بدھ, 5, اکتوبر, 2022
ہوماعلان واشتہاراتمولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے...

مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ کے آٹھویں امیر شریعت منتخب  

امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ وجھارکھنڈ کی مجلس ارباب حل وعقد نے کثرت آراء کی بنیاد پر حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کو امیر شریعت منتخب کیا، ارباب حل وعقد کا یہ اجلاس مورخہ9؍اکتوبر 2021 کو المعہد العالی کے احاطہ میں زیر صدارت حضرت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی نائب امیر شریعت منعقد ہوا، جس میں تقریباً چھ سو ارباب حل وعقد نے شرکت کی،امیر شریعت کے لئے ارباب حل وعقد کی طرف سے پانچ نام مولانا احمد ولی فیصل رحمانی ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا انیس الرحمن قاسمی ، مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی اور مولانا مفتی محمد نذر توحید مظاہری کے سامنے آئے ان میں سب سے پہلے نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی نے ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا نام واپس لے لیا،اس کے بعد مولانا مفتی نذر توحید صاحب اور حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے بھی اپنے نام کی عدم شمولیت کا اظہار کیا، اب جو نام باقی رہ گئے ان میں اتفاق پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، مگر ارباب حل وعقد کی اکثریت نے ووٹنگ کرانے پر اصرار کیا، چنانچہ ارکان کے ذریعہ ہی ووٹنگ کا عمل شروع ہوا، اور پولیس انتظامیہ کی نگرانی میں رائے شماری کرائی گئی ، اور اس طرح حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی آٹھویں امیر شریعت منتخب ہوئے ، بعد ازاں نو منتخب امیر شریعت سے مجلس میں موجود تمام ارکان ارباب حل وعقد نے بیعت امارت کیا، ان کے ہاتھوں پر سب سے پہلے قاضی شریعت مولانا محمد انظار عالم قاسمی نے بیعت کیا اس کے بعد نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی اور قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی نے ، ان کے بعداجلاس میں موجود سارے لوگوں نے بیعت کیا۔ حضرت امیر شریعت دامت برکاتہم نے اس موقع پر بصیرت افروز اور چشم کشا خطاب کیا اور اپنے بلند عزائم کا اظہار فرمایا ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ امارت شرعیہ ایک امانت ہے ، جس کے بارے میں ہم سب لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونا ہے ۔ آپ لوگوں نے اپنے حسن ظن کا اظہار کرتے ہوئے مجھے اس منصب سے نوازا ۔ امیر مسئول ہو تا ہے ، آپ کی ذمہ داری ہے کہ وحدت واجتماعیت کے ساتھ امارت شرعیہ کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں سب مل کر کے تعاون کریں کیوں کہ امارت شرعیہ کی ملک میں ایک شناخت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ارباب حل و عقد نے جو فیصلہ کیا ، اب میری ذمہ داری ہے کہ میں آپ تما م حضرات سے بیعت امارت لوں ، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان پر بیعت لیا اور صلح حدیبیہ میں بھی عہد لیا تھا، اس کے بعد حضرت امیر شریعت نے بیعت کے کلمات دہرائے اور سبھوں نے ان کلمات کو اپنی زبان سے ادا کیا ۔ آپ نے ان الفاظ میں لوگوں سے بیعت لیا:

’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ایمان لایا میں اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر۔میں عہد کرتا ہوں کہ ہر مرحلہ میں امیر کی اطاعت کروں گا ، امیر کے ہر جائز احکام میرے لیے واجب العمل ہوں گے ، اگر حکم ناجائز یا حرام کا ہو گا تو میں اس کو انجام نہیں دوں گا۔۔۔۔۔اللہ ہمیں اس عہد پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔‘‘

اس کے بعد حضرت امیر شریعت نے مجلس کے شرکا ئ سے وسعت نظرکے ساتھ کام کرنے کی ضرورت بتلائی اورکہا کہ ہم لوگ چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھے رہتے ہیں اور بہت سے اہم بنیادی مسائل کو نظر اندا ز کر دیتے ہیں ۔ مغربی میڈیا اور ملک کی الیکٹرونک میڈیا ہماری شبیہ کو مستقل خراب کرتی رہتی ہے ، ہم کو اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے ، یہ ملک ہمارا ہے ، اس کو مستحکم کرنا ہماری ذمہ داری ہے ، ماضی میں تفاوت کی وجہ سے ملک تقسیم ہوا، اگر ہم تعلیم کے میدان میں ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑے ہوں ، تو ہمارا بھی یہاں ایک سیاسی وزن ہو سکتا ہے ، سیاست میں بھی ہماری نمائندگی گھٹتی جا رہی ہے ، اس پر بھی ہمیں خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ہمارے جو دارالقضاء ہیں ، وہ مسلم آبادی کے تناسب سے بہت کم ہیں ، ہمیں مسلم آبادی کے پیش نظر دارالقضاء کے قیام پر توجہ دینی ہے ، ملک میں بے روزگاری اور محتاجی بڑھتی جا رہی ہے ، لاکھوں لوگ بغیر کھائے پئے سو جانے پر مجبور ہیں ، قلت آب کا بھی مسئلہ پیدا ہو تا جا رہا ہے ، دوائیں کون بنائے گا ، یہ سب وہ پہلو ہیں ، جنہیں ایک ذمہ دار امت کی حیثیت سے ہمیں سوچنا ہے ۔ ہم کو اپنی نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینی ہے ۔ اس کے لیے ہمارے پاس ایک ڈائنامک آر گنائزیشن ہو نا چاہئے ۔آخر میں حضرت نے دل کو قرآن سے جوڑنے اور کثرت سے تلاوت کرنے پر توجہ دلائی ۔

 اس موقعہ پر افتتاحی خطاب میں نائب امیر شریعت مولانا محمد شمشاد رحمانی قاسمی صاحب نے مندوبین کرام کا خیر مقدم کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ جن مشکلات کو برداشت کرتے ہوئے یہاں تشریف لائے ، اس کے لیے ہم آپ کے بے حد ممنون و مشکور ہیں ۔ اللہ آپ سب کی آمد کو قبول فرمائے ،ا ٓپکا یہاں آنا ایک عظیم مقصد کے تحت ہے ، یہ امارت شرعیہ ملت کا دھڑکتا ہوا دل ہے ، اس کی روشنی ملک کے چپے چپے میں پھیلی ہوئی ہے ، جب ملت اسلامیہ کی کشتی بھنور میں تھی تو اس وقت ملت کے لیے دل دردمند رکھنے والے صاحب بصیرت عالم دین مفکر اسلام حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد رحمۃ اللہ علیہ نے مسلمانوں کے اندر خود اعتمادی پید ا کر ان کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے لیے امار ت شرعیہ کی بنا ڈالی اور اس پلیٹ فارم سے پوری ملت کی رہنمائی کرتے رہے ، خود امیر نہ بنے، دوسروں کو امیر بنایا ، یہ ان کی اخلاص و للٰہیت تھی۔ امارت شرعیہ کی خوش قسمتی ہے کہ اس کو تاریخ کے ہر دور میں مخلص افراد ملتے رہے ،جنہوں نے مسلک و مشرب سے بلند ہو کر کلمہ کی بنیاد پر اتحاد کا پیغام دیا۔اس موقع پر نائب امیر شریعت نے اسلام کے نظام عبادت کی روح یعنی اجتماعیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی ۔قائم مقام ناظم مولانا محمد شبلی قاسمی نے اجلاس کی نظامت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پورا ملک ہم لوگوں کو دیکھ رہا ہے ، ہمارے فیصلے پر سب کی نگاہ ہے ، اس فیصلے کے اثرات نہ صرف ہم پر بلکہ ہماری آنے والی نسلوں پر بھی پڑیں گے۔ اس لیے ہم سب لوگ اتفاق رائے سے امیر شریعت کا انتخاب کریں ، اور جو بھی ہمارے امیر منتخب ہو ں سمع و طاعت کے جذبے کے ساتھ ان کی اتباع کریں ۔ امیر شریعت آسام و شمال مشرقی ہندوستان حضرت مولانا محمد یوسف علی صاحب قاسمی صاحب نے کہا کہ خوش نصیبی ہے کہ میں یہاں حاضر ہوا ، میری زندگی کا یہ تاریخی لمحہ ہے کہ مجھے امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ کے ارباب حل و عقد کے رو برو ہو نے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ امار ت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ ملک میں قائم ہونے والی تمام امارت شرعیہ کی اسا س اور بنیاد ہے اگر امارت شرعیہ بہار کا قیام نہ ہوتا تو ملک میں کہیں بھی امارت شرعیہ کے قیام کی راہ ہموار نہ ہوتی۔ امیر شریعت کرناٹک حضرت مولانا صغیر احمد رشادی صاحب نے وحدت و اجتماعیت کے ساتھ انتخاب امیر کی ضرورت بتلائی اور فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ نے سب سے پہلے امیر المومنین کا انتخاب فرمایا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ سے ڈرو اور جب کسی کو امیر بناؤ تو اس کی اطاعت کرو۔ الحمد للہ اچھے اور پر سکون ماحول میں ارباب حل وعقد کا یہ اجتماع مکمل ہوا، مجلس استقبالیہ کے صدر جناب احمد اشفاق کریم نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا، اور پولیس انتظامیہ کی فعالیت اور ماحول کو خوشگوار بنانے میں تعاون کرنے کی تحسین کی ، اس موقع پر مولانا انیس الرحمن قاسمی سابق ناظم امارت شرعیہ نے نو منتخب امیر شریعت کو مبارک باددی اور اتحاد فکر وعمل کے ساتھ کام کو آگے بڑھانے کی ضرورت بتلائی، یہ اجلاس صبح گیارہ بجے مولانا اسعد اللہ قاسمی صاحب مینیجر نقیب کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا، مولانا شمیم اکرم رحمانی صاحب نے نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش کیا ۔آخر میں سات بجے شام میں حضرت امیر شریعت کی دعائ پراجلاس بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ اجلاس کو کامیاب بنانے میں امارت شرعیہ کے جملہ ذمہ داران وکارکنان مقامی افراد اور حکومت کے اہل کاروں کا بھر پور تعاون رہا، خاص طور سے مقامی اے ایس پی، ایس ڈی ایم اور تھانہ انچارج نے نظم ونسق کو بہتر بنانے میں اہم رول ادا کیا۔.

روزنامہ نوائے ملت
روزنامہ نوائے ملتhttps://www.nawaemillat.com
روزنامہ ’نوائے ملت‘ اپنے تمام قارئین کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ خود بھی مختلف مسائل پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار کریں اور اس کے لیے ہر تحریر پر تبصرے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ جو بھی ویب سائٹ پر لکھنے کا متمنی ہو، وہ روزنامہ ’نوائے ملت‘ کا مستقل رکن بن سکتے ہیں اور اپنی نگارشات شامل کرسکتے ہیں۔
کیا آپ اسے بھی پڑھنا پسند کریں گے!

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

- Advertisment -spot_img
- Advertisment -
- Advertisment -

مقبول خبریں

حالیہ تبصرے