکاتب اسلامیہ و دینیات مکتب (مختلف دیہات).
7️⃣دفتر پیام انسانیت و اسلامک ریسرچ سنٹر (گردھر پور) برانچ دولہا پار.
8️⃣27 دعوتی و اصلاحی کتابوں اور علمی اشتہارات کی اشاعت ( اردو ہندی).
9️⃣ادارہ کی تحریک سے تین ہفت روز دو دس روزہ اور ایک سہ روزہ دعوتی و تربیتی کیمپ اوردو طبی کیمپ ہر ہفتہ پانچ دن باضابطہ فیلڈ ورک (گشت).
0️⃣1️⃣ پانچ مسجدوں میں درس قرآن ہفتہ میں ایک بار ایک سو دس عدد ہندی قران پاک برائے مطالعہ برادران وطن. 200 سے زائد چھوٹے بڑے اجتماعات مستورات کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہفتہ واری اجتماع. جامعہ فاطمۃ الزہراء للبنات ترکلواں امرڈوبھا سنت کبیر نگر.
تعلیمی بیداری مہم تحریک قیام مکاتب اسلامیہ تحریک دعوت دین پیام انسانیت تحریک درستگی نظام تعلیم و تربیت مدارس و مکاتب اسلامیہ تحریک دعوت دین پیام انسانیت وراثت کی تقسیم اور شادی سنت کے مطابق کی جائے کی تحریک یتیموں بیواؤں اور مسکینوں اور طالب علموں کی امداد و تعاون.
یہ تھی مولانا کی خدمات. جب تک اللہ نے محترم کو حیات بخشی جامعہ کی ترقّی کیلئے گاؤں در گاؤں شہر در شہر قربانی پیش کرتے رہے. بلآخر مختصر علالت کے بعد 15 رمضان المبارک مطابق 27 اپریل 2021ء کو ہزاروں متعلقین و محبین کو روتا بلکتا چھوڑ کر مالک حقیقی سے جا ملے. دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور مولانا کے اس فیض کو تا قیامت جاری و ساری فرمائے اور جامعہ کو مولانا کا نعم البدل عطا فرمائے آمین.
الحمدللہ مولانا نے مدرسے کی عمارت کے لیے تقریباً 9 بسوا زمین بھی خرید لی تھی جس پر پندرہ کمرے تعمیر ہو چکے ہیں چھت لگنا باقی ہے احباب سے تعاون کی درخواست ہے .

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے