مولانا دلت سماج کی میٹنگ میں

39

تحریر : توصیف القاسمی (مولنواسی) مقصود منزل پیراگپوری سہارنپور

نوٹ : مندرجہ ذیل مضمون میں پسماندہ طبقے (دلت سماج) کے ساتھ گزشتہ دو ماہ ستمبر ، اکتوبر میں کی گئی میٹنگوں کی مختصر روداد ہے ، ہوسکتا ہے مسلمانوں کے لئے سبق آموز ہو ، اسلئے پیش خدمت ہے ۔

20 ستمبر 2020کو مدرسہ مدینۃ العلوم راجیو نگر ضلع غازی آباد میں جناب قاری محمد شوقین اسعدی کی زیر صدارت دلت مسلم اتحاد کے بینر تلے ایک میٹنگ کا انعقاد ہوا جس میں ”بامسیف“ اور مولنواسی سنگھ کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ مسلم ذمہ داروں نے بھی شرکت کی ۔
میٹنگ میں تمام مقررین نے متفقہ طور پر “منوواد” کو بھارت اور بھارت واسیوں کے لئے خطرناک بتلایا ، مسٹر پریم پال نے کہا کہ ہمکو گٹھ جوڑ نہیں کرنا کیوں کہ گٹھ جوڑ تو ٹوٹ جاتا ہے بلکہ ہمکو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم خون کے رشتے سے بھائی بھائی ہیں ۔ جناب مطلوب رانا صاحب نے کہا کہ بہت سے لوگ ”دلت مسلم اتحاد“ کے لیے کھڑے ہوئے مگر آگے چل کر وہ سب بک جاتے ہیں اور ہم کو بیچ میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں مسلمانوں نے بہت دھوکے کھائے ہیں اگر آپ لوگ سچے دل سے یہ مہم لیکر چل رہے ہیں تو ہم ہر طرح سے آپ کے ساتھ ہیں ۔ قاری شوقین صاحب نے بتلایا کہ پچاس سال پہلے تک ہمارے دلت بھائیوں پر بے انتہا ظلم ہوتا تھا انکو نئے کپڑے نہیں پہننے دیا جاتا تھا ، اسلئے آپ لوگوں کی زیادہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے سماج کو باشعور بنائیں ، برہمن ازم کی حقیقت سمجھائیں ۔ خیال رہے کہ بامسیف کے کارندے اپنے سماج کے لئے دلت ، ہریجن وغیرہ الفاظ استعمال نہیں کرتے بلکہ مولنواسی ( اصل باشندے ) کا لفظ استعمال کرتے ہیں جس کی تشریح میں ST SC OBC اور ملک کی تمام اقلیتیں آتی ہیں اور اس لفظ کے استعمال پر زور بھی دیتے ہیں ۔ آخر میں مدرسہ مدینۃ العلوم کی طرف سے غیر مسلم حضرات کو ہندی ترجمہ قرآن پیش کیا گیا جس کو ان لوگوں نے بخوشی قبول کیا ۔ میٹنگ میں شریک اہم افراد میں سے جناب محبوب بھائی سنتوش بھائی سابق نگر نگم پارشد وغیرہ تھے ۔
اس میٹنگ کا انعقاد ایک مدرسے میں تھا ، یہ ایک قابل قدر پیش رفت ہے کیونکہ اکثر و بیشتر مہتمم حضرات اپنے مدارس کو اس قسم کے امور کے لئے استعمال نہیں ہونے دیتے ۔ قابل مبارکباد ہیں قاری شوقین صاحب جنہوں نے امت کے مستقبل کے لیے فراخدلی کا ثبوت دیا ۔
ہاتھرس گینگ ریپ

ہاتھرس گینگ ریپ کانڈ کے بعد دلت سماج سڑکوں پر اترآیا مسلمانوں نے بھی ملک بھر میں مختلف جلسے جلوسوں میں ان کے ساتھ شرکت کی اسی سلسلہ میں 1/ اکتوبر 2020 کو بالمیکی مندر سندرنگری میں کینڈل مارچ کا اہتمام کیا گیا ماشااللہ ہاتھرس کانڈ کے خلاف اس کینڈل مارچ میں راقم کے علاوہ چار مسلمان اور تھے ، شاید آزاد بھارت میں یہ پہلی احتجاجی لہر ہو جس میں اہل ایمان کی اتنی بڑی تعداد دلت حضرات کے ساتھ سڑکوں پر نکلی ہو مزید یہ کہ اس اتحاد کا اثر یہ دیکھنے کو ملا کہ ہندووادی طاقتیں یوں کہتی ہوئی نظر آنے لگی کہ ہندو سماج کو توڑنے کی کوششیں ہو رہی ہیں ، 22/ اکتوبر 2020 کے راشٹریہ سہارا اخبار کے فرنٹ پیج کی شہ سرخی تھی کہ 236 بالمیکی اور دلت سماج کے لوگوں نے بودھ مذہب اپنایا ۔ یاد رکھیے دلت مفکرین کے مطابق ”ہندو“ لفظ دلتوں کے لئے صرف دو وجہ سے استعمال ہوتا ہے ایک تو ووٹوں کے لئے ، دوسرے مسلمانوں سے لڑانے کے لئے ۔ باقی تو وہ اچھوت شودر ناپاک وغیرہ ہیں ۔ ان حضرات کے اندر تبدیلئ مذہب کے احساس کا بیدار ہونا ، مسلم داعیوں اور مفکرین کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی دعوتی کوششوں سے اسلام کے پیغام کو عام کریں جو لوگ بدھ ازم کو قبول کرسکتے ہیں ان کے سامنے دین اسلام کو بطور متبادل پیش کریں ۔ بدقسمتی سے مسلم مفکرین نے نہ اب اس پہلو پر غور کیا ہے اور نہ امبیڈکر کے زمانے میں ۔
بابر پور دہلی میں 11/10/2020 کو مولنواسی سنگھ کا ورک شاپ تھا ۔ ورکشاپ کا لفظ آج کل اسی معنی و مفہوم میں لیا جاتا ہے جس معنی و مفہوم میں ہمارے یہاں ”تربیتی پروگرام“ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے لیکن اس پروگرام میں ہونے والی باتیں تجدید عہد کی طرح کی تھی ۔
سب سے پہلے ڈائریکٹر صاحب نے بلیک بورڈ پر ایک سوال لکھا ”ہم کو مولنواسی سنگھ میں کیوں کام کرنا چاہیے “ ؟
شرکاءکو اپنے اپنے خیالات کے مطابق مذکورہ سوال کا جواب کھڑے ہو کر دینا تھا ، سب نے الفاظ کے الٹ پھیر کے ساتھ تقریباً ایک ہی جواب دیا وہ یہ کہ بامسیف اور مولنواسی سنگھ کسی ایک دھرم یا فرقے کی بات نہیں کرتا بلکہ تمام پسماندہ طبقے اور اقلیتوں کے حقوق و تحفظ کی بات کرتا ہے اور دوست و دشمن کی پہچان کراتا ہے ، اسلئے ہم اس سے جڑے ہوئے ہیں ۔
ڈائریکٹر صاحب نے بتلایا کے کسی بھی انقلاب کو برپا کرنے کے لئے چھ چیزیں ضروری ہیں
1۔ جن سمپرک ، یعنی انفرادی ملاقات
2۔ جن ستواد ، یعنی تبادلۂ خیالات
3۔ پرتی کریا ، یعنی ردعمل
4۔ پاتر ، یعنی اخلاق و کردار
5۔ گیان ، یعنی علم
6۔ واک کلا ، یعنی فن خطابت ۔
کسی بھی تنظیم کو کامیابی دلانے کے لئے اور انقلاب کو برپا کرنے کے لئے مذکورہ چھ چیزوں کا ہونا ضروری ہے اور اس تنظیم و انقلاب کے افراد کا ان چیزوں میں ماہر ہونا اور ان کے مطابق محنت کرنا ضروری ہے ۔ کسی بھی تنظیم کے کارکنان کی تین قسمیں ہوتی ہیں ۔ لیڈر ، کارکن ، حمایتی اور اور عام پبلک ۔ ان اصطلاحوں کو ایک گول دائرے کے نقشے سے سمجھایا گیا سب سے بڑا گول دائرہ بنایا گیا ، اس سے مراد ”عام پبلک“ تھی ۔ پھر اسی میں نسبتاً ایک اور چھوٹا گول دائرہ بنایا گیا ، اس سے مراد ”حمایتی“ تھے ۔ پھر اسی میں ایک اور چھوٹا دائرہ بنایا گیا ، اس سے مراد ”کارکن“ تھے ۔ پھر اس کے اندر ایک اور چھوٹا دائرہ بنایا گیا ، اس سے مراد ”لیڈر و قائد“ تھا ۔ پھر ہر ایک کی الگ الگ تعریف defination کی گئی ۔
لیڈر و قائد : وہ ہوتا ہے جو کام تنظیم کے عام کارکن نہ کر سکیں ، ایسا کام کرکے دکھائے ، اس کو لیڈرکہتے ہیں ، بالفاظ دیگر لیڈر میں صلاحیت ، طاقت ہمت و حوصلہ ، عام کارکن کے مقابلے میں زیادہ درکار ہے ، اگر وہ کام اس سے نہ ہوسکے تو اس کو ”استعفی“ دینا لازمی ہوتا ہے ۔ اس تعریف کے انطباق کے نتیجے میں مسلمانوں کے موجودہ تمام قائدین کو گھر بیٹھ جانا چاہیے ، کیونکہ کہ مسلمانوں کی ستر سالہ ناکامیاں انکا منہ چڑا رہی ہیں ۔ کمال دیکھیے ! بابری مسجد کے ہاتھوں سے چلے جانے کے بعد بھی کسی ایک قائد نے استعفیٰ پیش نہیں کیا ، اس قسم کی سینکڑوں ذلت آمیز شکست کے بعد بھی بدستور ”قائد محترم“ بنے ہوئے ہیں ۔
کارکن : وہ ہوتا ہے جو اپنا وقت اور پیسہ کسی ایک فکر کے لئے لگاتا ہے ، اس کے لئے دوڑ دھوپ کرتا ہے محنت و کوشش کرتا ہے ، اس فکر و تنظیم کا تفصیلی اور گہرا علم رکھتا ہے ۔
حمایتی : وہ ہوتے ہیں جو آپ کی فکر سے متفق تو ہیں اس میں چندہ بھی دیتے ہیں اور بوقت ضرورت آپ کی مدد بھی کرتے ہیں ، مگر مستقل وقت نہیں دیتے ، دوڑ دھوپ نہیں کرتے اور اس فکر و تنظیم کا تفصیلی اور گہرا علم بھی نہیں رکھتے ۔
موجود کارکنان کو طریقۂ عمل ، ایک فارمولے کی شکل میں بتلایا گیا کہ ایک دن – ایک شخص– ایک وچار– پھر ایک ہفتہ – ایک علاقہ – ایک باڈی ۔ مطلب یہ ہے کہ ہر دن ملاقات کریں اپنی بات سمجھائیں ، ہفتے میں سات دن ہوتے ہیں سات دنوں میں ہمارے کارکنان نے جن لوگوں سے ملاقات کی ہیں ان تمام کو اکھٹا کرکے ایک کمیٹی تشکیل دے دی جائے اور اس کی کار گزاری اوپر کے ذمہ داران تک پہنچا دی جائے ۔
معزول کرنے کا اصول : مسلسل تین پلاننگ میٹنگ میں نہ آنے والے کو صوبائی میٹنگ کی باڈی میں نہیں رکھا جائے گا ، بلکہ اس کو ضلعی میٹنگ میں رکھا جائے گا ۔ دودھ سے مکھی کی طرح الگ ، کسی کو نہیں کرنا ۔ کہ وہ ”حمایتی“ بھی نہ رہے ۔
مذکورہ ورکشاپ میں بتلایا گیا کہ انسان کی ذمہ داریاں دو طرح کی ہوتی ہیں پرائمری (ابتدائی) اور سیکنڈری (ثانوی) اب یہ انسان کا ذہنی سانچہ کرے گا کہ کس کام کو ابتدائی اور کس کو ثانوی مانتا ہے ۔ پھر یہی ہیں سے اس انسان کی کامیابی اور ناکامی کا راستہ طے ہوتا ہے ۔
اس ورکشاپ میں خیال ، فکر اور نظریہ ان تینوں کے درمیان فرق سمجھایا گیا ، چنانچہ بتلایا گیا کہ دن بھر میں انسان کے دماغ میں بارہ ہزار سے 60 ہزار تک سوچ آتی ہیں ان میں سے کسی ایک سوچ پر فوکس اور توجہ دینے سے وہ سوچ ، فکر بن جاتی ہے ، پھر جب انسان اس فکر کے مطابق کام شروع کر دیتا ہے تو فکر و عمل کا یہ ہی ”مرکب“ آئیڈیا اور نظریہ بن جاتا ہے ۔
شہرت و عظمت میں فرق بھی بتلایا گیا ، کہ ”شہرت“ ایک وقتی چیز ہوتی ہے جبکہ ”عظمت“ ایک آبدی چیز ہوتی ہے ۔ بتلایاگیا کے تنظیم و انقلاب کے افراد کو عملی ہونا چاہیے عوام علم سے نہیں ، بلکہ عمل سے جڑتے ہیں اور عوام کے بغیر نہ کوئی تنظیم کامیاب ہوسکتی ہے اور نہ انقلاب برپا ہو سکتا ہے ، یہ ہی اسلامی تعلیم بھی ہے کہ انسان سے علم و عمل دونوں مطلوب ہیں ۔ بتلایا گیا کہ ہم یہ سوچتے ہیں کہ بغیر کچھ کھوئے ، ہم پا لیں ۔ جبکہ یہ اس دنیا میں ناممکن ہے ، قدرت کا اصول یہ ہے کہ پہلے آپ کھوئیں گے ، پھر پائیں گے ۔ زمین پر پڑی ہوئی ایک چیز کو اٹھانے کے لئے ، پہلے آپ کو رکنا پڑتا ہے ، پھر جھکنا پڑتا ہے ، اپنی طاقت اور وقت استعمال کر کے اس کو اٹھانا پڑے گا پھر آپ اس چیز کو حاصل کر پائیں گے ۔ اگر یہ نہیں ، تو کچھ نہیں ۔ میٹنگ میں موجود ایک نوجوان ”بھیم کشور“ نے راقم کو مشورہ دیا کہ ہریجنوں کے کے مسائل کو مزید گہرائی سے جاننے اور سمجھنے کے لیے آپ کو ایک فلم Shudra the rising دیکھنی چاہیے ، میں نے یوٹیوب پر یہ فلم دیکھنی چاہی مگر فلم کیا ؟ بس ، برہمن واد کی طرف سے بدترین ظلم وجبر اور انتہائی حیوانی سلوک کو فلمایا گیا تھا ، مجھ سے تو یہ مظلومیت دیکھی نہیں گئی ۔ لوگوں کے تبصروں comments سے اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ لوگ برہمنوں سے کتنے خفا ہیں ۔
ہرش وہار نئی دہلی میں 18/10/2020 کو مولنواسی سنگھ کی علاقائی کمیٹی تشکیل دینے کے لئے میٹنگ بلائی گئی ، اس میٹنگ میں زیادہ تر حاضرین نے اپنے بچوں کے تعلیمی مسائل پر بات چیت کی ، کہ ان کے ساتھ اسکول وغیرہ میں کیا ہوتا ہے ، ان کو کس طرح کے مسائل کا سامنا ہے اور وہاں پر کس طرح کا سلوک ہوتا ہے ؟ ان کے تعلیم یافتہ افراد کو کس طرح سے نظر انداز کیاجاتا ہے ، ایک صاحب نے دہلی کے ایک مشہور اسکول کا نام لے کر بتلایا کہ وہاں کے پروفیسر کا پرموشن اور ترقی اسلئے روک دی گئی کہ انہوں نے SC ST OBC حضرات کی طرفداری کی تھی ، میٹنگ میں موجود ایک خاتون نے کہا کہ ہم کو ”ہندوتوا“ کے تمام تہواروں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے اور ان کی جگہ ہمارے جو پوروج (اکابر) ہیں ان کے جنم دن وغیرہ کو منانا چاہیے ۔ میٹنگ میں موجود تمام حاضرین اسکول کالج اور یونیورسٹیز وغیرہ میں پڑھتے ہیں یا نوکری پیشہ لوگ تھے ۔ بعد میں کمیٹی تشکیل دی تو اس کمیٹی میں مبارک نام کے ایک مسلم نوجوان کو بھی رکھا گیا ۔
ہم اپنے مضمون کو ہفت روزہ قومی راستہ کے ایڈیٹر عبدالرحمن عابد کے اس مشورے پر ختم کرتے ہیں کہ ”دلت مسلم اتحاد“ سے مسلمان اسی وقت فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب اہل ایمان خود بھی انہیں کی طرح منظم ہوں اور پھر تنظیم سے تنظیم کا معاہدہ ہو ، صرف افراد کا اپنے طور پر جا ملنا ، ماضی کی ٹھوکروں کا تسلسل ہے ۔