بدھ, 30, نومبر, 2022
ہوممضامین ومقالاتمولانا سید مسرور احمد مسرور جن کے جانے پہ آگئے آنسو

مولانا سید مسرور احمد مسرور جن کے جانے پہ آگئے آنسو

مولانا سید مسرور احمد مسرور
جن کے جانے پہ آگئے آنسو

✍️ محمد سراج الہدی ندوی ازہری
دار العلوم سبیل الســـــــــلام، حیدرآباد

21/اگست 2022ء مطابق 22/محرم الحرام 1444ھ بروز اتوار کی بات ہے، معمول کے مطابق فجر سے پہلے بیدار ہوا، ابھی بستر ہی پر تھا کہ موبائل کی گھنٹی بجی، دیکھا تو عزیزم مفتی محمد نعمت اللہ سبیلی، بانی و ناظم معھد القرآن، مریم کالونی، کتہ پیٹ، حیدرآباد کا فون تھا، بے وقت فون پر تعجب تو ہوا؛ تاہم مجھے اندازہ ہوچلا تھا، علیک سلیک کے فوراً بعد ہی کہہ پڑے کہ ابھی ابھی تہجد کے آخری وقت میں مولانا سید مسرور احمد مسرور صاحب نے حیدرآباد کے عثمانیہ ہاسپٹل میں آخری سانس لی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ فجر سے متصل ہی مولانا مرحوم کی لاش دار العلوم سبیل الســـــــــلام حیدرآباد سے قریب ان کی قیام گاہ پر لائی گئی، جوں جوں خبر عام ہوتی گئی، اہلِ تعلق اور محبین و مخلصین کے آنے کا سلسلہ شروع ہوگیا، نماز جنازہ دار العلوم سبیل الســـــــــلام حیدرآباد کے وسیع و عریض احاطے میں ظہر کی نماز کے بعد ان کے بڑے برادر نسبتی محترم سید احمد صاحب نے پڑھائی، جس میں اساتذہ و طلبہ کے علاوہ ایک جم غفیر نے شرکت کی اور تدفین بارکس کی مسجد “نور عين” سے متصل قبرستان میں عمل میں آئی۔

مولانا سید مسرور احمد مسرور بن سید مشرف حسین کا تعلق سادات خاندان سے تھا۔ آپ کے آبا و اجداد اصلاً بہار کے ضلع “چھپرہ” کے رہنے والے تھے، جن میں ایک مشہور شخصیت سید ریاست حسین کی تھی، جو اپنے وقت میں پولیس محکمہ میں داروغہ کے عہدے پر فائز تھے، ان کا ٹرانسفر “چترا” ہوا، جو ابھی صوبہ جھارکھنڈ کا ایک ضلع ہے، تو افرادِ خاندان “چھپرہ” ضلع سے “چترا” ضلع منتقل ہو گئے، اس وقت کے راجہ مہاراجہ نے ان کی حسنِ کارکردگی پر “رَکْسی” گاؤں میں بڑی جاگیر دی تھی، زمانہ گزرتا رہا، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ایک راجہ، جسے آج بھی عوام کی زبان میں “نکٹا راجہ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس کی نیت خراب ہوئی اور مولانا مرحوم کے جدِّ امجد کے باغ کو لینا چاہا؛ لیکن مولانا کے اجداد نے دینے سے انکار کردیا، پھر آپس میں مخاصمت ہوئی، کچھ زمین کی نیلامی ہوئی اور کچھ پر غیروں نے دھیرے دھیرے قبضہ کرنا شروع کردیا، تو مولانا مرحوم کے افرادِ خاندان نے نقلِ مکانی کرنا ہی بہتر سمجھا، اس طرح یہ خاندان مختلف جگہوں پر آباد ہوگیا۔ مولانا مرحوم کے والدِ محترم سید مشرف حسین کی شادی ضلع گیا کے “کوٹھی” گاؤں میں ہوئی، تو آپ وہیں آباد ہوگئے، اس طرح مولانا سید مسرور احمد مسرور کی ولادت، پرورش و پرداخت اور تعلیم و تربیت، سب کچھ نانیہال ہی میں ہوئی، جہاں والدین نے مستقل سکونت اختیار کر لی تھی۔

مولانا مرحوم کی صحیح تاریخِ پیدائش کا تو علم نہیں ہے؛ تاہم آدھار کارڈ کے مطابق 1950ء میں آپ کی ولادت ہوئی، ابتدائی تعلیم گھر ہی میں ہوئی، اس کے بعد اپنے ہی گاؤں “کوٹھی” کے مدرسہ عبیدیہ میں داخل ہوئے، جہاں آپ کے خاص استاذ مولانا کلیم اللہ طوروی رہے، اس کے بعد اپنے وقت کے مشہور و معروف ادارہ مدرسہ قاسمیہ، گیا میں داخلہ لیا، جہاں چند سالوں تک تعلیم حاصل کی، پھر سرزمینِ دیوبند کا سفر ہوا اور تعلیم و تعلم کی بجائے فنِ کتابت و خطاطی کی طرف توجہ دی، مولانا مرحوم کی گفتگو سے اندازہ ہوتا تھا کہ معاشی مسائل اور گھریلو ذمے داریوں کی وجہ سے یہ راہ اختیار کی گئی اور اسی کو ذریعۂ معاش بنایا، دیوبند میں قیام کے دوران حضرت مولانا ریاست علی بجنوری رحمہ اللہ اور مدنی خاندان سے کافی گہرا تعلق رہا، جسے وہاں سے آجانے کے بعد بھی نبھاتے رہے۔ دیوبند کے بعد اپنے وطن بہار کا رخ کیا اور ہندوستان کے مشہور و معروف ادارہ امارتِ شرعیہ، پٹنہ سے وابستہ ہوگئے، جہاں امارت شرعیہ کے ترجمان “ہفت روزہ نقیب” کی کتابت کے ساتھ ساتھ “روزنامہ قومی تنظیم” سے بھی منسلک رہے، امارتِ شرعیہ میں امیرِ شریعت رابع حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی، قاضی القضاۃ فقیہِ ملت حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمی، حاجی شفیع صاحب تمنائی اور امیرِ شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدین رحمہم اللہ سے کافی قربت رہی، آخر الذکر سے آپ کی رشتہ داری بھی تھی۔ 1986ء کے اوائل میں جنوبی ہند کے مشہور و معروف، تعلیمی و تربیتی ادارہ دار العلوم سبیل السلام حیدرآباد تشریف لائے، پھر دوبارہ کبھی بھی اپنے وطن جانا نہیں ہوا، آخری سانس تک اسی شہر میں رہے۔ بانی دار العلوم سبیل السلام حضرت مولانا محمد رضوان القاسمی رحمہ اللہ کی متعدد کتابوں، ادارے کے ترجمان “سہ ماہی صفا” اور بھی بعض دیگر لوگوں کی تصنیفات و تالیفات کی کتابت کی، یہاں کی لائبریری کے معاون مدیر بھی رہے، طلبۂ عزیز کی تحریر کی اصلاح بھی کی، اس طرح اپنی افادیت کو ثابت کرتے ہوئے ایک پہچان بنائی۔

اللہ تعالیٰ نے مولانا مرحوم کو بہت ساری خوبیاں عنایت کی تھیں ، آپ خوبصورت چہرہ، گورا رنگ، کشادہ پیشانی، لمبا قد، چھریرا بدن، مسکراتا چہرہ، خوش مزاج، خوش مذاق، با اخلاق، باذوق، ملنسار، جود و سخا کے پیکر اور فقیری میں شاہی مزاج رکھنے والے تھے، ہمدردی و غم گساری، ایثار و قربانی، صفائی و ستھرائی، سلام میں پہل اور کم خوراک ہونے میں ایک مثال تھے، مزاج میں نستعلیقیت، رفتار میں تیزی، گفتار میں ٹھہراؤ اور کردار میں بلندی تھی، تنہائی پسند تھے، گوشہ نشینی سے محبت تھی، سفر سے گریزاں تھے، بازار تک جانے سے احتراز تھا، شور و شغب سے حد درجہ نفرت تھی، چھوٹے بچوں کو مفرّحُ القلوب کہتے؛ لیکن خود ان سے بہت دور رہتے، وہ ایک بے ضرر انسان تھے۔

آپ کو نثر و نظم کا صاف ستھرا ذوق تھا، اچھے شاعر تھے، بعض نظمیں اخبارات و رسائل میں شایع ہوئیں، تو بہت پذیرایی ہوئی اور خوب دادِ تحسین ملی؛ لیکن اسے کبھی پیشہ نہیں بنایا، لوگوں کے جذبات کی رعایت میں جب کبھی موقع آتا، عمدہ اور اچھے اشعار کہتے؛ بلکہ اس کے لیے باضابطہ وقت نکالتے، توجہ دیتے اور منظرِ عام پر آنے سے پہلے عموماً ہم لوگوں کو سناتے، میں جب بھی کہتا کہ: آپ کے منظوم کلام کتابی شکل میں آنے چاہیئیں، تو مسکرا کر رہ جاتے اور کبھی اثبات میں بھی جواب دیتے۔ حکمت و طبابت اور شرعی رقیہ سے بھی کسی حد تک لگاؤ تھا، اپنے محدود دائرے میں رہتے ہوئے قرآنی آیات و احادیث کے ذریعہ بچے، بوڑھے اور دیگر مریضوں پر دم کیا کرتے تھے؛ لیکن یہ سب صرف اور صرف خدمتِ خلق کے جذبے سے بغیر کسی فیس اور نذرانے کے انجام دیتے۔

آپ نے دار العلوم سبیل السلام حیدرآباد میں تقریباً 35/ سال کا عرصہ گزارا، ادھر دو ڈھائی سالوں سے پیرانہ سالی اور ضعف کی وجہ سے مدرسہ آنا جانا نہیں تھا، مدرسہ سے قریب کرائے کے مکان میں اہل و عیال کے ساتھ مقیم تھے؛ لیکن آپ کی طویل المیعاد خدمات کی وجہ سے ناظمِ مدرسہ نے ماہانہ وظیفہ مقرر کردیا تھا، جو آپ تک پہونچا دیا جاتا تھا۔ مدرسہ کے ذمہ داران اور اساتذہ و عملہ سے اچھے تعلقات تھے، بڑے چھوٹے سبھوں کا احترام کرتے، راقمِ سطور کو دار العلوم سبیل السلام کے اساتذہ و طلبہمولانا سید مسرور احمد مسرور جن کے جانے پہ آگئے آنسو “مولانا سراج صاحب” یا “مولانا ازہری صاحب” کہا کرتے ہیں، جہاں تک مجھے یاد آتا ہے کہ مولانا مرحوم نے ہمیشہ “مولانا ازہری صاحب” ہی کہہ کر یاد کیا، یہ ان کی خرد نوازی، محبت، اکرام اور اپنائیت کا اظہار تھا۔
1987ء میں آپ کی اہلیۂ محترمہ کا انتقال ہوگیا، جن سے دو لڑکیاں اور ایک لڑکا تولد ہوا تھا، لڑکیوں کا انتقال تو بچپن ہی میں ہوگیا، لڑکے کا نام سید احمد رومی ہے، جو خوش الحان حافظ و قاری ہیں، اور تقریباً دو دہائیوں سے جدّہ میں مقیم ہیں۔ مولانا کی دوسری شادی حیدرآباد ہی میں ہوئی، جن سے ایک لڑکی اور ایک لڑکا تولد ہوا، لڑکے کا نام سید محمد غزالی ہے، دونوں حافظِ قرآن، شادی شدہ اور صاحبِ اولاد ہیں۔ مولانا دو بھائی اور دو بہن تھے، سب سے لمبی عمر آپ ہی نے پائی۔ وفات سے دو روز پہلے مولانا سے ملاقات ہوئی، بہت بیمار تھے، نقاہت تھی، لوگوں کو پہچاننا بھی مشکل ہورہا تھا، جوں ہی ان کے صاحب زادے حافظ سید محمد غزالی نے کہا کہ: آپ ازہری صاحب کو یاد کر رہے تھے، وہ آگئے۔ فوراً نظر اٹھائی، بہت دعائیں دی، شکریہ ادا کیا اور متعدد لوگوں کی محبتوں اور ان کے حسنِ تعاون کو نام لے لے کر یاد کیا اور اپنے حُسنِ خاتمہ کے لیے دعا کی درخواست کی۔ اللہ تعالیٰ غریقِ رحمت کرے، سیئات پر پردہ ڈال دے، جنت الفردوس میں جگہ دے اور پس ماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے، آمین یا رب العالمین۔

(مضمون نگار مشہور اسلامی اسکالر، اچھے مفتی، بہترین خطیب، مثبت صاحبِ قلم، دار العلوم سبیل السلام حیدرآباد کے سینئر استاذ اور متعدد تعلیمی و تربیتی اداروں کے سر پرست اور رکن ہیں۔
رابطہ نمبر: 9849085328)

توحید عالم فیضی
توحید عالم فیضیhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

- Advertisment -
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے